🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. فتَنْ مُسَمَّاةٍ يَتْلُو بَعْضُهَا بَعْضًا إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ
قیامت کے قائم ہونے تک پے درپے آنے والے ان فتنوں کا بیان، جن کے باقاعدہ نام رکھے گئے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12848
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ سَمِعْتُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”الْمَلْحَمَةُ الْعُظْمَى وَفَتْحُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ وَخُرُوجُ الدَّجَّالِ فِي سَبْعَةِ أَشْهُرٍ“
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بڑی خون ریزی، فتحِ قسطنطنیہ اور خروجِ دجال، یہ تینوں امور سات ماہ کے اندر اندر ظاہر ہوں گے۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12848]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابي بكر بن عبد الله بن ابي مريم والوليد بن سفيان بن ابي مريم، ولجھالة حال يزيد بن قطيب، أخرجه ابوداود: 4295، والترمذي: 2238، وابن ماجه: 1095، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22045 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22395»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12849
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ نُفَيْلِ السَّكُونِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذْ قَالَ لَهُ قَائِلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ أُتِيتَ بِطَعَامٍ مِنَ السَّمَاءِ قَالَ ”نَعَمْ“ قَالَ وَبِمَاذَا قَالَ ”بِمُسْخَنَةٍ“ قَالُوا فَهَلْ كَانَ فِيهَا فَضْلٌ عَنْكَ قَالَ ”نَعَمْ“ قَالَ فَمَا فُعِلَ بِهِ قَالَ ”رُفِعَ وَهُوَ يُوحَى إِلَيَّ أَنِّي مَكْفُوتٌ غَيْرُ لَابِثٍ فِيكُمْ وَلَسْتُمْ لَابِثِينَ بَعْدِي إِلَّا قَلِيلًا بَلْ تَلْبَثُونَ حَتَّى تَقُولُوا مَتَى وَسَتَأْتُونَ أَفْنَادًا يُفْنِي بَعْضُكُمْ بَعْضًا وَبَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ مَوْتَانٌ شَدِيدٌ وَبَعْدَهُ سَنَوَاتُ الزَّلَازِلِ“
سیدنا سلمہ بن نفیل سکونی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے، اچانک ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اللہ کے رسول! کیا کبھی آپ کے پاس آسمان سے کھانا آیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں اس نے پھر کہا: اس کے ساتھ کیا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے ساتھ ایسا برتن تھا،جس میں کھانا گرم رہتا ہے۔ صحابہ نے پوچھا: کیا اس کھانے سے کچھ بچ بھی گیا تھا؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں اس نے پھر پوچھا: اس کا کیا بنا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے اوپر اٹھا لیا گیا اور میری طرف یہ وحی کی جانے لگی کہ مجھے موت آنے والی ہے اور میں تم میں اب ٹھہرنے والا نہیں ہوں، اور تم بھی میرے بعد کم عرصہ ہی رہو گے، بلکہ تم اس قدر قلیل مدت رہو گے کہ ایک دوسرے سے پوچھو گے کہ کیا ہم اتنی جلدی چلے جائیں او ر تم گروہوں کی شکل میں آؤ گے اور ایک دوسرے کو فنا کرو گے اور قیامت سے پہلے اموات بکثرت ہوں گی او ر اس کے بعد زلزلوں والے سال شروع ہو جائیں گے۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12849]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن حبان: 6777، والدارمي: 1/ 29، وابويعلي: 6861، والطبراني في الكبير: 6356، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16964 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17089»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12850
وَعَنْ ضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ أَنَّ ابْنَ زُغْبٍ الْإِيَادِيَّ حَدَّثَهُ قَالَ نَزَلَ عَلَيَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَوَالَةَ الْأَزْدِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ لِي وَإِنَّهُ لَنَازِلٌ عَلَيَّ فِي بَيْتِي بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَوْلَ الْمَدِينَةِ عَلَى أَقْدَامِنَا لِنَغْنَمَ فَرَجَعْنَا وَلَمْ نَغْنَمْ شَيْئًا وَعَرَفَ الْجَهْدَ فِي وُجُوهِنَا فَقَامَ فَقَالَ ”اللَّهُمَّ لَا تَكِلْهُمْ إِلَيَّ فَأَضْعُفَ وَلَا تَكِلْهُمْ إِلَى أَنْفُسِهِمْ فَيَعْجِزُوا عَنْهَا وَلَا تَكِلْهُمْ إِلَى النَّاسِ فَيَسْتَأْثِرُوا عَلَيْهِمْ“ ثُمَّ قَالَ ”لَيُفْتَحَنَّ لَكُمُ الشَّامُ وَالرُّومُ وَفَارِسُ أَوِ الرُّومُ وَفَارِسُ حَتَّى يَكُونَ لِأَحَدِكُمْ مِنَ الْإِبِلِ كَذَا وَكَذَا وَمِنَ الْبَقَرِ كَذَا وَكَذَا وَمِنَ الْغَنَمِ حَتَّى يُعْطَى أَحَدُهُمْ مِائَةَ دِينَارٍ فَيَسْخَطُهَا“ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِي أَوْ هَامَتِي فَقَالَ ”يَا ابْنَ حَوَالَةَ إِذَا رَأَيْتَ الْخِلَافَةَ قَدْ نَزَلَتِ الْأَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ فَقَدْ دَنَتِ الزَّلَازِلُ وَالْبَلَايَا وَالْأُمُورُ الْعِظَامُ وَالسَّاعَةُ يَوْمَئِذٍ أَقْرَبُ إِلَى النَّاسِ مِنْ يَدِي هَذِهِ مِنْ رَأْسِكَ“
ابن زغب ایادی کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن حوالہ ازدی رضی اللہ عنہ میرے پاس میرے گھر میں آئے ہوئے تھے، انھوں نے مجھے یہ حدیث بیان کی: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں مدینہ منورہ کے گردو نواح میں پیدل روانہ کیا، تاکہ ہم مال ِ غنیمت لے کر آئیں، لیکن ہوا یوں کہ ہم مالِ غنیمت حاصل نہ کر سکے، جب ہم لوٹے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے چہروں پر تھکاوٹ محسوس کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو گئے اور فرمایا: یا اللہ! انہیں میرے سپرد نہ کرنا،میں اس ذمہ داری کو پورا کرنے سے کمزور ہوں، اور نہ ان کو ان کے نفسوں کے سپرد کر، کیونکہ یہ عاجز آجائیں گے، اور نہ ہی ان کو دوسرے لوگوں کے حوالے کر، کیونکہ لوگ دوسروں کو ان پر ترجیح دیں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ضرور ضرور شام، روم اور فارس (ایران) فتح ہو جائے گا، (اور اتنا مالِ غنیمت جمع ہو گا کہ) تم میں سے ہر آدمی کو کئی اونٹ، کئی گائیں اور دوسری غنیمتیں ملیں گی، بلکہ جب کسی کو سو دینار دیا جائے گا تو وہ اسے کم سمجھ ناراضگی کا اظہار کرے گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ مبارک میرے سر پر رکھ کر فرمایا: ابن حوالہ! جب تم دیکھو کہ خلافت ارضِ مقدسہ (یعنی بیت المقدس) میں قائم ہو گئی ہے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ زلزلے، مصائب اور بڑی بڑی علاماتِ قیامت قریب آگئیں ہیں اور اس وقت قیامت لوگوں سے اس سے بھی زیادہ قریب ہوگی، جیسے میرا ہاتھ اور تمہارا سر ہے۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12850]
تخریج الحدیث: «ضعيف، فقد تفرد به معاوية بن صالح بھذه السياقة، أخرجه ابوداود: 2535، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22487 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22854»
وضاحت: فوائد: … مستقبل کے امورِ غیبیہ کی خبریں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کی صداقت کی دلیل ہیں کہ فتح بیت المقدس کے بعد دنیا میں بڑی بڑی مصیبتیں اور علامتیں ظاہر ہوئی ہیں اور ہوں گی، مثلا: زلزلے، سیلاب، نئی نئی بیماریاں، قتل و غارت گری کی درندہ صفت مثالیں، امت ِ مسلمہ کا ایک دوسرے کا خون بہانا، فتح و شکست کے سلسلے، تہذیبوں میں تبدیلی، نئی ایجادات اور بڑے بڑے حادثات۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12851
عَنْ سَيَّارٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ جُلُوسًا فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ قَدْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَقَامَ وَقُمْنَا مَعَهُ فَلَمَّا دَخَلْنَا الْمَسْجِدَ رَأَيْنَا النَّاسَ رُكُوعًا فِي مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ فَكَبَّرَ وَرَكَعَ وَرَكَعْنَا ثُمَّ مَشَيْنَا وَصَنَعْنَا مِثْلَ الَّذِي صَنَعَ فَمَرَّ رَجُلٌ يُسْرِعُ فَقَالَ عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ فَلَمَّا صَلَّيْنَا وَرَجَعْنَا دَخَلَ عَلَى أَهْلِهِ جَلَسْنَا فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ أَمَا سَمِعْتُمْ رَدَّهُ عَلَى الرَّجُلِ صَدَقَ اللَّهُ وَبَلَّغَتْ رُسُلُهُ أَيُّكُمْ يَسْأَلُهُ فَقَالَ طَارِقٌ أَنَا أَسْأَلُهُ فَسَأَلَهُ حِينَ خَرَجَ فَذَكَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ تَسْلِيمَ الْخَاصَّةِ وَفُشُوَّ التِّجَارَةِ حَتَّى تُعِينَ الْمَرْأَةُ زَوْجَهَا عَلَى التِّجَارَةِ وَقَطْعَ الْأَرْحَامِ وَشَهَادَةَ الزُّورِ وَكِتْمَانَ شَهَادَةِ الْحَقِّ وَظُهُورَ الْقَلَمِ“
طارق بن شہاب کہتے ہیں: ہم سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے‘ ایک آدمی آیا اور کہا: اقامت کہی جا چکی ہے‘ وہ کھڑے ہوئے اور ہم بھی کھڑے ہو گئے۔ جب ہم مسجد میں داخل ہو ئے تو ہم نے دیکھا کہ لوگ مسجد کے اگلے حصے میں رکوع کی حالت میں ہیں۔ انھوں نے اَللّٰہُ اَکْبَر کہا اور (صف تک پہنچنے سے پہلے ہی) رکوع کیا‘ ہم نے بھی رکوع کیا‘ پھر ہم رکوع کی حالت میں چلے(اور صف میں کھڑے ہو گئے) اورجیسے انھوں نے کیا ہم کرتے رہے۔ ایک آدمی جلدی میں گزرا اور کہا: ابو عبد الرحمن! عَلَیْکَ السَّلَامُ۔ یہ سن کر انھوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا۔ جب ہم نے نماز پڑھ لی اور واپس آ گئے، وہ اپنے اہل کے پاس چلے گئے۔ ہم بیٹھ گئے اور ایک دوسرے کو کہنے لگے: آیا تم لوگوں نے سنا ہے کہ انھوں نے اُس آدمی کو جواب دیتے ہوئے کہا: اللہ نے سچ کہا اور اس کے رسولوں نے (اس کا پیغام) پہنچا دیاہے؟ تم میں سے کون ہے جو ان سے ان کے کئے کے بارے میں سوال کرے گا؟ طارق نے کہا: میں سوال کروں گا۔ جب وہ باہر آئے تو انھوں نے سوال کیا۔ جوابًا انھوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت سے پہلے مخصوص لوگوں کو سلام کہا جائے گا اور تجارت عام ہو جائے گی ‘ حتی کہ بیوی تجارتی امور میں اپنے خاوند کی مدد کرے گی‘ نیز قطع رحمی‘ جھوٹی گواہی‘ سچی شہادت کو چھپانا اور لکھائی پڑھائی (بھی عام ہو جائے گی)۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12851]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البزار: 3407، والحاكم: 4/ 445، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3870 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3870»
وضاحت: فوائد: … عصر حاضر میں یہ امور ہوبہو پورے ہو چکے ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12852
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ رَجُلٌ مِنْ قَحْطَانَ يَسُوقُ النَّاسَ بِعَصَاهُ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کہ جب تک بنو قحطان میں پیدا ہونے والا ایک آدمی لوگوں کو اپنی لاٹھی سے ہانکے گا نہیں، اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12852]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3518، 7117، ومسلم: 2910، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9395»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۱۰۴۴۳)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12853
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا يَذْهَبُ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ حَتَّى يَمْلِكَ رَجُلٌ مِنَ الْمَوَالِي يُقَالُ لَهُ جَهْجَاهُ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ دن رات اس وقت تک ختم نہیں ہوں گے،جب تک جہجاہ نامی ایک غلام لوگوں پر حکمرانی نہ کرلے۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12853]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2911، والترمذي: 2228، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8364 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8346»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12854
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ يُحَدِّثُ الْقَوْمَ فِي مَجْلِسِهِ حَدِيثًا جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى السَّاعَةُ قَالَ فَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ سَمِعَ فَكَرِهَ مَا قَالَ وَقَالَ بَعْضُهُمْ بَلْ لَمْ يَسْمَعْ حَتَّى إِذَا قَضَى حَدِيثَهُ قَالَ أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ السَّاعَةِ قَالَ هَا أَنَا ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”إِذَا ضُيِّعَتِ الْأَمَانَةُ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ“ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَوْ قَالَ مَا إِضَاعَتُهَا قَالَ ”إِذَا تَوَسَّدَ الْأَمْرُ غَيْرَ أَهْلِهِ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مجلس میں تشریف فرما تھے اور لوگوں سے گفتگو کر رہے تھے، اتنے میں ایک بدّو نے آکر پوچھا: اے اللہ کے رسول! قیامت کب آئے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بات جاری رکھی، بعض لوگوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی بات توسن لی ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سوال کو ناپسند کیا اور بعض نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی بات ہی نہیں سنی، اُدھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بات پوری کر لی تو پوچھا: قیامت کے متعلق دریافت کرنے والا کہاں ہے؟ وہ بولا: جی میں ہوں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب امانتوں کو ضائع کر دیا جائے گا تو قیامت کا انتظار کرنا۔ اس نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! امانتوں کو ضائع کرنے سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب معاملات نااہل لوگوں کے سپرد کر دیئے جائیں گے، تو قیامت کا انتظار کرنا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12854]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 59، 6496، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8729 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8714»
وضاحت: فوائد: … مسلم ممالک میں تمام عہدیداران پر نظر دوڑائیں، وہ چھوٹے ہوں یا بڑے اور مذہبی ہوں یا سیاسی، ہر عہدے پر نااہل فرد نظر آئے گا، مثال دینے کی ضرورت نہیں، الا ما شاء اللہ، اگر کسی اہل کو کوئی خدمت سونپ دی گئی ہے تو وہ اس کا حق ادا نہیں کر رہا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. فِتَنْ عَامَّةٌ وَأُمُورٌ هَامَّةٌ لَا تَقُوْمُ السَّاعَةُ إِلَّا بَعْدَ حُصُولِها
ان عام فتنوں اور اہم امور کا بیان، جن کے وقوع پذیر ہونے کے بعد قیامت قائم ہوگی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12855
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّمَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الْأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ“ وَبِهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ زَوَى لِيَ الْأَرْضَ أَوْ قَالَ إِنَّ رَبِّي زَوَى لِيَ الْأَرْضَ فَرَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا وَإِنَّ مُلْكَ أُمَّتِي سَيَبْلُغُ مَا زُوِيَ لِي مِنْهَا وَإِنِّي أُعْطِيتُ الْكَنْزَيْنِ الْأَحْمَرَ وَالْأَبْيَضَ وَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي لِأُمَّتِي أَنْ لَا يُهْلِكُوا بِسَنَةٍ بِعَامَّةٍ وَلَا يُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ سِوَى أَنْفُسِهِمْ يَسْتَبِيحُ بَيْضَتَهُمْ وَإِنَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ قَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي إِذَا قَضَيْتُ قَضَاءً فَإِنَّهُ لَا يُرَدُّ وَقَالَ يُونُسُ لَا يُرَدُّ وَإِنِّي أَعْطَيْتُ لِأُمَّتِكَ أَنِّي لَا أُهْلِكُهُمْ بِسَنَةٍ بِعَامَّةٍ وَلَا أُسَلِّطُ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ سِوَى أَنْفُسِهِمْ يَسْتَبِيحُ بَيْضَتَهُمْ وَلَوِ اجْتَمَعَ عَلَيْهِمْ مِنْ بَيْنِ أَقْطَارِهَا أَوْ قَالَ مَنْ بِأَقْطَارِهَا حَتَّى يَكُونَ بَعْضُهُمْ يُسْبِي بَعْضًا وَإِنَّمَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الْأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ وَإِذَا وُضِعَ فِي أُمَّتِي السَّيْفُ لَمْ يُرْفَعْ عَنْهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَلْحَقَ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِي بِالْمُشْرِكِينَ حَتَّى تَعْبُدَ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِي الْأَوْثَانَ وَإِنَّهُ سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي كَذَّابُونَ ثَلَاثُونَ كُلُّهُمْ يَزْعَمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَلَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ“
مولائے رسول سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اپنی امت پر گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا ڈر ہے۔ پھر اسی سند سے سیدناثوبان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین کو سکیڑ دیا اور میں نے اس کے مشارق اور مغارب کو دیکھ لیا اور میری امت کی حکومت وہاں تک پہنچے گی جہاں تک اس نے زمین کو میرے لیے سکیڑا اور مجھے سرخ و سفید (یعنی سونے اورچاندی) کے دو خزانے عطا کیے گئے، میں نے اپنی امت کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ان کو عام قحط کے ذریعے ہلاک نہ کیا جائے اور ان پر ان کے غیر کو مسلّط نہ کیا جائے کہ وہ ان کا ستیاناس کر دے۔ میرے ربّ نے مجھ سے فرمایا: اے محمد! میں جب کوئی فیصلہ کر لیتا ہوں تو اسے تبدیل نہیں کیا جاتا اور میں آپ کی یہ دعا آپ کی امت کے حق میں قبول کر تا ہوں کہ میں انہیں عام قحط کے ذریعے ہلاک نہیں کروں گا اور نہ ہی ان کے غیر کو ان پر مسلط کروں گا، جو انہیں قتل کر کے ان کو جڑ سے اکھاڑ دے، خواہ روئے زمین کے تمام دشمن جمع ہو کر آ جائیں، البتہ یہ ہو گا کہ یہ خود ایک دوسرے کو قیدی بنانے لگیں گے، اور مجھے اپنی امت پر گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا اندیشہ ضرور ہے اور جب میری امت میں ایک دفعہ تلوار چل جائے گی،تو وہ قیامت تک بند نہیں ہو گی، نیز قیامت اس وقت تک بپا نہ ہوگی جب تک کہ میری امت کے کئی قبائل مشرکوں کے ساتھ نہیں مل جائیں گے اور میری امت کے بہت سے قبائل بتوں کی پوجا شروع کر دیں گے،عنقریب میری امت میں تیس جھوٹے دجال پیدا ہوں گے، ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے، حالانکہ میں آخر ی نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور میری امت میں ایک گروہ قیامت تک حق پر قائم اور غالب رہے گا، ان سے اختلاف کرنے والا ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا امر یعنی قیامت آجائے گی۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12855]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1920، 2889، وابوداود!: 4252، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22452 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22816»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معجزاتی طور پر مسلم فاتحین کی فتوحات کا سلسلہ دکھا دیا گیا، امام نووی نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جیسے خبر دی، ایسے ہی واقع ہوا، اس حدیث میں یہ اشارہ بھی دیا گیا ہے کہ اس امت کی بادشاہت زیادہ تر شرق و غرب کی جہتوں کی طرف پھیلے گی اور عملاً ایسے ہی ہوا اور یہ سلسلہ شمال و جنوب کی طرف زیادہ نہ پھیل سکا۔
سرخ و سفید (سونے اور چاندی) کے دو خزانے: سونے سے مراد کسری کے خزانے ہیں، ان کی زیادہ تر نقدی دیناروں پر مشتمل تھی اور چاندی سے مراد قیصر کے خزانے ہیں، ان کی زیادہ تر نقدی چاندی کی تھی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12856
عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”يُوشِكُ أَنْ تَتَدَاعَى عَلَيْكُمُ الْأُمَمُ مِنْ كُلِّ أُفُقٍ كَمَا تَتَدَاعَى الْأَكَلَةُ عَلَى قَصْعَتِهَا“، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَمِنْ قِلَّةٍ بِنَا يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: ”أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ كَثِيرٌ، وَلَكِنْ تَكُونُونَ غُثَاءً كَغُثَاءِ السَّيْلِ، يُنْتَزَعُ الْمَهَابَةُ مِنْ قُلُوبِ عَدُوِّكُمْ، وَيُجْعَلُ فِي قُلُوبِكُمُ الْوَهْنُ“، قَالَ: قُلْنَا: وَمَا الْوَهْنُ؟ قَالَ: ”حُبُّ الدُّنْيَا وَكَرَاهِيَةُ الْمَوْتِ“
مولائے رسول سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ ساری ملّتوں والے ہر طرف سے تم پر اس طرح جھپٹ پڑیں، جیسے کھانے والے پیالے پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم ان دنوں میں قلیل ہوں گے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں نہیں، بلکہ ان دنوں تمہاری تعداد تو بہت زیادہ ہوگی، لیکن تمہاری حیثیت سیلاب کے ساتھ بہنے والے پتوں، تنکوں اور جھاگ کی سی ہو گی اور تمہارے دشمنوں کے دلوں سے تمہارا رعب نکل جائے گا اور تمہارے دلوں میں وَھْن آجائے گا۔ ہم نے پوچھا: وھن سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دنیا سے محبت کرنا اور موت کو ناپسند کرنا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12856]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 4297، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22397 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22760»
وضاحت: فوائد: … عصر حاضر دنیائے اسلام اس حدیث کی مصداق بن چکی ہے، مسلمانوں نے دنیوی محبت، موت کی کراہت اور دشمنوں کے رعب کی وجہ سے جہاد ترک کر دیا ہے، جس کی وجہ سے نہ صرف مسلمانوں اور اسلامی مملکتوں کا رعب ختم ہو چکا ہے، بلکہ وہ دشمنوں کے سامنے بری طرح مرعوب ہو چکے ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12857
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْبَخْتَرِيِّ الطَّائِيَّ قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”لَنْ يَهْلِكَ النَّاسُ حَتَّى يُعْذِرُوا مِنْ أَنْفُسِهِمْ“
ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگ اس وقت تک ہرگز ہلاک نہیں ہوں گے، یہاں تک کہ وہ بہت گناہوں اور عیبوں والے نہ ہو جائیں۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12857]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 4347، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22506 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22873»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں