🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. ذكر خبر سادس يصرح بأن الإيثار في النحل بين الأولاد غير جائز-
- چھٹی خبر کا بیان جو صراحتاً واضح کرتی ہے کہ اولاد کے درمیان عطیہ میں ایثار جائز نہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5107
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى الْفُضَيْلِ ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ ، أَنَّ عَامِرًا حَدَّثَهُ، أَنَّ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ، قَالَ: إِنَّ وَالِدِي بَشِيرَ بْنَ سَعْدٍ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَمْرَةَ بِنْتَ رَوَاحَةَ نُفِسَتْ بِغُلامٍ، وَإِنِّي سَمَّيْتُهُ نُعْمَانَ، وَإِنَّهَا أَبَتْ أَنْ تُرَبِّيَهُ حَتَّى جَعَلْتُ لَهُ حَدِيقَةً لِي أَفْضَلَ مَالِي هُوَ، وَإِنَّهَا قَالَتْ: أَشْهِدِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ لَكَ وَلَدٌ غَيْرَهُ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" لا تُشْهِدْنِي إِلا عَلَى عَدْلٍ، فَإِنِّي لا أَشْهَدُ عَلَى جَوْرٍ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: تَبَايُنُ الأَلْفَاظِ فِي قِصَّةِ النَّحْلِ الَّذِي ذَكَرْنَاهُ قَدْ يُوهِمُ عَالِمًا مِنَ النَّاسِ أَنَّ الْخَبَرَ فِيهِ تَضَادٌّ وَتَهَاتُرٌ وَلَيْسَ كَذَلِكَ، لأَنَّ النَّحْلَ مِنْ بَشِيرٍ لابْنِهِ كَانَ فِي مَوْضِعَيْنِ مُتَبَايِنَيْنِ، وَذَاكَ أَنَّ أَوَّلَ مَا وَلَدُ النُّعْمَانُ أَبَتْ عَمْرَةُ أَنْ تُرَبِّيَهُ حَتَّى يَجْعَلَ لَهُ بَشِيرٌ حَدِيقَةً، فَفَعَلَ ذَلِكَ وَأَرَادَ الإِشْهَادَ عَلَى ذَلِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لا تُشْهِدْنِي إِلا عَلَى عَدْلٍ، فَإِنِّي لا أَشْهَدُ عَلَى جَوْرٍ، عَلَى مَا فِي خَبَرِ أَبِي حَرِيزٍ، تُصَرِّحُ هَذِهِ اللَّفْظَةُ أَنَّ الْحَيْفَ فِي النَّحْلِ بَيْنَ الأَوْلادِ غَيْرُ جَائِزٍ، فَلَمَّا أَتَى عَلَى الصَّبِيِّ مُدَّةٌ، قَالَتْ عَمْرَةُ لِبَشِيرٍ: انْحَلِ ابْنِي هَذَا؟ فَالْتَوَى عَلَيْهِ سَنَةً أَوْ سَنَتَيْنِ عَلَى مَا فِي خَبَرِ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ وَالْمُغِيرَةِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، فَنَحَلَهُ غُلامًا، فَلَمَّا جَاءَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُشْهِدَهُ، قَالَ: لا تُشْهِدْنِي عَلَى جَوْرٍ، وَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ النُّعْمَانُ قَدْ نَسِيَ الْحُكْمَ الأَوَّلَ أَوْ تَوَهَّمَ أَنَّهُ قَدْ نُسِخَ، وَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لا تُشْهِدْنِي عَلَى جَوْرٍ، فِي الْكَرَّةِ الثَّانِيَةِ زِيَادَةُ تَأْكِيدٍ فِي نَفْيِ جَوَازِهِ، وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ النَّحْلَ فِي الْغُلامِ لِلنُّعْمَانِ كَانَ ذَلِكَ وَالنُّعْمَانُ مُتَرَعْرِعٌ، أَنَّ فِيَ خَبَرِ عَاصِمٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ: مَا هَذَا الْغُلامُ؟ قَالَ: غُلامٌ أَعْطَانِيهِ أَبِي، فَدَلَّتْكَ هَذِهِ اللَّفْظَةُ عَلَى أَنَّ هَذَا النَّحْلَ الَّذِي فِي خَبَرِ أَبِي حَرِيزٍ فِي الْحَدِيقَةِ، لأَنَّ ذَلِكَ عِنْدَ امْتِنَاعِ عَمْرَةَ عَنْ تَرْبِيَةِ النُّعْمَانِ عِنْدَمَا وَلَدَتْهُ ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ أَخْبَارَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَتَضَادُّ وَتَهَاتَرُ، وَأَبُو حَرِيزٍ كَانَ قَاضِيَ سِجِسْتَانَ.
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میرے والد سیدنا بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! (میری اہلیہ) سیدہ عمرہ بنت رواحہ رضی اللہ عنہا کے ہاں بچہ پیدا ہوا، میں نے اس کا نام نعمان رکھا ہے، اس نے اس بچے کی پرورش کرنے سے انکار کر دیا جب تک میں اس بچے کو اپنا وہ باغ نہیں دیتا جو (میرا) سب سے بہترین مال ہے، اور اس عورت نے یہ کہا: کہ آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں گواہ بنا لیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا: کیا تمہاری اس کے علاوہ اور اولاد بھی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم مجھے صرف انصاف کے کام میں گواہ بناؤ، میں زیادتی کے کام میں گواہ نہیں بنتا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عطیہ دینے کا یہ جو واقعہ ہم نے ذکر کیا ہے اس کے الفاظ میں اختلاف پایا جاتا ہے جس نے ایک عالم کو اس غلط فہمی میں مبتلا کیا کہ اس روایت میں شاید تضاد پایا جاتا ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے؛ کیونکہ یہ عطیہ جو سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کو دیا تھا یہ دو مختلف مقامات پر منقول ہے۔ وہ یوں کہ جب پہلی مرتبہ سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تو ان کی والدہ سیدہ عمرہ رضی اللہ عنہا نے ان کی تربیت کرنے سے اس وقت تک انکار کر دیا جب تک سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ انہیں کوئی باغ عطیے کے طور پر نہیں دیتے تو انہوں نے ایسا ہی کیا۔ انہوں نے اس بارے میں گواہ بنانے کا ارادہ کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم صرف انصاف کے کام پر مجھے گواہ بناؤ کیونکہ میں زیادتی کے کام میں گواہ نہیں بنتا۔ جیسا کہ ابوحریز نامی راوی کی روایت میں یہ بات مذکور ہے اور یہ الفاظ اس بات کی صراحت کرتے ہیں کہ عطیہ دیتے ہوئے اولاد کے ساتھ امتیازی سلوک کرنا درست نہیں ہے، پھر جب بچہ بڑا ہو گیا تو سیدہ عمرہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ میرے اس بیٹے کو کوئی عطیہ دیجیے، تو وہ ایک سال یا دو سال تک اس کو ملتوی کرتے رہے۔ جیسا کہ ابوحیان تیمی اور مغیرہ کی امام شعبی کے حوالے سے نقل کردہ روایت میں یہ بات مذکور ہے پھر انہوں نے اسے ایک غلام عطیہ کر دیا، جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تاکہ انہیں اس بارے میں گواہ بنائیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ظلم کے کام میں مجھے گواہ نہ بناؤ۔ تو اس بات کا احتمال موجود ہے کہ سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ پہلا حکم بھول چکے ہوں یا انہیں یہ غلط فہمی ہوئی ہو کہ وہ حکم منسوخ ہو گیا ہے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: تم ظلم کے کام میں مجھے گواہ نہ بناؤ۔ یہ دوسری مرتبہ اس کام کے جائز ہونے کی نفی میں زیادہ تاکید پیدا کرنے کے لیے ہو، اور اس بات کی دلیل کہ غلام کی صورت میں دیا جانے والا عطیہ بھی سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ کو ہی دیا گیا تھا یہ ہے کہ عاصم نے امام شعبی کے حوالے سے روایت نقل کی ہے، اس میں یہ بات مذکور ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا: یہ غلام کہاں سے آیا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ وہ غلام ہے جو میرے والد نے مجھے عطا کیا ہے، تو یہ الفاظ آپ کی رہنمائی اس بات کی طرف کریں گے کہ یہ عطیہ اس عطیے کے علاوہ تھا جس کا ذکر ابوحریز کی نقل کردہ روایت میں کیا گیا ہے جو باغ کے بارے میں ہے؛ کیونکہ (سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کی والدہ) سیدہ عمرہ رضی اللہ عنہا کا ان کی تربیت کرنے سے انکار کرنا اس وقت تھا جب ان کی پیدائش ہوئی تھی۔ یہ بات اس شخص کے موقف کے برخلاف ہے جو اس بات کا قائل ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے منقول روایات متضاد ہیں اور ان میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ ابوحریز نامی راوی سجستان کے قاضی تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الهبة/حدیث: 5107]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2586، 2587، 2650، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1623، ومالك فى (الموطأ) برقم: 2782، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1065، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5097، 5098، 5099، 5100، 5102، 5103، 5104، 5105، 5106، 5107، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3542، 3543، 3544، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1367، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2375، 2376، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12115، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2962، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18645» «رقم طبعة با وزير 5085»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
منكر بهذا السياق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. ذكر ما يجب على المرء من قبول ما يهدي أخوه المسلم إياه إذا تعرى عن علتين فيه-
- اس بات کا بیان کہ مسلمان کو چاہیے کہ جب اس کا بھائی اسے ہدیہ دے اور اس میں کوئی ممنوع علت نہ ہو تو وہ اسے قبول کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5108
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى بْنِ خَتٍّ ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي أَبُو الأَسْوَدِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأشجِّ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَدِيٍّ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ بَلَغَهُ مَعْرُوفٌ عَنْ أَخِيهِ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلا إِشْرَافِ نَفْسٍ، فَلْيَقْبَلْهُ وَلا يَرُدَّهُ" .
سیدنا خالد بن زید جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: جس شخص کو اپنے بھائی کی طرف سے مانگے بغیر اور لالچ کے بغیر کوئی بھلائی (یعنی مال و دولت وغیرہ) ملے، اسے اسے قبول کر لینا چاہیے اور اسے واپس نہیں کرنا چاہیے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الهبة/حدیث: 5108]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3404، 5108، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2376، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18219، 24431، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 925، والطبراني فى(الكبير) برقم: 4124، 5241» «رقم طبعة با وزير 5086»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (1005)، «التعليق الرغيب» (2/ 16).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. ذكر الزجر عن رد المرء الطيب إذا عرض عليه-
- اس بات کا بیان کہ کسی پیش کیے گئے خوشبودار (اچھے) تحفے کو رد کرنے سے روکا گیا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5109
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ عُرِضَ عَلَيْهِ طِيبٌ، فَلا يَرُدَّهُ، فَإِنَّهُ خَفِيفُ الْمَحْمَلِ، طَيِّبُ الرَّائِحَةِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جس شخص کو خوشبو دی جائے وہ اسے واپس نہ کرے کیونکہ اس کا وزن بھی زیادہ نہیں ہوتا اور خوشبو بھی پاکیزہ ہوتی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الهبة/حدیث: 5109]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2253، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5109، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 9351، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4172، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6050، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8380، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 6253، والبزار فى (مسنده) برقم: 8025، 8855، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 7129» «رقم طبعة با وزير 5087»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «المشكاة» (3016): م بلفظ: «ريحان».
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. ذكر البيان بأن المرء وإن كان خيرا فاضلا إذا أهدي إليه شيء وإن كان قليلا عليه قبوله والإفضال منه على غيره دون الازدراء بالشيء اليسير والتأمل للشيء الكثير-
- اس وضاحت کا بیان کہ اگر کسی نیک اور فاضل شخص کو کوئی معمولی سا تحفہ بھی پیش کیا جائے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اسے قبول کرے، اسے معمولی نہ سمجھے اور دوسروں پر احسان کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5110
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَارِ أَبِي أَيُّوبَ، فَأُتِيَ بِطَعَامٍ فِيهِ ثُومٌ، فَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ وَأَرْسَلَ بِهِ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ، فَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ أَبُو أَيُّوبَ، إِذْ لَمْ يَرَ فِيهِ أَثَرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَتَاهُ، فَسَأَلَهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَحَرَامٌ هُوَ؟ قَالَ:" لا، وَلَكِنْ كَرِهْتُهُ مِنْ أَجْلِ الرِّيحِ"، فَقَالَ: إِنِّي أَكْرَهُ مَا كَرِهْتَ .
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر میں موجود تھے۔ آپ کی خدمت میں کھانا لایا گیا جس میں لہسن تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہیں کھایا۔ آپ نے وہ سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کو بھجوا دیا۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے بھی اس میں سے نہیں کھایا کیونکہ انہیں اس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے استعمال کا نشان نظر نہیں آیا تھا، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اس بارے میں دریافت کیا۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) یہ حرام ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی نہیں لیکن میں نے اس کی بو کی وجہ سے اسے ناپسند کیا ہے۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے عرض کی: جسے آپ نے ناپسند کیا ہے اسے میں بھی ناپسند کرتا ہوں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الهبة/حدیث: 5110]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2094، 5110، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 5992، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1807، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5138، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21375» «رقم طبعة با وزير 5088»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (2511): م - جابر بن سمرة، عن أبي أيوب: الأنصاري.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. ذكر إباحة قبول الجماعة الهبة الواحدة المشاعة من الرجل الواحد وإن لم يعلم كل واحد منهم حصته منها-
- اس بات کا بیان کہ ایک شخص کی طرف سے ایک مشترک ہدیہ کئی افراد کا قبول کرنا جائز ہے، اگرچہ ہر ایک کو اپنی حصہ داری معلوم نہ ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5111
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَلَمَةَ الضَّمْرِيِّ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنِ الْبَهْزِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يُرِيدُ مَكَّةَ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِالرَّوْحَاءِ إِذَا حِمَارٌ وَحْشِيٌّ عَقِيرٌ، فَذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " دَعُوهُ، فَإِنَّهُ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ صَاحِبَهُ"، فَجَاءَ الْبَهْزِيُّ، وَهُوَ صَاحِبُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، شَأْنَكُمْ بِهَذَا الْحِمَارِ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ فَقَسَمَهُ بَيْنَ الرِّفَاقِ، ثُمَّ مَضَى حَتَّى إِذَا كَانَ بِالأُثَايَةَ بَيْنَ الرُّوَيْثَةِ وَالْعَرْجِ، إِذَا ظَبْيٌ حَاقِفٌ فِي ظِلٍّ وَفِيهِ سَهْمٌ، فَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلا يَقِفُ عِنْدَهُ لا يَرِيبُهُ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ حَتَّى يُجَاوِزَهُ" .
سیدنا بہزی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کی طرف روانہ ہونے کے لیے نکلے، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم روحاء کے مقام پر پہنچے تو وہاں ایک زیبرا تھا جس کا پاؤں کٹا ہوا تھا، اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اسے رہنے دو، عنقریب اس کا مالک اس تک آ جائے گا، پھر سیدنا بہزی رضی اللہ عنہ آ گئے، وہ اس کے مالک تھے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اس زیبرے کو استعمال کریں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے ساتھیوں میں تقسیم کر دیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے۔ یہاں تک کہ رویثہ اور عرج کے درمیان اثایا کے مقام پر پہنچے تو وہاں ایک سائے میں ہرن بیٹھا ہوا تھا جس کو تیر لگا ہوا تھا۔ سیدنا بہزی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ اس ہرن کے پاس ٹھہرا رہے تاکہ کوئی بھی شخص اس کو تنگ نہ کرے یہاں تک کہ وہ لوگ وہاں سے گزر جائیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الهبة/حدیث: 5111]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 1281، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5111، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2817، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3092، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10021، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15689» «رقم طبعة با وزير 5089»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر التعليق أدناه. * [الْبَهْزِيِّ] قال الشيخ: أي: عن قِصَّةِ البَهْزِي، فالمُتَحَدِّثُ عنها: هو عُميرُ بن سلمة الضمريُّ. ويُؤيِّده قوله فيما بعد: فجاء البهزي؛ وهو صاحبه - يعني: العاقر للحمار -. فالحديث حديث عمير، فلا اختلاف بين هذه الرواية والرواية الَّتي بعدها الصريحة بصحبة عمير، وتَحدُّثِه عَنِ البهزي. وهو الذي جَزَمَ به الحافظ موسى بن هارون؛ كما نقله عنه ابن عبد البر (23/ 343)، وارتضاه هو وغيره مِنَ الحفاظ، ومنهم أبو حاتم في «العلل» (1/ 299)، وانظر «تهذيب التهذيب». والحديث في «موطإ مالك» (1/ 333)، وعنه النسائي (2/ 25)، وسنده صحيح على شرط الشيخين. وقد تُوبِعَ مالكٌ؛ كما في الرواية الآتية.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. ذكر إباحة قبول المرء الهبة للشيء المشاع بينه وبين غيره-
- اس بات کا بیان کہ کسی شخص کے لیے مشترکہ چیز میں اپنا حصہ بطور ہدیہ قبول کرنا جائز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5112
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرٍ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَلَمَةَ الضَّمْرِيِّ ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِ أَثْنَاءِ الرَّوْحَاءِ، وَهُمْ حُرُمٌ، إِذَا حِمَارٌ مَعْقُورٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَعُوهُ، فَيُوشِكُ صَاحِبُهُ أَنْ يَأْتِيَهُ"، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَهْزٍ هُوَ الَّذِي عَقَرَ الْحِمَارَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، شَأْنَكُمْ بِهَذَا الْحِمَارِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ فَقَسَمَهُ بَيْنَ النَّاسِ .
سیدنا عمیر بن سلمہ ضمری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے، روحاء کے قریب جب ہم پہنچے تو ہم سب حالتِ احرام میں تھے۔ وہاں ایک زیبرا تھا جو زخمی تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسے رہنے دو، اس کا مالک اس کے پاس آ جائے گا۔ پھر بہزی قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آیا، یہ وہ شخص تھا جس نے اس زیبرے کو زخمی کیا تھا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اس کو استعمال کر سکتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے اس کا گوشت لوگوں کے درمیان تقسیم کر دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الهبة/حدیث: 5112]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5112، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6681، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4355، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 4837، والطحاوي فى (شرح معاني الآثار) برقم: 3808، 3809» «رقم طبعة با وزير 5090»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر التعليق أدناه. * [قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ] قال الشيخ: قلت: وعنه: أخرجه النسائي (2/ 200). وأخرجه أحمد (3/ 418 و 452) وغيرُه مِنْ طريق يحيى بن سعيد بن إِبراهِيم ... به. وكذا الطبراني (5/ 298 - 299).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. ذكر إباحة إهداء المرء الهدية إلى أخيه وإن لم يحل لواحد منهما استعمال تلك الهدية بأنفسهما-
- اس بات کا بیان کہ کوئی شخص ایسی چیز کا ہدیہ اپنے بھائی کو دے سکتا ہے جس کا استعمال بظاہر دونوں کے لیے مباح نہ ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5113
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ فَرَأَى حُلَّةَ إِسْتَبْرَقٍ تُبَاعُ فِي السُّوقِ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اشْتَرِهَا فَالْبَسْهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَحِينَ يَقْدَمُ عَلَيْهِ الْوفُودُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لا خَلاقَ لَهُ"، قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلاثِ حُلَلٍ مِنْهُ، فَكَسَا عُمَرَ حُلَّةً، وَكَسَا عَلِيًّا حُلَّةً، وَكَسَا أُسَامَةَ حُلَّةً، فَأَتَاهُ عُمَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُلْتَ: فِيهَا مَا قُلْتَ، ثُمَّ بَعَثْتَ بِهَا إِلَيَّ، فَقَالَ:" بِعْهَا، فَاقْضِ بِهَا حَاجَتَكَ، أَوْ شُقَّهَا خُمُرًا بَيْنَ نِسَائِكَ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ (بازار) گئے، انہوں نے استبرق سے بنا ہوا ایک حلہ بازار میں فروخت ہوتے ہوئے دیکھا تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اسے خرید لیجیے اور جمعہ کے دن اور جب وفود آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوں، اس دن اسے زیب تن کر لیا کریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسے وہ شخص پہنے گا، جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہو گا۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اسی قسم کے تین حلے پیش کیے گئے تو آپ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ان میں سے ایک حلہ عطا کیا، ایک عدد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو عطا کیا اور ایک سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو عطا کیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے تو اس کے بارے میں فلاں بات ارشاد فرمائی تھی اب آپ نے یہ میری طرف بھیج دیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اسے فروخت کرو اور اس کے ذریعے اپنی ضروریات کو پورا کرو یا پھر اسے کاٹ کر اپنی بیویوں کی چادریں بنوا دو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الهبة/حدیث: 5113]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 886، 948، 2104، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2068، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5113، 5439، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1381، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1076، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3591، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4267، وأحمد فى (مسنده) برقم: 351» «رقم طبعة با وزير 5091»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «غاية المرام» (79).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. ذكر إباحة أخذ المهدي هدية نفسه بعد بعثه إلى المهدى إليه وموت المهدى إليه قبل وصول الهدية إليه-
- اس بات کا بیان کہ اگر ہدیہ بھیجنے والا شخص اپنا ہدیہ واپس لے لے جبکہ ہدیہ پانے والا وفات پا گیا ہو اور ہدیہ ابھی اس تک نہ پہنچا ہو، تو ایسا کرنا جائز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5114
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: لَمَّا تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنِّي قَدْ أَهْدَيْتُ إِلَى النَّجَاشِيِّ حُلَّةً وَأَوَاقِيَّ مِسْكٍ، ولا أثراهُ أَلا قَدْ مَاتَ، وَسَتُرَدُّ الْهَدِيَّةُ، فَإِنْ كَانَ كَذَلِكَ فَهِيَ لَكَ"، قَالَتْ: فَكَانَ كَمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاتَ النَّجَاشِيُّ وَرُدَّتِ الْهَدِيَّةُ، فَدَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى كُلِّ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ أُوقِيَّةَ مِسْكٍ، وَدَفَعَ الْحُلَّةَ وَسَائِرَ الْمِسْكِ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ .
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ شادی کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے نجاشی کو ایک حلہ اور مشک کے کچھ اوقیہ تحفے کے طور پر بھجوائے تھے۔ میرا خیال ہے اس کا انتقال ہو گیا ہے، تو یہ تحفہ واپس آ جائے گا، اگر ایسا ہی ہوا تو وہ تمہیں ملے گا۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ پھر ویسا ہی ہوا جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا تھا، نجاشی کا انتقال ہو گیا تھا اور وہ تحفہ واپس آ گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تمام ازواج کی طرف مشک کا ایک اوقیہ بھجوایا اور وہ حلہ اور باقی تمام مشک سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو دے دی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الهبة/حدیث: 5114]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5114، والطبراني فى(الكبير) برقم: 826» «رقم طبعة با وزير 5092»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «الإرواء» (1620).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. ذكر الإخبار عن إباحة أكل المرء الهدية التي كانت تصدقت على المهدي قبل أن يهديها إليه-
- اس بات کا بیان کہ اگر کوئی چیز کسی محتاج کو صدقہ دی گئی تھی، پھر اسی نے وہ چیز ہدیہ میں دے دی، تو ہدیہ دینے والے کے لیے اس کا کھانا جائز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5115
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسْنِ بْنِ مُكْرَمٍ الْبَزَّازُ بِالْبَصْرَةِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ الطُّوسِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ لِلْعِتْقِ، فَاشْتَرَطُوا وَلاءَهَا، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّمَا الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ"، وَأُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمٌ، فَقُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَذَا تُصُدِّقَ عَلَى بَرِيرَةَ، فَقَالَ:" هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ" ، قَالَ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے بریرہ کو آزاد کرنے کے لیے اسے خریدنے کا ارادہ کیا تو اس کے مالکان نے اس کے ولاء کی شرط عائد کی۔ اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے خرید کر اسے آزاد کر دو کیونکہ ولاء کا حق آزاد کرنے والے کو حاصل ہوتا ہے۔ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گوشت تحفے کے طور پر دیا گیا تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ یہ بریرہ کو صدقے کے طور پر دیا گیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اس کے لیے صدقہ تھا اور ہمارے لیے تحفہ ہے۔ عبدالرحمن نامی راوی بیان کرتے ہیں کہ اس خاتون کا شوہر آزاد شخص تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الهبة/حدیث: 5115]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 456، 1493، 2155، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1075، وابن الجارود فى "المنتقى"، 802، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2449، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4269، 4271، 4272، 4325، 4326، 5115، 5116، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2613،وأبو داود فى (سننه) برقم: 2233، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2074، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 279، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10954، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2871، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24687» «رقم طبعة با وزير 5093»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - إلاَّ قول عبد الرحمن وفي آخره؛ فإنه مدرج، والصحيح أنه كان عبدا - «الإرواء» (6/ 274 - 275).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الصحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. ذكر العلة التي من أجلها قالت عائشة هذا تصدق على بريرة-
- اس علت (سبب) کا بیان جس کی بنا پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: «یہ چیز برِیرہ کو صدقہ میں دی گئی تھی» ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5116
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلاثُ سُنَنٍ، إِحْدَى السُّنَنِ الثَّلاثِ أَنَّهَا أُعْتِقَتْ، فَخُيِّرَتْ فِي زَوْجِهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ"، وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْبُرْمَةُ تَفُورُ بِلَحْمٍ، فَقُرِّبَ إِلَيْهِ خُبْزٌ وَإِدَامٌ مِنْ إِدَامِ الْبَيْتِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَمْ أَرَ بُرْمَةً فِيهَا لَحْمٌ"، قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَكِنْ ذَاكَ لَحْمٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، وَأَنْتَ لا تَأْكُلُ الصَّدَقَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ بریرہ کے بارے میں تین شرعی احکام سامنے آئے: جب وہ آزاد ہوئی تو اسے اس کے شوہر کے ساتھ رہنے (یا علیحدگی اختیار کرنے) کے بارے میں اختیار دیا گیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ولاء کا حق آزاد کرنے والے کو حاصل ہوتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں داخل ہوئے تو ہنڈیا میں گوشت پک رہا تھا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں روٹی اور گھر کا دوسرا سالن پیش کیا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا میں نے ہنڈیا میں گوشت نہیں دیکھا تھا؟ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، لیکن یہ وہ گوشت ہے جو بریرہ کو صدقے کے طور پر دیا گیا تھا اور آپ صدقہ نہیں کھاتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ اس کے لیے صدقہ تھا اور ہمارے لیے تحفہ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الهبة/حدیث: 5116]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 456، 1493، 2155، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1075، وابن الجارود فى "المنتقى"، 802، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2449، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4269، 4271، 4272، 4325، 4326، 5115، 5116، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2613،وأبو داود فى (سننه) برقم: 2233، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2074، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 279، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10954، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2871، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24687» «رقم طبعة با وزير 5094»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (6/ 274): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں