🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب نَسْخِ قِيَامِ اللَّيْلِ وَالتَّيْسِيرِ فِيهِ
باب: تہجد کی فرضیت کی منسوخی اور اس میں آسانی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1304
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ ابْنِ شَبُّوَيْهِ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ،قَالَ فِي الْمُزَّمِّلِ: قُمِ اللَّيْلَ إِلا قَلِيلا {2} نِصْفَهُ سورة المزمل آية 1-2 نَسَخَتْهَا الْآيَةُ الَّتِي فِيهَا عَلِمَ أَنْ لَنْ تُحْصُوهُ فَتَابَ عَلَيْكُمْ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْءَانِ سورة المزمل آية 20 وَنَاشِئَةُ اللَّيْلِ: أَوَّلُهُ، وَكَانَتْ صَلَاتُهُمْ لِأَوَّلِ اللَّيْلِ، يَقُولُ: هُوَ أَجْدَرُ أَنْ تُحْصُوا مَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ مِنْ قِيَامِ اللَّيْلِ، وَذَلِكَ أَنَّ الْإِنْسَانَ إِذَا نَامَ لَمْ يَدْرِ مَتَى يَسْتَيْقِظُ، وَقَوْلُهُ: وَأَقْوَمُ قِيلا سورة المزمل آية 6 هُوَ أَجْدَرُ أَنْ يَفْقَهَ فِي الْقُرْآنِ، وَقَوْلُهُ: إِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبْحًا طَوِيلا سورة المزمل آية 7، يَقُولُ: فَرَاغًا طَوِيلًا.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں سورۃ مزمل کی آیت «قم الليل إلا قليلا، نصفه» ۱؎ رات کو کھڑے رہو مگر تھوڑی رات یعنی آدھی رات کو دوسری آیت «علم أن لن تحصوه فتاب عليكم فاقرءوا ما تيسر من القرآن» ۲؎ اسے معلوم ہے کہ تم اس کو پورا نہ کر سکو گے لہٰذا اس نے تم پر مہربانی کی، لہٰذا اب تم جتنی آسانی سے ممکن ہو (نماز میں) قرآن پڑھا کرو نے منسوخ کر دیا ہے، «ناشئة الليل» کے معنی شروع رات کے ہیں، چنانچہ صحابہ کی نماز شروع رات میں ہوتی تھی، اس لیے کہ رات میں جو قیام اللہ نے تم پر فرض کیا تھا اس کی ادائیگی اس وقت آسان اور مناسب ہے کیونکہ انسان سو جائے تو اسے نہیں معلوم کہ وہ کب جاگے گا اور «أقوم قيلا» سے مراد یہ ہے رات کا وقت قرآن سمجھنے کے لیے بہت اچھا وقت ہے اور اس کے قول «إن لك في النهار سبحا طويلا» ۳؎ کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے کام کاج کے واسطے دن کو بہت فرصت ہوتی ہے (لہٰذا رات کا وقت عبادت میں صرف کیا کرو)۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1304]
سیدنا عکرمہ رحمہ اللہ راوی ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے سورۃ المزمل کی تفسیر میں فرمایا کہ ﴿قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا * نِصْفَهُ﴾ [سورة المزمل: 2-3] سے اسی سورت کی دوسری آیت ﴿عَلِمَ أَنْ لَنْ تُحْصُوهُ فَتَابَ عَلَيْكُمْ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ﴾ [سورة المزمل: 20] کی رو سے رات کے ابتدائی حصے میں جاگنا مراد ہے۔ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی نماز (قیام اللیل) رات کے ابتدائی حصے میں ہوا کرتی تھی، اور اس وقت میں اللہ کا فرض کردہ قیام اللیل ٹھیک ٹھیک ادا کرنے میں زیادہ آسانی ہے کیونکہ سو جانے کے بعد انسان کو خبر نہیں ہوتی کہ کب بیدار ہوگا (یا نہ بیدار ہو سکے گا)۔ «وَأَقْوَمُ قِيلًا» کا مفہوم یہ ہے کہ قرآن سمجھنے کے لیے یہ وقت بہت بہتر ہے اور ﴿إِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبْحًا طَوِيلًا﴾ [سورة المزمل: 7] سے مراد لمبی فرصت ہے (یعنی دن کے وقت دنیاوی امور میں مشغولیت ہوتی ہے اس لیے رات کا وقت عبادت میں لگاؤ)۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1304]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6254) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: سورة المزمل: (۲،۳) ۲؎: سورة المزمل: (۲۰) ۳؎: سورة المزمل: (۷)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1305
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي الْمَرْوَزِيَّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ سِمَاكٍ الْحَنَفِيِّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ أَوَّلُ الْمُزَّمِّلِ كَانُوا يَقُومُونَ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِمْ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ حَتَّى نَزَلَ آخِرُهَا، وَكَانَ بَيْنَ أَوَّلِهَا وَآخِرِهَا سَنَةٌ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب سورۃ مزمل کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں تو لوگ رات کو (نماز میں) کھڑے رہتے جتنا کہ رمضان میں کھڑے رہتے ہیں، یہاں تک کہ سورۃ کا آخری حصہ نازل ہوا، ان دونوں کے درمیان ایک سال کا وقفہ ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1305]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب سورۃ المزمل کا ابتدائی حصہ ﴿قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا﴾ [سورة المزمل: 2] نازل ہوا تو صحابہ کرام ایسے قیام کرتے تھے جیسے کہ رمضان میں قیام کرتے ہیں حتیٰ کہ اس سورت کا آخری حصہ نازل ہوا اور ان دونوں حصوں کے نزول میں ایک سال کا فرق تھا۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1305]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5678) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. باب قِيَامِ اللَّيْلِ
باب: تہجد (قیام اللیل) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1306
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَعْقِدُ الشَّيْطَانُ عَلَى قَافِيَةِ رَأْسِ أَحَدِكُمْ إِذَا هُوَ نَامَ ثَلَاثَ، عُقَدٍ يَضْرِبُ مَكَانَ كُلِّ عُقْدَةٍ عَلَيْكَ لَيْلٌ طَوِيلٌ فَارْقُدْ، فَإِنِ اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِنْ تَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِنْ صَلَّى انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَأَصْبَحَ نَشِيطًا طَيِّبَ النَّفْسِ، وَإِلَّا أَصْبَحَ خَبِيثَ النَّفْسِ كَسْلَانَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان تم میں سے ہر ایک کی گدی پر رات کو سوتے وقت تین گرہیں لگا دیتا ہے اور ہر گرہ پر تھپکی دے کر کہتا ہے: ابھی لمبی رات پڑی ہے، سو جاؤ، اب اگر وہ جاگ جائے اور اللہ کا ذکر کرے تو اس کی ایک گرہ کھل جاتی ہے، اور اگر وہ وضو کر لے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے، اور اگر نماز پڑھ لے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے، اب وہ صبح اٹھتا ہے تو چستی اور خوش دلی کے ساتھ اٹھتا ہے ورنہ سستی اور بد دلی کے ساتھ صبح کرتا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1306]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی سوتا ہے تو شیطان اس کی گدی کے پاس تین گرہیں لگا دیتا ہے اور ہر گرہ پر یہ دم کرتا ہے: رات لمبی ہے سویا رہ اگر وہ جاگ جائے، اللہ کا ذکر کرے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، اگر وہ وضو کر لے تو دوسری کھل جاتی ہے اور اگر نماز پڑھ لے تو تیسری بھی کھل جاتی ہے اور وہ ہشاش بشاش، خوش خوش صبح کرتا ہے، ورنہ بری حالت اور کسل مندی کی کیفیت میں صبح کرتا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1306]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/التھجد 12 (1142)، وبدء الخلق 11 (3269)، (تحفة الأشراف: 13820)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 28 (776)، سنن النسائی/قیام اللیل 5 (1608)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 174 (1329)، موطا امام مالک/قصر الصلاة 25 (95)، مسند احمد (2/243، 253، 259) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1142) صحيح مسلم (776)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1307
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَيْسٍ، يَقُولُ:قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: لَا تَدَعْ قِيَامَ اللَّيْلِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ لَا يَدَعُهُ، وَكَانَ إِذَا مَرِضَ أَوْ كَسِلَ صَلَّى قَاعِدًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں تہجد (قیام اللیل) نہ چھوڑو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے نہیں چھوڑتے تھے، جب آپ بیمار یا سست ہوتے تو بیٹھ کر پڑھتے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1307]
سیدنا عبداللہ بن ابی قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رات کا قیام مت چھوڑو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے نہ چھوڑتے تھے۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوتے یا کسل مندی کی کیفیت ہوتی تو بیٹھ کر نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1307]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 16281)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/126، 249) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1308
حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّى وَأَيْقَظَ امْرَأَتَهُ، فَإِنْ أَبَتْ نَضَحَ فِي وَجْهِهَا الْمَاءَ، رَحِمَ اللَّهُ امْرَأَةً قَامَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّتْ وَأَيْقَظَتْ زَوْجَهَا، فَإِنْ أَبَى نَضَحَتْ فِي وَجْهِهِ الْمَاءَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھے اور نماز پڑھے اور اپنی بیوی کو بھی بیدار کرے، اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے، اللہ تعالیٰ اس عورت پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھے اور اپنے شوہر کو بھی جگائے، اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے ۱؎۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1308]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا» اللہ تعالیٰ اس بندے پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھتا اور اپنی بیوی کو جگاتا ہے، اگر وہ انکار کرے تو اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارتا ہے، اور «رَحِمَ اللَّهُ امْرَأَةً» اللہ تعالیٰ اس بندی پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھتی اور اپنے شوہر کو جگاتی ہے، اگر وہ انکار کرے تو اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارتی ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1308]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/قیام اللیل 5 (1611)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 175 (1336)، (تحفة الأشراف: 12860)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/250، 436) (حسن صحیح) ویأتی ہذا الحدیث برقم (1450)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: کیونکہ پانی چھڑکنے سے وہ جاگ جائے گا اور نماز ادا کرے گا تو وہ بھی ثواب کی مستحق ہو گی۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1230)
أخرجه النسائي (1611 وسنده حسن) ابن عجلان صرح بالسماع عند النسائي (1611) والحديث الآتي (1450)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1309
حَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ الْمَعْنَى، عَنْ الْأَغَرِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَيْقَظَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّيَا أَوْ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ جَمِيعًا كُتِبَا فِي الذَّاكِرِينَ وَالذَّاكِرَاتِ" وَلَمْ يَرْفَعْهُ ابْنُ كَثِيرٍ، وَلَا ذَكَرَ أَبَا هُرَيْرَةَ، جَعَلَهُ كَلَامَ أَبِي سَعِيدٍ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ ابْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: وَأُرَاهُ ذَكَرَ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ سُفْيَانَ مَوْقُوفٌ.
ابوسعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی اپنی بیوی کو رات میں جگائے اور وہ دونوں نماز پڑھیں تو وہ دونوں ذاکرین اور ذاکرات میں لکھے جاتے ہیں۔ ابن کثیر نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے اور نہ اس میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ہے اور انہوں نے اسے ابوسعید رضی اللہ عنہ کا کلام قرار دیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن مہدی نے سفیان سے روایت کیا ہے اور میرا گمان ہے کہ اس میں انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بھی ذکر کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سفیان کی حدیث موقوف ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1309]
سیدنا ابوسعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب شوہر اپنی اہلیہ کو رات کے وقت جگاتا ہے اور وہ دونوں نماز پڑھتے یا دو رکعتیں پڑھتے ہیں تو ان کا اندراج ذاکرین و ذاکرات ﴿الذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ﴾ [سورة الأحزاب: 35] میں ہو جاتا ہے۔ ابن کثیر نے اس کو مرفوع ذکر نہیں کیا اور نہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا نام ہی لیا بلکہ اسے ابوسعید رضی اللہ عنہ کا کلام بتایا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن مہدی نے سفیان سے روایت کیا اور کہا: میرا خیال ہے کہ اس نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا نام لیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: سفیان کی حدیث موقوف ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1309]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 175 (1335) ویأتی ہذا الحدیث برقم (1551)، (تحفة الأشراف: 3965)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبری / التفسیر (11406) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (1335)،يأتي (1451)
الأعمش مدلس وعنعن وللحديث طرق ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 54

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. باب النُّعَاسِ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں اونگھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1310
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَرْقُدْ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا صَلَّى وَهُوَ نَاعِسٌ لَعَلَّهُ يَذْهَبُ يَسْتَغْفِرُ فَيَسُبَّ نَفْسَهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی نماز میں اونگھنے لگے تو سو جائے یہاں تک کہ اس کی نیند چلی جائے، کیونکہ اگر وہ اونگھتے ہوئے نماز پڑھے گا تو شاید وہ استغفار کرنے چلے لیکن خود کو وہ بد دعا کر بیٹھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1310]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو نماز میں اونگھ آنے لگے تو اسے چاہیے کہ سو جائے، حتیٰ کہ اس کی نیند پوری ہو جائے کیونکہ جب کوئی اونگھتے ہوئے نماز پڑھے تو ہو سکتا ہے کہ وہ استغفار کرنا چاہتا ہو مگر اپنے آپ کو گالیاں ہی دینے لگے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1310]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الوضوء 53 (212)، صحیح مسلم/المسافرین 31 (786)، (تحفة الأشراف: 17147)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 146 (355)، سنن النسائی/الطھارة 117 (162)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 184 (1370)، موطا امام مالک/صلاة اللیل 1 (3)، مسند احمد (6/56، 205)، سنن الدارمی/الصلاة 107(1423) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: مثلا «اللهم اغفر» کے بجائے اس کی زبان سے «اللهم اعفر» نکلے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (212) صحيح مسلم (786)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1311
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَاسْتَعْجَمَ الْقُرْآنُ عَلَى لِسَانِهِ فَلَمْ يَدْرِ مَا يَقُولُ فَلْيَضْطَجِعْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی رات میں (نماز پڑھنے کے لیے) کھڑا ہو اور قرآن اس کی زبان پر لڑکھڑانے لگے اور وہ نہ سمجھ پائے کہ کیا کہہ رہا ہے تو اسے چاہیئے کہ سو جائے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1311]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی رات کو اٹھ کر نماز پڑھے اور پھر قرآن کو اپنی زبان پر بھاری محسوس کرنے لگے، اسے معلوم نہ ہو کہ کیا کہہ رہا ہے تو چاہیے کہ سو جائے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1311]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المسافرین 31 (787)، (تحفة الأشراف: 14721)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 184 (1372)، مسند احمد (2/218) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (787)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1312
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، وَهَارُونُ بْنُ عَبَّادٍ الْأَزْدِيُّ، أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَحَبْلٌ مَمْدُودٌ بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ، فَقَالَ:" مَا هَذَا الْحَبْلُ؟" فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذِهِ حَمْنَةُ بِنْتُ جَحْشٍ تُصَلِّي، فَإِذَا أَعْيَتْ تَعَلَّقَتْ بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِتُصَلِّ مَا أَطَاقَتْ، فَإِذَا أَعْيَتْ فَلْتَجْلِسْ". قَالَ زِيَادٌ: فَقَالَ:" مَا هَذَا؟" فَقَالُوا: لِزَيْنَبَ تُصَلِّي، فَإِذَا كَسِلَتْ أَوْ فَتَرَتْ أَمْسَكَتْ بِهِ، فَقَالَ:" حُلُّوهُ" فَقَالَ:" لِيُصَلِّ أَحَدُكُمْ نَشَاطَهُ، فَإِذَا كَسِلَ أَوْ فَتَرَ فَلْيَقْعُدْ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے دیکھا کہ دو ستونوں کے درمیان ایک رسی بندھی ہوئی ہے، پوچھا: یہ رسی کیسی بندھی ہے؟، عرض کیا گیا: یہ حمنہ بنت حجش رضی اللہ عنہا کی ہے، وہ نماز پڑھتی ہیں اور جب تھک جاتی ہیں تو اسی رسی سے لٹک جاتی ہیں، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جتنی طاقت ہو اتنی ہی نماز پڑھا کریں، اور جب تھک جائیں تو بیٹھ جائیں۔ زیاد کی روایت میں یوں ہے: آپ نے پوچھا یہ رسی کیسی ہے؟ لوگوں نے کہا: زینب رضی اللہ عنہا کی ہے، وہ نماز پڑھا کرتی ہیں، جب سست ہو جاتی ہیں یا تھک جاتی ہیں تو اس کو تھام لیتی ہیں، آپ نے فرمایا: اسے کھول دو، تم میں سے ہر ایک کو اسی وقت تک نماز پڑھنا چاہیئے جب تک «نشاط» رہے، جب سستی آنے لگے یا تھک جائے تو بیٹھ جائے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1312]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے اور دو ستونوں کے درمیان ایک رسی لٹکی ہوئی تھی۔ پوچھا: یہ رسی کیسی ہے؟ کہا گیا: اے اللہ کے رسول! یہ حمنہ بنت جحش نماز پڑھتی ہے، جب تھک جاتی ہے تو اس کے ساتھ لٹک جاتی ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک طاقت ہو نماز پڑھے اور جب تھک جائے تو بیٹھ جائے۔ زیاد نے روایت کیا آپ نے پوچھا یہ کیا ہے؟ تو (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) کہنے لگے یہ زینب رضی اللہ عنہا کی ہے، نماز پڑھتی رہتی ہے، جب سست ہو جاتی ہے یا تھک جاتی ہے تو اسے تھام لیتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے کھول دو۔ تمہیں چاہیے کہ جب تک چستی سے نماز پڑھی جائے پڑھو، جب سستی محسوس کرو یا تھک جاؤ تو بیٹھ جاؤ۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1312]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المسافرین 32 (784)، سنن النسائی/قیام اللیل 15 (1644)، (تحفة الأشراف: 995)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التھجد 18 (1150)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 184 (1371)، مسند احمد (3/101، 184، 204، 205) (صحیح) دون ذکر حمنة» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح دون ذكر حمنة ق
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1150) صحيح مسلم (784)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. باب مَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِهِ
باب: جو اپنا وظیفہ پڑھے بغیر سو جائے تو کیا کرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1313
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ. ح وحَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ الْمَعْنَى، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ، وَعُبَيْدَ اللَّهِ أَخْبَرَاهُ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدٍ، قَالَ: عَنْ ابْنِ وَهْبِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِهِ أَوْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ فَقَرَأَهُ مَا بَيْنَ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الظُّهْرِ كُتِبَ لَهُ كَأَنَّمَا قَرَأَهُ مِنَ اللَّيْلِ".
عبدالرحمٰن بن عبدالقاری کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جو شخص اپنا پورا وظیفہ یا اس کا کچھ حصہ پڑھے بغیر سو جائے پھر اسے صبح اٹھ کر فجر اور ظہر کے درمیان میں پڑھ لے تو اسے اسی طرح لکھا جائے گا گویا اس نے اسے رات ہی کو پڑھا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1313]
ابن وہب، عبدالرحمن بن عبدالقاری سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنا ورد وظیفہ نہ پڑھ سکا ہو اور سو گیا ہو اور پھر اسے فجر اور ظہر کے درمیان پڑھ لے، تو اس کے لیے ایسے ہی لکھا جاتا ہے گویا اس نے اس کو رات میں پڑھا ہو۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1313]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المسافرین 18 (747)، سنن الترمذی/الصلاة 291 (الجمعة56) (581)، سنن النسائی/قیام اللیل 56 (1791، 1792، 1793)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 177 (1343)، (تحفة الأشراف: 10592)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القرآن 3 (3)، مسند احمد (1/32، 53)، سنن الدارمی/الصلاة 167 (1518) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (747)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں