صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1. ذكر ركوب المصطفى صلى الله عليه وسلم البراق وإتيانه عليه بيت المقدس من مكة في بعض الليل-
- اس واقعہ کا ذکر کہ نبی کریم ﷺ نے براق پر سوار ہو کر مکہ سے بیت المقدس کا سفر ایک رات کے کچھ حصے میں طے فرمایا۔
حدیث نمبر: 45
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ حُذَيْفَةَ ، فَقَالَ: مَنْ أَنْتَ يَا أَصْلَعُ؟ قُلْتُ: أَنَا زِرُّ بْنُ حُبَيْشٍ، حَدِّثْنِي بِصَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ الْمَقَدْسِ حِينَ أُسْرِيَ بِهِ، قَالَ: مَنْ أَخْبَرَكَ بِهِ يَا أَصْلَعُ؟ قُلْتُ: الْقُرْآنُ، قَالَ: الْقُرْآنُ؟ فَقَرَأْتُ: سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلا سورة الإسراء آية 1، وَهَكَذَا هِيَ قِرَاءَةُ عَبْدِ اللَّهِ إِلَى قَوْلِهِ: إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ سورة الإسراء آية 1، فَقَالَ: هَلْ تَرَاهُ صَلَّى فِيهِ؟ قُلْتُ: لا، قَالَ: إِنَّهُ أُتِيَ بِدَابَّةٍ، قَالَ حَمَّادٌ: وَصَفَهَا عَاصِمٌ لا أَحْفَظُ صِفَتَهَا، قَالَ: فَحَمَلَهُ عَلَيْهَا جِبْرِيلُ، أَحَدُهُمَا رَدِيفُ صَاحِبِهِ، فَانْطَلَقَ مَعَهُ مِنْ لَيْلَتِهِ حَتَّى أَتَى بَيْتَ الْمَقَدْسِ، فَأُرِيَ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الأَرْضِ، ثُمَّ رَجَعَا عَوْدَهُمَا عَلَى بَدْئِهِمَا، فَلَمْ يُصَلِّ فِيهِ، وَلَوْ صَلَّى لَكَانَتْ سُنَّةً .
زر بن حبیش بیان کرتے ہیں: میں سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے دریافت کیا: ”اے آگے سے گنجے! تم کون ہو؟“ میں نے جواب دیا: میں زر بن حبیش ہوں۔ آپ مجھے بیت المقدس میں معراج کی رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں بتائیے، تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے آگے سے گنجے! تمہیں اس بارے میں کس نے بتایا ہے؟“ میں نے جواب دیا: قرآن نے۔ انہوں نے دریافت کیا: ”کیا قرآن نے؟“ تو میں نے یہ آیت پڑھ دی: ﴿سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا﴾ [سورة الإسراء: 1] ”پاک ہے وہ ذات جو لے گئی اپنے بندے کو رات کے ایک حصے میں۔“ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت اسی طرح ہے، یہ آیت یہاں تک ہے: ﴿إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ﴾ [سورة الإسراء: 1] ”بے شک وہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔“ انہوں نے دریافت کیا: ”کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں نماز ادا کی تھی؟“ میں نے جواب دیا: جی ہاں۔ انہوں نے فرمایا: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک جانور لایا گیا۔“ یہاں حماد نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے، عاصم نامی راوی نے اس کا حلیہ بھی بیان کیا تھا، لیکن مجھے اس کا حلیہ یاد نہیں رہا۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر سوار کروایا، ان دونوں میں سے ایک صاحب دوسرے کے پیچھے بیٹھ گئے۔ تو وہ جانور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لے کر اسی رات روانہ ہوا، یہاں تک کہ وہ بیت المقدس آ گیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آسمانوں اور زمین میں موجود چیزیں دکھائی گئیں، پھر یہ دونوں صاحبان واپس آ گئے، یہ جس طرح گئے تھے اسی طرح واپس آ گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں نماز ادا نہیں کی۔ اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (وہاں) نماز ادا کر لیتے، تو یہ بات سنت ہوتی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإسراء/حدیث: 45]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 45، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3389، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11216، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3147، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23757، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 411، والحميدي فى (مسنده) برقم: 453، والبزار فى (مسنده) برقم: 2915، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 32356، 37728، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 5014»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «الصحيحة» (874)، لكن قوله: «فلم يصلّ ... » منكر، لمخالفتِه الثابت عنه صلّى الله عليه وسلّم أنه صلى - ليلتئذ - إماماً، والصلاة في الأقصى سنةٌ، يشرع شدُّ الرَّحلِ إليه.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن من أجل عاصم، فإن حديثه لا يرتقي إلى الصحة.
2. ذكر استصعاب البراق عند إرادة ركوب النبي صلى الله عليه وسلم إياه-
- اس واقعہ کا ذکر کہ جب نبی کریم ﷺ براق پر سوار ہونا چاہتے تھے تو وہ ابتدا میں بھڑک گیا (یعنی سوار ہونے میں مشکل پیش آئی)۔
حدیث نمبر: 46
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْعَبَّاسِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُتِيَ بِالْبُرَاقِ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ مُسْرَجًا مُلْجَمًا لِيَرْكَبَهُ، فَاسْتَصْعَبَ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ: مَا يَحْمِلُكَ عَلَى هَذَا، فَوَاللَّهِ مَا رَكِبَكَ أَحَدٌ أَكْرَمَ عَلَى اللَّهِ مِنْهُ، قَالَ: فَارْفَضَّ عَرَقًا" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جس رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کروائی گئی، اس رات آپ کے پاس براق لایا گیا، جس پر زین رکھی ہوئی تھی اور اس کی لگام ڈالی گئی تھی تاکہ آپ اس پر سوار ہو جائیں، اس پر سوار ہونے میں آپ کو دشواری محسوس ہوئی (یعنی براق نے اچھلنا شروع کر دیا) تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے اس سے کہا: تم ایسا کیوں کر رہے ہو؟ اللہ کی قسم! تمہارے اوپر ایسا کوئی شخص سوار نہیں ہوا، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) سے زیادہ معزز ہو، راوی بیان کرتے ہیں کہ براق کو پسینہ آ گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإسراء/حدیث: 46]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «صحيح، وأخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 46، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3131، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12868، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 3184، والبزار فى (مسنده) برقم: 7113، 7255»
«قال إبن حبان: صححه، عمدة القاري شرح صحيح البخاري: (17 / 20)»
«قال إبن حبان: صححه، عمدة القاري شرح صحيح البخاري: (17 / 20)»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح الإسناد.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين.
3. ذكر البيان بأن جبريل شد البراق بالصخرة عند إرادة الإسراء-
- اس وضاحت کا ذکر کہ جبریل علیہ السلام نے براق کو معراج کے وقت پتھر سے باندھا۔
حدیث نمبر: 47
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ جُنَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أبيه ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمَّا كَانَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي، انْتَهِيَتُ إِلَى بَيْتِ الْمَقَدْسِ، فَخَرَقَ جِبْرِيلُ الصَّخْرَةَ بِإِصْبَعِهِ وَشَدَّ بِهَا الْبُرَاقَ" .
سیدنا عبداللہ بن بریدہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جس رات مجھے معراج کروائی گئی، میں بیت المقدس پہنچا، تو جبرائیل علیہ السلام نے اپنی انگلی کے ذریعے بڑے پتھر میں موجود سوراخ کو کھولا اور اس کے ساتھ براق کو باندھ دیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإسراء/حدیث: 47]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 47، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3390، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3132، والبزار فى (مسنده) برقم: 4398»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «المشكاة» (5921 /التحقيق الثاني)، «الصحيحة» (3487). * قال "الناشر": في هامش الأصل - بخط الشيخ -: "حسنه الترمذي، وصححه الحاكم والذهبي". تنبيه!! لم يذكر الناشر اسمه في نهاية الحاشيه كما قال في مقدمة الكتاب ص (30) قال: ما كان لنا من تعليقات - يسيرة جدا - على شيء من السقط، أو الترقيم - أو نحوه - جعلنا في آخره اسم (الناشر) وما كان خلوا من ذلك: فهو من تعليقات الشيخ - رحمه الله -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
عبد الرحمن بن المتوكل: ذكره المؤلف في الثقات 8/ 379، وقال: من أهل البصرة يروي عن الفضل بن سليمان، حدثنا عنه أبو خليفة، مات بعد سنة ثلاثين ومئتين بقليل، وقد توبع عليه، والزبير بن جنادة: ذكره المؤلف في "الثقات" 6/ 333، وقال الحاكم في "المستدرك": مروزي ثقة. وقال الذهبي في "الميزان": أخطأ من قال فيه جهالة ولولا أن ابن الجوزي ذكره لما ذكرته. وباقي رجال الإسناد ثقات.
4. ذكر وصف الإسراء برسول الله صلى الله عليه وسلم من بيت المقدس-
- اس کیفیت کا ذکر کہ نبی کریم ﷺ کو بیت المقدس سے (آسمانوں کی طرف) سیر کرائی گئی۔
حدیث نمبر: 48
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا هُمَامُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُمْ عَنْ لَيْلَةِ أُسْرِيَ بِهِ، قَالَ: " بَيْنَمَا أَنَا فِي الْحَطِيمِ وَرُبَّمَا، قَالَ: فِي الْحِجْرِ إِذْ أَتَانِي آتٍ، فَشَقَّ مَا بَيْنَ هَذِهِ إِلَى هَذِهِ فَقُلْتُ لِلْجَارُودِ وَهُوَ إِلَى جَنْبِي:" مَا يَعْنِي بِهِ؟" قَالَ: مِنْ ثُغْرَةِ نَحْرِهِ إِلَى شِعْرَتِهِ فَاسْتَخْرَجَ قَلْبِي، ثُمَّ أُتِيتُ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مَمْلُوءًا إِيمَانًا وَحِكْمَةً، فَغُسِلَ قَلْبِي، ثُمَّ حُشِيَ، ثُمَّ أُتِيتُ بِدَابَّةٍ دُونَ الْبَغْلِ وَفَوْقَ الْحِمَارِ أَبْيَضَ، فَقَالَ لَهُ الْجَارُودُ: هُوَ الْبُرَاقُ يَا أَبَا حَمْزَةَ؟ قَالَ أَنَسٌ: نَعَمْ، يَقَعُ خَطْوُهُ عِنْدَ أَقْصَى طَرْفِهِ فَحُمِلْتُ عَلَيْهِ، فَانْطَلَقَ بِي جِبْرِيلُ حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الدُّنْيَا، فَاسْتَفْتَحَ، فَقِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قِيلَ: مَرْحَبًا بِهِ، فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ، فَفُتِحَ، فَلَمَّا خَلَصْتُ فِيهَا آدَمُ، فَقَالَ: هَذَا أَبُوكَ آدَمُ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَرَدَّ السَّلامَ ثُمَّ قَالَ: مَرْحَبًا بِالابْنِ الصَّالِحِ، وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ، ثُمَّ صَعِدَ بِي حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الثَّانِيَةَ، فَاسْتَفْتَحَ، قِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ، قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قِيلَ: مَرْحَبًا بِهِ فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ، فَفُتِحَ، فَلَمَّا خَلَصْتُ يَحْيَى وَعِيسَى وَهُمَا ابْنَا خَالَةٍ، قَالَ: هَذَا يَحْيَى وَعِيسَى، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمَا، فَسَلَّمْتُ، فَرَدَّا ثُمَّ قَالا: مَرْحَبًا بِالأَخِ الصَّالِحِ، وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ، ثُمَّ صَعِدَ بِي إِلَى السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ، فَاسْتَفْتَحَ، قِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قِيلَ: مَرْحَبًا بِهِ، فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ، فَفُتِحَ، فَلَمَّا خَلَصْتُ يُوسُفُ، قَالَ: هَذَا يُوسُفُ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَرَدَّ ثُمَّ قَالَ: مَرْحَبًا بِالأَخِ الصَّالِحِ، وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ، ثُمَّ صَعِدَ بِي حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الرَّابِعَةَ، فَاسْتَفْتَحَ، قِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قِيلَ: أَوَ قَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قِيلَ: مَرْحَبًا بِهِ، فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ، فَفُتِحَ، فَلَمَّا خَلَصْتُ إِدْرِيسُ، قَالَ: هَذَا إِدْرِيسُ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَرَدَّ ثُمَّ قَالَ: مَرْحَبًا بِالأَخِ الصَّالِحِ، وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ، ثُمَّ صَعِدَ بِي حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الْخَامِسَةَ، فَاسْتَفْتَحَ، قِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قِيلَ: مَرْحَبًا بِهِ، فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ، فَفُتِحَ، فَلَمَّا خَلَصْتُ هَارُونُ، قَالَ: هَذَا هَارُونُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَرَدَّ ثُمَّ قَالَ: مَرْحَبًا بِالأَخِ الصَّالِحِ، وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ، ثُمَّ صَعِدَ بِي حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ السَّادِسَةَ، فَاسْتَفْتَحَ، قِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قِيلَ: أَوَ قَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قِيلَ: مَرْحَبًا بِهِ، فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ، فَفُتِحَ، فَلَمَّا خَلَصْتُ مُوسَى، قَالَ: هَذَا مُوسَى، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَرَدَّ السَّلامَ، ثُمَّ قَالَ: مَرْحَبًا بِالأَخِ الصَّالِحِ، وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ، فَلَمَّا تَجَاوَزْتُ بَكَى، قِيلَ لَهُ: مَا يُبْكِيكَ؟ قَالَ: أَبْكِي لأَنَّ غُلامًا بُعِثَ بَعْدَي يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِهِ أَكْثَرُ مِمَّنْ يَدْخُلُهَا مِنْ أُمَّتِي، ثُمَّ صَعِدَ بِي حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ السَّابِعَةَ، فَاسْتَفْتَحَ، قِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قِيلَ: مَرْحَبًا بِهِ، فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ، فَفُتِحَ، فَلَمَّا خَلَصْتُ إِبْرَاهِيَمُ، قَالَ: هَذَا أَبُوكَ إِبْرَاهِيَمُ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَرَدَّ السَّلامَ ثُمَّ قَالَ: مَرْحَبًا بِالابْنِ الصَّالِحِ، وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ، ثُمَّ رُفِعْتُ إِلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى، فَنَبْقُهَا مِثْلُ قِلالِ هَجَرَ، وَوَرَقُهَا مِثْلُ آذَانِ الْفِيَلَةِ، قَالَ: هَذِهِ سِدْرَةُ الْمُنْتَهَى، وَأَرْبَعَةُ أَنْهَارٍ، نَهْرَانِ بَاطِنَانِ، وَنَهْرَانِ ظَاهِرَانِ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: أَمَّا الْبَاطِنَانِ، فَنَهَرَانِ فِي الْجَنَّةِ، وَأَمَّا الظَّاهِرَانِ، فَالنِّيلُ وَالْفُرَاتُ، ثُمَّ رُفِعَ لِيَ الْبَيْتُ الْمَعْمُورُ"، قَالَ قَتَادَةُ: وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ رَأَى الْبَيْتَ الْمَعْمُورَ، وَيَدْخُلُهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ، ثُمَّ لا يَعُودُونَ فِيهِ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى حَدِيثِ أَنَسٍ:" ثُمَّ أُتِيتُ بِآنَاءَ مِنْ خَمْرٍ، وَآنَاءَ مِنْ لَبَنٍ، وَآنَاءَ مِنْ عَسَلٍ، فَأَخَذْتُ اللَّبَنَ، فَقَالَ: هَذِهِ الْفطْرَةِ، أَنْتَ عَلَيْهَا وَأُمَّتُكَ، ثُمَّ فُرِضَتْ عَلَيَّ الصَّلاةُ خَمْسِينَ صَلاةً فِي كُلِّ يَوْمٍ، فَرَجَعْتُ فَمَرَرْتُ عَلَى مُوسَى، فَقَالَ: بِمَ أُمِرْتَ؟ قَالَ: أُمِرْتُ بِخَمْسِينَ صَلاةً كُلَّ يَوْمٍ، قَالَ: إِنَّ أُمَّتَكَ لا تَسْتَطِيعُ خَمْسِينَ صَلاةً كُلَّ يَوْمٍ، وَإِنِّي قَدْ جَرَّبْتُ النَّاسَ قَبْلُكَ، وَعَالَجْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَشَدَّ الْمُعَالَجَةِ، فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَسَلْهُ التَّخْفِيفَ لأُمَّتِكَ، فَرَجَعْتُ، فَوَضَعَ عَنِّي عَشْرًا، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى، فَقَالَ مِثْلَهُ، فَرَجَعْتُ، فَوَضَعَ عَنِّي عَشْرًا، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَقَالَ مِثْلَهُ، فَرَجَعْتُ، فَوَضَعَ عَنِّي عَشْرًا، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَقَالَ مِثْلَهُ، فَرَجَعْتُ، فَأُمِرْتُ بِعَشْرِ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى، فَقَالَ مِثْلَهُ، فَرَجَعْتُ، فَأُمِرْتُ بِخَمْسِ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى، فَقَالَ: بِمَ أُمِرْتَ؟ قَالَ: أُمِرْتُ بِخَمْسِ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ، قَالَ: إِنَّ أُمَّتَكَ لا تَسْتَطِيعُ خَمْسَ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ، وَإِنِّي قَدْ جَرَّبْتُ النَّاسَ قَبْلُكَ، وَعَالَجْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَشَدَّ الْمُعَالَجَةِ، فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَسَلْهُ التَّخْفِيفَ لأُمَّتِكَ، قَالَ: قُلْتُ: سَأَلْتُ رَبِّي حَتَّى اسْتَحْيَيْتُ، لَكِنِّي أَرْضَى وَأُسَلِّمُ، فَلَمَّا جَاوَزْتُ نَادَانِي مُنَادٍ: أَمْضَيْتُ فَرِيضَتِي، وَخَفَّفْتُ عَنْ عِبَادِي" .
سیدنا انس بن مالک اور سیدنا مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہما کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو واقعہ معراج کے بارے میں بتایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایک دن میں حطیم میں سویا ہوا تھا۔“ (راوی نے بعض اوقات حطیم کے لیے لفظ حجر استعمال کیا ہے) ”اسی دوران ایک شخص میرے پاس آیا اور اس نے مجھے یہاں سے لے کے یہاں تک چیر دیا۔“ (راوی کہتے ہیں) جارود جو میرے پہلو میں موجود تھے، میں نے ان سے دریافت کیا: اس سے مراد کیا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: گلے کے نیچے سے لے کر اور زیر ناف بال اگنے کی جگہ تک (کے حصے کو چیر دیا)۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں) ”پھر اس نے میرا دل نکالا، پھر سونے سے بنا ہوا ایک طشت لایا گیا، جو ایمان اور حکمت سے بھرا ہوا تھا، پھر میرے دل کو دھویا گیا، پھر اسے (اپنی جگہ پر رکھ کر، سی دیا گیا)، پھر میرے پاس ایک جانور لایا گیا، جو خچر سے کچھ چھوٹا تھا، اور گدھے سے کچھ بڑا تھا۔ وہ سفید رنگ کا تھا،“ تو جارود نے ان سے کہا: اے ابوحمزہ! وہ براق تھا؟ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جی ہاں۔ ”جہاں تک نگاہ جاتی ہے، وہاں تک اس کا ایک قدم ہوتا تھا۔ مجھے اس پر سوار کیا گیا، جبرائیل علیہ السلام مجھے ساتھ لے کر آسمانِ دنیا کی طرف آئے، انہوں نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا، دریافت کیا گیا: کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جبرائیل۔ دریافت کیا گیا: آپ کے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ دریافت کیا گیا: کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا: جی ہاں۔ تو یہ کہا گیا: انہیں خوش آمدید! وہ کتنے اچھے آنے والے ہیں، جو تشریف لائے ہیں اور دروازہ کھول دیا گیا، جب میں وہاں پہنچا، تو وہاں سیدنا آدم علیہ السلام موجود تھے، جبرائیل علیہ السلام نے بتایا: یہ آپ کے جد امجد سیدنا آدم علیہ السلام ہیں۔ آپ انہیں سلام کیجیے، میں نے انہیں سلام کیا، انہوں نے سلام کا جواب دیا اور پھر بولے: نیک بیٹے اور نیک نبی کو خوش آمدید۔ پھر جبرائیل علیہ السلام مجھے ساتھ لے کر دوسرے آسمان پر آئے، انہوں نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا، دریافت کیا گیا: کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جبرائیل۔ دریافت کیا گیا: آپ کے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ دریافت کیا گیا: کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں، تو یہ کہا گیا: انہیں خوش آمدید! یہ کتنے اچھے تشریف لانے والے شخص ہیں، جو تشریف لائے ہیں، پھر دروازہ کھول دیا گیا۔ جب میں وہاں پہنچا، تو وہاں سیدنا یحییٰ علیہ السلام اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام موجود تھے، یہ دونوں خالہ زاد بھائی ہیں۔ جبرائیل علیہ السلام نے بتایا: یہ سیدنا یحییٰ علیہ السلام اور یہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام ہیں، آپ ان دونوں کو سلام کیجیے، میں نے انہیں سلام کیا، تو ان دونوں حضرات نے جواب دیا، پھر دونوں نے کہا: نیک بھائی اور نیک نبی کو خوش آمدید۔ پھر جبرائیل علیہ السلام مجھے ساتھ لے کر تیسرے آسمان کی طرف گئے اور دروازہ کھولنے کے لیے کہا، تو دریافت کیا گیا: کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جبرائیل! دریافت کیا گیا: آپ کے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ دریافت کیا گیا: کیا انہیں بلوایا گیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ تو کہا گیا: انہیں خوش آمدید! یہ کتنے اچھے تشریف لانے والے ہیں، جو تشریف لائے ہیں۔ پھر دروازہ کھول دیا گیا، جب میں وہاں پہنچا، تو وہاں سیدنا یوسف علیہ السلام موجود تھے۔ جبرائیل علیہ السلام نے کہا: یہ سیدنا یوسف علیہ السلام ہیں۔ آپ انہیں سلام کیجیے، میں نے انہیں سلام کیا، انہوں نے سلام کا جواب دیا، پھر انہوں نے کہا: نیک بھائی اور نیک نبی کو سلام۔ پھر جبرائیل علیہ السلام مجھے ساتھ لے کر چوتھے آسمان پر آئے، انہوں نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا، تو دریافت کیا گیا: کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جبرائیل۔ دریافت کیا گیا: آپ کے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ دریافت کیا گیا: کیا انہیں بلوایا گیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ تو یہ کہا گیا: انہیں خوش آمدید! یہ کتنے اچھے تشریف لانے والے ہیں، جو تشریف لائے ہیں، پھر دروازہ کھول دیا گیا۔ جب میں وہاں پہنچا، تو وہاں سیدنا ادریس علیہ السلام موجود تھے، جبرائیل علیہ السلام نے بتایا: یہ سیدنا ادریس علیہ السلام ہیں، آپ انہیں سلام کیجیے۔ میں نے انہیں سلام کیا، تو انہوں نے سلام کا جواب دیا اور پھر ارشاد فرمایا: نیک بھائی اور نیک نبی کو خوش آمدید۔ پھر جبرائیل علیہ السلام مجھے ساتھ لے کر پانچویں آسمان پر آئے، انہوں نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا، تو دریافت کیا گیا: کون ہے؟ میں نے جواب دیا: جبرائیل، دریافت کیا گیا: آپ کے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، دریافت کیا گیا: کیا انہیں بلوایا گیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ تو یہ کہا گیا: انہیں خوش آمدید! یہ کتنے اچھے آنے والے ہیں، جو تشریف لائے ہیں، پھر دروازہ کھول دیا گیا، جب میں وہاں پہنچا، تو وہاں سیدنا ہارون علیہ السلام موجود تھے۔ جبرائیل علیہ السلام نے بتایا: یہ سیدنا ہارون علیہ السلام ہیں۔ آپ انہیں سلام کیجیے۔ میں نے انہیں سلام کیا، تو انہوں نے سلام کا جواب دیا، پھر انہوں نے ارشاد فرمایا: نیک بھائی اور نیک نبی کو خوش آمدید۔ پھر جبرائیل علیہ السلام مجھے ساتھ لے کر چھٹے آسمان پر آئے، انہوں نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا، تو دریافت کیا گیا: کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جبرائیل۔ دریافت کیا گیا: آپ کے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ دریافت کیا گیا: کیا انہیں بلوایا گیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں، تو کہا گیا: انہیں خوش آمدید! یہ کتنے اچھے تشریف لانے والے ہیں، جو تشریف لائے ہیں، پھر دروازہ کھول دیا گیا، جب میں وہاں پہنچا، تو وہاں سیدنا موسیٰ علیہ السلام موجود تھے، جبرائیل علیہ السلام نے کہا: یہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام ہیں۔ آپ انہیں سلام کیجیے، میں نے انہیں سلام کیا، تو انہوں نے سلام کا جواب دیا، پھر انہوں نے ارشاد فرمایا: نیک بھائی اور نیک نبی کو خوش آمدید۔ جب میں وہاں سے آگے بڑھا تو وہ رونے لگے، ان سے دریافت کیا گیا: آپ کیوں رو رہے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: میں اس لیے رو رہا ہوں کہ یہ نوجوان جو میرے بعد مبعوث ہوئے ہیں، ان کی اُمت کے افراد، میری امت کے مقابلے میں، زیادہ تعداد میں جنت میں داخل ہوں گے۔ پھر جبرائیل علیہ السلام مجھے ساتھ لے کر ساتویں آسمان کی طرف چڑھ گئے، انہوں نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا، تو دریافت کیا گیا: کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جبرائیل۔ دریافت کیا گیا: آپ کے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ دریافت کیا گیا: کیا انہیں بلوایا گیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا گیا: جی ہاں! پھر یہ کہا گیا: انہیں خوش آمدید! یہ کتنے اچھے تشریف لانے والے ہیں، جو تشریف لاتے ہیں۔ پھر دروازہ کھول دیا گیا، جب میں وہاں پہنچا، تو وہاں سیدنا ابراہیم علیہ السلام موجود تھے۔ جبرائیل علیہ السلام نے بتایا: یہ آپ کے جد امجد سیدنا ابراہیم علیہ السلام ہیں، آپ انہیں سلام کیجیے۔ میں نے انہیں سلام کیا۔ انہوں نے سلام کا جواب دیا، پھر ارشاد فرمایا: نیک بیٹے اور نیک نبی کو خوش آمدید۔ پھر مجھے سدرۃ المنتہیٰ کی طرف بلند کیا گیا، تو اس کا پھل «هَجَر» ”حجر“ کے مٹکوں جتنا بڑا تھا، اور اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کی مانند تھے۔ جبرائیل علیہ السلام نے یہ بتایا: یہ سدرۃ المنتہیٰ ہے۔ وہاں چار نہریں موجود تھیں؛ دو نہریں باطنی تھیں اور دو ظاہری تھیں۔ میں نے دریافت کیا: اے جبرائیل علیہ السلام! یہ کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جہاں تک دو باطنی نہروں کا تعلق ہے، تو یہ جنت کی دو نہریں ہیں اور جہاں تک دو ظاہری نہروں کا تعلق ہے، تو یہ دریائے نیل اور دریائے فرات ہیں۔ پھر مجھے بیت المعمور کی طرف اٹھایا گیا۔“ یہاں قتادہ نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے: حسن نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المعمور کو دیکھا ہے، ”اس میں روزانہ ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں اور وہ دوبارہ کبھی اس میں داخل نہیں ہوتے۔“ اس کے بعد قتادہ واپس سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی حدیث کی طرف آ گئے، جس میں یہ الفاظ ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر میرے سامنے شراب کا ایک برتن، دودھ کا ایک برتن اور شہد کا ایک برتن لایا گیا، تو میں نے دودھ لے لیا، تو جبرائیل علیہ السلام نے کہا: یہ وہ فطرت ہے، جس پر آپ اور آپ کی امت گامزن رہیں گے، پھر مجھ پر پچاس نمازیں فرض کی گئیں۔“ جب میں واپس آیا، تو میرا گزر سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے ہوا، تو انہوں نے دریافت کیا: آپ کو کس بات کا حکم دیا گیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ”مجھے روزانہ پچاس نمازیں ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔“ تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: آپ کی اُمت روزانہ پچاس نمازیں ادا نہیں کر سکے گی، میں آپ سے پہلے لوگوں کا تجربہ کر چکا ہوں اور میں نے بنی اسرائیل کا پورا تجربہ کیا ہے۔ آپ اپنے پروردگار کے پاس واپس جائیے اور اپنی اُمت کے لیے تخفیف کی درخواست کیجیے۔ میں واپس آیا (یہ درخواست کی) تو اللہ تعالیٰ نے اس میں سے دس نمازیں معاف کر دیں۔ پھر میں واپس سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو انہوں نے اس کی مانند بات کہی۔ میں پھر واپس آیا تو اللہ تعالیٰ نے (مزید) دس نمازیں معاف کر دیں۔ پھر میں واپس سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو انہوں نے اسی کی مانند بات کہی۔ میں پھر واپس آیا تو اللہ تعالیٰ نے (مزید) دس نمازیں معاف کر دیں۔ پھر میں واپس سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو انہوں نے اسی کی مانند بات کہی۔ میں واپس گیا تو مجھے روزانہ دس نمازیں ادا کرنے کا حکم ہوا۔ میں واپس سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو انہوں نے اسی کی مانند بات کہی۔ میں پھر واپس آیا تو مجھے روزانہ پانچ نمازیں ادا کرنے کا حکم ملا۔ میں واپس سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا انہوں نے دریافت کیا: آپ کو کس بات کا حکم دیا گیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ”مجھے روزانہ پانچ نمازیں ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے،“ تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: آپ کی اُمت روزانہ پانچ نمازیں ادا نہیں کر سکے گی۔ میں آپ سے پہلے لوگوں کو آزما چکا ہوں اور بنی اسرائیل کا پورا تجربہ کر چکا ہوں۔ آپ اپنے پروردگار کے پاس واپس جائیے اور اپنی اُمت کے لیے مزید تخفیف کی درخواست کیجیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں نے کہا: میں نے اپنے پروردگار سے اتنی درخواست کی کہ اب مجھے حیا آتی ہے۔ میں راضی ہوں اور میں اسے تسلیم کرتا ہوں۔“ جب میں وہاں سے آگے گزرا تو کسی پکارنے والے نے پکار کر کہا: ”میں نے اپنے فریضے کو برقرار رکھا اور اپنے بندوں پر تخفیف کر دی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإسراء/حدیث: 48]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 349، 1636، 3207، 3342، 3393، 3430، 3570، 3887، 7517، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 162، 163، 164، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 301، 302، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 48، 7406، 7415، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 271، 272، 3635، 3763، 6724، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 447، 448، 449، 451، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 309، 310، 312، 11466، والترمذي فى (جامعه) برقم: 213، 3346، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1399، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1279، 1718، 1719، 13518، والدارقطني فى (سننه) برقم: 33، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12495»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «تخريج فقه السيرة» (62): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين.
5. ذكر خبر أوهم عالما من الناس أنه مضاد لخبر مالك بن صعصعة الذي ذكرناه-
- اس خبر کا ذکر جس سے بعض اہلِ علم کو وہم ہوا کہ یہ روایت مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مخالف ہے جس کا ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں۔
حدیث نمبر: 49
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدَ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”معراج کی رات جب میرا گزر سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے ہوا، تو وہ اپنی قبر میں نماز ادا کر رہے تھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإسراء/حدیث: 49]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2375، 2375، 2375، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 49، 50، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1630، 1631، 1632، 1633، 1634، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1330، 1331، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12393، 12699، 13800، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 3325، 4084، 4085، والبزار فى (مسنده) برقم: 6990، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 6727، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 37730، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 5013»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (2627): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري.
6. ذكر الموضع الذي فيه رأى المصطفى صلى الله عليه وسلم موسى صلى الله عليه وسلم يصلي في قبره-
- اس جگہ کا ذکر جہاں نبی کریم ﷺ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ان کی قبر میں نماز پڑھتے دیکھا۔
حدیث نمبر: 50
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ ، وَشَيْبَانُ ، قَالا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَرَرْتُ بِمُوسَى لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ عِنْدَ الْكَثِيبِ الأَحْمَرِ" قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: الِلَّهِ جَلَّ وَعَلا قَادِرٌ عَلَى مَا يَشَاءُ، رُبَّمَا يَعِدُ الشَّيْءَ لِوَقْتٍ مَعْلُومٍ، ثُمَّ يَقْضِي كَوْنَ بَعْضِ ذَلِكَ الشَّيْءِ قَبْلُ مَجِيءِ ذَلِكَ الْوَقْتِ، كَوَعْدِهِ إِحْيَاءَ الْمَوْتَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَجَعْلِهِ مَحْدُودًا، ثُمَّ قَضَى كَوْنَ مِثْلِهِ فِي بَعْضِ الأَحْوَالِ، مِثْلَ مَنْ ذَكَرَهُ الِلَّهِ وَجَعَلَهُ الِلَّهِ جَلَّ وَعَلا فِي كِتَابِهِ، حَيْثُ يَقُولُ: أَوْ كَالَّذِي مَرَّ عَلَى قَرْيَةٍ وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُوشِهَا قَالَ أَنَّى يُحْيِي هَذِهِ اللَّهُ بَعْدَ مَوْتِهَا فَأَمَاتَهُ اللَّهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ قَالَ لَبِثْتُ يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ قَالَ بَلْ لَبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ سورة البقرة آية 259 إِلَى آخِرِ الآيَةِ، وَكَإِحْيَاءِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا لِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ بَعْضَ الأَمْوَاتِ، فَلَمَّا صَحَّ وجودُ كَوْنِ هَذِهِ الْحَالَةِ فِي الْبَشَرِ، أَرَادَهُ الِلَّهِ جَلَّ وَعَلا قَبْلُ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، لَمْ يُنْكَرْ أَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا أَحْيَا مُوسَى فِي قَبْرِهِ حَتَّى مَرَّ عَلَيْهِ الْمُصْطَفَى صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ، وَذَاكَ أَنَّ قَبْرَ مُوسَى بِمُدَّيْنِ بَيْنَ الْمَدِينَةِ وَبَيْنَ بَيْتِ الْمَقَدْسِ، فَرَآهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو فِي قَبْرِهِ إِذِ الصَّلاةُ دُعَاءٌ، فَلَمَّا دَخَلَ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَ الْمَقَدْسِ وَأُسْرِيَ بِهِ، أُسْرِيَ بِمُوسَى حَتَّى رَآهُ فِي السَّمَاءِ السَّادِسَةِ، وَجَرَى بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ مِنَ الْكَلامِ مَا تَقَدْمَ ذِكْرُنَا لَهُ، وَكَذَلِكَ رُؤْيَتُهُ سَائِرَ الأَنْبِيَاءِ الَّذِينَ فِي خَبَرِ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ، فَأَمَّا قَوْلُهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَبَرِ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ:" بَيْنَمَا أَنَا فِي الْحَطِيمِ إِذْ أَتَانِي آتٍ، فَشَقَّ مَا بَيْنَ هَذِهِ إِلَى هَذِهِ"، فَكَانَ ذَلِكَ لَهُ فَضِيلَةٌ فُضِّلَ بِهَا عَلَى غَيْرِهِ، وَأَنَّهُ مِنْ مُعْجِزَاتِ النُّبُوَّةِ، إِذِ الْبَشَرُ شُقَّ عَنْ مَوْضِعِ الْقَلْبِ مِنْهُمْ، ثُمَّ اسْتُخْرِجَ قُلُوبُهُمْ مَاتَوا، وَقَوْلُهُ:" ثُمَّ حُشِيَ" يُرِيدُ: أَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا حَشَا قَلْبَهُ الْيَقِينَ وَالْمَعْرِفَةَ، الَّذِي كَانَ اسْتِقْرَارُهُ فِي طَسْتِ الذَّهَبِ، فَنُقِلَ إِلَى قَلْبِهِ، ثُمَّ أُتِيَ بِدَابَّةٍ يُقَالُ لَهَا: الْبُرَاقُ، فَحُمِلَ عَلَيْهِ مِنَ الْحَطِيمِ أَوِ الْحِجْرِ، وَهُمَا جَمِيعًا فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، فَانْطَلَقَ بِهِ جِبْرِيلُ حَتَّى أَتَى بِهِ عَلَى قَبْرِ مُوسَى عَلَى حَسَبِ مَا وَصَفْنَاهُ، ثُمَّ دَخَلَ مَسْجِدَ بَيْتِ الْمَقَدْسِ، فَخَرَقَ جِبْرِيلُ الصَّخْرَةَ بِإِصْبَعِهِ، وَشَدَّ بِهَا الْبُرَاقَ، ثُمَّ صَعِدَ بِهِ إِلَى السَّمَاءِ، ذِكْرُ شَدِّ الْبُرَاقِ بِالصَّخْرَةِ فِي خَبَرِ بُرَيْدَةَ، وَرُؤْيَتِهِ مُوسَى صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ لَيْسَا جَمِيعًا فِي خَبَرِ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ، فَلَمَّا صَعِدَ بِهِ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، اسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ، قِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ يُرِيدُ بِهِ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ لِيُسْرَى بِهِ إِلَى السَّمَاءِ، لا أَنَّهُمْ لَمْ يَعْلَمُوا بِرِسَالَتِهِ إِلَى ذَلِكَ الْوَقْتِ، لأَنَّ الإِسْرَاءَ كَانَ بَعْدَ نُزُولِ الْوَحْيِ بِسَبْعِ سِنِينَ، فَلَمَّا فُتِحَ لَهُ فَرَأَى آدَمَ عَلَى حَسَبِ مَا وَصَفْنَا قَبْلُ، وَكَذَلِكَ رُؤْيَتُهُ فِي السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ يَحْيَى بْنَ زَكَرِيَّا، وَعِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ، وَفِي السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ يُوسُفَ بْنَ يَعْقُوبَ، وَفِي السَّمَاءِ الرَّابِعَةِ إِدْرِيسَ، ثُمَّ فِي السَّمَاءِ الْخَامِسَةِ هَارُونَ، ثُمَّ فِي السَّمَاءِ السَّادِسَةِ مُوسَى، ثُمَّ فِي السَّمَاءِ السَّابِعَةِ إِبْرَاهِيَمَ، إِذْ جَائِزٌ أَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا أَحْيَاهُمْ لأَنْ يَرَاهُمُ الْمُصْطَفَى صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ، فَيَكُونُ ذَلِكَ آيَةً مُعْجِزَةً يُسْتَدَلُّ بِهَا عَلَى نُبُوَّتِهِ عَلَى حَسَبِ مَا أَصَّلْنَا قَبْلُ، ثُمَّ رُفِعَ لَهُ سِدْرَةُ الْمُنْتَهَى، فَرَآهَا عَلَى الْحَالَةِ الَّتِي وَصَفَ، ثُمَّ فُرِضَ عَلَيْهِ خَمْسُونَ صَلاةً، وَهَذَا أَمْرُ ابْتِلاءٍ أَرَادَ الِلَّهِ جَلَّ وَعَلا ابْتِلاءَ صَفِيِّهِ مُحَمَّدٍ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ فَرَضَ عَلَيْهِ خَمْسِينَ صَلاةً، إِذْ كَانَ فِي عِلْمِ اللَّهِ السَّابِقِ أَنَّهُ لا يَفْرِضُ عَلَى أُمَّتِهِ إِلا خَمْسَ صَلَوَاتٍ فَقَطْ، فَأَمَرَهُ بِخَمْسِينَ صَلاةً أَمْرَ ابْتِلاءٍ، وَهَذَا كَمَا نَقُولُ: إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا قَدْ يَأْمُرُ بِالأَمْرِ يُرِيدُ أَنْ يَأْتِيَ الْمَأْمُورُ بِهِ إِلَى أَمْرِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُرِيدَ وُجُودَ كَوْنِهِ، كَمَا أَمَرَ الِلَّهِ جَلَّ وَعَلا خَلِيلَهُ إِبْرَاهِيَمَ بِذَبْحِ ابْنِهِ، أَمَرَهُ بِهَذَا الأَمْرِ أَرَادَ بِهِ الانْتِهَاءَ إِلَى أَمْرِهِ دُونَ وُجُودِ كَوْنِهِ، فَلَمَّا أَسْلَمَا، وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ، فَدَاهُ بِالذِّبْحِ الْعَظِيمِ، إِذْ لَوْ أَرَادَ الِلَّهِ جَلَّ وَعَلا كَوْنَ مَا أَمَرَ، لَوَجَدَ ابْنَهُ مَذْبُوحًا، فَكَذَلِكَ فَرَضَ الصَّلاةَ خَمْسِينَ أَرَادَ بِهِ الانْتِهَاءَ إِلَى أَمْرِهِ دُونَ وُجُودِ كَوْنِهِ، فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى مُوسَى، وَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ أُمِرَ بِخَمْسِينَ صَلاةً كُلَّ يَوْمٍ، أَلْهُمُ الِلَّهِ مُوسَى أَنْ يَسْأَلَ مُحَمَّدًا صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِمَا وَسَلَّمَ بِسُؤَالِ رَبِّهِ التَّخْفِيفَ لأُمَّتِهِ، فَجَعَلَ جَلَّ وَعَلا قَوْلَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ لَهُ سَبَبًا لِبَيَانِ الْوُجُودِ لِصِحَّةِ مَا قُلْنَا: إِنَّ الْفَرْضَ مِنَ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ أَرَادَ إِتْيَانَهُ خَمْسًا لا خَمْسِينَ، فَرَجَعَ إِلَى اللَّهِ جَلَّ وَعَلا فَسَأَلَهُ، فَوَضَعَ عَنْهُ عَشْرًا، وَهَذَا أَيْضًا أَمْرُ ابْتِلاءٍ أُرِيدَ بِهِ الانْتِهَاءُ إِلَيْهِ دُونَ وُجُودِ كَوْنِهِ، ثُمَّ جَعَلَ سُؤَالَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ إِيَّاهُ سَبَبًا لِنَفَاذِ قَضَاءِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا فِي سَابِقِ عِلْمِهِ، أَنَّ الصَّلاةَ تُفْرَضَ عَلَى هَذِهِ الأُمَّةِ خَمْسًا لا خَمْسِينَ، حَتَّى رَجَعَ فِي التَّخْفِيفِ إِلَى خَمْسِ صَلَوَاتٍ، ثُمَّ أَلْهُمُ الِلَّهِ جَلَّ وَعَلا صَفِيَّهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَئِذٍ حَتَّى قَالَ لِمُوسَى:" قَدْ سَأَلْتُ رَبِّي حَتَّى اسْتَحْيَيْتُ، لَكِنِّي أَرْضَى وَأُسَلِّمُ"، فَلَمَّا جَاوَزَ نَادَاهُ مُنَادٍ: أَمْضَيْتُ فَرِيضَتِي، أَرَادَ بِهِ الْخَمْسَ صَلَوَاتٍ، وَخَفَّفْتُ عَنْ عِبَادِي، يُرِيدُ: عَنْ عِبَادِي مِنْ أَمْرِ الابْتِلاءِ الَّذِي أَمَرْتُهُمْ بِهِ مِنْ خَمْسِينَ صَلاةٍ الَّتِي ذَكَرْنَاهَا، وَجُمْلَةُ هَذِهِ الأَشْيَاءِ فِي الإِسْرَاءِ رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِسْمِهِ عِيَانًا دُونَ أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ رُؤْيَا أَوْ تَصْوِيرًا صُوِّرَ لَهُ، إِذْ لَوْ كَانَ لَيْلَةَ الإِسْرَاءِ وَمَا رَأَى فِيهَا نَوْمًا دُونَ الْيَقَظَةِ، لاسْتَحَالَ ذَلِكَ، لأَنَّ الْبَشَرَ قَدْ يَرَوْنَ فِي الْمَنَامِ السَّمَاوَاتِ وَالْمَلائِكَةَ وَالأَنْبِيَاءَ وَالْجَنَّةَ وَالنَّارَ وَمَا أَشْبَهَ هَذِهِ الأَشْيَاءَ، فَلَوْ كَانَ رُؤْيَةُ الْمُصْطَفَى صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا وَصَفَفِي لَيْلَةِ الإِسْرَاءِ فِي النَّوْمِ دُونَ الْيَقَظَةِ، لَكَانَتْ هَذِهِ حَالَةٌ يَسْتَوِي فِيهَا مَعَهُ الْبَشَرُ، إِذْ هُمْ يَرَوْنَ فِي مَنَامَاتَهُمْ مِثْلَهَا، وَاسْتَحَالَ فَضْلُهُ، وَلَمْ تَكُنْ تِلْكَ حَالَةً مُعْجِزَةً يُفَضَّلُ بِهَا عَلَى غَيْرِهِ، ضِدَّ قَوْلِ مَنْ أَبْطَلَ هَذِهِ الأَخْبَارَ، وَأَنْكَرَ قَدْرَةَ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا وَإِمْضَاءَ حُكْمِهِ لِمَا يُحِبُّ كَمَا يُحِبُّ، جَلَّ رَبُّنَا وَتَعَالَى عَنْ مِثْلِ هَذَا وَأَشْبَاهِهِ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”معراج کی رات میرا گزر سیدنا موسیٰ علیہ السلام (کی قبر) کے پاس سے ہوا، تو وہ سرخ ٹیلے کے پاس اپنی قبر میں کھڑے ہو کر نماز ادا کر رہے تھے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اللہ تعالیٰ جو چاہے اس پر قدرت رکھتا ہے۔ بعض اوقات وہ کسی چیز کے بارے میں کسی متعین وقت کا وعدہ کر لیتا ہے پھر وہ یہ فیصلہ دیتا ہے کہ اس چیز کا کچھ حصہ اس مخصوص وقت کے آنے سے پہلے رونما ہو جائے۔ جس طرح اس نے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ قیامت کے دن مردوں کو زندہ کرے گا، اور اس نے اس کے لئے ایک حد مقرر کی ہے۔ پھر اس نے یہ فیصلہ دیا کہ بعض حالتوں میں اس کی مانند صورتحال ہو سکتی ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اس بات کا ذکر کیا ہے، اور اپنی کتاب میں یہ بات بیان کی ہے، وہ فرماتا ہے: ﴿أَوْ كَالَّذِي مَرَّ عَلَىٰ قَرْيَةٍ وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا قَالَ أَنَّىٰ يُحْيِي هَٰذِهِ اللَّهُ بَعْدَ مَوْتِهَا ۖ فَأَمَاتَهُ اللَّهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ ۖ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ ۖ قَالَ لَبِثْتُ يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ ۖ قَالَ بَل لَّبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ﴾ [سورة البقرة: 259] ”یا پھر اس شخص کی مانند جو اس بستی کے پاس سے گزرا، جو ویران ہو چکی تھی، تو اس نے کہا: اللہ تعالیٰ اس کے مر جانے کے بعد اسے کیسے زندہ کرے گا، تو اللہ تعالیٰ نے اسے ایک سو سال کے لئے موت دے دی پھر اس نے اسے زندہ کیا اور دریافت کیا تم کتنے عرصے تک (سوئے رہے) اس نے جواب دیا: میں نے ایک دن یا ایک دن کا کچھ حصہ گزارا ہے، تو فرمایا: نہیں بلکہ تم نے ایک سو سال گزار دیے ہیں۔“ یہ آیت کے آخر تک ہے یا جس طرح اللہ تعالیٰ نے سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے لئے بعض مردوں کو زندہ کر دیا تھا۔ تو جب بشر میں اس طرح کی حالت کا موجود ہونا صحیح ہو، جب اللہ تعالیٰ قیامت سے پہلے اس چیز کا ارادہ کرے، تو اب اس بات کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو ان کی قبر میں زندہ کیا یہاں تک کہ معراج کی رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے۔ اس کی وجہ یہ ہے، سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی قبر مدینہ منورہ اور بیت المقدس کے درمیان ہے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی قبر میں دعا مانگتے ہوئے دیکھا، کیونکہ «الصَّلَاة» سے مراد ”دعا مانگنا“ ہے تو جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس میں معراج کی رات داخل ہوئے، تو اسی رات سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو بھی سفر کروایا گیا یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو چھٹے آسمان پر دیکھا ان کے اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے درمیان بات چیت بھی ہوئی جسے ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں۔ اسی طرح سیدنا مالک بن صعصہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں بھی جن تمام انبیاء کو دیکھنے کا تذکرہ ہے (اس سے بھی یہی مراد ہو گا)۔ جہاں تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا تعلق ہے جو سیدنا مالک بن صعصہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں ہے۔ ”ایک مرتبہ میں حطیم میں موجود تھا اس دوران ایک شخص میرے پاس آیا اس نے یہاں سے لے کر یہاں تک چیر دیا۔“ تو یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ایسی فضیلت ہے، جس کے حوالے سے آپ کو تمام دیگر لوگوں پر فضیلت دی گئی ہے، اور یہ نبوت کے معجزات میں سے ہے۔ کیونکہ جب کسی انسان کے دل کی جگہ کو چیر دیا جائے، اور اگر لوگوں کے دل کو نکال دیا جائے، تو وہ مر جاتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”پھر اسے سی دیا گیا“ اس سے مراد یہ ہے: اللہ تعالیٰ نے آپ کے دل کو یقین اور معرفت کے ساتھ سی دیا۔ جو سونے کے طشت میں موجود تھے اور انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب مبارک کی طرف منتقل کیا گیا۔ پھر ایک جانور لایا گیا جس کا نام براق تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حطیم یا حجر سے اس پر سوار کیا گیا یہ دونوں جگہیں مسجد حرام میں موجود نہیں۔ تو جبرائیل علیہ السلام آپ کو ساتھ لے کر آئے یہاں تک کہ وہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی قبر کے پاس سے گزرے جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد بیت المقدس میں داخل ہوئے، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے اپنی انگلی کے ذریعے اس پتھر کے (سوراخ کو کھول دیا) اور براق کو اس کے ساتھ باندھ دیا پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لے کر آسمان کی طرف بلند ہو گئے۔ بریدہ کے حوالے سے منقول روایت میں پتھر کے ساتھ براق کو باندھنے کا تذکرہ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو اپنی قبر میں نماز ادا کرتے ہوئے دیکھنے کا تذکرہ، یہ دونوں چیزیں سیدنا مالک بن صعصہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں نہیں ہیں۔ پھر جب سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لے کر آسمانِ دنیا کی طرف بلند ہوئے، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے دروازہ کھولنے کے لئے کہا: تو دریافت کیا گیا: کون ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: جبرائیل۔ دریافت کیا گیا آپ کے ساتھ کون ہے۔ انہوں نے جواب دیا: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم دریافت کیا گیا کیا انہیں بلایا گیا ہے اس سے مراد یہ ہے: کیا انہیں یہ پیغام بھجوایا گیا ہے؟ تاکہ انہیں آسمان کی سیر کروائی جائے۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ وہ لوگ اس وقت تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت سے واقف نہیں تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے: واقعہ معراج، وحی کے نزول کے سات سال بعد پیش آیا تھا۔ جب دروازہ کھول دیا گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا آدم علیہ السلام کو دیکھا جس کا ذکر ہم پہلے کر چکے ہیں۔ اسی طرح آپ کا دوسرے آسمان میں سیدنا یحییٰ بن زکریا علیہ السلام اور سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو دیکھنا۔ تیسرے آسمان میں سیدنا یوسف بن یعقوب علیہ السلام کو دیکھنا۔ چوتھے آسمان میں سیدنا ادریس علیہ السلام کو، پانچویں آسمان میں سیدنا ہارون علیہ السلام کو، چھٹے آسمان میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو، ساتویں آسمان میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو دیکھنا یہ سب روایات میں مذکور ہے۔ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان حضرات کو زندہ کیا ہو، تاکہ مصطفی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس رات میں ان لوگوں کو دیکھ لیں اور یہ چیز ایک معجزے والی نشانی بن جائے جس کے ذریعے آپ کی نبوت پر استدلال کیا جائے جس کا اصول ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سدرۃ المنتہیٰ تک بلند کیا گیا، تو آپ نے اس کو اس حالت میں دیکھا جس کا ذکر آپ نے کیا ہے۔ پھر آپ پر پچاس نمازیں فرض ہوئیں۔ یہ ایک حکم تھا، جو آزمائش میں مبتلا کرنے کے حوالے سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک آزمائش میں مبتلا کیا کہ آپ پر پچاس نمازیں فرض کی گئیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے علم سابق میں یہ بات موجود تھی کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر صرف پانچ نمازیں فرض کرے گا، لیکن اس نے آپ کو آزمائش کے حکم کے طور پر پچاس نمازوں کا حکم دیا۔ بالکل اسی طرح جس طرح ہم یہ کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ ایک حکم دیتا ہے اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ اس مامور بہ کام کو بجا لایا جائے۔ اس سے یہ مراد نہیں ہوتی کہ وہ موجود بھی ہو گا، جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم دیا، تو انہیں اس بات کا حکم دیا گیا تھا۔ اس سے مراد اس کی انتہا تھی کہ اس کے حکم کی پیروی کی جائے اس سے یہ مراد نہیں تھا کہ حقیقی طور پر بھی ایسا ہی ہو جائے گا۔ تو جب ان دونوں نے اس حکم کو قبول کیا اور سیدنا اسماعیل علیہ السلام نے اپنی پیشانی رکھ دی، تو اللہ تعالیٰ نے اس کے فدیے کے طور پر ایک عظیم ذبیحہ دے دیا۔ کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ اس چیز کے ہونے کا ارادہ کرے جس کا اس نے حکم دیا ہے، تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے کو ذبح شدہ پاتے۔ اسی طرح پچاس نمازیں فرض کرنے کا حکم ہے کہ اس کے ذریعے حکم کی طرف رجوع کرنا مراد ہے اس کا موجود ہونا مراد نہیں ہے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس واپس تشریف لائے اور انہیں اس بارے میں بتایا کہ آپ پر روزانہ پچاس نمازیں پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو یہ الہام کیا کہ وہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ درخواست کریں کہ وہ اپنے پروردگار سے اپنی امت کے لیے تخفیف کی درخواست کریں، تو اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہی گئی بات کو اس چیز کا سبب قرار دیا۔ تو اس سے ہماری کہی ہوئی یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ پچاس نمازیں فرض کرنے کا ارادہ نہیں کیا تھا۔ پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس اللہ تعالیٰ کے پاس گئے اور اللہ تعالیٰ سے یہ درخواست کی، تو اللہ تعالیٰ نے دس نمازیں معاف کر دیں، تو یہ حکم بھی آزمائش کا حکم تھا، جس کے ذریعے مراد یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف رجوع کیا جائے، اس سے یہ مراد نہیں تھی کہ یہ عملی طور پر موجود بھی ہو گا۔ پھر سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرنا اس بات کا سبب بنا کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے کو نافذ کیا جائے وہ فیصلہ جو اس کے علم میں پہلے سے تھا کہ نمازیں اس امت پر پانچ فرض ہوں گی۔ پچاس نمازیں فرض نہیں ہوں گی، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پانچ نمازوں کی تخفیف کا حکم لے کر واپس تشریف لائے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں یہ بات ڈال دی۔ یہاں تک کہ انہوں نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے کہا: ”میں نے اپنے پروردگار سے اتنی مرتبہ سوال کیا ہے کہ اب مجھے حیا آتی ہے۔ اب میں راضی ہوں اور اب میں تسلیم کرتا ہوں۔“ جب آپ آگے بڑھ گئے، تو ایک منادی نے یہ اعلان کیا: ”میں نے اپنے فریضے کو جاری کر دیا ہے“، اس سے مراد پانچ نمازیں تھیں۔ ”اور میں نے اپنے بندوں پر تخفیف کر دی ہے“ اس سے مراد یہ ہے: میں نے اپنے بندوں سے آزمائش کے حکم کے حوالے سے تخفیف کر دی ہے، جو میں نے انہیں یہ حکم دیا تھا کہ ان پر پچاس نمازیں فرض ہوں گی، جس کا ذکر ہم پہلے کر چکے ہیں، تو یہ تمام صورتیں معراج کی رات پیش آئیں، جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جسم کے ساتھ دیکھا۔ یہ کوئی خواب یا تصویر نہیں تھی، جو آپ کے سامنے پیش کی گئی ہو۔ کیونکہ اگر معراج کی رات اور اس دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ دیکھا یہ نیند کی حالت میں ہوتا، بیداری کی حالت میں نہ ہوتا، تو یہ بات ناممکن ہے، (کہ اسے معجزہ قرار دیا جائے) کیونکہ لوگ خواب میں آسمان، فرشتے، انبیاء، جنت، جہنم اور ان جیسی چیزوں کو دیکھ لیتے ہیں۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر یہ سب چیزیں خواب میں دیکھی ہوتیں بیداری کے عالم میں نہ دیکھی ہوتیں، تو اس حالت کے حوالے سے دوسرے لوگ بھی آپ کے ساتھ برابر کی حیثیت رکھتے۔ اور وہ بھی اس طرح کی چیزیں اپنے خواب میں دیکھ سکتے ہیں، تو اب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کا اظہار ممکن نہیں ہوتا۔ اور یہ حالت معجزہ شمار نہ ہوتی جس کے حوالے سے آپ کو دوسرے لوگوں پر فضیلت دی گئی ہے یہ بات اس شخص کے موقف کے خلاف ہے، جس نے ان روایات کو غلط قرار دیا ہے، اس نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کا انکار کیا ہے، اور اللہ تعالیٰ کے اپنے فیصلے کو نافذ کرنے کا انکار کیا ہے کہ وہ جس طرح چاہے، جو چاہے کر سکتا ہے۔ ہمارا پروردگار اس جیسی اور اس کے ساتھ مشابہت رکھنے والی چیزوں سے بلند و بالا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإسراء/حدیث: 50]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2375، 2375، 2375، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 49، 50، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1630، 1631، 1632، 1633، 1634، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1330، 1331، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12393، 12699، 13800، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 3325، 4084، 4085، والبزار فى (مسنده) برقم: 6990، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 6727، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 37730، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 5013»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
7. ذكر وصف المصطفى صلى الله عليه وسلم موسى وعيسى وإبراهيم صلوات الله عليهم حيث رآهم ليلة أسري به-
- اس کیفیت کا ذکر کہ نبی کریم ﷺ نے معراج کی رات حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ اور حضرت ابراہیم علیہم السلام کو جس حالت میں دیکھا۔
حدیث نمبر: 51
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي لَقِيتُ مُوسَى رَجِلَ الرَّأْسِ، كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ، وَلَقِيتُ عِيسَى، فَرَجُلٌ أَحْمَرُ، كَأَنَّهُ خَرَجَ مِنْ دِيمَاسٍ يَعْنِي مِنْ حَمَّامٍ وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيَمَ وَأَنَا أَشْبَهُ وَلَدِهِ بِهِ، فَأُتِيتُ بِآنَاءَيْنِ: أَحَدُهُمَا خَمْرٌ، وَالآخَرُ لَبَنٌ، فَقِيلَ لِي: خُذْ أَيَّهُمَا شَئْتَ، فَأَخَذْتُ اللَّبَنَ، فَقِيلَ لِي: هُدِيتَ الْفطْرَةِ، أَمَا إِنَّكَ لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُكَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس رات مجھے معراج کروائی گئی، میری ملاقات سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے ہوئی، وہ ایک ایسے فرد تھے جن کے بال گھنگھریالے نہیں تھے، یوں لگتا تھا جیسے ان کا تعلق شنوءہ قبیلے سے ہو (یعنی وہ لمبے قد کے آدمی تھے)۔ میری ملاقات سیدنا عیسیٰ علیہ السلام سے ہوئی، تو وہ سرخ رنگ کے مالک شخص تھے، یوں جیسے وہ ابھی حمام سے باہر آئے ہوں (یعنی ان کا جسم اور بال وغیرہ بھیگے ہوئے تھے)۔ میں نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا تو ان کی اولاد میں، میں سب سے زیادہ ان سے مشابہت رکھتا ہوں۔ میرے پاس دو برتن لائے گئے، جن میں ایک میں شراب تھی اور دوسرے میں دودھ تھا۔ مجھ سے کہا گیا: آپ ان دونوں میں سے جسے چاہیں پی لیں، میں نے دودھ کو لے لیا، تو مجھ سے کہا گیا: آپ کی فطرت کی طرف رہنمائی کی گئی ہے، اگر آپ شراب لے لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإسراء/حدیث: 51]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3394، 3437، 4709، 5576، 5603، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 168، 168، 168، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 51، 52، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5673، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5147، 7592، 7596، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3130، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2133، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 17425، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7904، 10797، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 1920، والبزار فى (مسنده) برقم: 7727»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «تخريج فقه السيرة»: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح. إسحاق بن إبراهيم: هو ابن عباد الصنعاني البربري، راوية عبد الرزاق، سمع تصانيفه في سنة عشر ومئتين باعتناء أبيه به، وكان حدثاً، وهو صدوق، مترجم في "السير" 13/"203"، وباقي السند على شرطهما.
8. ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم فقيل هديت الفطرة أراد به أن جبريل قال له ذلك-
- اس وضاحت کا ذکر کہ نبی کریم ﷺ کے فرمان «فقيل هديت الفطرة» سے مراد یہ ہے کہ جبریل علیہ السلام نے آپ ﷺ سے یہ کہا تھا۔
حدیث نمبر: 52
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ بِحِمْصَ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمَذْحِجِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيرَةَ ، يَقُولُ: " أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ بِقَدْحَيْنِ مِنْ خَمْرٍ وَلَبَنٍ، فَنَظَرَ إِلَيْهُمَا، ثُمَّ أَخَذَ اللَّبَنَ، فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ: هُدِيتَ الْفطْرَةِ، وَلَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُكَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جس رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کروائی گئی، اس رات آپ کی خدمت میں شراب اور دودھ کے دو پیالے پیش کیے گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کی طرف دیکھا، پھر آپ نے دودھ لے لیا، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے آپ سے کہا: آپ کی فطرت کی طرف رہنمائی کی گئی ہے، اگر آپ شراب لے لیتے، تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإسراء/حدیث: 52]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3394، 3437، 4709، 5576، 5603، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 168، 168، 168، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 51، 52، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5673، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5147، 7592، 7596، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3130، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2133، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 17425، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7904، 10797، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 1920، والبزار فى (مسنده) برقم: 7727»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق، وهو مختصر الذي قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح. كثير بن عبيد المذحجي: ثقة وباقي السند على شرطهما. محمد بن حرب: هو الخولاني أبو عبد الله الحمصي، والزبيدي: هو محمد بن الوليد بن عامر أبو الهذيل الحمصي.
9. ذكر وصف الخطباء الذين يتكلون على القول دون العمل حيث رآهم صلى الله عليه وسلم ليلة أسري به-
- ان خطباء کا بیان جنہیں نبی کریم ﷺ نے معراج کی رات دیکھا جو صرف قول پر اعتماد کرتے تھے اور عمل نہیں کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 53
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ خَتَنُ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي رِجَالا تُقْرَضُ شِفَاهُهُمْ بِمَقَارِضَ مِنْ نَارٍ، فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلاءِ يَا جِبْرِيلُ؟"، فَقَالَ: الْخُطَبَاءُ مِنْ أُمَّتِكَ، يَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَيَنْسَوْنَ أَنْفُسَهُمْ، وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَابَ أَفَلا يَعْقِلُونَ قَالَ الشَّيْخُ: رَوَى هَذَا الْخَبَرَ أَبُو عَتَّابٍ الدَّلالُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ثُمَامَةَ، عَنْ أَنَسٍ، وَوَهُمْ فِيهِ لأَنَّ يَزِيدَ بْنَ زُرَيْعٍ أَتْقَنُ مِنْ مِائَتَيْنِ مِنْ مِثْلِ أَبِي عَتَّابٍ وَذَوِيهِ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جس رات مجھے معراج کروائی گئی اس رات میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ آگ کی قینچیوں کے ذریعے ان کے ہونٹ کاٹے جا رہے ہیں۔ میں نے دریافت کیا: اے جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: یہ آپ کی امت کے خطیب ہیں، جو لوگوں کو نیکی کی دعوت دیتے تھے اور خود کو بھول جاتے تھے، حالانکہ وہ لوگ کتاب کی تلاوت کرتے تھے، تو کیا یہ لوگ عقل نہیں رکھتے تھے؟“ شیخ فرماتے ہیں: یہ روایت ابو عتاب نے ہشام کے حوالے سے، مغیرہ کے حوالے سے، مالک بن دینار کے حوالے سے، ثمامہ کے حوالے سے، سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے، اور انہیں اس میں وہم ہوا ہے، کیونکہ یزید بن زریع نامی راوی ابو عتاب جیسے دو سو آدمیوں سے زیادہ ”متقن“ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإسراء/حدیث: 53]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 53، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12394، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 2172، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 3992، 3996، 4069، 4160، والبزار فى (مسنده) برقم: 7231، 7417، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 37731، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 411، 2832، 8223»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «الصحيحة» (291)، «تخريج فقه السيرة» (138).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله ثقات إلا أن المغيرة ختن مالك، ذكره المؤلف في "الثقات" 7/ 466، فقال: مغيرة بن حبيب ختن مالك بن دينار، كنيته أبو صالح، يروي عن سالم بن عبد الله، وشهر بن حوشب، روى عنه أهل البصرة هشام الدستوائي وغيره، يغرب. وترجمه الذهبي في "الميزان" وقال: قال الأزدي: منكر الحديث. لكنه قد توبع عليه، فقد أخرجه أبو نعيم في "الحلية" 8/ 43، 44 من طريق ابن مصفى، حدثنا بقية، حدثنا إبراهيم بن أدهم، حدثنا مالك بن دينار، عن أنس به. تنبيه!! ثم توصل الشيخ شعيب من خلال هذه المتابعات إلى تصحيح الحديث فقال: «فالحديث صحيح بهذه المتابعات». - مدخل بيانات الشاملة -.
10. ذكر وصف المصطفى صلى الله عليه وسلم قصر عمر بن الخطاب رضي الله عنه في الجنة حيث رآه ليلة أسري به-
- نبی کریم ﷺ کے اس مشاہدے کا ذکر کہ آپ ﷺ نے حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کا محل جنت میں دیکھا۔
حدیث نمبر: 54
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَخَلْتُ الْجَنَّةَ، فَأَنَا بِقَصْرٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقُلْتُ: لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ؟" فَقَالُوا: لِفَتًى مِنْ قُرَيْشٍ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ لِي، قُلْتُ:" مَنْ هُوَ؟" قِيلَ: عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَا أَبَا حَفْصٍ لَوْلا مَا أَعْلَمُ مِنْ غَيْرَتِكَ لَدَخَلْتُهُ"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ كُنْتُ أَغَارُ عَلَيْهِ، فَإِنِّي لَمْ أَكُنْ أَغَارُ عَلَيْكَ .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”میں جنت میں داخل ہوا، وہاں سونے سے بنا ہوا ایک محل تھا۔ میں نے دریافت کیا: یہ محل کس کا ہے؟ فرشتوں نے بتایا: قریش سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کا ہے۔ میں نے سمجھا کہ شاید یہ میرا ہے، میں نے دریافت کیا: یہ کس کا ہے؟ تو بتایا گیا: یہ عمر بن خطاب کا ہے۔“ (پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا:) ”اے ابوحفص! مجھے تمہارے مزاج کی تیزی کا خیال نہ ہوتا، تو میں اس کے اندر چلا جاتا۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں جس شخص پر بھی غصہ کر لوں لیکن آپ پر غصہ نہیں کر سکتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإسراء/حدیث: 54]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 54، 6887، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8073، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3688، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12228، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 3736،والبزار فى (مسنده) برقم: 6585، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 32654، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 1957، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 9005، 9285»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (1423).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم. أبو نصر التمار: هو عبد الملك بن عبد العزيز، وأبو عمران الجوني: هو عبد الملك بن حبيب البصري.