الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. عَدَدُ مَنْ يُدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَصِفَتُهُمْ
حساب کتاب کے بغیر جنت میں جانے والوں کی تعداد اور ان کی صفات کا بیان
حدیث نمبر: 13305
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرِ بْنِ السَّهْمِيُّ ثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مِهْرَانَ عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”إِنَّ رَبِّي أَعْطَانِي سَبْعِينَ أَلْفًا مِنْ أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ“ فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَهَلَّا اسْتَزَدْتَّهُ قَالَ: ”قَدِ اسْتَزَدْتُّهُ فَأَعْطَانِي مَعَ كُلِّ رَجُلٍ سَبْعِينَ أَلْفًا“ قَالَ عُمَرُ: فَهَلَّا اسْتَزَدْتَّهُ قَالَ: ”قَدِ اسْتَزَدْتُّهُ فَأَعْطَانِي هَكَذَا“ وَفَرَّجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ بَيْنَ يَدَيْهِ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَبَسَطَ بَاعَيْهِ وَحَثَا عَبْدُ اللَّهِ وَقَالَ هِشَامٌ: وَهَذَا مِنَ اللَّهِ لَا يُدْرَى مَا عَدَدُهُ
سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے ربّ نے مجھ سے وعدہ کیا کہ میری امت کے سترہزر افراد بغیر حساب و کتاب کے جنت میں جائیں گے۔ یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اس تعداد میں مزید اضافے کی درخواست کیوں نہیں کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے مزید اضافے کی درخواست کی تھی اوراللہ تعالیٰ نے ان ستر ہزار میں سے ہر فرد کے ساتھ ستر ستر ہزار آدمی بھیجنے کا وعدہ کیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے مزید اضافے کی درخواست کیوں نہیں کی تھی؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے درخواست کی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دو بازوؤں کو پھیلا کر اشارہ کر کے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مزید اتنے افراد کو بھی بغیر حساب کتاب جنت میں بھیجنے کا وعدہ کیا۔ امام احمد کے شیخ عبد اللہ بن بکر نے اپنے دونوں ہاتھوں کو سامنے کی طرف پھیلاکر اور عبد اللہ بن امام احمد نے اپنے پہلوؤں کی طرف دونوں بازوؤں کو پھیلا کر ان کو بھرنے کا اشارہ کیا۔ ہشام نے کہا: یہ تو پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، کوئی نہیں جانتا کہ اس کی تعداد کتنی ہو گی۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13305]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، القاسم بن مھران لا يعرف، وموسي بن عبيد مجھول،وقوله: اِنَّ رَبِّيْ اَعْطَانِيْ سَبْعِيْنَ اَلْفًا مِّنْ اُمَّتِيْ يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ له شواھد، أخرجه البزار: 3546، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1706 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1706»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 13306
وَعَنْ أَبِي بَكْرِ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”أُعْطِيتُ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وُجُوهُهُمْ كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ وَقُلُوبُهُمْ عَلَى قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ فَاسْتَزَدْتُّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَزَادَنِي مَعَ كُلِّ وَاحِدٍ سَبْعِينَ أَلْفًا“ قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَرَأَيْتُ أَنَّ ذَلِكَ أَتَى عَلَى أَهْلِ الْقُرَى وَمُصِيبٍ مِنْ حَافَّاتِ الْبَوَادِي
ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:: میری امت کے ستر ہزار افراد بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے‘ ان کے چہرے بدر والی رات کے چاند کی طرح چمکتے ہوں گے اور ان کے دل ایک انسان کے دل کی مانند ہوں گے۔ جب میں نے اپنے ربّ سے مزید مطالبہ کیا تو اس نے ہر ایک کے ساتھ مزید ستر ہزار افراد کا اضافہ کر دیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا خیال ہے کہ یہ چیز تو بستیوں والوں پر آئے گی اور دیہاتوں کے کناروں تک پہنچ جائے گی۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13306]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه ابويعلي: 112، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22»
وضاحت: فوائد: … بغیر حساب وکتاب کے جنت میں داخل ہونے والوں کی تفصیلی تعداد درج ذیل ہے، تمام احادیث کو اس بحث کی روشنی میں سمجھیں:
مذکورہ بالا حدیث کے مطابق چار ارب، نوے کروڑ اور ستر ہزار (۰۰۰،۷۰،۰۰،۹۰،۴) افراد حساب وکتاب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے۔ (سبحان اللہ)یہ کون لوگ ہیں؟ ان کی صفات کیا ہیں؟ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر سابقہ امتیں پیش کی گئیں، … …۔ پس میں نے ایک بہت بڑا لشکر دیکھا، جبریل نے مجھے کہا: یہ آپ کی امت ہے اور ان کے سامنے جو ستر ہزار افراد ہیں، ان کا کوئی حساب و کتاب نہیں ہے۔ میں نے کہا: اس کی کیا وجہ ہے؟ اس نے کہا: یہ وہ لوگ ہیں، جو نہ داغ لگواتے ہیں، نہ دم کرواتے ہیں، نہ برا شگون لیتے ہیں اور صرف اپنے ربّ پر توکل کرتے ہیں۔ (بخاری: ۶۵۴۱، مسلم: ۲۲۰)
ہماری شریعت میں دم کروانا،زخم پر داغ لگانا اور علاج کروانا جائز ہے، لیکن توکل کی اعلی قسم یہ ہے کہ ان سے بھی گریز کرتے ہوئے معاملے کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیا جائے۔ یعنی جس نے بیماری لگائی، وہی دور کرے گا۔
(۰۰۰،۷۰،۰۰،۹۰،۴) افراد کے علاوہ اللہ کریم کی تین مٹھیاں بھی ہوں گی، جیسا کہ اس باب کی آخری حدیث سے پتہ چل رہا ہے، معلوم نہیں اللہ تعالیٰ کی مٹھی میں کتنے لوگ سما جائیں گے۔ جَعَلَنَا اللّٰہُ مِنْھُمْ۔
مذکورہ بالا حدیث کے مطابق چار ارب، نوے کروڑ اور ستر ہزار (۰۰۰،۷۰،۰۰،۹۰،۴) افراد حساب وکتاب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے۔ (سبحان اللہ)یہ کون لوگ ہیں؟ ان کی صفات کیا ہیں؟ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر سابقہ امتیں پیش کی گئیں، … …۔ پس میں نے ایک بہت بڑا لشکر دیکھا، جبریل نے مجھے کہا: یہ آپ کی امت ہے اور ان کے سامنے جو ستر ہزار افراد ہیں، ان کا کوئی حساب و کتاب نہیں ہے۔ میں نے کہا: اس کی کیا وجہ ہے؟ اس نے کہا: یہ وہ لوگ ہیں، جو نہ داغ لگواتے ہیں، نہ دم کرواتے ہیں، نہ برا شگون لیتے ہیں اور صرف اپنے ربّ پر توکل کرتے ہیں۔ (بخاری: ۶۵۴۱، مسلم: ۲۲۰)
ہماری شریعت میں دم کروانا،زخم پر داغ لگانا اور علاج کروانا جائز ہے، لیکن توکل کی اعلی قسم یہ ہے کہ ان سے بھی گریز کرتے ہوئے معاملے کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیا جائے۔ یعنی جس نے بیماری لگائی، وہی دور کرے گا۔
(۰۰۰،۷۰،۰۰،۹۰،۴) افراد کے علاوہ اللہ کریم کی تین مٹھیاں بھی ہوں گی، جیسا کہ اس باب کی آخری حدیث سے پتہ چل رہا ہے، معلوم نہیں اللہ تعالیٰ کی مٹھی میں کتنے لوگ سما جائیں گے۔ جَعَلَنَا اللّٰہُ مِنْھُمْ۔
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 13307
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ”سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَوَعَدَنِي أَنْ يُدْخِلَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ فَاسْتَزَدْتُّ فَزَادَنِي مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعِينَ أَلْفًا فَقُلْتُ: أَيْ رَبِّ إِنْ لَمْ يَكُنْ هَؤُلَاءِ مُهَاجِرِي أُمَّتِي قَالَ: إِذًا أُكْمِلُهُمْ لَكَ مِنَ الْأَعْرَابِ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے ربّ سے درخواست کی اور اس نے میرے ساتھ وعدہ کیا کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار افراد کو جنت میں داخل کرے گا، ان افراد کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح منور ہوں گے، جب میں نے اس تعداد میں اضافے کی درخواست کی تو اس نے اس تعداد کے ہر فرد کے ساتھ ستر ستر ہزار کا مزید اضافہ کر دیا، میں نے کہا: اے میرے رب! اگر میری امت کے مہاجرین کی تعداد اس قدر نہ ہوئی تو؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں پھر عام دیہاتیوں سے اس عدد کو پورا کر د وں گا۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13307]
تخریج الحدیث: «صحيح دون قوله: فاستزدت فزادني ويغلب علي الظن ان ھذا الحديث من مناكير زھير بن محمد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8707 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8692»
الحكم على الحديث:
صحيح دون قوله: فاستزدت فزادني ويغلب علي الظن ان ھذا الحديث من مناكير زھير بن محمد
حدیث نمبر: 13308
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”يَدْخُلُ سَبْعُونَ أَلْفًا مِنْ أُمَّتِي الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ“ فَقَالَ رَجُلٌ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَقَالَ: ”اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ“ ثُمَّ قَامَ آخَرُ فَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَقَالَ: ”سَبَقَكَ بِهَا عُكَاشَةُ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے ستر ہزار افراد بغیر حساب وکتاب کے جنت میں جائیں گے۔ ایک آدمی نے کہا: آپ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ وہ مجھے ان لوگوں میں شامل کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے حق میں یہ دعا کی: یا اللہ! اس کو ان لوگوں میں شامل کر دے۔ اس کے بعد ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور کہا: آپ میرے لیے بھی اللہ تعالیٰ سے دعا کر دیں کہ وہ مجھے بھی ان لوگوں میں شامل کر لے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عکاشہ تجھ سے سبقت لے گیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13308]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6542، ومسلم: 216، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8016 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8003»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6542
حدیث نمبر: 13309
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي زُمْرَةٌ هُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا تُضِيءُ وُجُوهُهُمْ إِضَاءَةَ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ“ فَقَامَ عُكَاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ الْأَسْدِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَرْفَعُ نَمِرَةً عَلَيْهِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَقَالَ: ”اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ“ ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ: ”سَبَقَكَ عُكَاشَةُ“
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے ستر ہزار افراد کی ایک جماعت جنت میں اس حال میں جائے گی کہ ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہ سن کر سیدنا عکاشہ بن محصن اسدی رضی اللہ عنہ اپنی چادر کو سنبھالتے ہوئے کھڑے ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے ان لوگوں میں شامل کر دے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لے یوں دعا کی: اے اللہ! اسے ان لوگوں میں شامل کر دے۔ اس کے بعد ایک انصاری آدمی کھڑا ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ان لوگوں میں شامل کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عکاشہ تم سے سبقت لے گیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13309]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9191»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9191
حدیث نمبر: 13310
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَعَدَنِي أَنْ يُدْخِلَ مِنْ أُمَّتِي الْجَنَّةَ سَبْعِينَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ“ فَقَالَ يَزِيدُ بْنُ الْأَخْنَسِ السُّلَمِيُّ: وَاللَّهِ مَا أُولَئِكَ فِي أُمَّتِكَ إِلَّا كَالذُّبَابِ الْأَصْهَبِ فِي الذُّبَابِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”كَانَ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ قَدْ وَعَدَنِي سَبْعِينَ أَلْفًا مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعِينَ أَلْفًا وَزَادَنِي ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ زَادَ فِي رِوَايَةٍ مِنْ حَثَيَاتِ الرَّبِّ“
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار افراد کو بلا حساب جنت میں داخل فرمائے گا۔ یہ سن کر سیدنا یزید بن اخنس رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! یہ تعداد تو آپ کی امت میں ایسے ہی ہے، جیسے عام مکھیوں میں زرد رنگ کی مکھیوں کی قلیل سی تعداد ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے ربّ نے میرے ساتھ ستر ہزار کا وعدہ کیا اور ہر ہزار کے ساتھ مزید ستر ہزار کا بھی وعدہ کیا اور اس پر مستزاد یہ کہ اللہ تعالیٰ کے تین چلو اس تعداد کے علاوہ ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13310]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابن حبان: 6457، والطبراني في الكبير: 7672، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22156 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22508»
الحكم على الحديث:
صحيح
28. بَيَانُ مَا لَادْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ فِيهَا وَمَا لَا عَلَاهُمْ
سب سے کم درجہ والے اور سب سے بلند درجہ والے جنتی کے انعامات کا بیان
حدیث نمبر: 13311
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ أَدْنَى مَقْعَدِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ أَنْ يَقُولَ تَمَنَّ وَيَتَمَنَّى فَيَقُولُ لَهُ هَلْ تَمَنَّيْتَ فَيَقُولُ نَعَمْ فَيَقُولُ لَهُ فَإِنَّ لَكَ مَا تَمَنَّيْتَ وَمِثْلَهُ مَعَهُ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو آدمی جنت میں سب سے کم درجہ والا ہو گا، اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: تو جو کچھ مانگنا چاہتا ہے، اس کی تمنا کر، وہ آدمی تمناکرے گا، پھراللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا: کیا تو نے تمنا کر لی ہے؟ وہ عرض کرے گا: جی ہاں، پھر اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: تو نے جو تمنا کی ہے، تجھے وہ کچھ بھی ملے گا اور اس جتنا مزید بھی۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13311]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 182، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8168 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8153»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 182
حدیث نمبر: 13312
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً لَيَنْظُرُ فِي مُلْكِهِ أَلْفَيْ سَنَةٍ يَرَى أَقْصَاهُ كَمَا يَرَى أَدْنَاهُ يَنْظُرُ فِي أَزْوَاجِهِ وَخَدَمِهِ وَإِنَّ أَفْضَلَهُمْ مَنْزِلَةً لَيَنْظُرُ فِي وَجْهِ اللَّهِ تَعَالَى كُلَّ يَوْمٍ مَرَّتَيْنِ“
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اہل جنت میں سے سب سے کم مرتبے والا آدمی اپنے ملک میں دو ہزار سال کے عرصہ میں محض ایک بار نظر ڈال سکے گا، وہ دور والے مقامات کو بھی اسی طرح دیکھے گا جیسے قریب والی جگہ کو دیکھے گا، اسی طرح وہ اپنی بیویوں اور خادموں کو دیکھے گا اور اہل جنت میں سے اعلیٰ ترین درجے والا جنتی وہ ہو گا جو روزانہ دو مرتبہ اللہ تعالیٰ کا دیدار کرے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13312]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ثوير بن ابي فاختة ضعفه ابن معين و ابو زرعة وابو حاتم وغيرھم، وقال الدارقطني وعلي بن جنيد: متروك، أخرجه الترمذي: 2553،3330، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4623 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4623»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 13313
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً الَّذِي يَنْظُرُ إِلَى جِنَانِهِ وَنَعِيمِهِ وَخَدَمِهِ وَسُرُرِهِ مِنْ مَسِيرَةِ أَلْفِ سَنَةٍ إِنَّ أَكْرَمَهُمْ عَلَى اللَّهِ مَنْ يَنْظُرُ إِلَى وَجْهِهِ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً“ ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ {وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ}
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اہل جنت میں سب سے کم درجہ والا جنتی ایک ہزار سال کی مسافت سے اپنے باغات، نعمتوں، خادموں اور تختوں کودیکھے گا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ معزز وہ جنتی ہوگا جو ہر صبح شام کو اللہ تعالیٰ کا دیدار کرے گا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ اِلٰی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ} (اس دن بہت سے چہرے پر رونق ہوں گے اور اپنے ربّ کا دیدار کر رہے ہوں گے۔) (سورۂ قیامہ: ۲۲،۲۳) [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13313]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5317»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5317
حدیث نمبر: 13314
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً مَنْ يَتَمَنَّى عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَيُقَالُ لَكَ ذَلِكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ إِلَّا أَنَّهُ يُلَقَّنُ فَيُقَالُ لَهُ كَذَا وَكَذَا فَيُقَالُ لَكَ ذَلِكَ وَمِثْلُهُ“ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”فَيُقَالُ لَكَ ذَلِكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اہل جنت میں سب سے کم درجے والا شخص وہ ہو گا جو اللہ تعالیٰ پر تمنائیں کرے گا اور اس سے کہا جائے گا: یہ سب کچھ تیرے لیے ہے، بلکہ اتنا مزید بھی دیا جاتا ہے، پھر اسے یہ لقمہ دیا جائے گا کہ فلاں فلاں چیز بھی مانگ لے۔ پھر اسے کہاجائے گا یہ سب کچھ تجھے دیا جاتا ہے اور اس کا ایک گنا مزید بھی عطا کیا جاتا ہے۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سے کہا جائے گا کہ یہ سب کچھ تجھے دیا جا رہا ہے، بلکہ اس کے ساتھ اس کا دس گنا مزید بھی دیا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13314]
تخریج الحدیث: «أخرجه مطولا البخاري: 6573، مسلم: 182، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9815 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9814»
الحكم على الحديث:
أخرجه مطولا البخاري: 6573