سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ
باب: دو نمازوں کو جمع کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1218
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَابْنُ مَوْهَبٍ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ أَخَّرَ الظُّهْرَ إِلَى وَقْتِ الْعَصْرِ، ثُمَّ نَزَلَ فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا، فَإِنْ زَاغَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ صَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ رَكِبَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ". قَالَ أَبُو دَاوُد: كَانَ مُفَضَّلٌ قَاضِيَ مِصْرَ، وَكَانَ مُجَابَ الدَّعْوَةِ، وَهُوَ ابْنُ فَضَالَةَ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ فرماتے تو ظہر کو عصر کے وقت تک مؤخر کر دیتے پھر قیام فرماتے اور دونوں کو جمع کرتے، اور اگر کوچ کرنے سے پہلے سورج ڈھل جاتا تو آپ ظہر پڑھ لیتے پھر سوار ہوتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مفضل مصر کے قاضی اور مستجاب لدعوات تھے، وہ فضالہ کے لڑکے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1218]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ کرتے تو ظہر کو عصر کے وقت تک مؤخر کر لیتے۔ پھر اترتے اور ان دونوں کو جمع کر کے پڑھتے۔ اور اگر سفر شروع کرنے سے پہلے ہی سورج ڈھل جاتا تو ظہر پڑھتے اور سوار ہو جاتے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: ”مفضل (مذکورہ حدیث کے ایک راوی) مصر کے قاضی تھے۔ مجاب الدعوۃ تھے اور وہ فضالہ کے صاحبزادے ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1218]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/ تقصیر الصلاة 15 (1111)، 16 (1112)، صحیح مسلم/المسافرین 5 (704)، سنن النسائی/المواقیت 41 (587)،(تحفة الأشراف: 1515)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/247، 265) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1112) صحيح مسلم (704)
حدیث نمبر: 1219
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ،حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عُقَيْلٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ بِإِسْنَادِهِ، قَالَ:" وَيُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ حَتَّى يَجْمَعَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْعِشَاءِ حِينَ يَغِيبُ الشَّفَقُ".
اس طریق سے بھی عقیل سے یہی روایت اسی سند سے منقول ہے البتہ اس میں اضافہ ہے کہ مغرب کو مؤخر فرماتے یہاں تک کہ جب شفق غائب ہو جاتی تو اسے اور عشاء کو ملا کر پڑھتے۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1219]
جناب عقیل رحمہ اللہ نے اپنی سند سے یہ حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ”اور مغرب کو مؤخر کر لیتے اور عشاء کے ساتھ جمع کر کے پڑھتے، جبکہ شفق غروب ہو چکی ہوتی۔“ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1219]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ، (تحفة الأشراف: 1515) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1112) صحيح مسلم (704)
حدیث نمبر: 1220
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى يَجْمَعَهَا إِلَى الْعَصْرِ فَيُصَلِّيَهُمَا جَمِيعًا، وَإِذَا ارْتَحَلَ بَعْدَ زَيْغِ الشَّمْسِ صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ثُمَّ سَارَ، وَكَانَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ الْمَغْرِبَ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الْعِشَاءِ، وَإِذَا ارْتَحَلَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ عَجَّلَ الْعِشَاءَ فَصَلَّاهَا مَعَ الْمَغْرِبِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَلَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ إِلَّا قُتَيْبَةُ وَحْدَهُ.
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک میں سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ فرماتے تو ظہر کو مؤخر کر دیتے یہاں تک کہ اسے عصر سے ملا دیتے، اور دونوں کو ایک ساتھ ادا کرتے، اور جب سورج ڈھلنے کے بعد کوچ کرتے تو ظہر اور عصر کو ایک ساتھ پڑھتے پھر روانہ ہوتے، اور جب مغرب سے پہلے کوچ فرماتے تو مغرب کو مؤخر کرتے یہاں تک کہ اسے عشاء کے ساتھ ملا کر ادا کرتے، اور اگر مغرب کے بعد کوچ کرتے تو عشاء میں جلدی فرماتے اور اسے مغرب کے ساتھ ملا کر پڑھتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث سوائے قتیبہ کے کسی اور نے روایت نہیں کی ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1220]
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک میں جب سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ کرتے تو ظہر کو مؤخر کرتے، حتیٰ کہ عصر کے ساتھ جمع کر کے پڑھتے۔ اور جب سورج ڈھلنے کے بعد کوچ کرتے، تو ظہر اور عصر کو اکٹھا پڑھتے، پھر سفر شروع کرتے۔ اور جب مغرب سے پہلے روانہ ہوتے تو مغرب کو مؤخر کرتے، حتیٰ کہ عشاء کے ساتھ ملا کر پڑھتے۔ اور جب مغرب کے بعد کوچ کرتے، تو عشاء کو جلدی کر کے مغرب کے ساتھ پڑھ لیتے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اس حدیث کو صرف قتیبہ نے روایت کیا ہے۔ (یعنی لیث سے روایت کرنے میں منفرد ہیں)۔“ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1220]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 277 (553)، (تحفة الأشراف: 11321)، وقد أخرجہ: حم(5/241) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اس سند اور متن میں قتیبہ منفرد ہیں، دونوں سندوں اور متنوں میں فرق کے لئے دیکھئے حدیث نمبر: (۱۲۰۶)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (1344)
أخرجه الترمذي (553 وسنده صحيح) قتيبة بن سعيد ثقة حافظ ولا يضر تفرده
مشكوة المصابيح (1344)
أخرجه الترمذي (553 وسنده صحيح) قتيبة بن سعيد ثقة حافظ ولا يضر تفرده
6. باب قِصَرِ قِرَاءَةِ الصَّلاَةِ فِي السَّفَرِ
باب: سفر کی نماز میں قرآت مختصر کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1221
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ"فَصَلَّى بِنَا الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ، فَقَرَأَ فِي إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ بِالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ".
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں نکلے آپ نے ہمیں عشاء پڑھائی اور دونوں رکعتوں میں سے کسی ایک رکعت میں «والتين والزيتون» پڑھی۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1221]
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں نکلے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عشاء کی نماز پڑھائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ایک رکعت میں سورۃ ﴿وَالتِّینِ وَالزَّیْتُونِ﴾ [سورة التين: 1] تلاوت فرمائی۔“ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1221]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 100 (767)، 102 (769)، وتفسیر التین 1 (4952)، والتوحید 52 (7546)، صحیح مسلم/الصلاة 36 (464)، سنن الترمذی/الصلاة 115 (310)، سنن النسائی/الافتتاح 73 (1002)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 10 (834)، (تحفة الأشراف: 1791)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة 5 (27)، مسند احمد (4/284، 286، 291، 302، 303) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (767) صحيح مسلم (464)
7. باب التَّطَوُّعِ فِي السَّفَرِ
باب: سفر میں نفل پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1222
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي بُسْرَةَ الْغِفَارِيِّ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَفَرًا" فَمَا رَأَيْتُهُ تَرَكَ رَكْعَتَيْنِ إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ الظُّهْرِ".
براء بن عازب انصاری رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اٹھارہ سفروں میں رہا، لیکن میں نے نہیں دیکھا کہ سورج ڈھلنے کے بعد ظہر سے پہلے آپ نے دو رکعتیں ترک کی ہوں۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1222]
سیدنا براء بن عازب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”میں اٹھارہ سفروں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا ہوں۔ میں نے نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج ڈھل جانے کے بعد ظہر سے پہلے دو رکعتیں چھوڑی ہوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1222]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 276 (الجمعة 41) (550)، (تحفة الأشراف: 1924)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/292، 295) (ضعیف)» (اس کے راوی ”ابو بسرة غفاری“ لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1352)
أخرجه الترمذي (550 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (1352)
أخرجه الترمذي (550 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 1223
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَفْصِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: صَحِبْتُ ابْنَ عُمَرَ فِي طَرِيقٍ، قَالَ: فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَقْبَلَ، فَرَأَى نَاسًا قِيَامًا، فَقَالَ: مَا يَصْنَعُ هَؤُلَاءِ؟ قُلْتُ: يُسَبِّحُونَ، قَالَ: لَوْ كُنْتُ مُسَبِّحًا أَتْمَمْتُ صَلَاتِي، يَا ابْنَ أَخِي، إِنِّي صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ" فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ" وَصَحِبْتُ أَبَا بَكْرٍ فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَصَحِبْتُ عُمَرَ فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ تَعَالَى، وَصَحِبْتُ عُثْمَانَ فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ تَعَالَى، وَقَدْ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21.
حفص بن عاصم کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ رہا تو آپ نے ہم کو دو رکعت نماز پڑھائی پھر متوجہ ہوئے تو دیکھا کہ کچھ لوگ (نماز کی حالت میں) کھڑے ہیں، پوچھا: یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: یہ نفل پڑھ رہے ہیں، تو آپ نے کہا: بھتیجے! اگر مجھے نفل ۱؎ پڑھنی ہوتی تو میں اپنی نماز ہی پوری پڑھتا، میں سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا لیکن آپ نے دو سے زیادہ رکعتیں نہیں پڑھیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی، پھر میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا انہوں نے بھی دو رکعت سے زیادہ نہیں پڑھیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دے دی، اور عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا انہوں نے بھی دو سے زیادہ رکعتیں نہیں پڑھیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دے دی، مجھے (سفر میں) عثمان رضی اللہ عنہ کی رفاقت بھی ملی لیکن انہوں نے بھی دو سے زیادہ رکعتیں نہیں پڑھیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دے دی، اور اللہ عزوجل فرما چکا ہے: «لقد كان لكم في رسول الله أسوة حسنة» ”تمہارے لیے اللہ کے رسول کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1223]
سیدنا حفص بن عاصم بن عمر بن خطاب رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ میں ایک سفر میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا، انہوں نے ہم کو دو رکعتیں پڑھائیں، پھر (اپنی منزل میں) آ گئے اور کچھ لوگوں کو قیام کرتے دیکھا اور پوچھا کہ: ”یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟“ میں نے کہا: ”یہ نفل پڑھ رہے ہیں۔“ انہوں نے کہا: ”اگر مجھے نفل ہی پڑھنے ہوتے تو میں اپنی (فرض) نماز پوری کر لیتا۔ اے بھتیجے! میں سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا ہوں، آپ نے دو رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھیں، حتیٰ کہ اللہ نے ان کو قبض کر لیا۔ اور میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صحبت میں رہا ہوں، انہوں نے بھی دو رکعت سے زیادہ نہیں پڑھیں، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو قبض کر لیا۔ اور میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی صحبت میں رہا ہوں، انہوں نے بھی دو رکعت سے زیادہ نہیں پڑھیں، حتیٰ کہ اللہ نے ان کو قبض کر لیا۔ اور میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی صحبت میں رہا ہوں، انہوں نے بھی دو رکعت سے زیادہ نہیں پڑھیں، حتیٰ کہ اللہ عزوجل نے ان کو قبض کر لیا، اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [سورة الأحزاب: 21] ”تمہارے لیے اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ ہے۔““ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1223]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تقصیر الصلاة 11 (1101)، صحیح مسلم/المسافرین 1 (689)، سنن النسائی/تقصیر الصلاة 4 (1459)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 75 (1071)، (تحفة الأشراف: 6693)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 274 (الجمعة 39) (544)، مسند احمد (2/24، 56)، سنن الدارمی/المناسک 47 (1916) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: نفل کی دو قسمیں ہیں: راتب سنتیں اور غیر راتب سنتیں، راتب سنتیں فرض نماز سے پہلے یا بعد میں پڑھی جاتی ہیں، اور غیر راتب عام نفلی نماز کو کہا جاتا ہے تمام علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مسافر عام نفلی نماز پڑھ سکتا ہے، البتہ سنن رواتب میں اختلاف ہے اور اس حدیث سے راتب سنتیں ہی مراد ہیں، اس سلسلہ میں راجح قول یہ ہے کہ سفر میں سنن رواتب کا نہ پڑھنا افضل ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1102) صحيح مسلم (689)
8. باب التَّطَوُّعِ عَلَى الرَّاحِلَةِ وَالْوِتْرِ
باب: سواری پر نفل اور وتر پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1224
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَبِّحُ عَلَى الرَّاحِلَةِ أَيَّ وَجْهٍ تَوَجَّهَ وَيُوتِرُ عَلَيْهَا غَيْرَ أَنَّهُ لَا يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ عَلَيْهَا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر نفل پڑھتے تھے، خواہ آپ کسی بھی طرف متوجہ ہوتے اور اسی پر وتر پڑھتے، البتہ اس پر فرض نماز نہیں پڑھتے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1224]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر نفل اور وتر پڑھا کرتے تھے، اس کا رخ خواہ کسی طرف ہی ہوتا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرض نماز اس پر نہ پڑھتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1224]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تقصیر الصلاة 7 (1097)، صحیح مسلم/المسافرین 4 (700)، سنن النسائی/الصلاة 23 (491)، والمساجد 46 (740)، والقبلة 2 (745)، سنن الدارمی/الصلاة 213 (1631)، (تحفة الأشراف: 6978)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 228 (472)، سنن النسائی/قیام اللیل 31 (1687)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 127(1200)، موطا امام مالک/ قصر الصلاة 3 (15)، مسند احمد (2/57، 138) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے ثابت ہوا کہ فرض کے سوا نفلی نماز اور وتر بھی سواری پر ادا کی جا سکتی ہے، ان کے لئے قبلہ رخ ہونے کی شرط نہیں ہے، نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ حالت سفر میں عام نفل پڑھ سکتے ہیں، اور وتر اور فجر کی سنت سفر اور حضر دونوں میں تاکیداً پڑھنی چاہئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1098) صحيح مسلم (700)
حدیث نمبر: 1225
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجَارُودِ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي الْحَجَّاجِ، حَدَّثَنِي الْجَارُودُ بْنُ أَبِي سَبْرَةَ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا سَافَرَ فَأَرَادَ أَنْ يَتَطَوَّعَ اسْتَقْبَلَ بِنَاقَتِهِ الْقِبْلَةَ فَكَبَّرَ، ثُمَّ صَلَّى حَيْثُ وَجَّهَهُ رِكَابُهُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کرتے اور نفل پڑھنے کا ارادہ کرتے تو اپنی اونٹنی قبلہ رخ کر لیتے اور تکبیر کہتے پھر نماز پڑھتے رہتے خواہ آپ کی سواری کا رخ کسی بھی طرف ہو جائے۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1225]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر میں ہوتے اور نفل پڑھنا چاہتے تو اپنی اونٹنی کو قبلہ رخ کرتے اور تکبیر تحریمہ کہہ کر نماز شروع کر لیتے، پھر نماز پڑھتے رہتے، خواہ اس کا رخ کسی بھی طرف ہوتا رہتا۔“ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1225]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 512)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تقصیر الصلاة 10 (1100)، صحیح مسلم/المسافرین 4 (700)، سنن النسائی/المساجد 46 (742)، موطا امام مالک/ قصر الصلاة 7 (26)، مسند احمد (3/203) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1345)
مشكوة المصابيح (1345)
حدیث نمبر: 1226
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِي الْحُبَابِ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي عَلَى حِمَارٍ وَهُوَ مُتَوَجِّهٌ إِلَى خَيْبَرَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گدھے پر نماز پڑھتے دیکھا آپ کا رخ خیبر کی جانب تھا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1226]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گدھے پر نماز پڑھ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ خیبر کی طرف تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1226]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/ المسافرین 4 (700)، سنن النسائی/الصلاة 23 (493)، (تحفة الأشراف: 7086)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصر الصلاة 7 (25)، مسند احمد (2/7، 49، 52، 57، 75، 83، 128) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: خیبر مدینہ منورہ سے اتری سمت کا علاقہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (700)
حدیث نمبر: 1227
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ، قَالَ: فَجِئْتُ وَهُوَ" يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ، وَالسُّجُودُ أَخْفَضُ مِنَ الرُّكُوعِ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی ضرورت سے بھیجا، میں (واپس) آیا تو دیکھا کہ آپ اپنی سواری پر مشرق کی جانب رخ کر کے نماز پڑھ رہے ہیں (آپ کا) سجدہ رکوع کی بہ نسبت زیادہ جھک کر ہوتا تھا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1227]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی کام کے لیے بھیجا۔ میں واپس آیا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر نماز پڑھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ مشرق کی طرف تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے کے لیے رکوع سے زیادہ جھکتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1227]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 143 (351)، (تحفة الأشراف: 2750)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3 332، 379، 388) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی رکوع اور سجدہ دونوں اشارے سے کرتے اور دونوں میں جھکتے تھے، لیکن سجدہ میں رکوع سے زیادہ جھکتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (540)
مشكوة المصابيح (1346)
مشكوة المصابيح (1346)