🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. صِفَةُ جَنَّاتِ الْفِرْدَوْس وَلِمَنْ تَكُونُ وَفِيهِ دَرَجَاتُ الْجَنَّةِ وَإِنَّ الْفِرْدَوْسَ أَعْلَاهَا جَعَلَنَا اللَّهُ مِنْ سُكَّانِهَا
جنت الفردوس کی صفات،اس کے مستحقین، اس میں جنتوں کے درجات اور فردوس کا سب سے اعلی مرتبہ ہونا، اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس میں رہنے والوں میں سے بنا دے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13295
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ أَهْلَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَى لَيَرَاهُمْ مَنْ تَحْتَهُمْ كَمَا تَرَوْنَ النَّجْمَ الطَّالِعَ فِي الْأُفُقِ مِنْ آفَاقِ السَّمَاءِ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ مِنْهُمْ وَأَنْعَمَا“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کابیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں نچلے درجات والے لوگ اونچے درجات والوں کو اس طرح دیکھ سکیں گے، جیسے تم آسمان کے دوردراز کناروں پر چمکتے ستاروں کو دیکھتے ہو اور سیدنا ابو بکر صدیق اور سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہما بھی ایسے ہی جنتیوں میں سے ہیں، (جو جنت کے اعلی درجات پر فائز ہوں گے)، اور کیا خوب مقام ہے ان کا۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13295]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الترمذي: 3658، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11882 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11904»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13296
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنَّ أَهْلَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَى لَيَرَاهُمْ مَنْ تَحْتَهُمْ كَمَا تَرَوْنَ النَّجْمَ الطَّالِعَ فِي الْأُفُقِ مِنْ آفَاقِ السَّمَاءِ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ مِنْهُمْ وَأَنْعَمَا“
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں بلند درجات والے کو ان سے کم درجوں والے لوگ اس طرح دیکھیں گے، جیسے تم لوگ آسمان کے کنارے پر دمکتے ستارے کو دیکھتے ہو، اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی ایسے ہی بلند مقام لوگوں میں سے ہیں اور کیا خوب مقام ہے ان کا۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13296]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11231»
وضاحت: فوائد: … بات تو جنت کے درجات کی چل رہی تھی، بیچ میں ان درجات کے حقداروں خلیفۂ اول سیدنا ابو بکر صدیق اور خلیفۂ دوم سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما کی بات چل پڑی، کیا مقام ہے صدیق و فاروق کا۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11231
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
26. أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ وَصِفَتُهُمْ
جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والے لوگوں اور ان کی صفات کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13297
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”آتِي بَابَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَسْتَفْتِحُ فَيَقُولُ الْخَازِنُ مَنْ أَنْتَ قَالَ فَأَقُولُ مُحَمَّدٌ قَالَ يَقُولُ بِكَ أُمِرْتُ أَنْ لَا أَفْتَحَ لِأَحَدٍ قَبْلَكَ“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں قیامت کے دن جنت کے دروازے پر جا کر دروازہ کھولنے کا مطالبہ کروں گا، دروازے کا نگہبان پوچھے گا:تم کون ہو؟میں کہوں گا: جی میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوں، وہ کہے گا: آپ کے بارے میں ہی مجھے حکم دیا گیا تھا کہ میں آپ سے پہلے کسی کے لیے دروازہ نہ کھولوں۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13297]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 197، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12397 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12424»
وضاحت: فوائد: … سبحان اللہ! گویا جنت کا افتتاح سید الاولین والآخرین جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے کیا جائے گا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 197
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13298
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”نَحْنُ الْآخِرُونَ الْأَوَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ نَحْنُ أَوَّلُ النَّاسِ دُخُولًا الْجَنَّةَ بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ فَهَدَانَا اللَّهُ لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِهِ فَهَذَا الْيَوْمُ الَّذِي هَدَانَا اللَّهُ لَهُ وَالنَّاسُ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ غَدًا لِلْيَهُودِ وَبَعْدَ غَدٍ لِلنَّصَارَى“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم زمانہ کے لحاظ سے سب سے آخر میں آئے ہیں، تاہم قیامت کے دن ہم سب سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے، بس فرق یہ ہے کہ ان لوگوں کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی تھی اور ہمیں بعد میں دی گئی، ان لوگوں نے جس دن کے بارے میں آپس میں اختلاف کیا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس معاملے میں ہماری رہنمائی فرما دی اور لوگ اس سلسلے میں ہمارے تابع ہیں، (پہلا دن جمعہ ہے، جو کہ ہمارا ہے)، اس سے اگلا دن (ہفتہ) یہودیوں کا ہے اور اس سے اگلا دن (اتوار) عیسائیوں کا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13298]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 855، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7706 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7692»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 855
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13300
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ”هَلْ تَدْرُونَ أَوَّلَ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ؟“ قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ: ”أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ الْفُقَرَاءُ وَالْمُهَاجِرُونَ الَّذِينَ تُسَدُّ بِهِمُ الثُّغُورُ وَيُتَّقَى بِهِمُ الْمَكَارِهُ وَيَمُوتُ أَحَدُهُمْ وَحَاجَتُهُ فِي صَدْرِهِ لَا يَسْتَطِيعُ لَهَا قَضَاءً فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَنْ يَشَاءُ مِنْ مَلَائِكَتِهِ: ائْتُوهُمْ فَحَيُّوهُمْ فَتَقُولُ الْمَلَائِكَةُ: نَحْنُ سُكَّانُ سَمَائِكَ وَخِيَرَتُكَ مِنْ خَلْقِكَ أَفَتَأْمُرُنَا أَنْ نَأْتِيَ هَؤُلَاءِ فَنُسَلِّمَ عَلَيْهِمْ؟ قَالَ: إِنَّهُمْ كَانُوا عِبَادًا يَعْبُدُونِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَتُسَدُّ بِهِمُ الثُّغُورُ وَيُتَّقَى بِهِمُ الْمَكَارِهُ وَيَمُوتُ أَحَدُهُمْ وَحَاجَتُهُ فِي صَدْرِهِ لَا يَسْتَطِيعُ لَهَا قَضَاءً قَالَ: فَتَأْتِيهِمُ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ ذَلِكَ فَيَدْخُلُونَ عَلَيْهِمْ مِنْ كُلِّ بَابٍ: {سَلَامٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ} [الرعد: 24] “
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے سب سے پہلے جنت میں کون جائے گا؟ صحابہ کرام نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سب سے پہلے وہ فقراء اور مہاجرین جنت میں جائیں گے، جن کے ذریعے سرحدات کو تحفظ دیا جاتا ہے اور جن کے واسطے سے (دشمنوں کے) ناپسندیدہ امور سے بچا جاتا ہے، جبکہ وہ خود اس حال میں دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں کہ ان کی خواہشات ان کے دلوں میں ہی رہ جاتی ہیں اور وہ اپنی خواہشات کو پورا کرنے کی طاقت ہی نہیں رکھتے، اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کو حکم دے گا کہ جا کر ان لوگوں کو سلام کہو، فرشتے کہیں گے: اے اللہ!ہم تیرے آسمان کے رہنے والے ہیں اور تیری بہترین مخلوق ہیں، کیا تو ہمیں اس بات کا حکم دیتا ہے کہ ہم ان لوگوں کے پاس جا کر انہیں سلام کریں؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: یہ وہ لوگ ہیں، جو میری عبادت کیا کرتے تھے، میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے تھے، ان کے ذریعے سرحدات کو تحفظ دیا جاتا تھا اور ان کے واسطے سے ناپسندیدہ امور سے بچا جاتا تھا، جبکہ یہ خود اس حال میں وفات پا گئے تھے کہ ان کی خواہشات ان کے دلوں میں ہی رہ گئی تھیں اور وہ اپنی خواہشات کو پورا کرنے کی طاقت ہی نہیں رکھتے تھے، اس کے بعد یہ فرشتے ان کے پاس آئیں گے اور ہر دروازے سے داخل ہو کر یوں سلام پیش کریں گے: {سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ} (تم دنیا میں جو صبر کرتے رہے، اس کی وجہ سے تم پر سلام ہو، یہ تمہارا بہترین ٹھکانہ اور منزل ہے۔) (سورۂ رعد: ۲۲،۲۳) [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13300]
تخریج الحدیث: «اسناده جيد، أخرجه الطبراني،والبزار: 3665، وابن حبان: 7421، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6570 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6570»

الحكم على الحديث:
اسناده جيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13301
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”إِنَّ أَوَّلَ ثُلَّةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ لَفُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ يُتَّقَى بِهِمُ الْمَكَارِهُ وَإِذَا أُمِرُوا سَمِعُوا وَأَطَاعُوا وَإِذَا كَانَتْ لِرَجُلٍ مِنْهُمْ حَاجَةٌ إِلَى السُّلْطَانِ لَمْ تُقْضَ لَهُ حَتَّى يَمُوتَ وَهِيَ فِي صَدْرِهِ وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَدْعُو يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْجَنَّةَ فَتَأْتِي بِزُخْرُفِهَا وَزِينَتِهَا فَيَقُولُ: أَيْ عِبَادِي الَّذِينَ قَاتَلُوا فِي سَبِيلِي وَقُتِلُوا وَأُوذُوا فِي سَبِيلِي وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِي ادْخُلُوا الْجَنَّةَ فَيَدْخُلُونَهَا بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ“ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والا گروہ ان فقراء مہاجرین کا ہوگا کہ جن کے ذریعے ناپسندیدہ امور سے بچا جاتا تھا،ان کو جب کوئی حکم دیا جاتا تھا تو یہ سنتے اور اس کی اطاعت کرتے، لیکن اگر ان میں سے کسی کو کسی بادشاہ سے کام پڑ جاتا تو مرتے دم تک اس کا کام نہیں کیا جاتا تھا، اور وہ اپنی خواہش دل میں ہی دبائے فوت ہو جاتا تھا، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جنت کو بلائے گا، چنانچہ وہ اپنی تمام آرائشوں اور زینتوں کے ساتھ آئے گی، پھر اللہ تعالیٰ کہے گا: اے میرے وہ بندو! جنہوں نے میری راہ میں قتال کیا اور مارے گئے اور میری راہ میں جن کو ایذائیں دی گئیں اور جنہوں نے میری راہ میں جہاد کیا، جنت میں داخل ہو جاؤ، چنانچہ وہ حساب اور عذاب کے بغیر جنت میں داخل ہو جائیں گے، …۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13301]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6571»
وضاحت: فوائد: … ان کی خواہشات ان کے دلوں میں ہی رہ جاتی ہیں اچھا کھانا، اچھا پہننا، مال و دولت، مقام و مرتبہ اور دنیا کے دوسرے تقاضے، حدیث ِ مبارکہ میںجن فقراء کا ذکر کیا گیا، وہ یہ نعمتیں حاصل کیے بغیر دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں، جبکہ زندگی شریعت کے مطابق گزارتے ہیں۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6571
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13302
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَلِجُ الْجَنَّةَ صُورَتُهُمْ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَا يَبْصُقُونَ وَلَا يَتْفِلُونَ فِيهَا وَلَا يَتَخَمَّطُونَ فِيهَا وَلَا يَتَغَوَّطُونَ فِيهَا آنِيَتُهُمْ وَأَمْشَاطُهُمُ الذَّهَبُ وَالْفِضَّةُ وَمَجَامِرُهُمُ الْعُلُوَّةُ وَرَشْحُهُمُ الْمِسْكُ وَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ يُرَى مُخُّ سَاقَيْهِمَا مِنْ وَرَاءِ اللَّحْمِ مِنَ الْحُسْنِ لَا اخْتِلَافَ بَيْنَهُمْ وَلَا تَبَاغُضَ قُلُوبُهُمْ عَلَى قَلْبٍ وَاحِدٍ يُسَبِّحُونَ اللَّهَ بُكْرَةً وَعَشِيًّا“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں داخل ہونے والے سب سے پہلے گروہ کی صورتیں چودھویں شب کے چاند کی طرح روشن ہوں گی، ان کو جنت میں نہ لعاب آئے گا، نہ وہ وہاں تھوکیں گے، نہ ان کے ناکوں میں کوئی فضلہ ہوگا اور نہ وہ قضائے حاجت کریں گے، ان کے استعمال کے برتن اور کنگھیاں سونے اور چاندی کی ہوں گی، ان کی انگیٹھیوں میں (جلانے کے لئے) خوشبودار لکڑی ہو گی، ان کا پسینہ کستوری ہو گا، ہر جنتی کی دو دو بیویاں ہوں گی، ان کے حسن و لطافت کی بناء پر ان کی پنڈلیوں کا گودا گوشت میں سے نظر آ رہا ہوگا، اہل جنت کا آپس میں کسی قسم کا اختلاف یا جھگڑا نہیں ہوگا۔ ان کے دل ایک دوسرے کے بغض سے یکسر پاک صاف ہوں گے گویا ان سب کا دل ایک ہوگا۔ وہ صبح شام اللہ تعالیٰ کی تسبیحات کریں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13302]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3245، ومسلم: 2834، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8198 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8183»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3245
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13303
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”إِنَّ أَوَّلَ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ عَلَى أَشَدِّ ضَوْءِ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَاءِ إِضَاءَةً لَا يَبُولُونَ وَلَا يَتَغَوَّطُونَ وَلَا يَتْفِلُونَ وَلَا يَتَخَمَّطُونَ أَمْشَاطُهُمُ الذَّهَبُ وَرَشْحُهُمُ الْمِسْكُ وَمَجَامِرُهُمُ الْعُلُوَّةُ وَأَزْوَاجُهُمُ الْحُورُ الْعِينُ أَخْلاقُهُمْ عَلَى خَلْقِ رَجُلٍ وَاحِدٍ عَلَى صُورَةِ أَبِيهِمْ آدَمَ فِي طُولِ سِتِّينَ ذِرَاعًا“
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والے گروہ کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی مانند روشن اور صاف ہوں گے، ان سے کم مرتبہ والوں کے چہرے آسمان پر سب سے زیادہ دمکتے ستارے جیسے ہوں گے، وہ جنت میں نہ پیشاب کریں گے،نہ تھوکیں گے، نہ ان کے ناکوں میں کوئی فضلہ ہو گا، ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی، ان کا پسینہ کستوری ہو گا، ان کی انگیٹھیوں میں (جلانے کے لئے) خوشبودار لکڑی ہو گی اور کی بیویاں موٹی آنکھوں والی حوریں ہوں گی،ان کے اخلاق ایک آدمی کے اخلاق کی مانند ہوں گے (یعنی ان کا آپس میں کسی قسم کا اختلاف، ناراضگی اور بغض و حسد نہیں ہو گا)، ان سب کے قد ان کے باپ آدم علیہ السلام کے قد جتنا ہو گا، یعنی ساٹھ ہاتھ لمبے ہوں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13303]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7165»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7165
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13304
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ ”لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ ثِنْتَانِ يُرَى مُخُّ سَاقِهِمَا مِنْ وَرَاءِ اللَّحْمِ وَمَا فِي الْجَنَّةِ أَعْزَبُ“
۔ (تیسری سند) اس میں ہے: ہرجنتی کی دو دو بیویاں ہوں گی، ان کے گوشت سے ان کی پنڈلیوں کا گودا نظر آ رہا ہو گا اور جنت میں کوئی آدمی بھی بیوی کے بغیر نہیں ہوگا۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13304]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7152»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7152
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں