صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
11. ذكر البيان بأن الله جل وعلا أرى بيت المقدس صفيه صلى الله عليه وسلم لينظر إليها ويصفها لقريش لما كذبته بالإسراء-
- اس وضاحت کا ذکر کہ اللہ جل و علا نے نبی کریم ﷺ کو بیت المقدس دکھایا تاکہ آپ ﷺ اسے دیکھیں اور قریش کو اس کی تفصیل بیان کریں جب انہوں نے معراج کو جھٹلایا۔
حدیث نمبر: 55
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَمَّا كَذَّبَتْنِي قُرَيْشٌ، قُمْتُ فِي الْحِجْرِ، فَجَلَّى الِلَّهِ لِي بَيْتَ الْمَقَدْسِ، فَطَفِقْتُ أُخْبِرُهُمْ عَنْ آيَاتِهِ وَأَنَا أَنْظُرُ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب قریش نے مجھے جھٹلایا تو میں حطیم میں کھڑا ہو گیا، اللہ تعالیٰ نے میرے سامنے بیت المقدس کو ظاہر کر دیا، تو میں ان لوگوں کو اس کی نشانیاں اسے دیکھ دیکھ کر بیان کرنے لگا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإسراء/حدیث: 55]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3886، 4710، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 170، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 55، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11218، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3133، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15265، 15267، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 2091، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: بدون ترقيم، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 4852، 4853»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «تخريج فقه السيرة» (138): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم.
12. ذكر البيان بأن الإسراء كان ذلك برؤية عين لا رؤية نوم-
- اس وضاحت کا ذکر کہ معراج کا واقعہ خواب میں نہیں بلکہ بیداری میں آنکھوں سے دیکھا گیا۔
حدیث نمبر: 56
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ، أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ الطَّائِيُّ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلا فِتْنَةً لِلنَّاسِ سورة الإسراء آية 60، قَالَ:" هِيَ رُؤْيَا عَيْنٍ أُرِيَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ﴾ [سورة الإسراء: 60] کے بارے میں بیان کرتے ہیں (ارشاد باری تعالیٰ ہے): ”ہم نے جو خواب تمہیں دکھائے ہیں، ہم نے انہیں لوگوں کے لیے آزمائش بنایا ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: یہ وہ خواب ہیں، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس رات دکھائے گئے، جب آپ کو معراج کروائی گئی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإسراء/حدیث: 56]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3888، 4716، 6613، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 56، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3400، 3401، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11227، 11228، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3134، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1941، 3569، والطبراني فى(الكبير) برقم: 11641»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «ظلال الجنة» (1/ 201 / 462): خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح. علي بن حرب الطائي: صدوق، روى عنه النسائي، وباقي السند على شرطهما، وسفيان هو ابن عيينة.
13. ذكر الإخبار عن رؤية المصطفى صلى الله عليه وسلم ربه جل وعلا-
- اس خبر کا ذکر کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے رب جل و علا کا دیدار فرمایا۔
حدیث نمبر: 57
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْمُعَدَّلُ بِوَاسِطَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" قَدْ رَأَى مُحَمَّدٌ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبَّهُ" قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: مَعْنَى قَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ: قَدْ رَأَى مُحَمَّدٌ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبَّهُ، أَرَادَ بِهِ بِقَلْبِهِ فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي لَمْ يَصْعَدْهُ أَحَدٌ مِنَ الْبَشَرِ ارْتِفَاعًا فِي الشَّرَفِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پروردگار کو دیکھا ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے یہ الفاظ: ”سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پروردگار کو دیکھا ہے“ اس سے مراد یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قلب کے ذریعے پروردگار کو ایسے مقام پر دیکھا جہاں تک کسی بشر کی رسائی نہیں ہو سکتی، کیونکہ وہ مقام و مرتبہ بہت بلند ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإسراء/حدیث: 57]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 176، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 57، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 217، 218، 219، 3253، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11471، 11473، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3279، 3280، 3281، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1981، والبزار فى (مسنده) برقم: 5186، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 32463، والطبراني فى(الكبير) برقم: 10727، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 4767، 5761، 9396»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - «الظلال» (434 - 437 و 439). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن. من أجل محمد بن عمرو، وهو ابن علقمة بن وقاص الليثي، فإنه صدوق له أوهام، كما ذكر الحافظ في «التقريب».
14. ذكر الخبر الدال على صحة ما ذكرناه-
- اس خبر کا ذکر جو ہمارے بیان کردہ موقف کی صحت پر دلالت کرتی ہے۔
حدیث نمبر: 58
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذْ بْنُ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ، قَالَ: قُلْتُ لأَبِي ذَرٍّ : لَوْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَسَأَلْتُهُ عَنْ كُلِّ شَيْءٍ، فَقَالَ: عَنْ أَيِّ شَيْءٍ كُنْتَ تَسْأَلُهُ؟ قَالَ: كُنْتُ أَسْأَلُهُ: هَلْ رَأَيْتَ رَبَّكَ؟ فَقَالَ: سَأَلْتُهُ، فَقَالَ:" رَأَيْتُ نُورًا" قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: مَعْنَاهُ أَنَّهُ لَمْ يَرَ رَبَّهُ، وَلَكِنْ رَأَى نُورًا عُلْوِيًّا مِنَ الأَنْوَارِ الْمَخْلُوقَةِ.
عبداللہ بن شقیق عقیلی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کرتا تو آپ سے ہر چیز کے بارے میں دریافت کرتا، تو انہوں نے دریافت کیا: تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کے بارے میں دریافت کرنا تھا؟ تو عبداللہ نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دریافت کرنا تھا کہ کیا آپ نے اپنے پروردگار کو دیکھا ہے؟ تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”میں نے ایک نور کو دیکھا ہے“۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس سے مراد یہ ہے کہ آپ نے اپنے پروردگار کو نہیں دیکھا بلکہ آپ نے وہ انوار جو مخلوق ہیں، ان میں سے ”علوی نور“ (یعنی جو مخلوقات سے بلند تر انوار ہیں) اسے دیکھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإسراء/حدیث: 58]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 178، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 58، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3282، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21708، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 476، والبزار فى (مسنده) برقم: 3905، 3906، 3931، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 8300»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الظلال» (192/ 441): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم.
15. ذكر خبر أوهم من لم يحكم صناعة العلم أنه مضاد للخبر الذي ذكرناه-
- اس خبر کا ذکر جس سے ان لوگوں کو وہم ہوا جو علم کے فن میں پختہ نہیں کہ یہ ہمارے ذکر کردہ بیان کے مخالف ہے۔
حدیث نمبر: 59
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ذَرِيحٍ بِعَكْبَرَا حَدَّثَنَا مَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى سورة النجم آية 11، قَالَ:" رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلَ فِي حُلَّةٍ مِنْ يَاقُوتٍ، قَدْ مَلأَ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ" قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَدْ أَمَرَ الِلَّهِ تَعَالَى جِبْرِيلَ لَيْلَةَ الإِسْرَاءِ أَنْ يُعَلِّمَ مُحَمَّدًا صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَجِبُ أَنْ يَعْلَمَهُ كَمَا قَالَ: عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَى، ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَى، وَهُوَ بِالأُفُقِ الأَعْلَى سورة النجم آية 5 - 7 يُرِيدُ بِهِ جِبْرِيلَ ثُمَّ دَنَا، فَتَدَلَّى سورة النجم آية 8 يُرِيدُ بِهِ جِبْرِيلَ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى سورة النجم آية 9 يُرِيدُ بِهِ جِبْرِيلَ، فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى سورة النجم آية 10 بِجِبْرِيلَ مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى سورة النجم آية 11 يُرِيدُ بِهِ رَبَّهُ بِقَلْبِهِ فِي ذَلِكَ الْمَوْضِعِ الشَّرِيفِ، وَرَأَى جِبْرِيلَ فِي حُلَّةٍ مِنْ يَاقُوتٍ، قَدْ مَلأَ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ عَلَى مَا فِي خَبَرِ ابْنِ مَسْعُودٍ الَّذِي ذَكَرْنَاهُ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان (ارشاد باری تعالیٰ ہے): ﴿مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَىٰ﴾ [سورة النجم: 11] ”اس نے جو دیکھا، اس کے دل نے اسے جھٹلایا نہیں۔“ کے بارے میں بیان کرتے ہیں، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جبرائیل علیہ السلام کو یاقوت سے بنے ہوئے حلے میں دیکھا تھا، اس وقت سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے آسمان اور زمین کی درمیانی جگہ کو بھر دیا تھا۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: معراج کی رات اللہ تعالیٰ نے سیدنا جبرائیل علیہ السلام کو یہ حکم دیا کہ وہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ان چیزوں کے بارے میں بتائیں جن کا جاننا آپ کے لئے ضروری ہے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَىٰ * ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ * وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَىٰ﴾ [سورة النجم: 5-7] ”شدید قوت والے نے اُسے تعلیم دی، جو زبردست ہے، پھر اس نے استواء کیا اور وہ (اس وقت) افق اعلیٰ میں تھا۔“ اس سے مراد سیدنا جبرائیل علیہ السلام ہیں۔ (ارشاد باری تعالیٰ ہے): ﴿ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ﴾ [سورة النجم: 8] ”پھر وہ قریب ہوا اور زیادہ قریب ہوا۔“ اس سے مراد سیدنا جبرائیل علیہ السلام ہیں۔ (ارشاد باری تعالیٰ ہے): ﴿فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ﴾ [سورة النجم: 9] ”تو وہ دو کمانوں کے کناروں کی مانند یا اس سے بھی زیادہ قریب ہو گیا۔“ اس سے مراد سیدنا جبرائیل علیہ السلام ہیں۔ (ارشاد باری تعالیٰ ہے): ﴿فَأَوْحَىٰ إِلَىٰ عَبْدِهِ مَا أَوْحَىٰ﴾ [سورة النجم: 10] ”تو اس نے اپنے بندے کی طرف وہ چیز وحی کی جو اس نے وحی کی۔“ اس سے مراد سیدنا جبرائیل علیہ السلام ہیں۔ (ارشاد باری تعالیٰ ہے): ﴿مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَىٰ﴾ [سورة النجم: 11] ”اُس نے جو دیکھا (اس کے) دل نے جھٹلایا نہیں۔“ اس سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے اس معزز مقام پر اپنے قلب کے ذریعے اپنے پروردگار کو دیکھا اور سیدنا جبرائیل علیہ السلام کو یاقوت سے بنے ہوئے حلے میں دیکھا، انہوں نے اس وقت آسمان اور زمین کے درمیان موجود خلاء کو بھر دیا تھا، جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول اس روایت میں یہ بات مذکور ہے، جسے ہم ذکر کر چکے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإسراء/حدیث: 59]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3232، 3233، 4856، 4857، 4858، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 174، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 59، 6427، 6428، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3767، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11467، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3277، 3283، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3817، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 276، 321، 356، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 4993، والبزار فى (مسنده) برقم: 1808، والطبراني فى(الكبير) برقم: 9050»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الظلال» (1/ 191): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط مسروق بن المزربان: ذكره المؤلف في "الثقات" 9/ 206، وروى عنه جمع، وقال أبو حاتم: ليس بالقوي، يكتب حديثه، وقد توبع عليه، وباقي رجاله ثقات، فالسند حسن، ابن أبي زائدة: هو زكريا، وعبد الرحمن بن يزيد: هو ابن قيس النخعي الكوفي.
16. ذكر تعداد عائشة قول ابن عباس الذي ذكرناه من أعظم الفرية-
- حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا اس قول کو (جو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا) سب سے بڑی تہمت قرار دینے کا ذکر۔
حدیث نمبر: 60
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ دَاوُدَ بْنَ أَبِي هِنْدٍ حَدَّثَهُ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ الأَجْدَعِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: أَعْظَمُ الْفِرْيَةِ عَلَى اللَّهِ مَنْ قَالَ: إِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَبَّهُ، وَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَمَ شَيْئًا مِنَ الْوَحْيِ، وَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ، قِيلَ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، وَمَا رَآهُ؟ قَالَتْ: لا، إِنَّمَا ذَلِكَ جِبْرِيلُ رَآهُ مَرَّتَيْنِ فِي صُورَتِهِ: مَرَّةً مَلأَ الأُفُقَ، وَمَرَّةً سَادًّا أُفُقَ السَّمَاءِ" قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَدْ يَتَوَهُمْ مَنْ لَمْ يُحْكِمْ صِنَاعَةَ الْحَدِيثِ أَنَّ هَذَيْنِ الْخَبَرَيْنِ مُتَضَادَّانِ، وَلَيْسَا كَذَلِكَ، إِذِ الِلَّهِ جَلَّ وَعَلا فَضَّلَ رَسُولَهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى غَيْرِهِ مِنَ الأَنْبِيَاءِ، حَتَّى كَانَ جِبْرِيلُ مِنْ رَبِّهِ أَدْنَى مِنْ قَابِ قَوْسَيْنِ، وَمُحَمَّدٌ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُهُ جِبْرِيلُ حِينَئِذٍ، فَرَآهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَلْبِهِ كَمَا شَاءَ، وَخَبَرُ عَائِشَةَ وَتَأْوِيلُهَا أَنَّهُ لا يُدْرِكُهُ، تُرِيدُ بِهِ فِي النَّوْمِ وَلا فِي الْيَقَظَةِ، وَقَوْلُهُ: لا تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ سورة الأنعام آية 103 فَإِنَّمَا مَعْنَاهُ: لا تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ، يُرَى فِي الْقِيَامَةِ وَلا تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ رَأَتْهُ، لأَنَّ الإِدْرَاكَ هُوَ الإِحَاطَةُ، وَالرُّؤْيَةُ هِيَ النَّظَرُ، وَالِلَّهِ يُرَى وَلا يُدْرَكُ كُنْهُهُ، لأَنَّ الإِدْرَاكَ يَقَعُ عَلَى الْمَخْلُوقِينَ، وَالنَّظَرُ يَكُونُ مِنَ الْعَبْدِ رَبَّهُ، وَخَبَرُ عَائِشَةَ أَنَّهُ لا تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ، فَإِنَّمَا مَعْنَاهُ: لا تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ فِي الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ، إِلا مَنْ يَتَفَضَّلُ عَلَيْهِ مِنْ عِبَادِهِ بِأَنْ يُجْعَلَ أَهْلا لِذَلِكَ، وَاسْمُ الدُّنْيَا قَدْ يَقَعُ عَلَى الأَرَضِينَ وَالسَّمَاوَاتِ وَمَا بَيْنَهُمَا، لأَنَّ هَذِهِ الأَشْيَاءَ بِدَايَاتٌ خَلَقَهَا الِلَّهِ جَلَّ وَعَلا لِتُكْتَسَبَ فِيهَا الطَّاعَاتُ لِلآخِرَةِ الَّتِي بَعْدَ هَذِهِ الْبِدَايَةِ، فَالنَّبِيُّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَبَّهُ فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي لا يُطْلَقُ عَلَيْهِ اسْمُ الدُّنْيَا، لأَنَّهُ كَانَ مِنْهُ أَدْنَى مِنْ قَابِ قَوْسَيْنِ حَتَّى يَكُونَ خَبَرُ عَائِشَةَ، أَنَّهُ لَمْ يَرَهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الدُّنْيَا مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونَ بَيْنَ الْخَبَرَيْنِ تَضَادٌّ أَوْ تَهَاتُرٌ.
مسروق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ فرماتے ہوئے سنا: وہ شخص اللہ تعالیٰ کی طرف سب سے بڑی جھوٹی بات منسوب کرتا ہے جو یہ کہتا ہے کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پروردگار کو دیکھا ہے، یا جو یہ کہتا ہے کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی میں سے کوئی چیز چھپائی تھی (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری باتیں بیان نہیں کی ہیں)، یا جو شخص کہتا ہے کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ جانتے تھے کہ کل کیا ہو گا؟ ان سے دریافت کیا گیا: اے ام المؤمنین! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسے دیکھا تھا؟ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: وہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام تھے، جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصل صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ ایک مرتبہ اس وقت جب انہوں نے افق کو بھر دیا تھا، اور ایک مرتبہ اس وقت جب انہوں نے آسمان کے افق کو گھیرا ہوا تھا۔ امام ابو حاتم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جو شخص علم حدیث میں مہارت نہیں رکھتا وہ اس غلط فہمی کا شکار ہوتا ہے کہ یہ دو روایات باہم متضاد ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو دیگر تمام انبیاء پر فضیلت عطا کی ہے۔ یہاں تک کہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام اپنے پروردگار کے اتنا قریب ہو گئے جتنا دو کمانوں کا فاصلہ ہوتا ہے اور اس وقت سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تعلیم دی، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (یا شاید اللہ تعالیٰ کو) دل کی آنکھ سے دیکھ لیا جیسے اس نے چاہا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول اس روایت کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کا ادراک نہیں کر سکتے، کا مفہوم یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نیند کے عالم میں اور بیداری کے عالم میں ایسا نہیں کر سکتے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ﴿لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ﴾ [سورة الأنعام: 103] ”بصارت اس کا ادراک نہیں کر سکتی“ سے مراد یہ ہے کہ بصارت اس کا ادراک نہیں کر سکتی، اس کا دیدار قیامت کے دن ہو گا لیکن بصارت جب اس کا دیدار کرے گی تو اس کا ادراک نہیں کر سکے گی، کیونکہ ادراک کا مطلب احاطہ کرنا ہے اور دیدار کا مطلب دیکھنا ہے اور اللہ تعالیٰ کا دیدار ہو سکتا ہے لیکن اس کی حقیقت کا ادراک نہیں ہو سکتا، کیونکہ ادراک مخلوق کا ہو سکتا ہے اور بندے کی طرف سے پروردگار کو دیکھنا (ممکن) ہو سکتا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول یہ روایت کہ بصارت اس کا ادراک نہیں کر سکتی، اس سے مراد یہ ہے کہ بصارت دنیا اور آخرت میں اس کا ادراک نہیں کر سکتی لیکن اپنے بندوں میں سے وہ جس پر چاہے فضل کر کے اس کا اہل بنا سکتا ہے۔ لفظ دنیا کا اطلاق کبھی زمینوں اور آسمانوں اور ان کے درمیان موجود جگہ پر ہوتا ہے، کیونکہ ان اشیاء سے آغاز ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس لیے پیدا کیا تھا تاکہ ان میں آخرت کے لیے نیکیاں کمائی جائیں جو اس آغاز کے بعد ہو گی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پروردگار کا دیدار اس مقام پر کیا ہے جہاں لفظ دنیا کا اطلاق نہیں ہوتا، کیونکہ وہ اس وقت دو کمانوں کے درمیان فاصلے سے بھی زیادہ قریب تھے، اس لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول روایت کا مطلب یہ ہو گا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا میں اس کا دیدار نہیں کیا، اس لیے ان دونوں روایات کے درمیان کوئی تضاد اور اختلاف نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإسراء/حدیث: 60]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3234، 3235، 4612، 4855، 7380، 7531، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 177، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 60، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11082، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3068، 3207، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24864، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 1511، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 4900، 4901، 4902، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 5599، 5600، والطبراني فى(الكبير) برقم: 111، 112»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الظلال» - أيضاً -: ق. * [فَرَآهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَلْبِهِ] قال الشيخ: قلت: ثبت - بهذا القيد - عند مسلم (1/ 109 - 110) من طريقين عنِ ابنِ عباس، قال: رآه بقلبه. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح. أبو الربيع: هو سليمان بن داود بن حماد بن سعد المهري، ابن أخي رشدين بن سعد المصري، ثقة من رجال "التهذيب"، وذكره المؤلف في "الثقات" 8/ 279، وباقي رجال السند على شرط الصحيح. عمرو بن الحارث: هو ابن يعقوب بن عبد الله الأنصاري مولاهم المصري.