سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. باب مَنْ نَوَى الْقِيَامَ فَنَامَ
باب: جس نے تہجد کی نیت کی پھر سویا رہ گیا۔
حدیث نمبر: 1314
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ رَجُلٍ عِنْدَهُ رَضِيٍّ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَا مِنَ امْرِئٍ تَكُونُ لَهُ صَلَاةٌ بِلَيْلٍ يَغْلِبُهُ عَلَيْهَا نَوْمٌ إِلَّا كُتِبَ لَهُ أَجْرُ صَلَاتِهِ، وَكَانَ نَوْمُهُ عَلَيْهِ صَدَقَةً".
سعید بن جبیر نے ایک ایسے شخص سے جو ان کے نزدیک پسندیدہ ہے روایت کی ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص جو رات کو تہجد پڑھتا ہو اور کسی رات اس پر نیند غالب آ جائے (اور وہ نہ اٹھ سکے) تو اس کے لیے نماز کا ثواب لکھا جائے گا، اس کی نیند اس پر صدقہ ہو گی“۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1314]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص رات کو نماز ادا کرتا ہو مگر کسی رات اس پر نیند غالب آ جائے تو اس کے لیے اس کی نماز کا اجر لکھ دیا جاتا ہے اور نیند اس کے لیے صدقہ ہوتی ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1314]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/قیام اللیل 52 (1785)، (تحفة الأشراف: 16007)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ صلاة اللیل 1 (1)، مسند احمد (6/63، 72، 180) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
أخرجه النسائي (1785) وھو في الموطأ (رواية يحييٰ:1/ 117 ح 254، رواية ابن القاسم: 86) قال ابن عبد البر: ’’الرجل الرضي المذكور في هذا الإسناد هو الأسود بن يزيد وهو رضي عند الجميع‘‘ (الاستذكار: 2/ 80 واللفظ له، التمھيد: 12/ 261) وللحديث شواھد
أخرجه النسائي (1785) وھو في الموطأ (رواية يحييٰ:1/ 117 ح 254، رواية ابن القاسم: 86) قال ابن عبد البر: ’’الرجل الرضي المذكور في هذا الإسناد هو الأسود بن يزيد وهو رضي عند الجميع‘‘ (الاستذكار: 2/ 80 واللفظ له، التمھيد: 12/ 261) وللحديث شواھد
22. باب أَىُّ اللَّيْلِ أَفْضَلُ
باب: رات کا کون سا حصہ عبادت کے لیے زیادہ بہتر ہے؟
حدیث نمبر: 1315
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ، فَيَقُولُ: مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ، مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ، مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارا رب ہر رات جس وقت رات کا آخری ایک تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے، آسمان دنیا پر اترتا ہے ۱؎، پھر فرماتا ہے: کون مجھ سے دعا کرتا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں؟ کون مجھ سے مانگتا ہے کہ میں اسے دوں؟ کون مجھ سے مغفرت طلب کرتا ہے کہ میں اس کی مغفرت کر دوں؟“۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1315]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارا رب عز وجل ہر رات جب رات کا آخری تیسرا حصہ باقی ہوتا ہے آسمانِ دنیا پر تشریف لاتا ہے اور فرماتا ہے: کون ہے جو مجھ سے دعا کرے اور میں اسے قبول کروں؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے اور میں اسے دوں؟ اور کون ہے جو مجھ سے معافی چاہے اور میں اس کو بخش دوں؟“ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1315]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/التھجد 14 (1145)، والدعوات 14 (6321)، والتوحید 35 (7494)، صحیح مسلم/المسافرین 24 (758)، سنن الترمذی/الصلاة 212 (446)، والدعوات 79 (3498)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 182 (1366)، (تحفة الأشراف: 13463، (صحیح)15241)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ القرآن 8 (30)، مسند احمد (2/264، 267، 283، 419، 487)، سنن الدارمی/الصلاة 168 (1519)، ویأتي برقم (4733)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے اللہ رب العزت کے لئے نزول کی صفت ثابت ہوتی ہے، اللہ تعالی کے اسماء و صفات کے بارے میں صحیح عقیدہ یہ ہے کہ جو کچھ اللہ اور اس کے رسول سے اس سلسلے میں ثابت ہے اس پر ہم صدق دل سے ایمان لے آئیں اور ان صفات کا نہ تو انکار کریں، اور نہ ان کے حقیقی معانی کو معطل کریں، اور نہ ہی کسی صفت کو کسی مخلوق کی صفت کے مشابہ قرار دیں، اللہ تعالی کا ارشاد ہے: «ليس كمثله شيئ وهو السميع البصير» ۔ بعض لوگوں نے اس حدیث کی یہ تاویل کی ہے کہ اللہ کی رحمت اترتی ہے یا اس کا حکم اترتا ہے، لیکن یہ سراسر غلط ہے، یہ تاویل کسی طور سے بھی حدیث کے الفاظ کے ساتھ میل نہیں کھاتی، کیوں کہ اگر رحمت اترتی یا حکم اترتا تو وہ یہ کیسے کہتا کہ ” جو مجھ سے دعا کرے گا میں اسے قبول کروں گا، جو مانگے گا میں دوں گا، جو استغفار کرے گا میں اس کی مغفرت کروں گا “، یہ تو خاص شان کبریائی ہے، دوسرے یہ کہ اللہ کی رحمت ہر جگہ موجود ہے «ورحمتي وسعت كل شيئ» تو خاص تہائی رات میں نزول (اترنے) کے کیا معنیٰ؟! تیسرے یہ کہ رحمت اتر کر آسمان دنیا ہی پر رہ گئی تو ہمیں اس سے کیا فائدہ ہوا! اگر ہم تک آتی تو ہمیں فائدہ پہنچتا، اس لئے بہتر طریقہ وہی ہے جو محققین اہل سنت و اہل حدیث کا ہے کہ اس قسم کی حدیثیں یا آیتیں جن میں اللہ جل جلالہ کی صفات مذکور ہیں جیسے: اترنا، چڑھنا، ہنسنا، تعجب کرنا، دیکھنا، سننا، عرش کے اوپر ہونا، وغیرہ وغیرہ، ان سب صفات و افعال باری تعالی کو ان کے ظاہر پر محمول کیا جائے، لیکن یہ مخلوقات کی صفات کے مشابہ نہیں ہیں، جیسے اللہ تعالی کی ذات مخلوقات کی ذات کے مشابہ نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1145) صحيح مسلم (758)
23. باب وَقْتِ قِيَامِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنَ اللَّيْلِ
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تہجد پڑھنے کے وقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1316
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ يَزِيدَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُوقِظُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِاللَّيْلِ فَمَا يَجِيءُ السَّحَرُ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ حِزْبِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ رات کو جگا دیتا پھر صبح نہ ہوتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے معمول سے فارغ ہو جاتے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1316]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”بلاشبہ اللہ عزوجل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات میں جگا دیتا تھا، چنانچہ سحر (صبح) نہ ہو پاتی تھی کہ آپ اپنے معمول کی عبادت سے فارغ ہو چکے ہوتے تھے۔“ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1316]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16792) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
حفص بن غياث عنعن وھو مدلس
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 54
إسناده ضعيف
حفص بن غياث عنعن وھو مدلس
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 54
حدیث نمبر: 1317
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ. ح وحَدَّثَنَا هَنَّادٌ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ وَهَذَا حَدِيثُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهَا: أَيَّ حِينٍ كَانَ يُصَلِّي؟ قَالَتْ:" كَانَ إِذَا سَمِعَ الصُّرَاخَ قَامَ فَصَلَّى".
مسروق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز (تہجد) کے بارے میں پوچھا: میں نے ان سے کہا: آپ کس وقت نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: جب آپ مرغ کی بانگ سنتے تو اٹھ کر کھڑے ہو جاتے اور نماز شروع کر دیتے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1317]
مسروق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس وقت نماز پڑھا کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب مرغ کی پکار سنتے تو اٹھ کھڑے ہوتے اور نماز پڑھتے تھے۔“ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1317]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/التھجد 7 (1132)، والرقاق 18 (6461)، صحیح مسلم/المسافرین 17 (741)، سنن النسائی/قیام اللیل 8 (1617)، (تحفة الأشراف: 17659)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/110، 147، 203، 279) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح ق بلفظ الصارخ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1132) صحيح مسلم (741)
حدیث نمبر: 1318
حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" مَا أَلْفَاهُ السَّحَرُ عِنْدِي إِلَّا نَائِمًا، تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں صبح ہوتی تو آپ یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سوئے ہوئے ہی ملتے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1318]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی میرے ہاں ہوتے تو سحری کے وقت سوئے ہوئے ہوتے تھے۔“ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1318]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/التھجد 7 (1133)، صحیح مسلم/المسافرین 17 (742)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 126 (1197)، (تحفة الأشراف: 17715)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/270) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1133) صحيح مسلم (742)
حدیث نمبر: 1319
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الدُّؤَلِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ابْنِ أَخِي حُذَيْفَةَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حَزَبَهُ أَمْرٌ صَلَّى".
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی معاملہ پیش آتا تو آپ نماز پڑھتے ۱؎۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1319]
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی غم لاحق ہوتا تو نماز پڑھنے لگتے تھے۔“ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1319]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 3375)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/388) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: تاکہ نماز کی برکت سے وہ پریشانی دور ہو جائے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
محمد بن عبد اللّٰه بن أبي قدامة الدؤلي مجهول (التحرير : 6041) وثقه ابن حبان وحده وفي السند اختلاف
وحديث أحمد (4/ 333 ح 18937 وسنده صحيح) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 54
إسناده ضعيف
محمد بن عبد اللّٰه بن أبي قدامة الدؤلي مجهول (التحرير : 6041) وثقه ابن حبان وحده وفي السند اختلاف
وحديث أحمد (4/ 333 ح 18937 وسنده صحيح) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 54
حدیث نمبر: 1320
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْهِقْلُ بْنُ زِيَادٍ السَّكْسَكِيُّ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَبِيعَةَ بْنَ كَعْبٍ الْأَسْلَمِيَّ، يَقُولُ: كُنْتُ أَبِيتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آتِيهِ بِوَضُوئِهِ وَبِحَاجَتِهِ، فَقَالَ:" سَلْنِي" فَقُلْتُ: مُرَافَقَتَكَ فِي الْجَنَّةِ، قَالَ:" أَوَ غَيْرَ ذَلِكَ؟" قُلْتُ: هُوَ ذَاكَ، قَالَ:" فَأَعِنِّي عَلَى نَفْسِكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ".
ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رات گزارتا تھا، آپ کو وضو اور حاجت کا پانی لا کر دیتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”مانگو مجھ سے“، میں نے عرض کیا: میں جنت میں آپ کی رفاقت چاہتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے علاوہ اور کچھ؟“، میں نے کہا: بس یہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا تو اپنے واسطے کثرت سے سجدے کر کے (یعنی نماز پڑھ کر) میری مدد کرو“۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1320]
سیدنا ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رات گزارتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کا پانی اور دیگر ضروریات پیش کرتا تھا۔ (ایک بار) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مانگو!“ میں نے عرض کیا: ”جنت میں آپ کی رفاقت (کا سائل ہوں۔)“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی دوسری چیز؟“ میں نے عرض کیا: ”بس یہ ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو تم اپنے اس مطلب کے لیے کثرتِ سجود سے میری مدد کرو۔“ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1320]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة43 (489)، سنن الترمذی/الدعوات 26 (3416)، سنن النسائی/التطبیق 79 (1139)، وقیام اللیل 9 (1619)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 16 (3879)، (تحفة الأشراف: 3416، 3603)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/57) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (489)
حدیث نمبر: 1321
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، فِي هَذِهِ الْآيَةِ: تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ سورة السجدة آية 16، قَالَ: كَانُوا يَتَيَقَّظُونَ مَا بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ يُصَلُّونَ، وَكَانَ الْحَسَنُ، يَقُولُ: قِيَامُ اللَّيْلِ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں یہ جو اللہ تعالیٰ کا قول ہے «تتجا فى جنوبهم عن المضاجع يدعون ربهم خوفا وطمعا ومما رزقناهم ينفقون» ”ان کے پہلو بچھونوں سے جدا رہتے ہیں، اپنے رب کو ڈر اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں، اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا کیا اس میں سے خرچ کرتے ہیں“ (سورۃ السجدۃ: ۱۶) اس سے مراد یہ ہے کہ وہ لوگ مغرب اور عشاء کے درمیان جاگتے اور نماز پڑھتے ہیں۔ حسن کہتے ہیں: اس سے مراد تہجد پڑھنا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1321]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ اس آیت کریمہ ﴿تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ﴾ [سورة السجدة: 16] ”ان کے پہلو بستروں سے دور رہتے ہیں، وہ اپنے رب کو خوف اور امید سے پکارتے ہیں اور جو ہم نے ان کو دیا اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔“ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ”یہ لوگ (صحابہ) مغرب اور عشاء کے درمیان جاگتے تھے، یعنی نماز پڑھتے تھے۔“ اور جناب حسن بصری رحمہ اللہ اس سے ”رات کا قیام (تہجد)“ مراد لیتے ہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1321]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف: 1212)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/تفسیر القرآن 33 (3196) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قتادة وسعيد بن أبي عروبة مدلسان (تقدما : 29،33) وعنعنا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 55
إسناده ضعيف
قتادة وسعيد بن أبي عروبة مدلسان (تقدما : 29،33) وعنعنا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 55
حدیث نمبر: 1322
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: كَانُوا قَلِيلا مِنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ سورة الذاريات آية 17، قَالَ: كَانُوا يُصَلُّونَ فِيمَا بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، زَادَ فِي حَدِيثِ يَحْيَى: وَكَذَلِكَ تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ سورة السجدة آية 16.
انس رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول «كانوا قليلا من الليل ما يهجعون» ”وہ رات کو بہت تھوڑا سویا کرتے تھے“ (سورۃ الذاریات: ۱۷) کے بارے میں روایت ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ لوگ مغرب اور عشاء کے درمیان نماز پڑھتے تھے۔ یحییٰ کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ «تتجافى جنوبهم» سے بھی یہی مراد ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1322]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے آیت کریمہ ﴿كَانُوا قَلِيلًا مِنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ﴾ [سورة الذاريات: 17] ”یہ لوگ رات میں بہت کم سوتے تھے۔“ کی تفسیر میں فرمایا کہ ”صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مغرب اور عشاء کے مابین نماز پڑھا کرتے تھے۔“ اور یحییٰ کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ آیت کریمہ ﴿تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ﴾ [سورة السجدة: 16] سے بھی یہی مراد ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1322]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 1213) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (1321)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 55
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (1321)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 55
24. باب افْتِتَاحِ صَلاَةِ اللَّيْلِ بِرَكْعَتَيْنِ
باب: تہجد دو رکعت سے شروع کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1323
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جب کوئی رات کو اٹھے تو دو ہلکی رکعتیں پڑھے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1323]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی رات کو اٹھے تو چاہیے کہ (پہلے) دو ہلکی رکعتیں پڑھے۔“ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1323]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف: 14572)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 26 (768)، مسند احمد (2/232، 279، 399) (صحیح)» (آگے کے ابوداود کے تبصرہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ مرفوع قولی کی جگہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ پر وقف زیادہ صحیح ہے، نیز صحیح مسلم وغیرہ میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: ضعیف ابی داود: 2؍ 59- 60)
وضاحت: ۱؎: غالبا ً اس سے تحیۃ الوضو مراد ہے، یعنی پہلے یہ دونوں رکعتیں پڑھ لے، پھر تہجد شروع کرے، یا یہ تہجد ہی کی نماز ہے، مگر ابتداء ہلکی سے شروع کرے، دوسری روایت میں ہے «ثم ليطول بعد ما شاء» یعنی پھر اس کے بعد جتنی چاہے لمبی کرے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف والصحيح وقفه
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (768)