🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ
باب: دو نمازوں کو جمع کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1208
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَإِنْ يَرْتَحِلْ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى يَنْزِلَ لِلْعَصْرِ، وَفِي الْمَغْرِبِ مِثْلُ ذَلِكَ إِنْ غَابَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، وَإِنْ يَرْتَحِلْ قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتَّى يَنْزِلَ لِلْعِشَاءِ، ثُمَّ جَمَعَ بَيْنَهُمَا". قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَ حَدِيثِ الْمُفَضَّلِ، وَاللَّيْثِ.
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ غزوہ تبوک میں سفر سے پہلے سورج ڈھل جانے کی صورت میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کو ظہر کے ساتھ ملا کر پڑھ لیتے، اور اگر سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ کرتے تو ظہر کو مؤخر کر دیتے یہاں تک کہ آپ عصر کے لیے قیام کرتے، اسی طرح آپ مغرب میں کرتے، اگر کوچ کرنے سے پہلے سورج ڈوب جاتا تو عشاء کو مغرب کے ساتھ ملا کر پڑھ لیتے اور اگر سورج ڈوبنے سے پہلے کوچ کرتے تو مغرب کو مؤخر کر دیتے یہاں تک کہ عشاء کے لیے قیام کرتے پھر دونوں کو ملا کر پڑھ لیتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ہشام بن عروہ نے حصین بن عبداللہ سے حصین نے کریب سے، کریب نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، ابن عباس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مفضل اور لیث کی حدیث کی طرح روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1208]
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک میں اگر کوچ کرنے سے پہلے سورج ڈھل جاتا تو ظہر اور عصر کو جمع کر لیتے اور اگر سورج ڈھلنے سے پہلے ہی کوچ کرتے تو ظہر کو مؤخر کر لیتے، حتیٰ کہ عصر کے وقت اترتے (اور انہیں جمع کر کے پڑھتے) اور مغرب میں بھی ایسے ہی کرتے یعنی اگر سفر شروع کرنے سے پہلے سورج غروب ہو جاتا تو مغرب اور عشاء کو جمع کر لیتے۔ اور اگر سورج غروب ہونے سے پہلے ہی چل پڑتے تو مغرب کو مؤخر کر لیتے، حتیٰ کہ عشاء کے لیے اترتے اور ان دونوں کو اکٹھے پڑھتے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کو ہشام بن عروہ نے حسین بن عبداللہ سے، انہوں نے کریب سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث مفصل اور لیث کی مانند بیان کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1208]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: 1206، (تحفة الأشراف: 11320) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (1020)
أنظر الحديث السابق (1206) وھذا طرف منه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1209
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي مَوْدُودٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي يَحْيَى، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" مَا جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ قَطُّ فِي السَّفَرِ إِلَّا مَرَّةً". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا يُرْوَى عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، مَوْقُوفًا عَلَى ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ لَمْ يَرَ ابْنَ عُمَرَ جَمَعَ بَيْنَهُمَا قَطُّ إِلَّا تِلْكَ اللَّيْلَةَ، يَعْنِي لَيْلَةَ اسْتُصْرِخَ عَلَى صَفِيَّةَ، وَرُوِيَ مِنْ حَدِيثِ مَكْحُولٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّهُ رَأَى ابْنَ عُمَرَ فَعَلَ ذَلِكَ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں ایک بار کے علاوہ کبھی بھی مغرب اور عشاء کو ایک ساتھ ادا نہیں کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث «ایوب عن نافع عن ابن عمر» سے موقوفاً روایت کی جاتی ہے کہ نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو ایک رات کے سوا کبھی بھی ان دونوں نمازوں کو جمع کرتے نہیں دیکھا، یعنی اس رات جس میں انہیں صفیہ کی وفات کی خبر دی گئی، اور مکحول کی حدیث نافع سے مروی ہے کہ انہوں نے ابن عمر کو اس طرح ایک یا دو بار کرتے دیکھا۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1209]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مغرب اور عشاء کو سفر میں صرف ایک ہی بار جمع فرمایا تھا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ روایت بواسطہ ایوب، نافع سے اور وہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے موقوفاً بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو صرف اسی رات دیکھا گیا تھا کہ انہوں نے مغرب اور عشاء کو جمع کر کے پڑھا تھا، یعنی جس رات انہیں ان کی اہلیہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی تشویشناک خبر پہنچی تھی۔ جبکہ مکحول از نافع کی سند سے یہ مروی ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک یا دو بار ایسے کیا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1209]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (1207)، (تحفة الأشراف: 7093) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: منكر
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
وھذا حسب علم ابن عمر رضي الله عنھما وإلا فأنه ﷺ جمع أكثر من مرة

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1210
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا فِي غَيْرِ خَوْفٍ وَلَا سَفَرٍ"، قَالَ: قَالَ مَالِكٌ: أَرَى ذَلِكَ كَانَ فِي مَطَرٍ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ نَحْوَهُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، وَرَوَاهُ قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، قَالَ: فِي سَفْرَةٍ سَافَرْنَاهَا إِلَى تَبُوكَ.s
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلا کسی خوف اور سفر کے ظہر اور عصر کو ایک ساتھ اور مغرب و عشاء کو ایک ساتھ ادا کیا ۱؎۔ مالک کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ ایسا بارش میں ہوا ہو گا ۲؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے حماد بن سلمہ نے مالک ہی کی طرح ابوالزبیر سے روایت کیا ہے، نیز اسے قرہ بن خالد نے بھی ابوالزبیر سے روایت کیا ہے اس میں ہے کہ یہ ایک سفر میں ہوا تھا جو ہم نے تبوک کی جانب کیا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1210]
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کی نمازیں بغیر کسی خوف یا سفر کے اکٹھی پڑھیں۔ امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ بارش میں ایسے کیا تھا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حماد بن سلمہ نے ابوالزبیر سے اسی کی مانند روایت کیا ہے جبکہ قرہ بن خالد نے ابوالزبیر سے روایت کیا تو کہا: وہ سفر جو ہم نے تبوک کی جانب کیا تھا (اس میں آپ نے یہ نمازیں جمع کر کے پڑھی تھیں)۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1210]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المسافرین 6 (705) سنن النسائی/المواقیت 46 (602)، (تحفة الأشراف: 5608)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المواقیت 12 (543)، سنن الترمذی/الصلاة 1 (187)، موطا امام مالک/قصر الصلاة 1(4)، مسند احمد (1/221، 223، 283، 349) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس سے ثابت ہوا کہ حالت حضر (قیام کی حالت) میں بھی ضرورت کے وقت دو نماز کو ایک ساتھ جمع کیا جا سکتا ہے، البتہ اس کو عادت نہیں بنانا چاہئے۔ ۲؎: لیکن صحیح مسلم کی ایک روایت میں «من غير خوف ولا مطر» (یعنی بغیر کسی خوف اور بارش) کے الفاظ بھی آئے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (705)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1211
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمَدِينَةِ مِنْ غَيْرِ خَوْفٍ وَلَا مَطَرٍ"، فَقِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَا أَرَادَ إِلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینے میں بلا کسی خوف اور بارش کے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو ملا کر پڑھا، ابن عباس سے پوچھا گیا: اس سے آپ کا کیا مقصد تھا؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ اپنی امت کو کسی زحمت میں نہ ڈالیں ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1211]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں (مقیم ہوتے ہوئے) بغیر کسی خوف یا بارش کے ظہر و عصر کی اور مغرب و عشاء کی نمازیں جمع کر کے پڑھیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس سے کیا مقصد تھا؟ انہوں نے کہا: یہی کہ امت کو مشقت نہ ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1211]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المسافرین 6 (705) سنن الترمذی/ الصلاة 1 (187)، سنن النسائی/المواقیت 46 (603)، (تحفة الأشراف: 5474)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/354) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ حالت قیام میں بغیر کسی خوف اور بارش کے جمع بین الصلاتین بوقت ضرورت جائز ہے، سنن ترمذی میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی یہ روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو دو نماز کو بغیر کسی عذر کے جمع کرے تو وہ بڑے گناہوں کے دروازوں میں سے ایک دروازے میں داخل ہو گیا ضعیف ہے، اس کی اسناد میں حنش بن قیس راوی ضعیف ہے، اس لئے یہ استدلال کے لائق نہیں، ابن الجوزی نے اسے موضوعات میں ذکر کیا ہے، اور یہ ضعیف حدیث ان صحیح روایات کی معارض نہیں ہو سکتی جن سے جمع کرنا ثابت ہوتا ہے، اور بعض لوگ جو یہ تاویل کرتے ہیں کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بیماری کی وجہ سے ایسا کیا ہو تو یہ بھی صحیح نہیں کیوں کہ یہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کے اس قول کے منافی ہے کہ اس (جمع بین الصلاتین) سے مقصود یہ تھا کہ امت حرج میں نہ پڑے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (705 بعد ح 706)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1212
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ نَافِعٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَاقِدٍ، أَنَّ مُؤَذِّنَ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:"الصَّلَاةُ، قَالَ: سِرْ سِرْ حَتَّى إِذَا كَانَ قَبْلَ غُيُوبِ الشَّفَقِ نَزَلَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ انْتَظَرَ حَتَّى غَابَ الشَّفَقُ وَصَلَّى الْعِشَاءَ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا عَجِلَ بِهِ أَمْرٌ صَنَعَ مِثْلَ الَّذِي صَنَعْتُ فَسَارَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ مَسِيرَةَ ثَلَاثٍ". قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ ابْنُ جَابِرٍ، عَنْ نَافِعٍ نَحْوَ هَذَا بِإِسْنَادِهِ.
نافع اور عبداللہ بن واقد سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے مؤذن نے کہا: نماز (پڑھ لی جائے) (تو) ابن عمر نے کہا: چلتے رہو پھر شفق غائب ہونے سے پہلے اترے اور مغرب پڑھی پھر انتظار کیا یہاں تک کہ شفق غائب ہو گئی تو عشاء پڑھی، پھر کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی کام کی جلدی ہوتی تو آپ ایسا ہی کرتے جیسے میں نے کیا ہے، چنانچہ انہوں نے اس دن اور رات میں تین دن کی مسافت طے کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن جابر نے بھی نافع سے اسی سند سے اسی کی طرح روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1212]
جناب نافع اور عبداللہ بن واقد سے مروی ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کے مؤذن نے نماز کے لیے کہا: تو انہوں نے کہا: چلو، چلو، حتیٰ کہ شفق غروب ہونے سے ذرا پہلے اترے اور مغرب کی نماز پڑھی، پھر انتظار کیا، حتیٰ کہ شفق غائب ہو گئی تو عشاء پڑھی، پھر فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی کام میں جلدی ہوتی تو ایسے ہی کرتے تھے جیسے کہ میں نے کیا ہے۔ پھر آپ نے اس دن رات میں تین دن کی مسافت طے کی۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ابن جابر نے نافع سے اپنی سند سے اسی کی مانند روایت کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1212]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7290) (صحیح)» ‏‏‏‏ (لیکن اس حدیث میں وارد لفظ «قبل غیوب الشفق» ”شفق غائب ہونے سے قبل“ شاذ ہے، صحیح لفظ «حتی غاب الشفق» ”شفق غائب ہونے کے بعد“ ہے جیسا کہ حدیث نمبر: 1207 میں ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح لكن قوله قبل غيوب الشفق شاذ والمحفوظ بعد غياب الشفق نافع نحو هذا بإسناده
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
وانظر الحديث الآتي (123)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1213
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنْ ابْنِ جَابِرٍ، بِهَذَا الْمَعْنَى. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: حَتَّى إِذَا كَانَ عِنْدَ ذَهَابِ الشَّفَقِ نَزَلَ فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا.
اس طریق سے بھی ابن جابر سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور عبداللہ بن علاء نے نافع سے یہ حدیث روایت کی ہے: اس میں ہے یہاں تک کہ جب شفق غائب ہونے کا وقت ہوا تو وہ اترے اور مغرب اور عشاء ایک ساتھ پڑھی۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1213]
عیسیٰ نے ابن جابر سے اسی کے ہم معنی روایت کیا ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن علاء نے نافع رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہوئے کہا ہے: جب شفق غروب ہونے لگی تو وہ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما) اترے اور نمازیں جمع کر کے پڑھیں۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1213]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/ المواقیت 44 (596)، (تحفة الأشراف: 7759) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه النسائي (596 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1214
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ. ح وحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ،عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ ثَمَانِيًا وَسَبْعًا الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ"، وَلَمْ يَقُلْ سُلَيْمَانُ، وَمُسَدَّدٌ: بِنَا. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ صَالِحٌ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: فِي غَيْرِ مَطَرٍ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینے میں ہمارے ساتھ ظہر و عصر ملا کر آٹھ رکعتیں اور مغرب و عشاء ملا کر سات رکعتیں پڑھیں۔ سلیمان اور مسدد کی روایت میں «بنا» یعنی ہمارے ساتھ کا لفظ نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے صالح مولیٰ توامہ نے ابن عباس سے روایت کیا ہے، اس میں «بغير مطر» بغیر بارش کے الفاظ ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1214]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ہم کو آٹھ رکعتیں اور سات رکعتیں یعنی ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کی نمازیں (جمع کر کے) پڑھائیں۔ سلیمان اور مسدد نے یہ نہیں کہا کہ ہمیں پڑھائیں (بلکہ یہ کہا کہ آپ نے پڑھیں)۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ صالح مولیٰ التوامۃ کی روایت میں جو ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ہے، کہا: بغیر بارش کے۔ (یہ نمازیں جمع کیں)۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1214]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: 1210، (تحفة الأشراف: 5377) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (543) صحيح مسلم (705)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1215
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَابَتْ لَهُ الشَّمْسُ بِمَكَّةَ" فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا بِسَرِفٍ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تھے کہ سورج ڈوب گیا تو آپ نے مقام سرف میں دونوں (مغرب اور عشاء) ایک ساتھ ادا کی۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1215]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سورج مکہ میں غروب ہو گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مغرب اور عشاء کی نمازیں) وادی سرف میں جا کر جمع کر کے پڑھیں۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1215]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/المواقیت 44 (594)، (تحفة الأشراف: 2937)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/305، 380) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی ”یحییٰ بن محمد الجاری“ کے بارے میں کلام ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (594)
أبو الزبير مدلس (طبقات المدلسين : 101 / 3) و عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 52

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1216
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ جَارُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ،عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: بَيْنَهُمَا عَشَرَةُ أَمْيَالٍ، يَعْنِي بَيْنَ مَكَّةَ، وَسَرِفٍ.
ہشام بن سعد کہتے ہیں کہ دونوں یعنی مکہ اور سرف کے درمیان دس میل کا فاصلہ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1216]
ہشام بن سعد بیان کرتے ہیں کہ: مکہ اور وادی سرف کے درمیان دس میل کا فاصلہ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1216]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19509) (مقطوع)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1217
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ اللَّيْثِ، قَالَ: قَالَ رَبِيعَةُ، يَعْنِي كَتَبَ إِلَيْهِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: وَأَنَا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَسِرْنَا، فَلَمَّا رَأَيْنَاهُ قَدْ أَمْسَى، قُلْنَا: الصَّلَاةُ، غَابَتِ الشَّمْسُ" فَسَارَ حَتَّى غَابَ الشَّفَقُ، وَتَصَوَّبَتِ النُّجُومُ، ثُمَّ إِنَّهُ نَزَلَ فَصَلَّى الصَّلَاتَيْنِ جَمِيعًا، ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ صَلَّى صَلَاتِي هَذِهِ" يَقُولُ: يَجْمَعُ بَيْنَهُمَا بَعْدَ لَيْلٍ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ سَالِمٍ، وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ذُؤَيْبٍ، أَنَّ الْجَمْعَ بَيْنَهُمَا مِنْ ابْنِ عُمَرَ كَانَ بَعْدَ غُيُوبِ الشَّفَقِ.
عبداللہ بن دینار کہتے ہیں کہ سورج ڈوب گیا، اس وقت میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا، پھر ہم چلے، جب دیکھا کہ رات آ گئی ہے تو ہم نے کہا: نماز (ادا کر لیں) لیکن آپ چلتے رہے یہاں تک کہ شفق غائب ہو گئی اور تارے پوری طرح جگمگا نے لگے، پھر آپ اترے، اور دونوں نمازیں (مغرب اور عشاء) ایک ساتھ ادا کیں، پھر کہا کہ میں نے دیکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب چلتے رہنا ہوتا تو میری اس نماز کی طرح آپ بھی نماز ادا کرتے یعنی دونوں کو رات ہو جانے پر ایک ساتھ پڑھتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث عاصم بن محمد نے اپنے بھائی سے اور انہوں نے سالم سے روایت کی ہے، اور ابن ابی نجیح نے اسماعیل بن عبدالرحمٰن بن ذویب سے روایت کی ہے کہ ان دونوں نمازوں کو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے شفق غائب ہونے کے بعد جمع کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1217]
جناب عبداللہ بن دینار کہتے ہیں کہ سورج غروب ہو گیا جبکہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا۔ ہم چلتے رہے، جب ہم نے دیکھا کہ خوب شام ہو گئی ہے تو ہم نے عرض کیا: نماز؟ مگر وہ چلتے رہے، حتیٰ کہ شفق غائب ہو گئی اور ستارے نکل آئے تو وہ اترے اور دونوں نمازیں اکٹھی کر کے پڑھیں۔ پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب سفر میں جلدی ہوتی تو نمازیں میری اسی نماز کی طرح پڑھتے تھے۔ یعنی اندھیرا چھا جانے کے بعد دونوں کو جمع کر کے پڑھتے تھے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس کو عاصم بن محمد نے اپنے بھائی سے، انہوں نے سالم سے روایت کیا ہے، اور ابن ابی نجیح نے اسماعیل بن عبدالرحمٰن بن ذوئیب سے روایت کیا ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا ان نمازوں کو جمع کرنا غروب شفق کے بعد تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1217]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7149) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (816)
أخرجه البيھقي (3/ 160، 161 وسنده حسن، عبدالله بن جعفر بن درستويه: حسن الحديث علي الراجح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں