🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. أَهْلُ الْجَنَّةِ وَصِفَاتُهُمْ وَمِقْدَارُهُمْ بِالنِّسْبَةِ لِلْأُمَمِ الأخرى وأكلُهُمْ وَشُرْبُهُمْ وَنِكَاحُهُمْ وَلِبَاسُهُمْ
اہل جنت،ان کی صفات،دیگر امتوں کے مقابلے میں امت ِ محمدیہ کی تعداد اوران کے کھانے پینے، نکاح اور لباس کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13325
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ ثِيَابَ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَتُنْسَجُ نَسْجًا أَمْ تُشَقَّقُ مِنْ ثَمَرِ الْجَنَّةِ قَالَ فَكَأَنَّ الْقَوْمَ تَعَجَّبُوا مِنْ مَسْأَلَةِ الْأَعْرَابِيِّ فَقَالَ ”مَا تَعَجَّبُونَ مِنْ جَاهِلٍ يَسْأَلُ عَالِمًا“ قَالَ فَسَكَتَ هُنَيَّةً ثُمَّ قَالَ ”أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ ثِيَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ“ قَالَ أَنَا قَالَ ”لَا بَلْ تُشَقَّقُ مِنْ ثَمَرِ الْجَنَّةِ“
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر یہ سوال کیا: اے اللہ کے رسول! اہل ِ جنت کے لباس کے بارے میں فرمائیے کہ وہ بُنا جائے گا یا وہ جنت کے پھلوں سے ہی بنا لیا جائے گا؟ اس بدّو کے سوال سے یوں محسوس ہوا کہ لوگوں کو حیرت ہوئی ہے؟ یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں اس بات سے تعجب ہو رہا ہے کہ ایک بے علم،علم والے سے ایک سوال کر رہا ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ دیر کے لیے خاموش رہے اور پھر فرمایا: وہ سائل کہاں ہے، جو اہل ِ جنت کے لباس کے بارے میں دریافت کر رہا تھا؟ وہ بولا: جی میں ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ـ اس لباس کو بُنا نہیں جائے گا، بلکہ وہ جنت کے پھلوں سے نکلے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13325]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة شيخ العلاء بن رافع، وھو حنان بن خارجة، أخرجه البزار والطبراني، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6890 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6890»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة شيخ العلاء بن رافع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13326
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ عُلَوِيٌّ جَرِيءٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنَا عَنِ الْهِجْرَةِ إِلَيْكَ أَيْنَمَا كُنْتَ أَوْ لِقَوْمٍ خَاصَّةٍ أَمْ إِلَى أَرْضٍ مَعْلُومَةٍ أَمْ إِذَا مِتَّ انْقَطَعَتْ قَالَ فَسَكَتَ عَنْهُ يَسِيرًا ثُمَّ قَالَ ”أَيْنَ السَّائِلُ“ قَالَ هَا هُوَ ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”الْهِجْرَةُ أَنْ تَهْجُرَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ ثُمَّ أَنْتَ مُهَاجِرٌ وَإِنْ مُتَّ بِالْحَضَرِ“ ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ابْتِدَاءً مِنْ نَفْسِهِ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنَا عَنْ ثِيَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ خَلْقًا تُخْلَقُ أَمْ نَسْجًا تُنْسَجُ فَضَحِكَ بَعْضُ الْقَوْمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مِمَّ تَضْحَكُونَ مِنْ جَاهِلٍ يَسْأَلُ عَالِمًا“ ثُمَّ أَكَبَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ ”أَيْنَ السَّائِلُ“ قَالَ هُوَ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”لَا بَلْ تَشَقَّقُ عَنْهَا ثَمَرُ الْجَنَّةِ“ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ
سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک علوی اور جرأت مند بدّو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا: اللہ کے رسول! آپ ہمیں اپنی طرف ہجرت کے متعلق بتلائیں کہ آیا ہجرت اُدھر ہی کی جاسکتی ہے، جہاں آپ تشریف فرما ہوں یا ہجرت کا کسی مخصوص قوم کے ساتھ ہی تعلق ہے کہ وہی قوم ہجرت کر سکتی ہے یا ہجرت کا تعلق کسی مخصوص زمین کے ساتھ ہے یا جب آپ وفات پا جائیں گے تو کیا ہجرت کا سلسلہ منقطع ہوجائے گا؟ یہ بات سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ دیر خاموش رہے اور پھر فرمایا: وہ سائل کہاں ہے؟ وہ بولا: جی میں ہوں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اصل ہجرت تو یہی ہے کہ تو ظاہری اور باطنی گناہ کو اور برائی کو ترک کر دے، اور نماز قائم کر اور زکوٰۃ ادا کر، بس پھر تو صحیح معنوں میں مہاجر ہوگا، خواہ تجھے تیرے اپنے شہر میں ہی موت آ جائے۔ بعد ازاں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے اپنی طرف سے شروع کرتے ہوئے کہا: ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں اہل ِ جنت کے لباس کے بارے میں آگاہ فرمائیں کہ اسے الگ سے پیدا کیا جائے گا یا اس کو بُنا جائے گا؟ اس کا سوال سن کر بعض لوگ ہنس پڑے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس سے کیوں ہنس رہے ہوکہ ایک بے علم نے ایک علم والے سے ایک مسئلہ پوچھا ہے؟ اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر جھکا لیا اور پھر فرمایا: وہ سائل کہاں ہے؟ وہ بولا: جی یہ میں موجود ہوں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار فرمایا: نہیں، بلکہ اس سے جنت کے پھل نکلتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13326]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، حنان بن خارجة مجھول الحال، أخرجه الطيالسي: 2277، والبزار: 1750، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7095 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7095»
وضاحت: فوائد: … اس فصل میں بعض ایسے اہم امور کی نشان دہی کی گئی ہے جن پر عمل کرنے والے لوگ جنتی ہوں گے:
(۱) ایسا حکمران جو عادل ہو، سچ بولتا ہو اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی تعلیمات پر دل وجان سے یقین رکھتا ہو۔
(۲) ایسا آدمی جو مہربان ہو اور ہر رشتہ دار بلکہ ہر مسلمان کے حق میں نرم دل ہو۔
(۳) ایسا غریب آدمی جو دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے گریز کرتا ہو اور فقیرو تہی دست کے باوجود کچھ نہ کچھ صدقہ خیرات کرتا ہو۔
(۴) ۱سی طرح نبی، شہید، کم سنی میں فوت ہوجانے والا ہر بچہ اور وہ بچی جسے زندہ درگور کر دیا گیا ہو۔
نیز معلوم ہوا کہ اہل جنت کے دل پرندوں کے دلوں کی طرح انتہائی نازک اور نرم ہوں گے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
30. مَنِ اشْتَهى شَيْئًا فِي الْجَنَّةِ وَجَدَهُ، قَالَ تَعَالَى: «وَفِيهَا مَا تَشْتَهِيهِ الْأَنفُسُ وَتَلَذُّ الْأَعْيُنُ»
جو جنتی جنت میں جس چیز کی خواہش کرے گا، وہ اسے مل جائے گی، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اور جنت میں ہر وہ چیز مہیا ہوگی جسے دل چاہیں گے اور آنکھیں پسند کریں گی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13327
عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُحِبُّ الْخَيْلَ فَفِي الْجَنَّةِ خَيْلٌ قَالَ ”يُدْخِلُكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ فَلَا تَشَاءُ أَنْ تَرْكَبَ فَرَسًا مِنْ يَاقُوتَةٍ حَمْرَاءَ تَطِيرُ بِذَكَ فِي أَيِّ الْجَنَّةِ شِئْتَ إِلَّا رَكِبْتَ“ وَأَتَاهُ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفِي الْجَنَّةِ إِبِلٌ قَالَ ”يَا عَبْدَ اللَّهِ إِنْ يُدْخِلْكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ كَانَ لَكَ فِيهَا مَا اشْتَهَتْ نَفْسُكَ وَلَذَّتْ عَيْنُكَ“
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اوراس نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے گھوڑے پسند ہیں، کیا جنت میں گھوڑے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ تجھے جنت میں داخل کرے،تو جب تو چاہے گا کہ سرخ رنگ کے یاقوت کے گھوڑے پر سوار ہو، جو تجھے تیری مرضی کے مطابق جنت میں لے کر اڑے، تو تو سوار ہو جائے گا۔ ایک اور آدمی نے آپ کی خدمت میں آکر کہا: اے اللہ کے رسول! کیا جنت میں اونٹ ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے بندے! اگر اللہ تعالیٰ تجھے جنت میں داخل کر دے تو تیرے لیے وہاں ہر وہ چیز ہو گی جو تو چاہے گا اور تیری آنکھ پسند کرے گی۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13327]
تخریج الحدیث: «حديث ضعيف، عبد الرحمن المسعودي اختلط باخره، وكل من روي عنه ھذا الحديث ممن روي عنه بعد الاختلاط، ثم فيه علة اخري، وھي الاختلاف في اسناده علي علقمة بن مرثد، أخرجه الترمذي: 2543، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22982 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23370»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اَتَی النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّيْ اُحِبُّ الْخَیْلَ، اَفِيْالْجَنَّۃِ خَیْلٌ؟ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((اِنْ اُدْخِلْتَ الْجَنَّۃَ، اُتِیْتَ بِفَرَسٍ مِنْ یَاقُوْتَۃٍ لَہٗ جَنَاحَانَ، فَحُمِلْتَ عَلَیْہِ، ثُمَّ طَارَبِکَ حَیْثُ شِئْتَ۔)) … ایک بدو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں گھوڑے پسند کرتا ہوں، کیا جنت میں گھوڑے ہوں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تجھے جنت میں داخل کر دیا جائے گا تو تیرے پاس یاقوت کا گھوڑا لایا جائے گا، اس کے دو پر ہوں گے، تجھے اس پر سوار کیا جائے گا اور جہاں تو چاہے گا وہ پرواز کر کے تجھے وہیں لے جائے گا۔ (ترمذی: ۲۵۴۷، صحیحہ:۳۰۰۱)
واقعی کسی انسان کا دماغ یہ تصوّر ہی نہیں کر سکتا ہے کہ جنت میں پائے جانے والی نعمتوں کی ایسی ویسی کیفیت و نوعیت ہو گی۔ خون اور گوشت سے مرکب گھوڑے تو ہمارے ہاں بھی پائے جاتے ہیں، لیکن جنت کا گھوڑا یاقوت کا ہو گا اور حیرانی کی بات ہے کہ اس کے دو پر بھی ہوں گے، جن کے ذریعے وہ پرواز کرے گا۔

الحكم على الحديث:
حديث ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13328
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمًا وَهُوَ يُحَدِّثُ وَعِنْدَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ ”إِنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ اسْتَأْذَنَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الزَّرْعِ فَقَالَ لَهُ رَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَلَسْتَ فِيمَا شِئْتَ قَالَ بَلَى وَلَكِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَزْرَعَ قَالَ فَبَذَرَ فَبَادَرَ الطَّرْفَ نَبَاتُهُ وَاسْتَوَاؤُهُ وَاسْتِحْصَادُهُ فَكَانَ أَمْثَالَ الْجِبَالِ قَالَ فَيَقُولُ لَهُ رَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ دُونَكَ يَا ابْنَ آدَمَ فَإِنَّهُ لَا يُشْبِعُكَ شَيْءٌ“ قَالَ فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ وَاللَّهِ لَا تَجِدُهُ إِلَّا قُرَشِيًّا أَوْ أَنْصَارِيًّا فَإِنَّهُمْ أَصْحَابُ زَرْعٍ وَأَمَّا نَحْنُ فَلَسْنَا بِأَصْحَابِهِ قَالَ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن گفتگو کر رہے تھے اورایک دیہاتی آپ کے قریب بیٹھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دورانِ گفتگو فرمایا: ایک جنتی اپنے ربّ سے زراعت کی اجازت طلب کرے گا، اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: کیا تجھے ہر وہ چیز مل نہیں گئی جو تو چاہتا تھا؟ وہ عرض کرے گا: جی ہاں، تاہم میں زراعت پسند کرتا ہوں، چنانچہ وہ بیج ڈالے گا۔ اور پلک جھپکنے کی دیر میں کھیتی اُگ آئے گی، بڑی ہوجائے گی اور کٹائی بھی ہوجائے گی اور پہاڑوں کے برابر کھیتی کے ڈھیر لگ جائیں گے، اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: اے ابن آدم! سنبھال لے اس کو،کوئی چیز تجھے سیر نہیں کرتی۔ وہ بدّو کہنے لگا: اللہ کی قسم جنت میں ایسی خواہش کرنے والا کوئی قریشی ہو گا یا انصاری، کیونکہ یہی لوگ کھیتی باڑی کرتے ہیں، ہم تو کھیتی باڑی کرنے والے ہیں ہی نہیں، یہ بات سن کررسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنس دئیے۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13328]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2348، 7519، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10642 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10650»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2348
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13329
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِذَا اشْتَهَى الْمُؤْمِنُ الْوَلَدَ فِي الْجَنَّةِ كَانَ حَمْلُهُ وَوَضْعُهُ وَسِنُّهُ فِي سَاعَةٍ وَاحِدَةٍ كَمَا يَشْتَهِي“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی مومن جنت میں بچے کی تمنا کرے گا تو اس کا حمل، وضعِ حمل اور اس کی مطلوبہ اور پسندیدہ عمر، یہ سارے مراحل لمحہ بھر میں ہو جائیں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13329]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الترمذي: 2563، وابن ماجه: 4338، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11063 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11079»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ جنتی جنت میں جس چیز کی بھی تمنا اور خواہش کرے گا، وہ فوراً پوری ہوگی۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
31. رِضْوَانُ اللهِ تَعَالَى عَلَى أَهْلِ الْجَنَّةِ وَهُوَ مِنْ أَفْضَلِ النِّعَمِ عَلَيْهِمْ
اہل جنت پر اللہ تعالیٰ کی رضا مندی، اور یہی چیز اہل جنت پر سب سے بڑی نعمت ہوگی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13330
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ فَيَقُولُونَ لَبَّيْكَ رَبَّنَا وَسَعْدَيْكَ فَيَقُولُ هَلْ رَضِيتُمْ فَيَقُولُونَ وَمَا لَنَا لَا نَرْضَى وَقَدْ أَعْطَيْتَنَا مَا لَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ فَيَقُولُ أَنَا أُعْطِيكُمْ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ قَالُوا يَا رَبَّنَا فَأَيُّ شَيْءٍ أَفْضَلُ مِنْ ذَلِكَ قَالَ أُحِلُّ عَلَيْكُمْ رِضْوَانِي فَلَا أَسْخَطُ بَعْدَهُ أَبَدًا“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ اہل ِ جنت سے فرمائے گا: اے جنت والو! وہ سب کہیں گے: ہم حاضر ہیں، اے ہمارے رب! ہم حاضر ہیں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تم راضی ہو گئے ہو؟ وہ عرض کریں گے: اور ہم راضی کیوں نہ ہوں، تو نے تو ہمیں وہ کچھ عنایت کر دیا ہے، جو مخلوقات میں سے کسی کو بھی نہیں دیا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اب میں تمہیں سب سے افضل چیز دینے لگا ہوں، وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! ان نعمتوں سے بڑھ کر بھی کوئی نعمت ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں تمہیں اپنی رضامندی کا مستحق ٹھہراتا ہوں اور اب میں تم سے کبھی بھی ناراض نہیں ہوں گا۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13330]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6549، ومسلم: 2829، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11835 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11857»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6549
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
32. ذَبْحُ الْمَوْتِ وَجُلُودُ أَهْلِ النَّارِ فِيهَا وَجُلُودُ أَهْلِ الْجَنَّةِ فِيهَا
موت کو ذبح کر دینے اور جہنمیوں کا ہمیشہ جہنم میں رہنے اور جنتیوں کا ہمیشہ جنت میں رہنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13331
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”يُؤْتَى بِالْمَوْتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُوْقَفُ عَلَى الصِّرَاطِ فَيُقَالُ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ! فَيَطَّلِعُونَ خَائِفِينَ وَجِلِينَ أَنْ يُخْرَجُوا مِنْ مَكَانِهِمُ الَّذِي هُمْ فِيهِ فَيُقَالُ: هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا؟ قَالُوا: نَعَمْ رَبَّنَا هَذَا الْمَوْتُ ثُمَّ يُقَالُ: يَا أَهْلَ النَّارِ! فَيَطَّلِعُونَ فَرِحِينَ مُسْتَبْشِرِينَ أَنْ يُخْرَجُوا مِنْ مَكَانِهِمُ الَّذِي هُمْ فِيهِ فَيُقَالُ: هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا؟ قَالُوا: نَعَمْ هَذَا الْمَوْتُ فَيُؤْمَرُ بِهِ فَيُذْبَحُ عَلَى الصِّرَاطِ ثُمَّ يُقَالُ لِلْفَرِيقَيْنِ كِلَاهُمَا: خُلُودٌ فِيمَا تَجِدُونَ لَا مَوْتَ فِيهِ أَبَدًا“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن موت کو لا کر صراط کے اوپر کھڑا کر دیا جائے گا، پھر کہا جائے گا: اے جنت والو! وہ خوف زدہ ہو کر اور گھبرا کر ادھر دیکھیں گے، کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کو ان کے مقام سے نکال دیا جائے، ان سے پوچھا جائے گا: کیا تم اس چیز کو پہچانتے ہو؟ وہ کہیں گے: جی ہاں اے ہمارے رب! یہ موت ہے، پھر کہا جائے گا: اے جہنم والو! وہ خوش ہو کر اُدھر دیکھیں گے کہ شاید ان کو ان کی اس جگہ سے نکلنے کا حکم دیا جانے والا ہے، ان سے بھی دریافت کیاجائے گا کہ کیا تم اس چیز کو پہچانتے ہو؟ وہ بھی کہیں گے: جی ہاں اے ہمارے ربّ! یہ موت ہے۔ تب اللہ تعالیٰ اس موت کے بارے میں حکم دے گا اور اس کو صراط پر ذبح کردیا جائے اور پھر دونوں فریقوں سے کہا جائے گا:تم جہاں بھی ہو، یہاں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہو گے، اب کسی کو کبھی بھی موت نہیں آئے گی۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13331]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابن ماجه: 4327، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7546 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7537»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13332
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ يُجَاءُ بِالْمَوْتِ كَأَنَّهُ كَبْشٌ أَمْلَحُ فَيُوْقَفُ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ فَيُقَالُ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ! فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَفِيهِ فَيُؤْمَرُ بِهِ فَيُذْبَحُ قَالَ: وَيُقَالُ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ! خُلُودٌ لَا مَوْتَ وَيَا أَهْلَ النَّارِ! خُلُودٌ لَا مَوْتَ“ قَالَ: ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: {وَأَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ إِذْ قُضِيَ الْأَمْرُ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ} [مَرْيَم: 39] قَالَ: وَأَشَارَ بِيَدِهِ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اہل ِ جنت، جنت میں اور اہل ِ جہنم، جہنم میں چلے جائیں گے تو موت کو ایک سیاہ مینڈھے کی شکل میں جنت اور دوزخ کے درمیا ن کھڑا کر دیا جائے گا، پھر آواز دی جائے گی: اے جنت والو! … سابقہ حدیث کی مانند ہے …، مزید اس میں ہے: پھر موت کو ذبح کرنے کا حکم دیا جائے گا اور کہا جائے گا: اے جنت والو! اب تم ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یہیں رہو گے اور کبھی موت نہیں آئے گی اور اے جہنم والو! اب تم ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس میں رہو گے، کبھی موت نہیں آئے گی۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {وَ اَنْذِرْھُمْ یَوْمَ الْحَسْرَۃِ اِذْ قُضِیَ الْاَمْرُ وَ ھُمْ فِیْ غَفْلَۃٍ} (اور آپ ان کو حسرت والے دن سے ڈرائیں، جب سارے امور چکا دیئے جائیں گے اور یہ اس وقت غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ ساتھ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13332]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4730، ومسلم: 2849، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11066 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11082»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4730
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13333
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”إِذَا صَارَ أَهْلُ الْجَنَّةِ فِي الْجَنَّةِ وَأَهْلُ النَّارِ فِي النَّارِ جِيءَ بِالْمَوْتِ حَتَّى يُوْقَفَ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ ثُمَّ يُذْبَحُ ثُمَّ يُنَادِي مُنَادٍ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ! خُلُودٌ لَا مَوْتَ يَا أَهْلَ النَّارِ! خُلُودٌ لَا مَوْتَ فَازْدَادَ أَهْلُ الْجَنَّةِ فَرَحًا إِلَى فَرَحِهِمْ وَازْدَادَ أَهْلُ النَّارِ حُزْنًا إِلَى حُزْنِهِمْ“
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اہل ِجنت جنت میں اور اہل ِ جہنم جہنم میں پہنچ جائیں گے تو موت کو لا کر جنت اور دوزخ کے درمیان کھڑا کر کے ذبح کر دیا جائے گا اور ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا: اے جنت والو! اب تم ہمیشہ کے لیے یہیں رہو گے، کبھی موت نہیں آئے گی۔ اور اے جہنم والو! اب تم بھی ہمیشہ کے لیے یہیں رہو گے اور کبھی موت نہیں آئے گی، یہ اعلان سن کر اہل ِ جنت کی خوشی میں اضافہ ہو جائے گا اور اہل جہنم کا غم اور افسوس بڑھ جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13333]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه البخاري: 6548، ومسلم: 2850، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5993 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5993»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13334
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ”إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ نَادَى مُنَادٍ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ! خُلُودٌ فَلَا مَوْتَ فِيهِ وَيَا أَهْلَ النَّارِ! خُلُودٌ فَلَا مَوْتَ فِيهِ“ قَالَ: وَذَكَرَ بِي خَالِدُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الزُّبَيْرِ يَذْكُرُ مِثْلَهُ عَنْ جَابِرٍ وَعُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ إِلَّا أَنَّهُ يُحَدِّثُ عَنْهُمَا أَنَّ ذَلِكَ بَعْدَ الشَّفَاعَاتِ وَمَنْ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا: جب اہل ِ جنت بہشت میں اور اہل ِ جہنم دوزخ میں پہنچ جائیں گے تو ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا: اے جنت والو! اب تم ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یہیں رہو گے، یہاں کسی کو موت نہیں آئے گی۔ اور اے جہنم والو! اب تم بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یہیں رہو گے، اس میں کسی کو موت نہیں آئے گی۔ ابوزبیر بھی جابر اور عبید بن عمیر سے اس قسم کی روایت بیان کرتے ہیں، لیکن وہ بھی بیان کرتے ہیں کہ موت کے ذبح ہونے کا یہ وقوعہ اس وقت پیش آئے گا، جب سفارشیں ہو چکی ہوں گی اور عارضی طور پر جہنم میں جانے والے جہنم سے باہر آ چکے ہوں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13334]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6545، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8535 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8516»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6545
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں