صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
4. ذكر الإخبار عما يجب على المرء من قلة الاشتغال بالنذر في أسبابه-
- ذکر اس خبر کا کہ انسان پر نذر ماننے میں کم مشغول ہونا واجب ہے
حدیث نمبر: 4378
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ إِِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِِنَّ ابْنًا لِي كَانَ بِأَرْضِ فَارِسَ فَوَقَعَ بِهَا الطَّاعُونُ، فَنَذَرْتُ إِِنِ اللَّهُ نَجَّى لِي ابْنِي أَنْ يَمْشِيَ إِِلَى الْكَعْبَةِ، وَإِِنَّ ابْنِي قَدِمَ فَمَاتَ. فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ: أَوْفِ بِنَذْرِكَ. فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: إِِنَّمَا نَذَرْتُ أَنْ يَمْشِيَ ابْنِي، وَإِِنَّ ابْنِي قَدْ مَاتَ. فَغَضِبَ عَبْدُ اللَّهِ، وَقَالَ: أَوَلَمْ تُنْهَوْا عَنِ النَّذْرِ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِِنَّ النَّذْرَ لا يُقَدِّمُ شَيْئًا وَلا يُؤَخِّرُهُ، وَلَكِنَّ اللَّهَ يَنْزِعُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ" . فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ، قُلْتُ لِلرَّجُلِ: انْطَلِقْ إِِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ فَسَلْهُ، فَانْطَلَقَ إِِلَيْهِ فَسَأَلَهُ، ثُمَّ رَجَعَ، فَقُلْتُ: مَاذَا قَالَ لَكَ؟ قَالَ: امْشِ عَنِ ابْنِكَ. قَالَ: أَيُجْزِئُ عَنِّي ذَلِكَ؟ فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ: أَرَأَيْتَ لَوَ كَانَ عَلَى ابْنِكَ دَيْنٌ فَقَضَيْتَهُ، أَكَانَ يُجْزِئُ عَنْهُ؟ قُلْتُ: بَلَى. قَالَ: فَامْشِ عَنِ ابْنِكَ.
سعید بن حارث بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھا اسی دوران ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا: اے ابوعبدالرحمن! میرا ایک بیٹا فارس کی سرزمین پر موجود تھا وہاں طاعون پھیل گیا میں نے نذر مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے میرے بیٹے کو نجات عطا کر دی تو وہ خانہ کعبہ تک پیدل چل کر جائے گا پھر میرا بیٹا (زندہ سلامت) آ گیا، لیکن اس کا انتقال ہو گیا تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: تم اپنی نذر کو پورا کرو تو اس شخص نے ان سے کہا: میں نے یہ نذر مانی تھی کہ میرا بیٹا پیدل جائے گا میرے بیٹے کا تو انتقال ہو گیا ہے تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ غصے میں آ گئے اور بولے: کیا تم لوگوں کو نذر ماننے سے منع نہیں کیا گیا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بے شک نذر کسی بھی چیز کو آگے یا پیچھے نہیں کرتی ہے بلکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے کنجوس سے مال الگ کر دیتا ہے۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) جب میں نے یہ صورت حال دیکھی تو میں نے اس شخص سے کہا: تم سعید بن مسیّب کے پاس جاؤ اور ان سے اس مسئلے کے بارے میں دریافت کرو وہ ان کے پاس گیا اور ان سے یہ مسئلہ دریافت کیا: پھر وہ واپس آیا تو میں نے دریافت کیا: انہوں نے تمہیں کیا جواب دیا ہے تو اس نے بتایا: انہوں نے یہ کہا: ہے تم اپنے بیٹے کی طرف سے پیدل چل کر جاؤ اس نے دریافت کیا: کیا یہ میرے لیے جائز ہو گا، تو سعید بن مسّیب نے کہا: تمہاری کیا رائے ہے اگر تمہارے بیٹے کے ذمے قرض ہوتا اور تم اسے ادا کر دیتے تو کیا اس کی طرف سے ادا ہو جاتا میں نے جواب دیا: جی ہاں تو انہوں نے فرمایا: تم اپنے بیٹے کی طرف سے پیدل چل کر جاؤ۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النذور/حدیث: 4378]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4363»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (2585).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي
الرواة الحديث:
سعيد بن الحارث الأنصاري ← عبد الله بن عمر العدوي