🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. مَادَّةُ الْحَوْضِ مِنْ نَهْرِ الْكَوْثَرِ
کوثر اور اس کی صفات کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13123
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”الْكَوْثَرُ نَهْرٌ فِي الْجَنَّةِ حَافَتَاهُ مِنْ ذَهَبٍ وَالْمَاءُ يَجْرِي عَلَى اللُّؤْلُؤِ وَمَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ“
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے فرمایا: جنت میں ایک نہر کا نام کوثر ہے، اس کے دونوں کنارے سونے کے ہیں، اس کا پانی موتیوں پر بہتا ہے، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب تتعلق بحوض الكوثر/حدیث: 13123]
تخریج الحدیث: «حديث قوي، أخرجه الترمذي: 3361، وابن ماجه: 4334، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5355 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5355»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13124
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا أَنَا بِنَهْرٍ حَافَتَاهُ خِيَامُ اللُّؤْلُؤِ فَضَرَبْتُ بِيَدِي إِلَى مَا يَجْرِي فِيهِ الْمَاءُ فَإِذَا مِسْكٌ أَذْفَرُ قُلْتُ مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ قَالَ هَذَا الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَهُ اللَّهُ“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں جنت میں داخل ہوا، میں نے وہاں ایک ایسی نہر دیکھی، اس کے کنارے خیموں والے موتیوں کے تھے، میں نے اس میں بہتے ہوئے پانی میں ہاتھ ڈالا تو اس میں سے انتہائی تیز مہکنے والی کستوری تھی، میں نے کہا: جبرائیل! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ وہ کوثر ہے، جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب تتعلق بحوض الكوثر/حدیث: 13124]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابن ابي شيبة: 11/437، وابويعلي: 3823، والنسائي في الكبري: 11706، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13776 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13812»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13125
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”الْكَوْثَرُ نَهْرٌ فِي الْجَنَّةِ وَعَدَنِيهِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں ایک نہر کا نام کوثر ہے اور میرے ربّ نے مجھ سے اس کا وعدہ کیا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب تتعلق بحوض الكوثر/حدیث: 13125]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 400، 2304، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11994 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12017»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13126
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْكَوْثَرِ فَقَالَ ”نَهْرٌ أَعْطَانِيهِ رَبِّي أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ وَفِيهِ طَيْرٌ كَأَعْنَاقِ الْجُزُرِ“ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ تِلْكَ لَطَيْرٌ نَاعِمَةٌ فَقَالَ ”أَكَلَتُهَا أَنْعَمُ مِنْهَا يَا عُمَرُ“
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوثر کے متعلق پوچھا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ ایک نہر ہے، جو میرے ربّ نے مجھے عطا کی ہے، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ شیریں ہے او راس میں اونٹ کی گردن جیسے بڑے بڑے پرندے ہوں گے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ پرندے تو بڑے عمدہ ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عمر! ان کو کھانے والے ان سے بھی بہتر اور افضل ہوں گے۔ [الفتح الربانی/أبواب تتعلق بحوض الكوثر/حدیث: 13126]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الحاكم: 2/ 537، والنسائي في الكبري: 11703، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13306 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13339»
وضاحت: فوائد: … سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بَیْنَا رَسُولُ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ذَاتَ یَوْمٍ بَیْنَ أَظْہُرِنَا إِذْ أَغْفَی إِغْفَائٰ ۃً ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ مُتَبَسِّمًا فَقُلْنَا: مَا أَضْحَکَکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ!؟ قَالَ: ((أُنْزِلَتْ عَلَیَّ آنِفًا سُورَۃٌ فَقَرَأَ {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ۔ إِنَّا أَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ۔ فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ۔ إِنَّ شَانِئَکَ ہُوَ الْأَبْتَرُ۔}۔)) ثُمَّ قَالَ: ((أَتَدْرُونَ مَا الْکَوْثَرُ؟)) فَقُلْنَا: اللّٰہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ قَالَ: ((فَإِنَّہُ نَہْرٌ وَعَدَنِیہِ رَبِّی عَزَّ وَجَلَّ عَلَیْہِ خَیْرٌ کَثِیرٌ ہُوَ حَوْضٌ تَرِدُ عَلَیْہِ أُمَّتِی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ آنِیَتُہُ عَدَدُ النُّجُومِ۔)) … ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے اندر موجود تھے، اچانک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ہلکی سی نیند طاری ہو گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسکراتے ہوئے سر اٹھایا، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کیوں مسکرا رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر ابھی ابھی ایک سورت نازل ہوئی ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی تلاوت کی: {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ۔ إِنَّا أَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ۔ فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ۔ إِنَّ شَانِئَکَ ہُوَ الْأَبْتَرُ۔} پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ کوثر کیا ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک نہر ہے، اللہ تعالیٰ نے مجھ سے اس کا وعدہ کیا ہے، اس میں بڑی خیر ہے، یہ حوض ہے، میری امت قیامت والے اس پر وارد ہو گی، اس کے برتن ستاروں کی تعداد کے برابر ہیں۔ (صحیح مسلم: ۶۰۷)سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے یہ آیت {اِنَّا اَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَر}پڑھی اور کہا: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ((اُعْطِیْتُ الْکَوْثَرَ، فَاِذَا ھُوَنَھْرٌ یَجْرِیْ (کَذَا عَلٰی وَجْہِ الْاَرْضِ) وَلَمْ یَشُقَّ شَقًّا، فَاِذَا حَافَتَاہُ قِبَابُ اللُّؤْلُوئِ، فَضَرَبْتُ بِیَدِيْ اِلٰی تُرْبَتِہٖ، فَاِذَا ھُوْ مِسْکَۃٌ ذَفِرَۃٌ، وَاِذَاحَصَاہُ اللُّؤْلُؤُ۔)) … اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے کوثر عطا کی گئی ہے، وہ ایک نہر ہے جو بغیر شق کے سطحِ زمین پر چلتی ہے، اس کے کناروں پر موتیوں کے قبے ہیں، میں نے اپنا ہاتھ اس کی مٹی پر مارا تو کیا دیکھا کہ وہ تو انتہائی تیز مہکنے والی کستوری ہے اور اس کی کنکریاں بھی موتی ہیں۔ (احمد: ۳/۱۵۲، صحیحہ:۲۵۱۳)
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ امام ابن قیم رحمتہ اللہ علیہ نے (حادی الأرواح: ۱/ ۲۸۶) میں کہا کہ ابن ابی الدنیا اپنی سند کے ساتھ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ جنت کی نہریں زمین میں لمبے کھڈوں کی طرح ہوں گی، حالانکہ معاملہ اس طرح نہیں ہے۔ جنت کی نہریں تو سطحِ زمین پر چلنے والی ہیں، ایک کنارہ موتی کا ہو گا اور دوسرا یاقوت کا اور ان کی مٹی اذفر کستوری ہو گی۔ معاویہ بن قرہ نے پوچھا: اذفر کیا ہوتا ہے؟ انھوں نے کہا: اس کستوری کو کہتے ہیں جو خالص ہو اور اس میں کسی اور چیز کی آمیزش نہ ہو۔ (یعقوب بن عبید صدوق ہے، باقی سند صحیح ہے، ابن مردویہ نے اپنی تفسیر میں اس روایت کو مرفوعا پیش کیا ہے، لیکن ان کی سند میں مہدی بن حکیم ہے، جس کے حالات نہیں مل سکے۔ موقوف روایت صحیح ہے، لیکن اس کا حکم مرفوع والا ہی ہے، کیونکہ ایسی بات رائے سے نہیں کہی جا سکتی۔
مسروق نے {مَائٍ مَّکْسُوْب}کی تفسیر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے مراد وہ پانی ہے جو کھڈوں کے بغیر چلتا ہو گا۔
میں (البانی) کہتا ہوں: ابن مردویہ نے (الدر المنثور: ۶/ ۴۰۲) میں سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے {اِنَّا اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَر}کی تفسیر نقل کی ہے، انھوں نے کہا کہ جنت میں ایک نہر کو کوثر کہتے ہیں، اس کی زمین میں گہرائی ستر ہزار فرسخ ہے۔
منذری نے اس قول کو ابن ابی الدنیا کی طرف منسوب کیا اور اس کے ضعف کی طرف اشارہ کیا، میں تو کہتا ہوں کہ یہ قول منکر ہے، کیونکہ اس سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی روایت کی مخالفت ہو رہی ہے۔ واللہ اعلم۔ (صحیحہ: ۲۵۱۳)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13127
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ ابْنَا مُلَيْكَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَا إِنَّ أُمَّنَا كَانَتْ تُكْرِمُ الزَّوْجَ وَتَعْطِفُ عَلَى الْوَلَدِ قَالَ وَذَكَرَ الضَّيْفَ غَيْرَ أَنَّهَا كَانَتْ وَأَدَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ ”أُمُّكُمَا فِي النَّارِ“ فَأَدْبَرَا وَالشَّرُّ يُرَى فِي وُجُوهِهِمَا فَأَمَرَ بِهِمَا فَرُدَّا فَرَجَعَا وَالسَّرُورُ يُرَى فِي وُجُوهِهِمَا رَجَيَا أَنْ يَكُونَ قَدْ حَدَثَ شَيْءٌ فَقَالَ ”أُمِّي مَعَ أُمِّكُمَا“ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُنَافِقِينَ وَمَا يُغْنِي هَذَا عَنْ أُمِّهِ شَيْئًا وَنَحْنُ نَطَأُ عَقِبَيْهِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَلَمْ أَرَ رَجُلًا قَطُّ أَكْثَرَ سُؤَالًا مِنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ وَعَدَكَ رَبُّكَ فِيهَا أَوْ فِيهِمَا قَالَ فَظَنَّ أَنَّهُ مِنْ شَيْءٍ قَدْ سَمِعَهُ فَقَالَ ”مَا سَأَلْتُهُ رَبِّي وَمَا أَطْمَعَنِي فِيهِ وَإِنِّي لَأَقُومُ الْمَقَامَ الْمَحْمُودَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ“ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ وَمَا ذَاكَ الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ قَالَ ”ذَاكَ إِذَا جِيءَ بِكُمْ عُرَاةً حُفَاةً غُرْلًا فَيَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُكْسَى إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ يَقُولُ اكْسُوا خَلِيلِي فَيُؤْتَى بِرَيْطَتَيْنِ بَيْضَاوَيْنِ فَيُلْبِسُهُمَا ثُمَّ يَقْعُدُ فَيَسْتَقْبِلُ الْعَرْشَ ثُمَّ أُوتِيَ بِكِسْوَتِي فَأَلْبِسُهَا فَأَقُومُ عَنْ يَمِينِهِ مَقَامًا لَا يَقُومُهُ أَحَدٌ غَيْرِي يَغْبِطُنِي بِهِ الْأَوَّلُونَ وَالْآخَرُونَ قَالَ وَيُفْتَحُ نَهْرٌ مِنَ الْكَوْثَرِ إِلَى الْحَوْضِ“ فَقَالَ الْمُنَافِقُونَ فَإِنَّهُ مَا جَرَى مَاءٌ قَطُّ إِلَّا عَلَى حَالٍ أَوْ رَضْرَاضٍ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَى حَالٍ أَوْ رَضْرَاضٍ قَالَ ”حَالُهُ الْمِسْكُ وَرَضْرَاضُهُ التُّومُ“ قَالَ الْمُنَافِقُ لَمْ أَسْمَعْ كَالْيَوْمِ قَلَّمَا جَرَى مَاءٌ قَطُّ عَلَى حَالٍ أَوْ رَضْرَاضٍ إِلَّا كَانَ لَهُ نَبْتٌ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لَهُ نَبْتٌ قَالَ ”نَعَمْ قُضْبَانُ الذَّهَبِ“ قَالَ الْمُنَافِقُ لَمْ أَسْمَعْ كَالْيَوْمِ فَإِنَّهُ قَلَّمَا نَبَتَ قَضِيبٌ إِلَّا أَوْرَقَ وَإِلَّا كَانَ لَهُ ثَمَرٌ قَالَ الْأَنْصَارِيُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ مِنْ ثَمَرٍ قَالَ ”نَعَمْ أَلْوَانُ الْجَوْهَرِ وَمَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ إِنَّ مَنْ شَرِبَ مِنْهُ مَشْرَبًا لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهُ وَإِنْ حُرِمَهُ لَمْ يُرْوَ بَعْدَهُ“
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ملیکہ کے دو بیٹے، نبی کر یم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے کہا: ہماری والدہ اپنے شوہرکی بڑی عزت کرتی تھی،اپنی اولاد پر بھی بڑی شفیق تھی اور مہمانوں کی ضیافت بھی خوب کرتی تھی، البتہ اس سے ایک خطا سرزد ہوئی تھی کہ اس نے دورِ جاہلیت میں اپنی اولاد کو زندہ درگور کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہاری ماں جہنم میں ہے۔ یہ سن کر وہ واپس چلے گئے اور ان کے چہروں پر مایوسی اور غم نمایاں تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کو واپس بلوایا، جب وہ واپس ہوئے تو ان کے چہروں پر خوشی کے آثار تھے، انہیں امید تھی کہ کوئی نئی بات واقع ہو چکی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: میری ماں بھی تمہاری ماں کے ساتھ ہی ہے۔ ایک منافق بولا:ہم اس رسول کے پیچھے چلتے ہیں اور یہ اپنی والدہ کو بھی جہنم سے نہیں بچا سکا،ایک انصاری، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بہت زیادہ سوالات کرتا تھا، اس نے کہا: کیا آپ کے ربّ نے آپ سے آپ کی اور ان کی والدہ کے بارے میں کچھ کہا ہے؟ اس نے سمجھا کہ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اللہ تعالیٰ سے سنی ہوئی باتوں میں سے کوئی بات ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اس بارے میں اپنے ربّ سے تو کوئی بات دریافت نہیں کی اور نہ مجھے اس کی ضرورت ہے، میں قیامت کے دن ـمقام ِ محمود پر کھڑا ہوں گا۔ وہ انصاری بولا: مقامِ محمود سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: قیامت کے دن جب تم لوگوں کو برہنہ جسم، ننگے پاؤں اور غیر مختون حالت میں لایا جائے گا، تو سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کو لباس مہیا کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میرے خلیل کو لباس پہناؤ، پھر دو سفید چادریں لا کر ان کو دی جائیں گی اور وہ ان کو زیب تن کر لیں گے، وہ اس کے بعد عرش کی طرف رخ کر کے بیٹھ جائیں گے، پھر میرے پاس میرا لباس لایا جائے گا، میں بھی اسے زیب تن کر کے عرش کی داہنی جانب اس جگہ پر کھڑا ہو جاؤں گا، جہاں میرے سوا کوئی کھڑا نہیں ہو سکے گا، اگلے پچھلے سب لوگ اس اعزاز پر مجھ سے رشک کریں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ نہر کوثر سے حوض کی طرف ایک نہر چلائی جائے گی۔ یہ سن کر منافقوں نے کہا: نہروں کا پانی تومٹی اور کنکریوں پر بہتا ہے۔ اس انصاری نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا کوثر کا پانی مٹی اور کنکروں پر بہے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی مٹی کستوری اور اس کے کنکر موتی ہوں گے۔ منافق بولا: ہم نے تو آج تک یہی سنا ہے کہ نہروں کا پانی جس مٹی اور کنکر پر بہتا ہے،اس سے فصل اگتی ہے۔ اس انصاری نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا اس پانی سے کچھ اُگے گا بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں ہاں، سونے کی کونپلیں نکلیں گی۔ منافق بولا: ہم نے تو ایسی بات کبھی نہیں سنی، کم ہی کوئی کونپل اُگتی ہے مگر اس پر پتے بھی آتے ہیں یا پھر ان پر پھل بھی لگتے ہیں، انصاری نے کہا: اللہ کے رسو ل! کیا اس اُگنے والی چیز کا پھل بھی ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں ہاں، اس پر جواہرات کے رنگ ہوں گے، ا س کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ شیریں ہوگا، جس نے ایک دفعہ وہ پانی پی لیا، اس کے بعد اسے کبھی پیاس محسوس نہیں ہوگی اور جو کوئی اس سے محروم رہا وہ بعد میں کبھی سیراب نہیں ہو سکے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب تتعلق بحوض الكوثر/حدیث: 13127]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عثمان بن عمير البجلي، أخرجه الطبراني في الكبير: 10017، والبزار: 3478، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3787 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3787»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. صِفَةُ الْحَوْضِ وَمَا جَاءَ فِيهِ
حوض کی کیفیت اور اس سے متعلقہ دیگر روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13128
عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّ لِي حَوْضًا مَا بَيْنَ أَيْلَةَ إِلَى صَنْعَاءَ عَرْضُهُ كَطُولِهِ فِيهِ مِيزَابَانِ يَنْثَعِبَانِ مِنَ الْجَنَّةِ مِنْ وَرِقٍ وَالْآخَرُ مِنْ ذَهَبٍ أَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ وَأَبْرَدُ مِنَ الثَّلْجِ وَأَبْيَضُ مِنَ اللَّبَنِ مَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ حَتَّى يَدْخُلَ الْجَنَّةَ فِيهِ أَبَارِيقُ عَدَدُ نُجُومِ السَّمَاءِ“
سیدنا ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آخرت میں میرا ایک حوض ہوگا، اس کی وسعت اس قد رہوگی جیسے ایلہ سے صنعاء تک کی مسافت ہے، اس کی چوڑائی اس کی لمبائی جتنی ہو گی، اس میں جنت سے آنے والے پانی کے دو پرنالے گر رہے ہوں گے، ایک پرنالہ چاندی کا ہوگا اور دوسرا سونے کا، اس کا پانی شہد سے زیادہ شیریں، برف سے زیادہ ٹھنڈا، دودھ سے زیادہ سفید ہوگا، جس نے اس سے ایک دفعہ پی لیا وہ جنت میں جانے تک پیاس محسوس نہیں کرے گا، اس کے آبخوروں کی تعداد آسمان کے تاروں جتنی ہوگی۔ [الفتح الربانی/أبواب تتعلق بحوض الكوثر/حدیث: 13128]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه البزار: 3849، وابن حبان: 6458، والحاكم: 1/76، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19804 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20042»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13129
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ أَمَامَكُمْ حَوْضًا مَا بَيْنَ نَاحِيَتَيْهِ كَمَا بَيْنَ جَرْبَاءَ وَأَذْرُحَ“
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے آگے (یعنی آخرت میں) ایک حوض ہوگا، اس کے دو کناروں کے مابین اس قدر مسافت ہوگی، جس قدر جرباء اور اذرح کے درمیان ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب تتعلق بحوض الكوثر/حدیث: 13129]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6577، ومسلم: 2299، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6079 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6079»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13130
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَعَدَنِي أَنْ يُدْخِلَ مِنْ أُمَّتِي الْجَنَّةَ سَبْعِينَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ“ فَقَالَ يَزِيدُ بْنُ الْأَخْنَسِ السُّلَمِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَاللَّهِ مَا أُولَئِكَ فِي أُمَّتِكَ إِلَّا كَالذُّبَابِ الْأَصْهَبِ فِي الذُّبَّانِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”كَانَ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ قَدْ وَعَدَنِي سَبْعِينَ أَلْفًا مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعُونَ أَلْفًا وَزَادَنِي ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ“ (وَفِي رِوَايَةٍ ”مِنْ حَثَيَاتِ الرَّبِّ“) قَالَ فَمَا سِعَةُ حَوْضِكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ ”كَمَا بَيْنَ عَدَنَ إِلَى عُمَانَ وَأَوْسَعَ وَأَوْسَعَ يُشِيرُ بِيَدِهِ قَالَ فِيهِ مَثْعَبَانِ مِنْ ذَهَبٍ وَفِضَّةٍ“ قَالَ فَمَا حَوْضُكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ ”أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ وَأَحْلَى مَذَاقَةً مِنَ الْعَسَلِ وَأَطْيَبُ رَائِحَةً مِنَ الْمِسْكِ مَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا وَلَمْ يَسْوَدَّ وَجْهُهُ أَبَدًا“ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ وَقَدْ ضَرَبَ عَلَيْهِ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ قَدْ ضَرَبَ عَلَيْهِ لِأَنَّهُ خَطَأٌ إِنَّمَا هُوَ عَنْ زَيْدٍ عَنْ أَبِي سَلَامٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار افراد کو بلا حساب جنت میں داخل فرمائے گا۔ یہ سن کر سیدنا یزید بن اخنس رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! یہ تعداد تو آپ کی امت میں ایسے ہی ہے، جیسے عام مکھیوں میں سفید سرخی مائل رنگ کی مکھی ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے ربّ نے میرے ساتھ ستر ہزار کا وعدہ کیا اور ہر ہزار کے ساتھ مزید ستر ہزار کا بھی وعدہ کیا اور اس پر مستزاد یہ کہ کہ اللہ تعالیٰ کی تین مٹھیاں اس تعداد کے علاوہ ہیں۔ انھوں نے پھر کہا: اللہ کے نبی!آپ کے حوض کی وسعت کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس قد رعدن سے عمان تک مسافت ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: بلکہ اس سے بھی زیادہ وسیع ہے، اس سے زیادہ وسیع ہے، اس میں دو پرنالے ہوں گے، ایک سونے کا ہو گا اور دوسرا چاندی کا۔ انھوں نے کہا: اللہ کے نبی! آپ کے حوض کا پانی کیسا ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ دودھ سے زیادہ سفید، شہد سے زیادہ شیریں اور کستوری سے بڑھ کر خوشبود ار ہوگا، جس نے ایک دفعہ وہاں سے پی لیا، اس کے بعد وہ کبھی بھی پیاس محسوس نہیں کرے گا اور اس کا چہرہ بھی کبھی سیاہ نہیں ہوگا۔ عبداللہ بن امام احمد کہتے ہیں: یہ حدیث میں نے اپنے والد کی کتاب میں ان کے ہاتھ کے ساتھ لکھی ہوئی پائی اور اس پر نشان لگایا گیا تھا، جس سے مجھے یہ بات سمجھ آئی کہ حدیث اس طرح ٹھیک نہیں دراصل یہ حدیث عن زید عن ابی سلام عن ابی امامہ کے واسطے سے مروی ہے۔ (عبداللہ رفیق) [الفتح الربانی/أبواب تتعلق بحوض الكوثر/حدیث: 13130]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابن حبان: 6457، والطبراني في الكبير: 7672، وأخرج بعضه الترمذي: 4286، وابن ماجه: 2437، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22156 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22508»
وضاحت: فوائد: … (۱) اس سے معلوم ہوا کہ آخرت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک وسیع و عریض حوض عنایت کیا جائے گا اس میںجنت کی طرف سے دو پرنالے ہوں گے۔ ان میں سے ایک چاندی کا اور ایک سونے کا ہوگا۔ اس کا پانی دودھ سے سفید تر، شہد سے زیادہ شیریں اور برف سے بھی زیادہ ٹھنڈا ہوگا۔ اسے پینے والے کو کبھی پیاس محسوس نہیں ہوگی۔ وہاں پانی پینے کے لیے نجوم ہائے فلک سے بھی زیادہ تعداد میں برتن موجود ہوں گے۔ اور اس پانی کو پینے والے کا چہرہ کبھی سیاہ نہیں ہوگا۔
(۲) نیز معلوم ہوا کہ اس امت میں سے ستر ہزار آدمی بلا حساب جنت میں جائیں گے اور ہر ہزار کے ساتھ ستر ستر ہزار آدمی ہوں گے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. تَكْذِيبُ عُبَيْدِ اللهِ بن زِيَادِ بِالْحَوْضِ ثُمَّ رُجُوعُهُ عَنْ ذَلِكَ وَتَصْدِيقُهُ
عبیداللہ بن زیاد کا پہلے حوض کو تسلیم نہ کرنا، لیکن بعد میں اس کا اپنے اس موقف سے رجوع کر لینا اور حوض کے وجود کی تصدیق کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13131
عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَ إِلَيَّ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ مَا أَحَادِيثُ تُحَدِّثُهَا أَوْ تَرْوِيهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا نَجِدُهَا فِي كِتَابِ اللَّهِ تُحَدِّثُ أَنَّ لَهُ حَوْضًا فِي الْجَنَّةِ قَالَ قَدْ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَوَعَدَنَاهُ قَالَ كَذَبْتَ وَلَكِنَّكَ شَيْخٌ قَدْ خَرَفْتَ قَالَ إِنِّي قَدْ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ جَهَنَّمَ“ وَمَا كَذَبْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: عبیدا للہ بن زیاد نے مجھے بلوایا اور جب میں اس کے پاس گیا تو اس نے کہا: تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ کیسی کیسی احادیث روایت کرتے ہو، جن کی اصل کا کتاب اللہ میں کوئی ذکر نہیں ہے، تم بیان کرتے ہو کہ جنت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک حوض ہوگا۔ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس کے متعلق بیان کیا اور ہم سے اس کا وعدہ بھی کیا ہے، عبیداللہ نے کہا: تم غلط کہتے ہو، تم بوڑھے ہوگئے ہو اور تمہاری عقل چلی گئی ہے۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میرے کانوں نے سنی اور میرے دل نے اسے یاد رکھا ہے، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کا بھی مجھے علم ہے: جس نے جان بوجھ کر میری طرف جھوٹی بات کو منسوب کیا، تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم سے تیار کر لے اور میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ نہیں باندھتا۔ [الفتح الربانی/أبواب تتعلق بحوض الكوثر/حدیث: 13131]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19480»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13132
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ شَكَّ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ فِي الْحَوْضِ فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَتَاهُ فَقَالَ لَهُ جُلَسَاءُ عُبَيْدِ اللَّهِ إِنَّمَا أَرْسَلَ إِلَيْكَ الْأَمِيرُ لِنَسْأَلَكَ عَنِ الْحَوْضِ هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيهِ شَيْئًا قَالَ نَعَمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُهُ فَمَنْ كَذَّبَ بِهِ فَلَا سَقَاهُ اللَّهُ مِنْهُ
سیدنا عبد اللہ بن بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عبیداللہ بن زیاد کو حوض کے بارے میں شک ہونے لگا، اس لیے اس نے سیدنا ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کو بلوایا، جب یہ اس کے ہاں گئے تو اس کے ہم نشینوں نے ان سے کہا: امیر نے آپ کو اس لیے بلوایا ہے کہ ہم آپ رضی اللہ عنہ سے حوض کے متعلق دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ آیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حوض کے بارے میں کچھ سنا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے، اور جو اس کوجھٹلائے گا، اللہ تعالیٰ اس کو اس سے نہ پلائے۔ [الفتح الربانی/أبواب تتعلق بحوض الكوثر/حدیث: 13132]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 4749، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19763 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20001»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں