صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1. باب
حدیث نمبر: 4375
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ النَّذْرِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”نذر (ماننے) سے منع کیا ہے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النذور/حدیث: 4375]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6608، 6692، 6693، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1639، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4375، 4377، 4378، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7932، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3810، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3287، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2122، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20161، وأحمد فى (مسنده) برقم: 5371» «رقم طبعة با وزير 4360»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (8/ 208 / 2585): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
2. ذكر العلة التي من أجلها زجر عن النذر-
- ذکر اس وجہ کا کہ نذر ماننے سے کیوں منع کیا گیا
حدیث نمبر: 4376
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَنْذِرُوا، فَإِِنَّ النَّذْرَ لا يَرُدُّ مِنَ الْقَدْرِ شَيْئًا، وَإِِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم لوگ نذر نہ مانو، کیونکہ نذر تقدیر کی کسی چیز کو نہیں بدلتی ہے، اس کے ذریعے کنجوس سے مال نکلوایا جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النذور/حدیث: 4376]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6609، 6694، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1640، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1003، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4376، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7933، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3813، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3288، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1538، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2123، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20162، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7328» «رقم طبعة با وزير 4361»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - المصدر نفسه: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
3. ذكر خبر ثان يصرح بذكر العلة التي ذكرناها قبل-
- ذکر دوسری خبر جو اس وجہ کو واضح کرتی ہے جو ہم نے پہلے ذکر کی
حدیث نمبر: 4377
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِِنَّ النَّذْرُ لا يَرُدُّ شَيْئًا، وَلَكِنْ يُسْتَخْرَجُ مِنَ الْبَخِيلِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”نذر کسی چیز کو ختم نہیں کرتی ہے، اس کے ذریعے کنجوس سے مال نکلوایا جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النذور/حدیث: 4377]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6608، 6692، 6693، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1639، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4375، 4377، 4378، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7932، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3810، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3287، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2122، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20161، وأحمد فى (مسنده) برقم: 5371» «رقم طبعة با وزير 4362»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر ما قبله بحديث.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
4. ذكر الإخبار عما يجب على المرء من قلة الاشتغال بالنذر في أسبابه-
- ذکر اس خبر کا کہ انسان پر نذر ماننے میں کم مشغول ہونا واجب ہے
حدیث نمبر: 4378
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ إِِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِِنَّ ابْنًا لِي كَانَ بِأَرْضِ فَارِسَ فَوَقَعَ بِهَا الطَّاعُونُ، فَنَذَرْتُ إِِنِ اللَّهُ نَجَّى لِي ابْنِي أَنْ يَمْشِيَ إِِلَى الْكَعْبَةِ، وَإِِنَّ ابْنِي قَدِمَ فَمَاتَ. فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ: أَوْفِ بِنَذْرِكَ. فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: إِِنَّمَا نَذَرْتُ أَنْ يَمْشِيَ ابْنِي، وَإِِنَّ ابْنِي قَدْ مَاتَ. فَغَضِبَ عَبْدُ اللَّهِ، وَقَالَ: أَوَلَمْ تُنْهَوْا عَنِ النَّذْرِ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِِنَّ النَّذْرَ لا يُقَدِّمُ شَيْئًا وَلا يُؤَخِّرُهُ، وَلَكِنَّ اللَّهَ يَنْزِعُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ" . فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ، قُلْتُ لِلرَّجُلِ: انْطَلِقْ إِِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ فَسَلْهُ، فَانْطَلَقَ إِِلَيْهِ فَسَأَلَهُ، ثُمَّ رَجَعَ، فَقُلْتُ: مَاذَا قَالَ لَكَ؟ قَالَ: امْشِ عَنِ ابْنِكَ. قَالَ: أَيُجْزِئُ عَنِّي ذَلِكَ؟ فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ: أَرَأَيْتَ لَوَ كَانَ عَلَى ابْنِكَ دَيْنٌ فَقَضَيْتَهُ، أَكَانَ يُجْزِئُ عَنْهُ؟ قُلْتُ: بَلَى. قَالَ: فَامْشِ عَنِ ابْنِكَ.
سعید بن حارث بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھا، اسی دوران ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا: اے ابوعبدالرحمن! میرا ایک بیٹا فارس کی سرزمین پر موجود تھا، وہاں طاعون پھیل گیا، میں نے نذر مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے میرے بیٹے کو نجات عطا کر دی تو وہ خانہ کعبہ تک پیدل چل کر جائے گا، پھر میرا بیٹا (زندہ سلامت) آ گیا، لیکن اس کا انتقال ہو گیا، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے فرمایا: تم اپنی نذر کو پورا کرو، تو اس شخص نے ان سے کہا: میں نے یہ نذر مانی تھی کہ میرا بیٹا پیدل جائے گا، میرے بیٹے کا تو انتقال ہو گیا ہے، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما غصے میں آ گئے اور بولے: کیا تم لوگوں کو نذر ماننے سے منع نہیں کیا گیا؟ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بے شک نذر کسی بھی چیز کو آگے یا پیچھے نہیں کرتی ہے بلکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے کنجوس سے مال الگ کر دیتا ہے۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) جب میں نے یہ صورت حال دیکھی تو میں نے اس شخص سے کہا: تم سعید بن مسیب رحمہ اللہ کے پاس جاؤ اور ان سے اس مسئلے کے بارے میں دریافت کرو، وہ ان کے پاس گیا اور ان سے یہ مسئلہ دریافت کیا، پھر وہ واپس آیا تو میں نے دریافت کیا: انہوں نے تمہیں کیا جواب دیا ہے؟ تو اس نے بتایا: انہوں نے یہ کہا ہے تم اپنے بیٹے کی طرف سے پیدل چل کر جاؤ، اس نے دریافت کیا: کیا یہ میرے لیے جائز ہو گا؟ تو سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے کہا: تمہاری کیا رائے ہے اگر تمہارے بیٹے کے ذمے قرض ہوتا اور تم اسے ادا کر دیتے تو کیا اس کی طرف سے ادا ہو جاتا؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں، تو انہوں نے فرمایا: تم اپنے بیٹے کی طرف سے پیدل چل کر جاؤ۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النذور/حدیث: 4378]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6608، 6692، 6693، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1639، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4375، 4377، 4378، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7932، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3810، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3287، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2122، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20161، وأحمد فى (مسنده) برقم: 5371» «رقم طبعة با وزير 4363»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (2585).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي
5. ذكر الإباحة للمرء الوفاء بنذر تقدم منه في الجاهلية-
- ذکر اس بات کی اجازت کا کہ انسان جاہلیت میں مانے گئے نذر کو پورا کر سکتا ہے
حدیث نمبر: 4379
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ نَذَرَ أَنْ يَعْتَكِفَ لَيْلَةً فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَوْفِ بِنَذْرِكَ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے زمانہ جاہلیت میں یہ نذر مانی تھی کہ وہ مسجد حرام میں ایک رات کا اعتکاف کریں گے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم اپنی نذر کو پورا کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النذور/حدیث: 4379]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2032، 2042، 2043، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1656، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1013، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2239، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4379، 4380، 4381، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1610، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3829، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2474، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1539، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1772، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8669، وأحمد فى (مسنده) برقم: 261» «رقم طبعة با وزير 4364»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «النسائي» (3821): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
6. ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه
ایک دوسری روایت کا ذکر جو اس بات کی صحت کو واضح طور پر بیان کرتی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے
حدیث نمبر: 4380
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ، إِِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَعْتَكِفَ لَيْلَةً فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَأَوْفِ بِنَذْرِكَ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نازل کرے، میں نے زمانہ جاہلیت میں یہ نذر مانی تھی کہ میں مسجد حرام میں ایک رات کا اعتکاف کروں گا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنی نذر کو پورا کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النذور/حدیث: 4380]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2032، 2042، 2043، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1656، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1013، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2239، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4379، 4380، 4381، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1610، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3829، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2474، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1539، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1772، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8669، وأحمد فى (مسنده) برقم: 261» «رقم طبعة با وزير 4365»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
7. ذكر خبر قد يوهم غير المتبحر في صناعة العلم أنه مضاد للخبرين اللذين ذكرناهما-
- ذکر اس خبر کا جو غیر ماہر عالم کو یہ وہم دلا سکتا ہے کہ یہ ہمارے ذکر کردہ دو خبروں سے متضاد ہے
حدیث نمبر: 4381
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ ، قَالَ: لَمَّا قَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حُنَيْنٍ" سَأَلَ عُمَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَذَرٍ كَانَ نَذَرَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ اعْتِكَافِ يَوْمٍ، فَأَمَرَهُ بِهِ". قَالَ: فَانْطَلَقَ بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ: فَبَعَثَ مَعِي بِجَارِيَةٍ أَصَابَهَا مِنْ سَبْيِ حُنَيْنٍ، قَالَ: فَجَعَلْتُهَا فِي بُيُوتِ الأَعْرَابِ حَتَّى نَزَلْتُ، فَإِِذَا أَنَا بِسَبْيِ حُنَيْنٍ، فَخَرَجُوا يَسْعَوْنَ يَقُولُونَ: قَدْ أَعْتَقَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ عُمَرُ لِعَبْدِ اللَّهِ: اذْهَبْ فَأَرْسِلْهَا. قَالَ: فَذَهَبْتُ فَأَرْسَلْتُهَا . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: أَلْفَاظُ أَخْبَارِ ابْنِ عُمَرَ مُصَرِّحَةٌ أَنَّ عُمَرَ نَذَرَ اعْتِكَافَ لَيْلَةً، إِِلا هَذَا الْخَبَرَ، فَإِِنَّ لَفْظَهُ أَنَّ عُمَرَ نَذَرَ اعْتِكَافَ يَوْمٍ، فَإِِنْ صَحَّتْ هَذِهِ اللَّفْظَةُ يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ يَوْمًا أَرَادَ بِهِ بِلَيْلَتِهِ، وَلَيْلَةً أَرَادَ بِهَا بِيَوْمِهَا، حَتَّى لا يَكُونَ بَيْنَ الْخَبَرَيْنِ تَضَادٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حنین سے واپس تشریف لائے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس نذر کے بارے میں دریافت کیا جو انہوں نے زمانہ جاہلیت میں ایک دن کا اعتکاف کرنے کے بارے میں مانی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسے پورا کرنے کا حکم دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے روانہ ہو گئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہمراہ ایک کنیز بھیجی تھی جو حنین کے قیدیوں میں سے تھی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے اسے دیہاتیوں کے گھروں میں ٹھہرا دیا یہاں تک کہ جب میں نے پڑاؤ کیا تو میرے سامنے حنین کے کچھ قیدی آئے جو دوڑتے ہوئے باہر نکلے تھے اور یہ کہہ رہے تھے: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں آزاد کر دیا ہے“، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم جاؤ اور اس کنیز کو آزاد کر دو“۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: تو میں گیا اور میں نے اسے آزاد کر دیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) روایت کے الفاظ میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس بات کی صراحت کی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک رات کا اعتکاف کرنے کی نذر مانی تھی اور یہ بات صرف اسی روایت میں منقول ہے، کیونکہ اس روایت کے الفاظ یہ ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک دن کا اعتکاف کرنے کی نذر مانی تھی، تو اگر یہ الفاظ مستند طور پر ثابت ہو جائیں، تو اس بات کا احتمال موجود ہو گا کہ یہاں دن سے مراد یہ ہے: اس دن کی رات کے ہمراہ (اعتکاف کیا جائے) اور جہاں رات کا لفظ استعمال ہوا اس سے مراد یہ ہو کہ اس کا دن ہمراہ ہو گا، اس طرح ان دونوں روایتوں کے درمیان کوئی تضاد باقی نہیں رہے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النذور/حدیث: 4381]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2032، 2042، 2043، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1656، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1013، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2239، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4379، 4380، 4381، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1610، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3829، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2474، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1539، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1772، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8669، وأحمد فى (مسنده) برقم: 261» «رقم طبعة با وزير 4366»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «قيام رمضان» (34)، «صحيح أبي داود» (2836 - 2837).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
8. ذكر الإباحة للمرء الركوب إذا نذر أن يمشي إلى البيت العتيق-
- ذکر اس بات کی اجازت کا کہ اگر انسان نے بیت اللہ کی طرف پیدل جانے کی نذر مانی تو وہ سواری کر سکتا ہے
حدیث نمبر: 4382
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، عَنِ الْهِقْلِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْيَمَانِ الْمَدَنِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ، أَنَّ حُمَيْدًا الطَّوِيلَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ يُهَادَى بَيْنَ اثْنَيْنِ، فَسَأَلَ عَنْهُ، فَقَالُوا: نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ يَعْنِي إِِلَى الْكَعْبَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِِنَّ اللَّهَ لِغَنِيٌّ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ" . وَاللَّيْثُ وَالْهِقْلُ وَالأَوْزَاعِيُّ كُلُّهُمْ أَقْرَانٌ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْيَمَانِ وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَحُمَيْدٌ أَقْرَانٌ، رَوَى بَعْضُهُمْ عَنْ بَعْضٍ، قَالَهُ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللَّهُ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا جو دو آدمیوں کے درمیان سہارا لے کر چل رہا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں دریافت کیا تو لوگوں نے بتایا: اس نے یہ نذر مانی ہے کہ وہ پیدل چل کر جائے گا (راوی کہتے ہیں: یعنی خانہ کعبہ تک پیدل چل کر جائے گا) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس شخص کے اپنے آپ کو تکلیف دینے سے بے نیاز ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو یہ ہدایت کی کہ وہ سوار ہو جائے۔ لیث، ہقل اور اوزاعی یہ سب ایک ہی زمانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ عبدالرحمن بن یمان، یحییٰ بن سعید اور حمید ایک زمانے سے تعلق رکھتے ہیں، انہوں نے ایک دوسرے سے روایات نقل کی ہوئی ہیں، یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النذور/حدیث: 4382]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1865، 6701، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1642، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1011، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 3044، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4382، 4383، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3861 وأبو داود فى (سننه) برقم: 3301، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1536، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20167، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12220» «رقم طبعة با وزير 4367»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله ثقات رجال الصحيح
9. ذكر إباحة ركوب الناذر المشي إلى بيت الله الحرام جل وعلا-
- ذکر اس بات کی اجازت کا کہ نذر ماننے والا جو بیت اللہ الحرام کی طرف پیدل جانے کا ارادہ رکھتا ہو، سواری کر سکتا ہے
حدیث نمبر: 4383
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتِ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلا يُهَادَى بَيْنَ اثْنَيْنِ فَقَالَ: مَا لَهُ؟ قَالُوا: نَذَرَ أَنْ يَحُجَّ مَاشِيًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْ مَشْيِ هَذَا فَلْيَرْكَبْ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جو دو آدمیوں کے درمیان سہارا لے کر جا رہا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”اس کا کیا معاملہ ہے؟“ لوگوں نے بتایا: اس نے پیدل چل کر حج کے لیے جانے کی نذر مانی ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس کے پیدل چلنے سے بے نیاز ہے، اسے سوار ہو جانا چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النذور/حدیث: 4383]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1865، 6701، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1642، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1011، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 3044، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4382، 4383، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3861 وأبو داود فى (سننه) برقم: 3301، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1536، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20167، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12220» «رقم طبعة با وزير 4368»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
10. ذكر الأمر للناذر الحج ماشيا بالركوب مع الكفارة-
- ذکر اس حکم کا کہ جو شخص حج پیدل کرنے کی نذر مانے اسے سواری کرنے کی اجازت ہے بشرطیکہ وہ کفارہ ادا کرے
حدیث نمبر: 4384
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِِنَّ أُخْتِي جَعَلَتْ عَلَى نَفْسِهَا أَنْ تَحُجَّ مَاشِيَةً؟ قَالَ: " فَمُرْهَا فَلْتَرْكَبْ وَلْتُكَفِّرْ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: يُشْبِهُ أَنْ تَكُونَ هَذِهِ جَعَلَتْ عَلَى نَفْسِهَا أَنْ تَحُجَّ مَاشِيَةً بِالْيَمِينِ، أَوِ النَّذْرِ، لا كَفَّارَةَ فِيهِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: میری بہن نے اپنے ذمے یہ نذر مانی ہے کہ وہ پیدل حج کے لیے جائے گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے کہو کہ وہ سوار ہو جائے اور کفارہ دے دے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس بات کا احتمال موجود ہے کہ اس عورت نے پیدل چل کر حج کے لیے جانے کی یا تو قسم اٹھائی تھی یا نذر مانی تھی، تاہم نذر میں کفارہ نہیں ہوتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النذور/حدیث: 4384]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: بدون ترقيم، 3047، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4384، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7924، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3296، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20172، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2166» «رقم طبعة با وزير 4369»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «ابن ماجه» (2134).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما