🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. باب وقت قيام النبي صلى الله عليه وسلم من الليل
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تہجد پڑھنے کے وقت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1320
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْهِقْلُ بْنُ زِيَادٍ السَّكْسَكِيُّ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَبِيعَةَ بْنَ كَعْبٍ الْأَسْلَمِيَّ، يَقُولُ: كُنْتُ أَبِيتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آتِيهِ بِوَضُوئِهِ وَبِحَاجَتِهِ، فَقَالَ:" سَلْنِي" فَقُلْتُ: مُرَافَقَتَكَ فِي الْجَنَّةِ، قَالَ:" أَوَ غَيْرَ ذَلِكَ؟" قُلْتُ: هُوَ ذَاكَ، قَالَ:" فَأَعِنِّي عَلَى نَفْسِكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ".
ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رات گزارتا تھا، آپ کو وضو اور حاجت کا پانی لا کر دیتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: مانگو مجھ سے، میں نے عرض کیا: میں جنت میں آپ کی رفاقت چاہتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے علاوہ اور کچھ؟، میں نے کہا: بس یہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا تو اپنے واسطے کثرت سے سجدے کر کے (یعنی نماز پڑھ کر) میری مدد کرو۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1320]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصلاة43 (489)، سنن الترمذی/الدعوات 26 (3416)، سنن النسائی/التطبیق 79 (1139)، وقیام اللیل 9 (1619)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 16 (3879)، (تحفة الأشراف: 3416، 3603)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/57) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (489)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥ربيعة بن مالك الأسلمي، أبو فراسصحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← ربيعة بن مالك الأسلمي
ثقة إمام مكثر
👤←👥يحيى بن أبي كثير الطائي، أبو نصر
Newيحيى بن أبي كثير الطائي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
ثقة ثبت لكنه يدلس ويرسل
👤←👥عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي، أبو عمرو
Newعبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي ← يحيى بن أبي كثير الطائي
ثقة مأمون
👤←👥هقل بن زياد السكسكي، أبو عبد الله
Newهقل بن زياد السكسكي ← عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي
ثقة
👤←👥هشام بن عمار السلمي، أبو الوليد
Newهشام بن عمار السلمي ← هقل بن زياد السكسكي
صدوق جهمي كبر فصار يتلقن
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
1139
أعني على نفسك بكثرة السجود
صحيح مسلم
1094
أعني على نفسك بكثرة السجود
سنن أبي داود
1320
أعني على نفسك بكثرة السجود
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1320 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1320
1320. اردو حاشیہ: فائدہ: یعنی میں تیری سفارش کروں گا کہ تو میرے ساتھ جنت میں رہے مگر کثرت عبادت ضروری ہے۔ سجدے بہت کیا کرو۔ حضرت ربیعہ کی منتہائے نظر پر زبان بے ساختہ عش عش کر اٹھتی ہے۔ رضي اللہ عنه و أرضاہ
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1320]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1139
سجدہ کی فضیلت کا بیان۔
ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کے وضو اور آپ کی حاجت کا پانی لے کر آتا تھا، تو ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مانگنا ہو مجھ سے مانگو، میں نے کہا: میں جنت میں آپ کی رفاقت چاہتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے علاوہ اور بھی کچھ؟ میں نے عرض کیا: بس یہی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اپنے اوپر کثرت سجدہ کو لازم کر کے میری مدد کرو ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1139]
1139۔ اردو حاشیہ:
➊ معلوم ہوا صرف سفارش اور دوسروں کی دعا پر اعتماد کافی نہیں بلکہ خود بھی کچھ مشکلات برداشت کرنی چاہئیں تاکہ سفارش اور دعا کا صحیح محل بن سکے۔ سفارش اور دعا کی وجہ جوازی بھی تو ہونی چاہیے۔
➋ خشوع و خضوع کے ساتھ سجدہ اصلاح نفس کا بہترین نسخہ ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تجویز فرمایا۔
➌ جنت میں جانے کے لیے اصلاح نفس ازحد ضروری ہے۔
➍ مراتب عالیہ کا حصول نفس امارہ کی مخالفت ہی سے ممکن ہے۔
➎ اس حدیث مبارکہ سے نفلی نماز کی فضیلت بھی ثابت ہوتی ہے۔
➏ جنت میں کچھ عام لوگ بھی انبیاء کے ساتھ ہوں گے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1139]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1094
حضرت ربیعہ بن کعب اسلمی ‬ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رات گزارتا تھا، (جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کے لیے اٹھے) تو میں نے وضو کا پانی اور دوسری ضروریات لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: مانگو میں نے عرض کیا: میری مانگ یہ ہے کہ جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت نصیب ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہی یا اس کے سوا کچھ اور بھی؟ میں نے عرض کیا بس میں تو یہی مانگتا ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے اس معاملے میں سجدوں کی کثرت... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:1094]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
(1)
ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اصحاب صفہ میں سے تھے اور سفر و حضر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم کی حیثیت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے تھے تو کسی رات یہ واقعہ پیش آیا نیز ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ربیعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں کثرت سجود مراد نفل نمازوں کی کثرت ہے۔
(2)
مقربین بارگاہ خداوندی پر کبھی کبھی ایسے حالات آتے ہیں کہ وہ محسوس کرتے ہیں۔
اس وقت اللہ تعالیٰ کی عنایات وافضال متوجہ ہیں جس کی بنا پر وہ سمجھتے ہیں کہ اس وقت اللہ سے جو کچھ مانگا جائے گا ان شاء اللہ مل جائے گا کسی رات جب حضرت ربیعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پانی اور دوسری ضرورت کی چیزیں لے کر حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی خدمت سے متاثر ہو کر مسرت و انبساط کے عالم میں فرمایا ربیعہ تمھارے دل میں اگر کسی خاص چیز کی چاہت اور آرزو ہو تو اس وقت مانگ لو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا اور امید ہے وہ تمھارے مراد پوری فرمائے گا انھوں نے اس کے جواب میں جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کی خواہش کی اور مکرر دریافت کرنے پر بھی یہی کہا مجھے تو بس یہی چاہیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تم جنت میں میری رفاقت چاہتے ہو یہ بہت بلند و بالا مقام ہے اور اس عظیم مرتبہ کے لیے میں تمھارے حق میں دعا کروں گا لیکن تم بھی اس کا استحقاق پیدا کرنے کے لیے عملی کوشش کرو اور وہ خاص عمل جو اس منزل تک پہنچانے میں مددگار ہو سکتا ہے وہ اللہ کے حضور سجدوں کی کثرت ہے لہٰذا تم اس کا خاص اہتمام کر کے اپنے اس معاملہ میں میری مدد کرو۔
ہماری اس وضاحت سے اس غلط استدلال کا جواب مل جاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا:
مانگ کیا مانگتا ہے؟ اس پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا اور آخرت کی تمام نعمتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ملک اور اختیار میں دے دی تھیں کہ جس کو چاہیں اور جتنا چاہیں (بشرط موافقت تقدیر)
عطا کر دیں اگر سب نعمتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار اور ملک میں دے دی تھیں تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔
فَأَعِنِّي عَلَى نَفْسِكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ (اور اللہ تعالیٰ نے یہ کیوں فرمایا:
)
﴿إِنَّكَ لا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ﴾ (اور)
﴿قُل لَّا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا﴾ (میں تو اپنے نفع اور نقصان کا بھی مالک نہیں ہوں)
(اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پھوپھی اور بیٹی کو کیوں فرمایا:
(إني لا أملك لكم من الله شيئأ)
اور مزید برآں اللہ کی اجازت سے دینے کو تو اختیار اور ملکیت سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا کہ ہر چہ خواہد ہر کر خواہد باذن پرورددگار خود ہد کہ جو کچھ چاہتے اور جس کو چاہتے اپنے پروردگار کے اذن سے عطا فرماتے جب اذن کی ضرورت ہے تو پھر ہرچہ اور ہرکرا کہنا کہاں تک درست ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1094]