🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. باب صَلاَةِ الضُّحَى
باب: نماز الضحیٰ (چاشت کی نماز) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1290
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَيَّاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ،عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ" صَلَّى سُبْحَةَ الضُّحَى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ يُسَلِّمُ مِنْ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ". قَالَ أَبُو دَاوُدُ: قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى يَوْمَ الْفَتْحِ سُبْحَةَ الضُّحَى" فَذَكَرَ مِثْلَهُ. قَالَ ابْنُ السَّرْحِ: إِنَّ أُمَّ هَانِئٍ، قَالَتْ:" دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَذْكُرْ سُبْحَةَ الضُّحَى بِمَعْنَاهُ".
ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے روز چاشت کی نماز آٹھ رکعت پڑھی، آپ ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے تھے۔ احمد بن صالح کی روایت میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے روز چاشت کی نماز پڑھی، پھر انہوں نے اسی کے مثل ذکر کیا۔ ابن سرح کی روایت میں ہے کہ ام ہانی کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، اس میں انہوں نے چاشت کی نماز کا ذکر نہیں کیا ہے، باقی روایت ابن صالح کی روایت کے ہم معنی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1290]
سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے روز چاشت کی آٹھ رکعات پڑھی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے تھے۔“ احمد بن صالح نے کہا کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن چاشت کی نماز پڑھی“ اور اسی کے مثل ذکر کیا۔ ابن سرح نے کہا کہ ام ہانی رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے“، اور نماز چاشت کا نام نہیں لیا (بلکہ ویسے ہی کہا کہ آپ نے آٹھ رکعات پڑھیں) سابقہ حدیث کے معنی میں۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1290]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 172 (1323)، (تحفة الأشراف: 18010) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی عیاض ضعیف ہیں، لیکن دوسری سندوں سے ام ہانی کی صلاة الضحیٰ کی حدیث صحیح ہے، دیکھئے اگلی حدیث)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
أخرجه ابن ماجه (1323 وسنده حسن) وللحديث شواھد عند البخاري (280)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1291
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: مَا أَخْبَرَنَا أَحَدٌ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الضُّحَى غَيْرُ أُمِّ هَانِئٍ، فَإِنَّهَا ذَكَرَتْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ" اغْتَسَلَ فِي بَيْتِهَا وَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ فَلَمْ يَرَهُ أَحَدٌ صَلَّاهُنَّ بَعْدُ".
ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ کسی نے ہمیں یہ نہیں بتایا کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا ہے سوائے ام ہانی رضی اللہ عنہا کے، انہوں نے یہ بات ذکر کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے روز ان کے گھر میں غسل فرمایا اور آٹھ رکعتیں ادا کیں، پھر اس کے بعد کسی نے آپ کو یہ نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1291]
جناب ابن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہمیں سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کے علاوہ کسی نے خبر نہیں دی کہ اس نے دیکھا ہو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز چاشت پڑھی، سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے روز ان کے گھر میں غسل کیا اور آٹھ رکعتیں پڑھیں (اس کے سوا) اور کسی نے نہیں دیکھا کہ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ رکعات پڑھی ہوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1291]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/تقصیر الصلاة 12 (1103)، والتھجد 31 (1176)، والجزیة 9 (3171)، والغازي 50 (4292)، والآدب 94 (6151)، صحیح مسلم/المسافرین 13 (336)، سنن الترمذی/الصلاة 15 (474)، سنن النسائی/الطہارة 143 (226)، (تحفة الأشراف: 18007)، وقد أخرجہ: الحیض 16 (336)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 187 (1323)، موطا امام مالک/قصر الصلاة 8 (28)، مسند احمد (6/341، 342، 343، 423)، سنن الدارمی/الصلاة 151 (1493) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1103) صحيح مسلم (336 بعد ح 719)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1292
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ" هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى؟ فَقَالَتْ: لَا، إِلَّا أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبِهِ، قُلْتُ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرِنُ بَيْنَ السُّورَتَيْنِ؟ قَالَتْ: مِنَ الْمُفَصَّلِ".
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں، سوائے اس کے کہ جب آپ سفر سے آتے۔ میں نے عرض کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو سورتیں ملا کر پڑھتے تھے؟ آپ نے کہا: مفصل کی سورتیں (ملا کر پڑھتے تھے) ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1292]
جناب عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: ”کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھا کرتے تھے؟“ انہوں نے کہا: ”نہیں، الا یہ کہ سفر سے تشریف لاتے۔“ میں نے پوچھا: ”کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورتیں ملا کر پڑھ لیا کرتے تھے؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں، مفصل میں سے (یعنی آخری منزل کی سورتوں میں سے)۔“ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1292]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المسافرین 13 (717)، سنن النسائی/الصیام 19 (2187)، (تحفة الأشراف: 16211)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/171، 204، 218) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ”سورۃ الحجرات“ سے ”سورۃ الناس“ تک کی سورتیں مفصل کہلاتی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح م الشطر الأول منه
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (717)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1293
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ:" مَا سَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُبْحَةَ الضُّحَى قَطُّ وَإِنِّي لَأُسَبِّحُهَا، وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَدَعُ الْعَمَلَ وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ خَشْيَةَ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ النَّاسُ فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی نماز کبھی نہیں پڑھی، لیکن میں اسے پڑھتی ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بسا اوقات ایک عمل کو چاہتے ہوئے بھی اسے محض اس ڈر سے ترک فرما دیتے تھے کہ لوگوں کے عمل کرنے سے کہیں وہ ان پر فرض نہ ہو جائے۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1293]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بیان ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ضحیٰ کے نفل کبھی نہیں پڑھے، میں البتہ پڑھتی ہوں۔ بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ عمل کرنا چاہتے مگر چھوڑ دیتے تھے، کہ لوگ عمل کریں گے تو کہیں ان پر فرض نہ کر دیا جائے۔“ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1293]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/التھجد 5 (1128)، صحیح مسلم/المسافرین 13 (718)، (تحفة الأشراف: 16590)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصر الصلاة 8 (29)، مسند احمد (6/85، 86، 167، 169، 223)، سنن الدارمی/الصلاة 152 (149) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1128) صحيح مسلم (718)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1294
حَدَّثَنَا ابْنُ نُفَيْلٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ: أَكُنْتَ تُجَالِسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ كَثِيرًا" فَكَانَ لَا يَقُومُ مِنْ مُصَلَّاهُ الَّذِي صَلَّى فِيهِ الْغَدَاةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَإِذَا طَلَعَتْ قَامَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
سماک کہتے ہیں میں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجالست (ہم نشینی) کرتے تھے؟ آپ نے کہا: ہاں اکثر (آپ کی مجلسوں میں رہتا تھا)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس جگہ نماز فجر ادا کرتے، وہاں سے اس وقت تک نہیں اٹھتے جب تک سورج نکل نہ آتا، جب سورج نکل آتا تو آپ (نماز اشراق کے لیے) کھڑے ہوتے۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1294]
جناب سماک کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ”کیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھا کرتے تھے؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں بہت زیادہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جہاں فجر کی نماز ادا فرماتے وہاں سے اس وقت تک نہ اٹھتے جب تک کہ سورج طلوع نہ ہو جاتا۔ جب (سورج) طلوع ہو جاتا تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو جاتے۔“ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1294]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المساجد 52 (670)، والفضائل 17 (2322)، سنن النسائی/السھو 99 (1359، 1358)، (تحفة الأشراف: 2155)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 295 (585)، مسند احمد (5/91، 97، 100، 01 1، 105، 107) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (670)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. باب فِي صَلاَةِ النَّهَارِ
باب: دن کی نماز کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1295
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَارِقِيِّ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" صَلَاةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات اور دن کی نماز دو دو رکعت ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1295]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات اور دن کی نماز دو دو رکعت ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1295]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصلاة 301 (597)، سنن النسائی/قیام اللیل 24 (1667)، سنن ابن ماجہ/ إقامة الصلاة 172 (1322)، (تحفة الأشراف: 7349)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/26، 51)، سنن الدارمی/ الصلاة 155(1500) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
أخرجه الترمذي (597 وسنده حسن) وللحديث شواھد، انظر الموطأ (260 بتحقيقي)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1296
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْمُطَّلِبِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الصَّلَاةُ مَثْنَى مَثْنَى أَنْ تَشَهَّدَ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ، وَأَنْ تَبَاءَسَ وَتَمَسْكَنَ وَتُقْنِعَ بِيَدَيْكَ، وَتَقُولَ: اللَّهُمَّ اللَّهُمَّ، فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَهِيَ خِدَاجٌ". سُئِلَ أَبُو دَاوُدَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ مَثْنَى، قَالَ: إِنْ شِئْتَ مَثْنَى وَإِنْ شِئْتَ أَرْبَعًا.
مطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز دو دو رکعت ہے، اس طرح کہ تم ہر دو رکعت کے بعد تشہد پڑھو اور پھر اپنی محتاجی اور فقر و فاقہ ظاہر کرو اور دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگو اور کہو: اے اللہ! اے اللہ!، جس نے ایسا نہیں کیا یعنی دل نہ لگایا، اور اپنی محتاجی اور فقر و فاقہ کا اظہار نہ کیا تو اس کی نماز ناقص ہے“۔ ابوداؤد سے رات کی نماز دو دو رکعت ہونے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا: چاہو تو دو دو پڑھو اور چاہو تو چار چار۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1296]
جناب عبداللہ بن حارث، مطلب سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز دو دو رکعت ہے۔ یوں کہ تم ہر دو رکعت پر تشہد پڑھو، اپنی زاری اور مسکینی کا اظہار کرو، دونوں ہاتھ اٹھاؤ اور کہو «اللَّهُمَّ اللَّهُمَّ» ”اے اللہ! اے اللہ!“ اور جو یوں نہ کرے تو اس کی یہ نماز ناقص ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ سے رات کی نماز دو رکعت ہونے کے متعلق پوچھا گیا تو کہا: ”چاہو تو دو دو رکعت پڑھ لو اور چاہو تو چار چار۔“ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1296]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 172 (1325)، (تحفة الأشراف: 11288)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/167) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی عبد اللہ بن نافع مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (1325)
عبد اللّٰه بن نافع بن العمياء ضعفه البخاري والجمهور وضعفه راجح
وقال ابن حجر : مجهول (تقريب التهذيب:3658)
وفي سماعه من عبد اللّٰه بن الحارث نظر
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 54

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. باب صَلاَةِ التَّسْبِيحِ
باب: نماز التسبیح کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1297
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِلْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ:" يَا عَبَّاسُ، يَا عَمَّاهُ، أَلَا أُعْطِيكَ، أَلَا أَمْنَحُكَ، أَلَا أَحْبُوكَ، أَلَا أَفْعَلُ بِكَ عَشْرَ خِصَالٍ إِذَا أَنْتَ فَعَلْتَ ذَلِكَ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ ذَنْبَكَ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ، قَدِيمَهُ وَحَدِيثَهُ، خَطَأَهُ وَعَمْدَهُ، صَغِيرَهُ وَكَبِيرَهُ، سِرَّهُ وَعَلَانِيَتَهُ، عَشْرَ خِصَالٍ أَنْ تُصَلِّيَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ تَقْرَأُ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ وَسُورَةً، فَإِذَا فَرَغْتَ مِنَ الْقِرَاءَةِ فِي أَوَّلِ رَكْعَةٍ وَأَنْتَ قَائِمٌ، قُلْتَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ خَمْسَ عَشْرَةَ مَرَّةً، ثُمَّ تَرْكَعُ، فَتَقُولُهَا وَأَنْتَ رَاكِعٌ عَشْرًا، ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ مِنَ الرُّكُوعِ فَتَقُولُهَا عَشْرًا، ثُمَّ تَهْوِي سَاجِدًا فَتَقُولُهَا وَأَنْتَ سَاجِدٌ عَشْرًا، ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ مِنَ السُّجُودِ فَتَقُولُهَا عَشْرًا، ثُمَّ تَسْجُدُ فَتَقُولُهَا عَشْرًا، ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ فَتَقُولُهَا عَشْرًا، فَذَلِكَ خَمْسٌ وَسَبْعُونَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، تَفْعَلُ ذَلِكَ فِي أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تُصَلِّيَهَا فِي كُلِّ يَوْمٍ مَرَّةً فَافْعَلْ، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّةً، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي كُلِّ شَهْرٍ مَرَّةً، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي كُلِّ سَنَةٍ مَرَّةً، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي عُمُرِكَ مَرَّةً".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے عباس! اے میرے چچا! کیا میں آپ کو عطا نہ کروں؟ کیا میں آپ کو بھلائی نہ پہنچاؤں؟ کیا میں آپ کو نہ دوں؟ کیا میں آپ کو دس ایسی باتیں نہ بتاؤں جب آپ ان پر عمل کرنے لگیں تو اللہ تعالیٰ آپ کے اگلے پچھلے، نئے پرانے، جانے انجانے، چھوٹے بڑے، چھپے اور کھلے، سارے گناہ معاف کر دے گا، وہ دس باتیں یہ ہیں: آپ چار رکعت نماز پڑھیں، ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ اور کوئی ایک سورۃ پڑھیں، جب پہلی رکعت کی قرآت کر لیں تو حالت قیام ہی میں پندرہ مرتبہ «سبحان الله، والحمد لله، ولا إله إلا الله، والله أكبر» کہیں، پھر رکوع کریں تو یہی کلمات حالت رکوع میں دس بار کہیں، پھر جب رکوع سے سر اٹھائیں تو یہی کلمات دس بار کہیں، پھر جب سجدہ میں جائیں تو حالت سجدہ میں دس بار یہی کلمات کہیں، پھر سجدے سے سر اٹھائیں تو یہی کلمات دس بار کہیں، پھر (دوسرا) سجدہ کریں تو دس بار کہیں اور پھر جب (دوسرے) سجدے سے سر اٹھائیں تو دس بار کہیں، تو اس طرح یہ ہر رکعت میں پچہتر بار ہوا، یہ عمل آپ چاروں رکعتوں میں کریں، اگر پڑھ سکیں تو ہر روز ایک مرتبہ اسے پڑھیں، اور اگر روزانہ نہ پڑھ سکیں تو ہر جمعہ کو ایک بار پڑھ لیں، ایسا بھی نہ کر سکیں تو ہر مہینے میں ایک بار، یہ بھی ممکن نہ ہو تو سال میں ایک بار اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو پھر عمر بھر میں ایک بار پڑھ لیں“۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1297]
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے عباس! اے چچا جان! کیا میں آپ کو ایک ہدیہ نہ دوں؟ عطیہ اور تحفہ نہ دوں؟ کیا میں آپ کو دس باتیں نہ سکھا دوں؟ جب آپ ان پر عمل کریں گے تو اللہ آپ کے اگلے پچھلے، قدیم جدید، خطا، عمداً، چھوٹے بڑے، پوشیدہ اور ظاہر سب ہی گناہ معاف فرما دے گا۔ دس باتیں یہ ہیں کہ آپ چار رکعات پڑھیں۔ ہر رکعت میں آپ سورۃ فاتحہ اور ایک سورۃ پڑھیں۔ جب آپ پہلی رکعت میں قراءت سے فارغ ہو جائیں اور قیام میں ہوں تو پندرہ بار یہ تسبیح «سُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ» پڑھیں، پھر رکوع کریں اور حالتِ رکوع میں دس بار یہی تسبیح پڑھیں۔ پھر رکوع سے سر اٹھائیں اور دس بار یہی تسبیح پڑھیں، پھر سجدہ کریں اور سجدے میں دس بار یہی پڑھیں۔ پھر سجدے سے سر اٹھائیں تو یہی تسبیح دس بار پڑھیں۔ پھر دوسرا سجدہ کریں تو اس میں بھی دس بار پڑھیں۔ پھر سر اٹھائیں تو دس بار پڑھیں۔ ہر رکعت میں یہ کل پچھتر تسبیحات ہوئیں۔ اور آپ چاروں رکعتوں میں ایسے ہی کریں۔ اگر ہمت ہو تو ہر روز (یہ نماز) پڑھا کریں۔ اگر ہر روز نہ پڑھ سکیں تو ہر ہفتے میں ایک بار، اگر ہفتے میں نہ پڑھ سکیں تو ایک مہینے میں ایک بار پڑھیں۔ اگر یہ نہ کر سکیں تو سال میں ایک بار پڑھیں۔ اگر سال میں بھی نہ پڑھ سکیں تو اپنی زندگی میں ایک بار پڑھ لیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1297]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 190 (1387)، (تحفة الأشراف: 6038) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1328)
أخرجه ابن ماجه (1387 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1298
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُفْيَانَ الْأُبُلِّيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ أَبُو حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ كَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ يَرَوْنَ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ائْتِنِي غَدًا أَحْبُوكَ وَأُثِيبُكَ وَأُعْطِيكَ" حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ يُعْطِينِي عَطِيَّةً، قَالَ:" إِذَا زَالَ النَّهَارُ، فَقُمْ فَصَلِّ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ"، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، قَالَ:" ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ، يَعْنِي مِنَ السَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ، فَاسْتَوِ جَالِسًا وَلَا تَقُمْ حَتَّى تُسَبِّحَ عَشْرًا، وَتَحْمَدَ عَشْرًا، وَتُكَبِّرَ عَشْرًا، وَتُهَلِّلَ عَشْرًا، ثُمَّ تَصْنَعَ ذَلِكَ فِي الْأَرْبَعِ رَكَعَاتِ، قَالَ: فَإِنَّكَ لَوْ كُنْتَ أَعْظَمَ أَهْلِ الْأَرْضِ ذَنْبًا غُفِرَ لَكَ بِذَلِكَ" قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أُصَلِّيَهَا تِلْكَ السَّاعَةَ؟ قَالَ:" صَلِّهَا مِنَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ خَالُ هِلَالٍ الرَّأْيِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ الْمُسْتَمِرُّ بْنُ الرَّيَّانِ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو مَوْقُوفًا، وَرَوَاهُ رَوْحُ بْنُ الْمُسَيَّبِ،وَجَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ النُّكْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلُهُ، وَقَالَ فِي حَدِيثِ رَوْحٍ: فَقَالَ: حَدِيثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوالجوزاء کہتے ہیں کہ مجھ سے ایک ایسے شخص نے جسے شرف صحبت حاصل تھا حدیث بیان کی ہے لوگوں کا خیال ہے کہ وہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما تھے، انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کل تم میرے پاس آنا، میں تمہیں دوں گا، عنایت کروں گا اور نوازوں گا“، میں سمجھا کہ آپ مجھے کوئی عطیہ عنایت فرمائیں گے (جب میں کل پہنچا تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب سورج ڈھل جائے تو کھڑے ہو جاؤ اور چار رکعت نماز ادا کرو“، پھر ویسے ہی بیان کیا جیسے اوپر والی حدیث میں گزرا ہے، البتہ اس میں یہ بھی ہے کہ: ”پھر تم سر اٹھاؤ یعنی دوسرے سجدے سے تو اچھی طرح بیٹھ جاؤ اور کھڑے مت ہو یہاں تک کہ دس دس بار تسبیح و تحمید اور تکبیر و تہلیل کر لو پھر یہ عمل چاروں رکعتوں میں کرو“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم اہل زمین میں سب سے بڑے گنہگار ہو گے تو بھی اس عمل سے تمہارے گناہوں کی بخشش ہو جائے گی“، میں نے عرض کیا: اگر میں اس وقت یہ نماز ادا نہ کر سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو رات یا دن میں کسی وقت ادا کر لو“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حبان بن ہلال: ہلال الرای کے ماموں ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے مستمر بن ریان نے ابوالجوزاء سے انہوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔ نیز اسے روح بن مسیب اور جعفر بن سلیمان نے عمرو بن مالک نکری سے، عمرو نے ابوالجوزاء سے ابوالجوزاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی موقوفاً روایت کیا ہے، البتہ راوی نے روح کی روایت میں «فقال حديث عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم » (تو ابن عباس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کی) کے جملے کا اضافہ کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1298]
جناب ابوالجوزاء کہتے ہیں کہ مجھ سے ایک صحابی نے بیان کیا جنہیں لوگ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سمجھتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”کل میرے پاس آنا میں تمہیں ایک ہدیہ دوں گا، عطیہ دوں گا۔“ مجھے خیال ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی مال عنایت فرمائیں گے۔ (میں حاضر ہوا تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب سورج ڈھل جائے تو کھڑے ہو جاؤ اور چار رکعتیں پڑھو۔“ اور مذکورہ بالا کی مانند ذکر کیا۔ اس روایت میں کہا: ”جب تم دوسرے سجدے سے سر اٹھاؤ تو ٹھیک طرح سے بیٹھ جاؤ اور دس بار «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“، دس بار «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“، دس بار «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ اور دس بار «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ پڑھو۔ جب تک یہ نہ پڑھ لو کھڑے نہ ہو۔ اور پھر چاروں رکعتوں میں ایسے ہی کرو۔“ فرمایا: ”اگر تم اہل زمین میں سب سے زیادہ گناہ گار بھی ہوئے تو اس سے وہ سب معاف کر دیے جائیں گے۔“ میں نے کہا: اگر میں اس وقت میں نہ پڑھ سکوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات دن میں کسی بھی وقت پڑھ لو۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حبان بن ہلال، ہلال الرائی (الرازی) کے ماموں ہیں۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”اس روایت کو مستمر بن ریان نے ابوالجوزاء سے، انہوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے موقوفاً بیان کیا ہے۔ اور اسے روح بن مسیب اور جعفر بن سلیمان نے عمرو بن مالک نکری سے، انہوں نے ابوالجوزاء سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ان کا قول بیان کیا ہے۔“ روح کی روایت میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے۔“ (میری اپنی بات نہیں ہے) یعنی مجھے حدیث نبوی کہہ کر بیان کی گئی۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1298]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8606) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عمرو بن مالك النكري يحدث عن أبي الجوزاء عن ابن عباس قدر عشرة أحاديث غير محفوظة،قاله ابن عدي في الكامل (401/1،نسخة أخري: 108/2)
والحديث الآتي (الأصل : 1299) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 54

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1299
حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ، حَدَّثَنِي الْأَنْصَارِيُّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِجَعْفَرٍ: بِهَذَا الْحَدِيثِ، فَذَكَرَ نَحْوَهُمْ، قَالَ فِي السَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ مِنَ الرَّكْعَةِ الْأُولَى كَمَا قَالَ فِي حَدِيثِ مَهْدِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ.
عروہ بن رویم کہتے ہیں کہ مجھ سے انصاری نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جعفر سے یہی حدیث بیان فرمائی، پھر انہوں نے انہی لوگوں کی طرح ذکر کیا، البتہ اس میں ہے: پہلی رکعت کے دوسرے سجدہ میں بھی یہی کہا جیسے مہدی بن میمون کی حدیث میں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1299]
عروہ بن رویم انصاری سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ سے فرمایا، بقیہ حدیث کے الفاظ وہی ہیں جو مہدی بن میمون نے نقل فرمائے، لیکن اس روایت میں ان الفاظ کا اضافہ ہے کہ انہوں نے پہلی رکعت کے دوسرے سجدے کے بارے میں فرمایا۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1299]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2394، 15636) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الأنصاري ھو جابر بن عبد الله كما في تھذيب الكمال (22/187) وانظر الحديث السابق

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں