🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. تَكْذِيبُ عُبَيْدِ اللهِ بن زِيَادِ بِالْحَوْضِ ثُمَّ رُجُوعُهُ عَنْ ذَلِكَ وَتَصْدِيقُهُ
عبیداللہ بن زیاد کا پہلے حوض کو تسلیم نہ کرنا، لیکن بعد میں اس کا اپنے اس موقف سے رجوع کر لینا اور حوض کے وجود کی تصدیق کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13133
وَعَنْ أَبِي طَالُوتَ الْعَنَزِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَخَرَجَ مِنْ عِنْدِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ وَهُوَ مُغْضَبٌ فَقَالَ مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنِّي أَعِيشُ حَتَّى أَخْلُفَ فِي قَوْمٍ يُعَيِّرُونِي بِصُحْبَةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالُوا إِنَّ مُحَمَّدِيَّكُمْ هَذَا لَدَحْدَاحٌ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الْحَوْضِ فَمَنْ كَذَّبَ فَلَا سَقَاهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنْهُ
ابو طالوت عنزی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے سیدنا ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کو غصے کی حالت میں دیکھا، جبکہ وہ اس وقت عبید اللہ بن زیاد کے پاس سے نکل رہے تھے اور کہہ رہے تھے: یہ تو میرا خیال نہیں تھا کہ مجھے اپنی زندگی میں یہ دن بھی دیکھنے پڑیں گے کہ لوگ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت کی عار دلائیں گے، یہ میرے بارے میں کہتے ہیں: یہ تمہارا محمدی پست قد والا موٹوہے، جبکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حوض کر ذکر کرتے ہوئے سنا تھا، اب جو اس حوض کی تکذیب کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے اس سے نہ پلائے۔ [الفتح الربانی/أبواب تتعلق بحوض الكوثر/حدیث: 13133]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20017»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13134
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنَا مَعْمَرٌ عَنْ مَطَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ قَالَ شَكَّ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ فِي الْحَوْضِ فَقَالَ لَهُ أَبُو سَبِرَةَ رَجُلٌ مِنْ صَحَابَةِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ فَإِنَّ أَبَاكَ حِينَ انْطَلَقَ وَافِدًا إِلَى مُعَاوِيَةَ انْطَلَقْتُ مَعَهُ فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَحَدَّثَنِي مِنْ فِيهِ إِلَى فِيَّ حَدِيثًا سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَمْلَاهُ عَلَيَّ وَكَتَبْتُهُ قَالَ فَإِنِّي أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ لَمَا أَعْرَقْتَ هَذَا الْبِرْذَوْنَ حَتَّى تَأْتِيَنِي بِالْكِتَابِ قَالَ فَرَكِبْتُ الْبِرْذَوْنَ فَرَكَضْتُهُ حَتَّى عَرَقَ فَأَتَيْتُهُ بِالْكِتَابِ فَإِذَا فِيهِ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنَّ اللَّهَ يُبْغِضُ الْفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُخَوَّنَ الْأَمِينُ وَيُؤْتَمَنَ الْخَائِنُ حَتَّى يَظْهَرَ الْفُحْشُ وَقَطِيعَةُ الْأَرْحَامِ وَسُوءُ الْجِوَارِ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنَّ مَثَلَ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الْقِطْعَةِ مِنَ الذَّهَبِ نَفَخَ عَلَيْهَا صَاحِبُهَا فَلَمْ تَتَغَيَّرْ وَلَمْ تَنْقُصْ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنَّ مَثَلَ الْمُؤْمِنِ لَكَمَثَلِ النَّحْلَةِ أَكَلَتْ طَيِّبًا وَوَضَعَتْ طَيِّبًا وَوَقَعَتْ فَلَمْ تَكْسِرْ وَلَمْ تَفْسُدْ“ قَالَ ”أَلَا إِنَّ لِي حَوْضًا مَا بَيْنَ نَاحِيَتَيْهِ كَمَا بَيْنَ أَيْلَةَ إِلَى مَكَّةَ أَوْ قَالَ صَنْعَاءَ إِلَى الْمَدِينَةِ وَإِنَّ فِيهِ مِنَ الْأَبَارِيقِ مِلْءَ الْكَوَاكِبِ هُوَ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ مَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا“ قَالَ أَبُو سَبِرَةَ فَأَخَذَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ الْكِتَابَ فَجَزِعْتُ عَلَيْهِ فَلَقِينِي يَحْيَى بْنُ يَعْمُرَ فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَيْهِ فَقَالَ وَاللَّهِ لَأَنَا أَحْفَظُ لَهُ مِنِّي لِسُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ فَحَدَّثَنِي بِهِ كَمَا كَانَ فِي الْكِتَابِ سَوَاءً
عبد اللہ بن بریدہ کہتے ہیں کہ عبیداللہ بن زیاد کو حوض کو ثر کے بارے میں شک ہوا،اس کے ہم نشینو ں میں سے ابو سبرہ نامی ایک شخص نے اس سے کہا: تمہارا والد جب وفد کی صورت میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو میں بھی اس کے ساتھ تھا،سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی، انھوں نے براہ راست مجھے ایک حدیث بیان کی، جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی تھی، انھوں نے مجھے باقاعدہ املا کرائی اور میں نے اسے لکھ لیا۔ عبید اللہ نے کہا:میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ تم اس خچر کو اس قدر تیز دوڑاؤ کہ اسے پسینہ آجائے اور اس طرح تم وہ تحریر میرے پاس لے کر آؤ، ابو سبرہ کہتے ہیں: میں خچر پر سوار ہوا اوراسے ایڑی لگائی، یہاں تک کہ اسے خوب پسینہ آگیا اور میں وہ تحریرلے کر اس کے پاس واپس پہنچ گیا، اس میں تحریر تھا کہ مجھے سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فحش کلامی اور تکلف کے ساتھ فحش باتیں کرنے کو انتہائی نا پسند کرتا ہے، اس ذا ت کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک اس طرح نہیں ہو جاتا کہ دیانت دار کو خائن اور خائن کو دیانت دار قرار دیا جائے، فحش کلامی اور تکلف کے ساتھ فحش کلامی عام ہوجائے گی اور قطع رحمی اور ہمسایوں کے ساتھ بدسلوکی بھی عام ہوجائے گی۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! مومن کی مثال سونے کے ایک ٹکڑے کی طرح ہے کہ اگراس کا مالک اس پر پھونک مارے تو وہ نہ تبدیل ہوتا ہے اور نہ اس میں کوئی کمی آتی ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! مومن کی مثال شہد کی مکھی کی سی ہے، جو پاکیزہ چیز کھاتی اور پاکیزہ چیز نکالتی ہے، وہ جہاں بھی بیٹھتی ہے، نہ تو کسی چیز کو توڑتی ہے اور نہ اسے خراب کرتی ہے۔ پھر آپ نے فرمایا: خبردار! آخر ت میں میرا ایک حوض ہوگا، جس کے دونوں کناروں کے درمیان اتنا فاصلہ ہو گا کہ جتنی مسافت ایلہ اور مکہ مکرمہ کے درمیان یاصنعاء سے مدینہ منورہ کے درمیان ہے اور وہاں پانی پینے کے لیے برتنوں کی تعداد ستاروں سے بھی زیادہ ہوگی، حوض کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ شریں ہوگا، جس نے ایک دفعہ وہ پی لیا، اس کے بعد وہ کبھی بھی پیاس محسو س نہیں کرے گا۔ ابو سبرہ کہتے ہیں: عبیداللہ بن زیاد نے وہ تحریر لے لی اور میں گھبرا گیا، اس کے بعد یحییٰ بن یعمرسے میری ملاقات ہوئی، میں نے ان سے اس چیز کا اظہار کیا، انھوں نے کہا: اللہ کی قسم مجھے یہ حدیث قرآنی سورت کی بہ نسبت بھی زیادہ یاد ہے، پھر انہوں نے مجھے وہ حدیث بعینہٖ اسی طرح بیان کر دی، جیسے وہ اس کتاب میں لکھی ہوئی تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب تتعلق بحوض الكوثر/حدیث: 13134]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه باخصر منه الحاكم: 1/ 75، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6872 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6872»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13135
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا يَحْيَى ثَنَا حُسَيْنُ الْمُعَلِّمُ ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِي سَبِرَةَ قَالَ كَانَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ يَسْأَلُ عَنِ الْحَوْضِ حَوْضِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ يُكَذِّبُ بِهِ بَعْدَ مَا سَأَلَ أَبَا بَرْزَةَ وَالْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ وَعَائِذَ بْنَ عَمْرٍو وَرَجُلًا آخَرَ وَكَانَ يُكَذِّبُ بِهِ فَقَالَ أَبُو سَبِرَةَ أَنَا أُحَدِّثُكَ بِحَدِيثٍ فِيهِ شِفَاءُ هَذَا إِنَّ أَبَاكَ بَعَثَ مَعِيَ بِمَالٍ إِلَى مُعَاوِيَةَ فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو فَحَدَّثَنِي بِمَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَمْلَى عَلَيَّ فَكَتَبْتُ بِيَدِي فَلَمْ أَزِدْ حَرْفًا وَلَمْ أَنْقُصْ حَرْفًا حَدَّثَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ“ فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَفِيهِ ”أَلَا إِنَّ مَوْعِدَكُمْ حَوْضِي عَرْضُهُ وَطُولُهُ وَاحِدٌ هُوَ كَمَا بَيْنَ أَيْلَةَ وَمَكَّةَ وَهُوَ مَسِيرَةُ شَهْرٍ فِيهِ مَثَلُ النُّجُومِ أَبَارِيقُ شَرَابُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ الْفِضَّةِ مَنْ شَرِبَ مِنْهُ مَشْرَبًا لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهُ أَبَدًا“ فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ مَا سَمِعْتُ فِي الْحَوْضِ حَدِيثًا أَثْبَتَ مِنْ هَذَا فَصَدَّقَ بِهِ وَأَخَذَ الصَّحِيفَةَ فَحَبَسَهَا عِنْدَهُ
۔ (دوسری سند) ابو سبرہ کہتے ہیں: عبیدا للہ بن زیاد، جناب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوض کے بارے میں دریافت کرتا رہتا تھا، وہ اس بارے میں سیدنا ابو برزہ، سیدنا براء بن عازب، سیدنا عائذبن عمرو اور ایک اور صحابی سے پوچھ چکا تھا، پھر بھی وہ اس کی تکذیب کیا کرتا تھا۔ ایک دن ابو سبرہ نے اس سے کہا: میں آپ کو ایک حدیث بیان کرتا ہوں، اس میں آپ کے اشکال کا حل موجود ہے، تمہارے والد نے مال دے کر مجھے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس روانہ کیا تھا، وہاں سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوگئی تھی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہوئی احادیث مجھے بیان کیں اور ان کی املا بھی کرائی تھیں، میں نے ان احادیث کو اپنے ہاتھ سے لکھ لیا تھا، میں نے ان میں ایک حرف کی بھی کمی بیشی نہیں کی، انھوں نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے: اللہ تعالیٰ فحش کلامی کو پسند نہیں کرتا، … اس سے آگے حدیث پہلی حدیث کی طرح ہے، البتہ اس میں یہ اضافہ ہے: خبردار! میرے ساتھ تمہاری ملاقات میرے حوض پر ہوگی، اس کا طول اور عرض برابر ہے، وہ ایلہ سے مکہ مکرمہ تک کی مسافت جتنا وسیع ہے، یہ ایک مہینے کی مسافت ہے، وہاں آسمان کے تاروں کی تعداد کے برابر پانی پینے کے برتن ہوں گے، اس حوض کا پانی چاندی سے زیادہ سفید ہوگا، جس نے ایک دفعہ وہ پی لیا، اس کے بعد اسے کبھی بھی پیاس محسوس نہیں ہوگی۔ یہ حدیث سن کر عبیداللہ بن زیاد نے کہا: میں نے حوض کوثر کے بارے میں اس سے زیادہ صحیح اور مضبوط حدیث نہیں سنی، پھر اس نے اس کی تصدیق کی اور اس صحیفہ (کتاب) کو لے کر اپنے پاس رکھ لیا۔ [الفتح الربانی/أبواب تتعلق بحوض الكوثر/حدیث: 13135]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6514»
وضاحت: فوائد: … ۱۔ اس فصل کی احادیث میں حوض کوثر کا اثبات ہے۔ نیز یہ بھی پتہ چلا کہ عبیداللہ بن زیاد شرو ع میں حوض کوثر کے وجود کا انکاری تھا۔ بعد میں زید بن ارقم رضی اللہ عنہ اور عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی احادیث سن کر اس نے اپنے رائے سے رجوع کر لیا۔
۲۔ نیز معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف جھوٹ بات کو عمداً منسوب کرنے والے کا انجام جہنم ہے۔
۳۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ عبیداللہ بن زیاد نے ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کو نبی کر یم کے صحابی ہونے کا طعنہ دیا اور بطور طنز ان کو محمدی کہا۔
۴۔ نیز معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کو بطور عادت والی فحش کلامی اور بطور تکلف والی فحش کلامی بھی ناپسند ہے۔
۵۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی دیانت دار کو خائن اور خائن کو دیانت دار سمجھنا، بطور عادت فحش کلامی کرنا، اور تکلف کے ساتھ فحش کلامی کرنا، قطعی رحمی اور ہمسایوں کے ساتھ بدسلوکی یہ سب کام قیامت کی علامات میں سے ہیں۔
۶۔ نیز معلوم ہوا کہ حوض کوثر انتہائی وسیع و عریض ہوگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بطور تمثیل فرمایا کہ جس طرح ایلہ سے مکہ مکرمہ تک یا صنعاء سے مدینہ منورہ تک کی مسافت ہے۔ حوض کوثر کے دو کناروں یا دو جانبوں کے درمیان اسی طرح مسافت ہوگی۔ اور وہاں پانی پینے کے لیے برتن نجوم ہائے فلک کے برابر تعداد میں ہوں گے۔ اور حوض کوثر کا پانی دودھ سے سفید تر، شہد سے شیریں تر ہوگا اور اسے پینے والے کو کبھی پیاس محسوس نہیں ہوگی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. مَن يُطْرَدُونَ عَنِ الْحَوْضِ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ
ان لوگوں کا تذکرہ، جنہیں حوض کو ثر سے دھتکار دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ پناہ میں رکھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13136
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ فَمَنْ وَرَدَ أَفْلَحَ وَيُؤْتَى بِأَقْوَامٍ فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ فَأَقُولُ أَيْ رَبِّ فَيُقَالُ مَا زَالُوا بَعْدَكَ يَرْتَدُّونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ“
سیدنا عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا،جو شخص وہاں تک پہنچ گیا، وہ فلاح پا جائے گا، وہاں کچھ ایسے لوگ بھی آئیں گے، جن کو بائیں طرف دھکیل دیا جائے گا، میں کہوں گا: اے میرے رب! (یہ لوگ)۔ جواباً کہا جائے گا: یہ لوگ آپ کے بعد دین سے واپس پلٹتے گئے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب تتعلق بحوض الكوثر/حدیث: 13136]
تخریج الحدیث: «أخرجه مطولا البخاري: 4625، 4740، ومسلم: 2760، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2327 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2327»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13137
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ وَلَأُنَازِعَنَّ أَقْوَامًا ثُمَّ لَأُغْلَبَنَّ عَلَيْهِمْ فَأَقُولُ يَا رَبِّ أَصْحَابِي فَيَقُولُ إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ“
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تم سے پہلے حوض پر جا کرتمہارا انتظار کروں گا، کچھ لوگوں کو مجھ سے دور کر دیا جائے گا اور میں ان کے بارے میں مغلوب ہو جاؤں گا۔ میں کہوں گا: اے میرے رب! یہ لوگ تو میرے ساتھی یعنی میری امت کے لوگ ہیں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: آپ نہیں جانتے کہ ان لوگوں نے آپ کے بعد کیا کچھ ایجاد کر لیا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب تتعلق بحوض الكوثر/حدیث: 13137]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6575، ومسلم: 2297، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4042 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4042»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13138
وَعَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَنَا عَلَى الْحَوْضِ أَنْظُرُ مَنْ يَرِدُ عَلَيَّ قَالَ فَيُؤْخَذُ نَاسٌ دُونِي فَأَقُولُ يَا رَبِّ مِنِّي وَمِنْ أُمَّتِي قَالَ فَيُقَالُ وَمَا يُدْرِيكَ مَا عَمِلُوا بَعْدَكَ مَا بَرِحُوا بَعْدَكَ يَرْجِعُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ“ قَالَ جَابِرٌ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”الْحَوْضُ مَسِيرَةُ شَهْرٍ وَزَوَايَاهُ سَوَاءٌ يَعْنِي عَرْضُهُ مِثْلُ طُولِهِ وَكِيزَانُهُ مِثْلُ نُجُومِ السَّمَاءِ وَهُوَ أَطْيَبُ رِيحًا مِنَ الْمِسْكِ وَأَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ مَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهُ أَبَدًا“
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں حوض پربیٹھا آنے والوں کا انتظار کر رہا ہوں گا کہ کچھ لوگوں کو میری طرف آنے سے روک دیا جائے گا، میں کہوں گا: اے میرے رب! یہ لوگ تو مجھ سے اور میری امت سے ہیں، لیکن جواباً کہا جائے گا:آپ نہیں جانتے کہ ان لوگوں نے آپ کے بعد کیسے کیسے کام کیے تھے؟ آپ کے بعد یہ لوگ دین سے دور ہوتے چلے گئے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حوض کے ایک طرف کا طو ل ایک ماہ کی مسافت کے برابر ہے اور اس کی دونوں اطراف برابر برابر ہیں، یعنی اس کی چوڑائی اس کی لمبائی کے مساوی ہے، اس کے آب خوروں کی تعداد ستاروں جتنی ہوگی، اس کی خوشبو کستوری سے زیادہ ہے اور اس کا رنگ دودھ سے زیادہ سفید ہے، جس نے اس کا پانی ایک دفعہ پی لیا، اسے بعد میں کبھی بھی پیاس محسوس نہیں ہوگی۔ [الفتح الربانی/أبواب تتعلق بحوض الكوثر/حدیث: 13138]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15121 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15187»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13139
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَأَذُودَنَّ رِجَالًا مِنْكُمْ مِنْ حَوْضِي كَمَا تُذَادُ الْغَرِيبَةُ مِنَ الْإِبِلِ عَنِ الْحَوْضِ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! میں تم میں سے کچھ لوگوں کو اپنے حوض سے اس طرح دور کر دوں گا، جیسے اجنبی اونٹ کو حوض سے ہٹا دیا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب تتعلق بحوض الكوثر/حدیث: 13139]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2367، ومسلم: 2302، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7968 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7955»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13140
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَقْبَرَةِ فَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِهَا قَالَ ”سَلَامٌ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ وَدِدْتُ أَنَّا قَدْ رَأَيْنَا إِخْوَانَنَا“ قَالُوا أَوَلَسْنَا إِخْوَانَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”بَلْ أَنْتُمْ أَصْحَابِي وَإِخْوَانِيَ الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُ وَأَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ“ قَالُوا وَكَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ يَأْتِ مِنْ أُمَّتِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا لَهُ خَيْلٌ غُرٌّ مُحَجَّلَةٌ بَيْنَ ظَهْرَيْ خَيْلٍ دُهْمٍ بُهْمٍ أَلَا يَعْرِفُ خَيْلَهُ“ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”فَإِنَّهُمْ يَأْتُونَ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنَ الْوُضُوءِ يَقُولُهَا ثَلَاثًا وَأَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ أَلَا لَيُذَادَنَّ رِجَالٌ عَنْ حَوْضِي كَمَا يُذَادُ الْبَعِيرُ الضَّالُّ أُنَادِيهِمْ أَلَا هَلُمَّ أَلَا هَلُمَّ فَيُقَالُ إِنَّهُمْ قَدْ بَدَّلُوا بَعْدَكَ فَأَقُولُ سُحْقًا سُحْقًا“
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبرستان کی طرف تشریف لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل قبرستان کو سلام کرتے ہوئے فرمایا: سَلَامٌ عَلَیْکُمْ دَارَ قَوْمٍ مُوْمِنِیْنَ، وَاِنَّا اِنْ شَاءَ اللّٰہُ بِکُمْ لَاحِقُوْنَ (تم پر سلامتی ہو، مومن لوگوں کے گھر والو! ہم بھی ان شاء اللہ تم سے ملنے والے ہیں۔) میں چاہتا ہوں کہ اپنے بھائیوں کو دیکھ لیتا۔ یہ سن کر صحابہ کرام نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم تو میرے صحابہ ہو، میرے بھائی وہ ہیں جو ابھی تک نہیں آئے اور میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا، (یعنی تم سے پہلے جا کر تمہارا انتظار کروں گا)۔ صحابہ کرام نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ کی امت کے جو لوگ ابھی تک نہیں آئے، آپ انہیں کیسے پہنچانیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر کسی آدمی کا ایسا گھوڑا ہو، جس کی ٹانگوں اور پیشانی پر سفیدی ہو اور وہ کالے سیاہ گھوڑوں کے اندر ہو، تو کیا وہ آدمی اپنے گھوڑے کو پہچان لے گا؟ صحابہ کرام نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے لوگ جب آئیں گے تو وضو کی وجہ سے ان کے چہرے اور ہاتھ پاؤں چمک رہے ہوں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ جملہ تین دفعہ دوہرایا، اور میں تم سے پہلے حوض پر جا کر تمہارا انتظار کروں گا۔ خبردار! کچھ لوگوں کو میرے حوض کی طرف آنے سے یوں روک دیا جائے گا جیسے گمشدہ اونٹ کو دور کر دیا جاتا ہے اور میں پکار پکار کر ان سے کہوں گا: خبردار! اِدھر آجاؤ، اِدھر آجاؤ۔لیکن جواباً مجھے کہا جائے گا:ان لوگوں نے آپ کے بعد دین کو بدل دیا تھا، تب میں بھی کہوں گا: برباد ہو جائیں، برباد ہو جائیں۔ [الفتح الربانی/أبواب تتعلق بحوض الكوثر/حدیث: 13140]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 249، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9292 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9281»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13141
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَيَرِدَنَّ عَلَى الْحَوْضِ رَجُلَانِ مِمَّنْ قَدْ صَحِبَنِي فَإِذَا رَأَيْتُهُمَا رُفِعَا لِي اخْتُلِجَا دُونِي“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری صحبت کا شرف حاصل کرنے والوں میں سے دو آدمی حوض پر میری طرف آئیں گے، جب میں ان کو آتے دیکھوں گا تو ان کو میری طرف آنے سے روک دیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب تتعلق بحوض الكوثر/حدیث: 13141]
تخریج الحدیث: «ضعيف بھذا اللفظ، فقد تفرد به مبارك بن فضالة وھو مدلس وقد عنعن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12418 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12445»
وضاحت: فوائد: … صحیح بخاری(۶۵۸۲) اور صحیح مسلم (۲۳۰۴) میں یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ مروی ہے: ((لَیَرِدَنَّ الْحَوْضَ عَلَیَّ رِجَالٌ، حَتّٰی اَذِا رَاَیْتُھُمْ رُفِعُوْا اِلَیَّ، فَاخْتُلِجُوْا دُوْنِیْ، فَلَاَقُوْلَنَّ: یَا رَبِّ، اَصْحَابِیْ اَصْحَابِیْ، فَیُقَالُ: اِنَّکَ لَا تَدْرِیْ مَا اَحْدَثُوْا بَعْدَکَ)) (وَاللَّفْظُ لِلْمُسْنَدِ: ۱۳۹۹۱) … کچھ لوگ حوض پر میرے پاس آئیں گے، یہاں تک کہ جب میں ان کو دیکھ لوں گا تو ان کو مجھ سے روک لیا جائے گا، میں کہوں گا: اے میرے ربّ! میرے ساتھی، میرے ساتھی، پس مجھ سے کہا جائے گا: تو نہیں جانتا کہ انھوں نے تیرے بعد کون کون سے نئے امور ایجاد کر لیے تھے

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13142
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”أَنَا فَرَطُكُمْ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ فَإِذَا لَمْ تَرَوْنِي فَأَنَا عَلَى الْحَوْضِ قَدْرُ مَا بَيْنَ أَيْلَةَ إِلَى مَكَّةَ وَسَيَأْتِي رِجَالٌ وَنِسَاءٌ بِقِرَبٍ وَآنِيَةٍ فَلَا يَطْعَمُونَ مِنْهُ شَيْئًا“
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارا پیش رو ہوں گا، جب تم مجھے کسی اور جگہ نہ پاؤ تو میں حوض پر ملوں گا، اس کی وسعت اتنی ہے، جتنی ایلہ سے مکہ مکرمہ تک مسافت ہے، بہت سے مرد اور عورتیں مشکیزے اور برتن لے کر ادھر آئیں گے، مگر وہ وہاں سے کچھ بھی حاصل نہیں کر سکیں گے۔ [الفتح الربانی/أبواب تتعلق بحوض الكوثر/حدیث: 13142]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الطبراني في الاوسط: 753، والبزار: 3481، وابن حبان: 6449، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14719 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14776»
وضاحت: فوائد: … ۱۔ اس فصل کی احادیث میں بھی حوض کوثر کا اثبات ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلے جا کر حوض پر امت کا انتظار کریں گے اور آنے والوں کو پانی پلائیں گے۔ البتہ اس امت کے نافرمانوں، بدعتیوں کو حوض سے بائیں جانب لے جایا جائے گا اور انہیں حوض پر آنے سے روک دیا جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائیں گے کہ اے ربّ یہ تو میری امت کے لوگ ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب ملے گا کہ ان لوگوں نے آپ کے بعد دین میں بہت زیادہ تبدیلیاں کر دی تھیں۔ اس لیے یہ لوگ آب کوثر کے حق دار نہیں ہیں۔
۲۔ نیز معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عالم الغیب نہیں ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ سے کہا جائے گا کہ آپ نہیں جانتے کہ ان لوگوں نے آپ کے بعد کیا کچھ کیا؟
۳۔ اس فصل سے قبرستان جانے کی دعا بھی معلوم ہوئی۔
۴۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بعد آنے والے اپنی امت کے افراد کو اپنے بھائی اور ان کو دیکھنے کی تمنا کا اظہار فرمایا: گویاامت کے افراد کو نبی کر یم کے بھائی کہا جاسکتا ہے۔ اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں۔
۵۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ وضو کی برکت سے اس امت کے افراد کے چہرے ہاتھ اور پاؤں روشن ہوں گے۔ اور یہ اس بات کی دلیل ہوگی کہ یہ امت محمدیہ کے فرد ہیں۔
۶۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ اگرچہ کچھ لوگ بدعتی اور بے عمل ہوں گے تاہم وضو کی وجہ سے ان کے اعضاء روشن ہوں گے۔
۷۔ اور انہیں بدا عمالیوں کی وجہ سے آب کوثر سے محروم رکھاجائے گا۔ (نعوذ باللہ تعالیٰ من ذلک۔ آمین)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں