الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. شرَةٌ مَنْ يَرِدُ الْحَوْضَ وَصِفَةُ بَعْضِهِمْ مَعَ صِفَةِ الْحَوْضِ
حوضِ کوثر پر آنے والے لوگوں کی کثرت اوراس حوض کی صفات کے ساتھ ساتھ اس پر آنے والے بعض لوگوں کی صفات کا بیان
حدیث نمبر: 13143
عَنْ أَبِي حَمْزَةَ مَوْلَى الْأَنْصَارِ قَالَ سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَنْزَلٍ نَزَلُوهُ فِي مَسِيرِهِ فَقَالَ ”مَا أَنْتُمْ بِجُزْءٍ مِنْ مِائَةِ أَلْفِ جُزْءٍ مِمَّنْ يَرِدُ عَلَى الْحَوْضِ مِنْ أُمَّتِي“ قَالَ قُلْتُ (وَفِي رِوَايَةٍ قُلْنَا لِزَيْدٍ) كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ قَالَ كُنَّا سَبْعَمِائَةٍ أَوْ ثَمَانِمِائَةٍ
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سفر میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک مقام میں ٹھہرے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ـ: میری امت کے جو لوگ حوضِ کوثر پر میرے پاس آئیں گے، تم ان کا لاکھواں حصہ بھی نہیں ہو۔‘ ہم نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے کہا: تم اس دن کتنے لوگ تھے؟ انھوں نے کہا: ہم سات آٹھ سو افراد تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب تتعلق بحوض الكوثر/حدیث: 13143]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابو حمزة لم يرو عنه غير عمرو بن مرة، ولم يثبت توثيقه عمن يعتد به، أخرجه ابوداود: 4746، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19291 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19506»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 13144
وَعَنِ الْمُخَارِقِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”حَوْضِي كَمَا بَيْنَ عَدَنَ وَعَمَّانَ أَبْرَدُ مِنَ الثَّلْجِ وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ وَأَطْيَبُ رِيحًا مِنَ الْمِسْكِ أَكْوَابُهُ مِثْلُ نُجُومِ السَّمَاءِ مَنْ شَرِبَ مِنْهُ شَرْبَةً لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا أَوَّلُ النَّاسِ عَلَيْهِ وُرُودًا صَعَالِيكُ الْمُهَاجِرِينَ“ قَالَ قَائِلٌ وَمَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”الشَّعِثَةُ رُءُوسُهُمْ الشَّحِيحَةُ وُجُوهُهُمْ الدَّنِسَةُ ثِيَابُهُمْ لَا يُفْتَحُ لَهُمُ السُّدَدُ وَلَا يُنْكَحُونَ الْمُتَنَعِّمَاتِ الَّذِينَ يُعْطُونَ كُلَّ الَّذِي عَلَيْهِمْ وَلَا يَأْخُذُونَ الَّذِي لَهُمْ“
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرا حوض اتنا وسیع ہے، جتنی کہ عدن اورعمان کے درمیان مسافت ہے اور اس کا پانی برف سے زیادہ ٹھنڈا، شہد سے زیادہ شیریں اور کستوری سے زیادہ خوشبو والا ہے، اس کے آبخوروں کی تعداد ستاروں کے برابر ہوگی، جس نے ایک دفعہ اس سے پانی پی لیا، اسے دوبارہ کبھی بھی پیاس محسوس نہیں ہو گی، وہ پانی پینے کے لیے سب سے پہلے فقیر مہاجرین آئیں گے۔ ایک آدمی نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! یہ کون لوگ ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کے سر پراگندہ ہوتے ہیں، چہرے مرجھائے ہوتے ہیں، لباس میلے کچیلے ہوتے ہیں، جن کے آنے پر دروازے نہیں کھولے جاتے اور جن کے نکاح آسودہ حال خواتین سے نہیں کیے جاتے، جنھوں نے اپنی تمام ذمہ داریاں ادا کرنا ہوتی ہیں اور وہ اپنے حقوق اس طرح حاصل نہیں کر سکتے۔ [الفتح الربانی/أبواب تتعلق بحوض الكوثر/حدیث: 13144]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6162 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6162»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13145
وَعَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لَكَ حَوْضًا قَالَ ”نَعَمْ وَأَحَبُّ مَنْ وَرَدَهُ عَلَيَّ قَوْمُكِ“
سیدہ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حوض ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں اور وہاں آنے والوں میں سے تمہاری قوم مجھے سب سے زیادہ محبوب ہو گی۔ [الفتح الربانی/أبواب تتعلق بحوض الكوثر/حدیث: 13145]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الشيخين، غير صحابية الحديث، فقد روي لھا مسلم، ولم يذكروا سماعا لمحمد بن يحيي بن حبان من خولة، ثم انه قد اختلف في اسناده، أخرجه الطبراني: 24/ 589، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27315 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27858»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13146
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ يُحَنَّسَ أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ تَزَوَّجَ خَوْلَةَ بِنْتَ قَيْسِ بْنِ فَهْدٍ الْأَنْصَارِيَّةَ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَزُورُ حَمْزَةَ فِي بَيْتِهَا وَكَانَتْ تُحَدِّثُ عَنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحَادِيثَ قَالَتْ جَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ تُحَدِّثُ أَنَّ لَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَوْضًا مَا بَيْنَ كَذَا إِلَى كَذَا قَالَ ”أَجَلْ وَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ أَنْ يَرْوَى مِنْهُ قَوْمُكِ“ قَالَتْ فَقَدِمْتُ إِلَيْهِ بِبُرْمَةٍ فِيهَا خُبْزَةٌ أَوْ حَرِيرَةٌ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فِي الْبُرْمَةِ لِيَأْكُلَ فَاحْتَرَقَتْ أَصَابِعُهُ فَقَالَ ”حَسٍّ“ ثُمَّ قَالَ ”ابْنُ آدَمَ إِنْ أَصَابَهُ الْبَرْدُ قَالَ حَسٍّ وَإِنْ أَصَابَهُ الْحَرُّ قَالَ حَسٍّ“
جب سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ ہجرت کر کے مدینہ منورہ آئے تو انھوں نے بنو نجارکی ایک انصاری خاتون سیدہ خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے نکاح کر لیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی ملاقات کے لیے ان کے گھر تشریف لے جایا کرتے تھے اور سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے احادیث روایت کیا کرتی تھیں، انہوں نے بیان کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن ہمارے ہاں تشریف لائے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے معلوم ہوا ہے کہ قیامت کے دن آپ کا ایک وسیع و عریض حوض ہوگا؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں، اور وہاں سے سیراب ہونے والے لوگوں میں مجھے سب سے پسندیدہ تیری قوم کے لوگ ہوں گے۔ سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:میں نے ایک ہنڈیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کی، اس میں روٹی کے ٹکڑے یا آٹے، گھی اور گوشت ملا کر تیار کیا ہوا کھانا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھانے کے لیے اپنا ہاتھ اس میں ڈالا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگلی جل گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا: ہائے اور پھر فرمایا: ابن آدم بھی عجیب ہے، اگر اسے ٹھنڈک محسوس ہو تو بھی یہ ہائے کرتا ہے اور اگر اسے حرارت محسوس ہوتو پھر بھی ہائے کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب تتعلق بحوض الكوثر/حدیث: 13146]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الصحيح، أخرج نحوه الطبراني في الكبير: 24/ 588، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27316 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27859»
الحكم على الحديث: صحیح
6. تَنَاوُلُ الصُّحُفِ وَالْمِيزَانِ
نامہ اعمال کی وصولی اور ترازو کا بیان
حدیث نمبر: 13147
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يُعْرَضُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَلَاثَ عَرَضَاتٍ فَأَمَّا عَرَضَتَانِ فَجِدَالٌ وَمَعَاذِيرُ وَأَمَّا الثَّالِثَةُ فَعِنْدَ ذَلِكَ تَطِيرُ الصُّحُفُ فِي الْأَيْدِي فَآخِذٌ بِيَمِينِهِ وَآخِذٌ بِشِمَالِهِ“
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن لوگوں کو تین پیشیوں کا سامنا کرنا ہوگا، دو پیشیوں میں تو بحث مباحثہ اور معذرتیں ہوں گی ا ور تیسری پیشی میں تو لوگوں کے اعمال نامے اڑ اڑ کر ہاتھوں میں آپہنچیں گے، کوئی دائیں ہاتھ سے پکڑ رہا ہو گا اور کوئی بائیں ہاتھ سے۔ [الفتح الربانی/أبواب تتعلق بحوض الكوثر/حدیث: 13147]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، الحسن البصري لم يسمع من ابي موسي، أخرجه ابن ماجه: 4277، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19715 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19953»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 13148
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ يَذْكُرُ الْحَبِيبُ حَبِيبَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ ”يَا عَائِشَةُ أَمَّا عِنْدَ ثَلَاثٍ فَلَا أَمَّا عِنْدَ الْمِيزَانِ حَتَّى يَثْقُلَ أَوْ يَخِفَّ فَلَا وَأَمَّا عِنْدَ تَطَايُرِ الْكُتُبِ فَإِمَّا أَنْ يُعْطَى بِيَمِينِهِ أَوْ يُعْطَى بِشِمَالِهِ فَلَا وَحِينَ يَخْرُجُ عُنُقٌ مِنَ النَّارِ فَيَنْطَوِي عَلَيْهِمْ وَيَتَغَيَّظُ عَلَيْهِمْ وَيَقُولُ ذَلِكَ الْعُنُقُ وُكِّلْتُ بِثَلَاثَةٍ وُكِّلْتُ بِثَلَاثَةٍ وُكِّلْتُ بِمَنِ ادَّعَى مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَوُكِّلْتُ بِمَنْ لَا يُؤْمِنُ بِيَوْمِ الْحِسَابِ وَوُكِّلْتُ بِكُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ قَالَ فَيَنْطَوِي عَلَيْهِمْ وَيَرْمِي بِهِمْ فِي غَمَرَاتٍ وَلِجَهَنَّمَ جَسَرٌ أَدَقُّ مِنَ الشَّعْرِ وَأَحَدُّ مِنَ السَّيْفِ عَلَيْهِ كَلَالِيبُ وَحَسَكٌ يَأْخُذُونَ مَنْ شَاءَ اللَّهُ وَالنَّاسُ عَلَيْهِ كَالطَّرْفِ وَكَالْبَرْقِ وَكَالرِّيحِ وَكَأَجَاوِيدِ الْخَيْلِ وَالرِّكَابِ وَالْمَلَائِكَةُ يَقُولُونَ رَبِّ سَلِّمْ رَبِّ سَلِّمْ فَنَاجٍ مُسَلَّمٌ وَمَخْدُوشٌ مُسَلَّمٌ وَمُكَوَّرٌ فِي النَّارِ عَلَى وَجْهِهِ“
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں:میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! قیامت کے دن دوست اپنے دوستوں اور پیاروں کو یاد کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! تین موقعے تو ایسے ہیں کہ وہاں کوئی کسی کو یاد نہیں کرے گا، ان میں سے ایک ترازو کا موقع ہے، اس میں یہی فکر ہو گی کہ نیکیوں والا پلڑا بھاری ہوتا ہے یا ہلکا، دوسرا موقع نامۂ اعمال کے اڑنے کا ہے کہ وہ کسی کو دائیں ہاتھ میں مل رہا ہو گا اور کسی کو بائیں ہاتھ میں، اس وقت بھی کوئی کسی کو یاد نہیں کرے گا، تیسرا موقعہ وہ ہوگا، جب جہنم سے ایک گردن نکلے گی اورلوگوں پر چھا جائے گی، وہ ان پر غصے کی حالت میں ہو گی اور کہے گی: مجھے تین قسم کے لوگوں پر مسلط کیا گیا ہے، مجھے تین قسم کے لوگوں پر مسلط کیا گیا ہے، مجھے ان لوگوں پر مسلط کیا گیا ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو اپنا معبود سمجھ لیا، مجھے ان لوگوں پر بھی مسلط کیا گیا ہے جو یومِ حساب پر ایمان نہیں رکھتے تھے اور مجھے ہر سرکش و نافرمان پر بھی مسلط کیا گیا ہے، وہ ان لوگوں پر چھا جائے گی اور ان کو گہرے گڑھوں میں جا پھینکے گی، جہنم کے اوپر ایک پل ہوگا، جو بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہوگا، اس پر کنڈیاں اور کانٹے ہوں گے اور جن لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا حکم ہوگا، وہ انہیں کھینچ کر جہنم میں ڈال دیں گے، جب لوگ اس کے اوپر سے گزریں گے تو کوئی آنکھ جھپکنے کی دیر میں، کوئی بجلی کی طرح، کوئی ہوا کی طرح اور کوئی بہترین گھوڑوں اورسواریوں کی رفتار سے گزریں گے، اللہ تعالیٰ کے فرشتے بھی یہ دعاکر رہے ہوں گے: اے ربّ! محفوظ رکھ، اے ربّ! محفوظ رکھ،کوئی تو سلامتی کے ساتھ اس کو عبور کر جائے گا اور کوئی زخمی ہوتا ہوا اس سے گزرے گا اور کوئی چہرے کے بل جہنم میں جا پڑے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب تتعلق بحوض الكوثر/حدیث: 13148]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف بھذه السياقة، ابن لھيعة قد تفرد به، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24793 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25303»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 13149
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَذْكُرُونَ أَهْلِيكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ ”أَمَّا فِي مَوَاطِنَ ثَلَاثٍ فَلَا الْكِتَابِ وَالْمِيزَانِ وَالصِّرَاطِ“
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ قیامت کے دن اپنے اہل خانہ کویا د کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رہا مسئلہ تین موقعوں کا، تو ان میں کوئی کسی کو یاد نہیں کرے گا: نامہ اعمال کی تقسیم، ترازو کے پاس اور پل صراط سے گزرتے وقت۔ [الفتح الربانی/أبواب تتعلق بحوض الكوثر/حدیث: 13149]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، الحسن البصري لم يسمع من عائشة، والقاسم بن الفضل لم يسمع كذالك من الحسن، وظاهر الاسناد يدل علي ذالك، وقد توبع، أخرجه مطولا ابوداود: 4755، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24696 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25203»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 13150
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”تُوضَعُ الْمَوَازِينُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُؤْتَى بِالرَّجُلِ فَيُوضَعُ فِي كِفَّةٍ فَيُوضَعُ مَا أُحْصِيَ عَلَيْهِ فَيَتَمَايَلُ بِهِ الْمِيزَانُ قَالَ فَيُبْعَثُ بِهِ إِلَى النَّارِ قَالَ فَإِذَا أُدْبِرَ بِهِ إِذَا صَائِحٌ يَصِيحُ مِنْ عِنْدِ الرَّحْمَنِ يَقُولُ لَا تَعَجِّلُوا لَا تَعَجِّلُوا فَإِنَّهُ قَدْ بَقِيَ لَهُ فَيُؤْتَى بِبِطَاقَةٍ فِيهَا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَتُوضَعُ مَعَ الرَّجُلِ فِي كِفَّةٍ حَتَّى يَمِيلَ بِهِ الْمِيزَانُ“
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن ترازو نصب کر دیئے جائیں گے، ایک آدمی کو پیش کیا جائے گا، اسے اور اس کے اعمال کو ترازو کے پلڑوں میں رکھا جائے گا، لیکن ترازو اوپر کو اٹھ جائے گا، پھر اسے جہنم کی طرف بھیج دیا جائے گا، جب اسے لے جایا جا رہا ہو گا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک پکارنے والا یوں پکارے گا: جلدی نہ کرو، جلدی نہ کرو، اس کی ایک نیکی رہ گئی ہے، پھر ایک پرچی لائی جائے گی اس میں لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ لکھا ہوا ہو گا، پھر اسے اس آدمی کے ساتھ دوبارہ پلڑے میں رکھا جائے گا، نتیجتاً وہ پلڑا وزنی ہوجائے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب تتعلق بحوض الكوثر/حدیث: 13150]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7066 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7066»
وضاحت: فوائد: … ۱۔ اس باب کی احادیث سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن ایک مرحلہ پر انسانوں کے نامہ اعمال فضا میں اڑ رہے ہوں گے اور لوگ اپنے اپنے نامہ اعمال کو پکڑنے کی کوشش کریں گے۔ کسی کو داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال ملے گا۔ اور کسی کو بائیں ہاتھ میں۔
۲۔ نیز معلوم ہوا کہ تین مواقع پر کوئی کسی کو یاد نہیں کرے گا۔ میزان کے قریب جب اعمال کا وزن کیا جارہا ہوگا۔ اور جب نامہ ہائے اعمال اڑ رہے ہوں گے اور ہر شخص اپنے اپنے نامہ اعمال کو حاصل کرنے کی فکر میں ہوگا کہ اسے داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال ملتا ہے۔ یا بائیں ہاتھ میں اور تیسرا موقعہ پل صراط کے اوپر سے گزرنے کا ہے۔
۳۔ نیز معلوم ہوا کہ پل صراط پل سے بھی زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہے۔ اور وہ جہنم کے اوپر ہے۔ ہر آدمی کو اس سے گزرنا ہوگا
۴۔ او رلوگ اپنے اپنے اعمال کے حساب سے وہاں سے گزر جائیں گے۔ بعض لوگ نگاہ کی رفتار سے، بعض بجلی کی رفتار سے، بعض بہترین تیز رفتار گھوڑے کی رفتار سے اور بعض عام سواروں کی رفتار سے اور بعض گرتے پڑتے زخمی ہوتے بہرحال گزر ہی جائیں گے۔ البتہ کفار، باغی، سرکش، مشرک، بدعتی اور اللہ تعالیٰ کے نافرمانوں کو فرشتے کھینچ لیں گے اور وہ نیچے جہنم میں جاگریں گے۔
۵۔ اسی طرح قیامت کے دن ایک بہت بڑی گردن جہنم سے باہر کو نکلے گی وہ مشرکین کو، آخرت کے منکرین کو اور سرکش و نافرمان لوگوں کو جہنم میں لے جا کر گرائے گی۔
۶۔ نیز اس باب سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن لوگوں کے اعمال کا وزن کرنے کے لیے ترازو رکھے جائیں گے۔ ان میں انسانوں کا اور ان کے اعمال کا وزن کیا جائے گا۔
۷۔ اور اعمال کے موقعہ پر ایک آدمی ایسا ہوگا کہ اس کے گناہ بہت زیادہ ہوں گے اسے جہنم کی طرف روانہ کیا جائے گا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہا جائے گا کہ اس کی ایک نیکی ابھی ہمارے ہاںباقی ہے چنانچہ ایک کاغذ لایا جائے گا جس پر لا الہ الا اللہ لکھا ہوگا اس کی برکت سے وہ نجات پائے گا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اس نے زندگی بھر شرک نہیں کیا ہوگا۔ اور اس کا عقیدہ توحید پختہ ہوگا۔ وہ گناہوں کے باوجود محض عقیدۂ توحید کی برکت سے جنت میں چلا جائے گا۔ والحمدللہ۔
۲۔ نیز معلوم ہوا کہ تین مواقع پر کوئی کسی کو یاد نہیں کرے گا۔ میزان کے قریب جب اعمال کا وزن کیا جارہا ہوگا۔ اور جب نامہ ہائے اعمال اڑ رہے ہوں گے اور ہر شخص اپنے اپنے نامہ اعمال کو حاصل کرنے کی فکر میں ہوگا کہ اسے داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال ملتا ہے۔ یا بائیں ہاتھ میں اور تیسرا موقعہ پل صراط کے اوپر سے گزرنے کا ہے۔
۳۔ نیز معلوم ہوا کہ پل صراط پل سے بھی زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہے۔ اور وہ جہنم کے اوپر ہے۔ ہر آدمی کو اس سے گزرنا ہوگا
۴۔ او رلوگ اپنے اپنے اعمال کے حساب سے وہاں سے گزر جائیں گے۔ بعض لوگ نگاہ کی رفتار سے، بعض بجلی کی رفتار سے، بعض بہترین تیز رفتار گھوڑے کی رفتار سے اور بعض عام سواروں کی رفتار سے اور بعض گرتے پڑتے زخمی ہوتے بہرحال گزر ہی جائیں گے۔ البتہ کفار، باغی، سرکش، مشرک، بدعتی اور اللہ تعالیٰ کے نافرمانوں کو فرشتے کھینچ لیں گے اور وہ نیچے جہنم میں جاگریں گے۔
۵۔ اسی طرح قیامت کے دن ایک بہت بڑی گردن جہنم سے باہر کو نکلے گی وہ مشرکین کو، آخرت کے منکرین کو اور سرکش و نافرمان لوگوں کو جہنم میں لے جا کر گرائے گی۔
۶۔ نیز اس باب سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن لوگوں کے اعمال کا وزن کرنے کے لیے ترازو رکھے جائیں گے۔ ان میں انسانوں کا اور ان کے اعمال کا وزن کیا جائے گا۔
۷۔ اور اعمال کے موقعہ پر ایک آدمی ایسا ہوگا کہ اس کے گناہ بہت زیادہ ہوں گے اسے جہنم کی طرف روانہ کیا جائے گا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہا جائے گا کہ اس کی ایک نیکی ابھی ہمارے ہاںباقی ہے چنانچہ ایک کاغذ لایا جائے گا جس پر لا الہ الا اللہ لکھا ہوگا اس کی برکت سے وہ نجات پائے گا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اس نے زندگی بھر شرک نہیں کیا ہوگا۔ اور اس کا عقیدہ توحید پختہ ہوگا۔ وہ گناہوں کے باوجود محض عقیدۂ توحید کی برکت سے جنت میں چلا جائے گا۔ والحمدللہ۔
الحكم على الحديث: صحیح