صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1. ذكر الخبر المدحض قول من قال من المتصوفة بإبطال الكسب-
- اس خبر کا بیان جو اُن صوفیہ کے قول کو باطل کرتی ہے جنہوں نے کسب و محنت کو ناجائز قرار دیا۔
حدیث نمبر: 5142
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كَانَ زَكَرِيَّا نَجَّارًا" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”سیدنا زکریا علیہ السلام بڑھئی تھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإجارة/حدیث: 5142]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2379، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5142، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4167، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2150، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8062» «رقم طبعة با وزير 5120»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «أحاديث البيوع»: م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
2. ذكر البيان بأن الأنبياء لم تكن تأنف من العمل ضد قول من كره الكسب وحظره-
- یہ بیان کہ انبیاء علیہم السلام کام کرنے سے عار محسوس نہیں کرتے تھے، اس قول کے رد میں جو کسبِ معاش کو ناپسند اور ممنوع سمجھتا ہے
حدیث نمبر: 5143
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَجْتَنِي الْكَبَاثَ، فَقَالَ: " عَلَيْكُمْ بِالأَسْوَدِ، فَإِنَّهُ أَطْيَبُ"، فَقُلْنَا: وَكُنْتَ تَرْعَى الْغَنَمَ؟ قَالَ:" نَعَمْ، وَهَلْ مِنْ نَبِيٍّ إِلا قَدْ رَعَاهَا" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ہم پیلو چن رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ سیاہ رنگ کے پیلو چنو کیونکہ وہ زیادہ پاکیزہ ہوتے ہیں۔“ ہم نے دریافت کیا: کیا آپ بکریاں چراتے رہے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر نبی نے بکریاں چرائی ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإجارة/حدیث: 5143]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3406، 5453، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2050، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5143، 5144، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 6701، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14721، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 1798، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 2062» «رقم طبعة با وزير 5121»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ (3406).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
3. ذكر العلة التي من أجلها قال صلى الله عليه وسلم للكباث الأسود إنه أطيب من غيره-
- یہ بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیاہ کباث (پھل) کے بارے میں کیوں فرمایا کہ یہ دوسرے سے زیادہ عمدہ ہے۔
حدیث نمبر: 5144
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَجْتَنِي الْكَبَاثَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَيْكُمْ بِالأَسْوَدِ مِنْهُ، فَإِنَّهُ أَطْيَبُ، وَإِنِّي كُنْتُ آكُلُهُ زَمَنَ كُنْتُ أَرْعَى"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكُنْتَ تَرْعَى؟ فَقَالَ:" وَهَلْ بُعِثَ نَبِيٌّ إِلا وَهُوَ رَاعٍ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ہم پیلو چن رہے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان میں سے سیاہ رنگ کے چنو کیونکہ وہ زیادہ پاکیزہ ہوتے ہیں۔ میں انہیں اس زمانے میں کھایا کرتا تھا، جب میں بکریاں چراتا تھا۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! کیا آپ بکریاں چراتے رہے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس بھی نبی کو مبعوث کیا گیا اس نے بکریاں چرائی ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإجارة/حدیث: 5144]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3406، 5453، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2050، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5143، 5144، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 6701، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14721، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 1798، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 2062» «رقم طبعة با وزير 5122»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
4. ذكر الإباحة للمرء استخدام الأحرار من المسلمين وإن لم يكونوا بالغين-
- یہ بیان کہ مسلمان آزاد افراد کو، اگرچہ وہ بالغ نہ ہوں، خدمت میں لینا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 5145
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَهُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ :" أَنَّهُ كَانَ ابْنَ عَشَرِ سِنِينَ مَقْدِمَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، فَكُنَّ أُمَّهَاتِي يُحَرِّضْنَنِي عَلَى خِدْمَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَخَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرًا حَيَاتَهُ بِالْمَدِينَةِ، وَتُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ عِشْرِينَ سَنَةً، قَالَ: وَكُنْتُ أَعْلَمَ النَّاسِ بِشَأْنِ الْحِجَابِ حِينَ أُنْزِلَ، لَقَدْ كَانَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ يَسْأَلُنِي عَنْهُ، قَالَ: وَكَانَ أَوَّلَ مَا أُنْزِلَ فِي مُبْتَنَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا عَرُوسًا، فَدَعَا الْقَوْمَ، فَأَصَابُوا مِنَ الطَّعَامِ، وَخَرَجُوا، وَبَقِيَ مِنْهُمْ رَهْطٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَطَالُوا الْمُكْثَ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ وَخَرَجْتُ مَعَهُ لِكَيْ يَخْرُجُوا، فَمَشَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَشَيْتُ مَعَهُ حَتَّى جَاءَ عَتَبَةَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ، ثُمَّ ظَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ قَدْ خَرَجُوا، فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى زَيْنَبَ، وَإِذَا هُمْ جُلُوسٌ لَمْ يَقُومُوا، فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ حَتَّى بَلَغَ عَتْبَةَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ، فَظَنَّ أَنَّهُمْ قَدْ خَرَجُوا، فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ، فَإِذَا هُمْ قَدْ خَرَجُوا، فَضَرَبَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ سِتْرًا، وَأُنْزِلَ الْحِجَابُ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے، اس وقت میری عمر دس سال تھی، میری والدہ اور خالائیں وغیرہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرنے کی ترغیب دیا کرتی تھیں، میں نے دس سال تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی، یعنی اس دوران جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں قیام پذیر رہے، پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو میری عمر بیس سال تھی۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حجاب کے حکم کے بارے میں مجھے سب سے زیادہ علم ہے کہ یہ کب نازل ہوا تھا۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ جیسے افراد مجھ سے اس بارے میں دریافت کیا کرتے تھے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی تھی، یہ اس وقت نازل ہوا تھا، شادی کے اگلے دن صبح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بلایا، ان لوگوں نے کھانا کھایا، پھر وہ لوگ چلے گئے، ان میں سے کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں بیٹھے رہے، وہ کافی دیر بیٹھے رہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ میں بھی چلا گیا، مقصد یہ تھا کہ وہ لوگ بھی اٹھ کر چلے جائیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے ہوئے تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں بھی گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کی چوکھٹ کے پاس پہنچے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اندازہ لگایا کہ وہ لوگ چلے گئے ہوں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس آ گئے اور آپ کے ہمراہ میں بھی واپس آیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے گھر پہنچے تو وہ لوگ بیٹھے ہوئے تھے، وہ لوگ اٹھ کر نہیں گئے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے آئے، آپ کے ہمراہ میں بھی واپس آ گیا، پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے دروازے کے پاس پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ گمان کیا کہ وہ لوگ چلے گئے ہوں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے گئے، میں بھی واپس آیا تو وہ لوگ جا چکے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے اور اپنے درمیان پردہ ڈلوا دیا اور اس وقت حجاب کے حکم سے متعلق آیت نازل ہوئی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإجارة/حدیث: 5145]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4791، 4792، 4793، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1428، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4062، 5145، 5578، 5579، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6511، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3251، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3743، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3217، 3219، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1908، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13489، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12124» «رقم طبعة با وزير 5123»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ (5166).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
5. ذكر الإخبار عن إباحة أخذ المرء الأجرة على كتاب الله جل وعلا-
- یہ خبر کہ اللہ جل وعلا کی کتاب (قرآن) کی تعلیم پر اجرت لینا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 5146
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ الْبَرَّاءُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الأَخْنَسِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرُّوا بِحَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ، وَفِيهِمْ لَدِيغٌ أَوْ سَلِيمٌ، فَقَالُوا: هَلْ فيكمْ مَنْ رَاقٍ؟ فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنْهُمْ، فَرَقَاهُ عَلَى شَاءٍ فَبَرَأَ، فَلَمَّا أَتَى أَصْحَابُهُ كَرِهُوا ذَلِكَ، فَقَالُوا: أَخَذْتَ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ أَجْرًا، فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوهُ بِذَلِكَ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلَ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا مَرَرْنَا بِحَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ فِيهِمْ لَدِيغٌ أَوْ سَلِيمٌ، فَقَالُوا: هَلْ فِيكُمْ مَنْ رَاقٍ؟ فَرَقَيْتُهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَبَرَأَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَحَقَّ مَا أَخَذْتُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا كِتَابُ اللَّهِ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب کا کسی عرب قبیلے کے پاس سے گزر ہوا، ان میں سانپ یا بچھو کا ڈنگ مارا ہوا کوئی شخص تھا۔ ان لوگوں نے دریافت کیا: ”کیا آپ کے درمیان کسی کو دم کرنا آتا ہے؟“ ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک صاحب چلے گئے۔ انہوں نے کچھ پڑھ کر اس پر دم کیا تو وہ آدمی ٹھیک ہو گیا۔ جب وہ صاحب اپنے ساتھیوں کے پاس آئے تو ان کے ساتھیوں نے اس بات کو پسند نہیں کیا، انہوں نے کہا: ”آپ نے اللہ کی کتاب کا معاوضہ وصول کیا ہے۔“ جب یہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صاحب کو بلوایا اور ان سے دریافت کیا تو انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم ایک عرب قبیلے کے پاس سے گزرے جس میں بچھو یا سانپ کا ڈنگ مارا ہوا ایک شخص تھا۔ ان لوگوں نے دریافت کیا: کیا آپ میں سے کسی کو دم کرنا آتا ہے؟ تو میں نے سورہ فاتحہ پڑھ کر اس پر دم کیا تو وہ ٹھیک ہو گیا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم جس چیز کا معاوضہ وصول کرتے ہو اس میں زیادہ حق دار اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإجارة/حدیث: 5146]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5737، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5146، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2051، 11791، 14513، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3038، 3039» «رقم طبعة با وزير 5124»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (1494)، «البيوع»: خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده على شرط الشيخين
6. ذكر الإباحة للمرء أن يكون وزانا للناس بعد أن يلزم النصيحة في أموره وأسبابه-
- یہ بیان کہ انسان کے لیے وزن تولنے کا کام کرنا جائز ہے، بشرطیکہ وہ اس میں دیانت داری اور نصیحت کو لازم پکڑے۔
حدیث نمبر: 5147
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: " جَلَبْتُ أَنَا وَمَخْرَفَةُ الْعَبْدِيُّ بَزًّا مِنْ هَجَرَ، فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَاوَمَنَا سَرَاوِيلَ، وَعِنْدَهُ وَزَّانٌ يَزِنُ بِالأَجْرِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: زِنْ فَأَرْجِحْ" ، أَرَادَ بِهِ مِنْ مَالِهِ لِيُعْطِيَ ثَمَنَ السَّرَاوِيلِ رَاجِحًا.
سیدنا سوید بن قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے اور مخرفہ عبدی نے ”ہجر“ کے مقام سے کپڑا خریدا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شلوار کے بارے میں ہمارے ساتھ سودا طے کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ وزن کرنے والا ایک شخص تھا جو معاوضے کا وزن کرتا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ” «زِنْ وَأَرْجِحْ» وزن کرو اور زیادہ ادائیگی کرنا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس کے ذریعے مراد یہ ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مال میں سے شلوار کی زیادہ قیمت ادا کرنا چاہتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإجارة/حدیث: 5147]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 610، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5147، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2243، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4606، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3336، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1305، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2627، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2220، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11289، 11290، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19404» «رقم طبعة با وزير 5125»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «أحاديث البيوع»، «المشكاة» (2924 / التحقيق الثاني).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
7. ذكر خبر قد يوهم غير المتبحر في صناعة العلم أن إجارة الأرض بالدراهم غير جائزة-
- یہ خبر جو بعض ناسمجھ لوگوں کو یہ وہم دیتی ہے کہ زمین کو دراہم (نقدی) کے بدلے کرایہ پر دینا جائز نہیں۔
حدیث نمبر: 5148
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَزْرَعَهَا فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ، وَلا يُؤَاجِرْهَا إِيَّاهُ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَلا يُؤَاجِرْهَا إِيَّاهُ، لَفْظَةُ زَجْرٍ عَنْ فِعْلٍ قُصِدَ بِهَا النَّدْبُ وَالإِرْشَادُ، لأَنَّ الْقَوْمَ كَانَ بِهِمُ الضِّيقُ فِي الْعَيْشِ وَالْمِنْحَةُ كَانَتْ أَوْقَعَ عِنْدَهُمْ لِلأَرْضِ مِنْ إِكْرَائِهَا، فَأَمَّا الْمُسْلِمُونَ فَإِنَّهُمْ مُجْمِعُونَ عَلَى جَوَازِ كَرْيِ الأَرْضِ إِلا الْجِنْسَ الَّذِي نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص کے پاس زمین موجود ہو وہ اس میں کھیتی باڑی کرے، اگر وہ کھیتی باڑی نہیں کر سکتا، تو وہ اپنے کسی بھائی کو بلا معاوضہ دے دے، وہ اس سے اس کا کرایہ نہ لے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ وہ اس سے اس کا معاوضہ نہ لے، یہاں پر لفظی طور پر فعل سے منع کیا گیا ہے لیکن اس کے ذریعے مراد استحباب کا اظہار کرنا اور رہنمائی کرنا ہے کیونکہ لوگوں کو اپنے معاملات میں تنگی پیش آتی تھی، تو عطیے کے طور پر زمین دینا ان کے نزدیک کرائے پر دینے سے زیادہ بہتر تھا، ورنہ تمام مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ زمین کا کرایہ لینا جائز ہے سوائے اس جنس کے جس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإجارة/حدیث: 5148]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2340، 2632، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1536، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5148، 5189، 5190، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3883، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2451، 2454، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11814، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14462» «رقم طبعة با وزير 5126»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م (5/ 19).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
8. ذكر الخبر الدال على إباحة أخذ الأجرة على سكنى بيوت مكة-
- یہ خبر جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مکہ کے گھروں کے کرایے پر لینا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 5149
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" انْزِلْ فِي دَارِكَ بِمَكَّةَ، قَالَ: " وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مِنْ رِبَاعٍ أَوْ دُورٍ؟" وَكَانَ عَقِيلٌ وَرِثَ أَبَا طَالِبٍ هُوَ وَطَالِبٌ، وَلَمْ يَرِثْهُ جَعْفَرٌ وَلا عَلِيٌّ شَيْئًا لأَنَّهُمَا كَانَا مُسْلِمَيْنِ، وَكَانَ عَقِيلٌ وَطَالِبٌ كَافِرَيْنِ، فَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ، يَقُولُ: لا يَرِثُ الْمُؤْمِنُ الْكَافِرَ".
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ مکہ میں اپنے گھر میں پڑاؤ کریں گے؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا عقیل نے ہمارے لیے کوئی رہائشی جگہ چھوڑی ہے؟“ (راوی بیان کرتے ہیں) جناب عقیل اور جناب طالب، جناب ابوطالب کے وارث ہوئے تھے، سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان کے وارث نہیں بنے تھے، کیونکہ یہ دونوں صاحبان مسلمان تھے جبکہ جناب عقیل اور جناب طالب کفر کے عالم میں فوت ہوئے تھے۔ اسی وجہ سے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ یہ فرماتے تھے: ”کوئی مومن کسی کافر کا وارث نہیں بنتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإجارة/حدیث: 5149]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1588، 3058، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1351، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1891، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1026، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2985، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5149، 6033، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2962، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2010، 2909، 2910، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2107، 2107 م، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2729، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 135، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3028، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22161، والحميدي فى (مسنده) برقم: 551» «رقم طبعة با وزير 5127»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1754 و 2585): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
9. ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن أجرة الحجام حرام وأن كسبه غير جائز-
- یہ خبر جو اس قول کو باطل کرتی ہے جس نے کہا کہ حجام (خون نکالنے والے) کی اجرت حرام اور اس کی کمائی ناجائز ہے۔
حدیث نمبر: 5150
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وهَيْبٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ :" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ وَاسْتَعَطَ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگوائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگانے والے کو معاوضہ ادا کیا اور اسے زیادہ ادائیگی کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإجارة/حدیث: 5150]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2103، 2278، 2279، 5691، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1202، وابن الجارود فى "المنتقى"، 637، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5150، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7541، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7536، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3423، 3867، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2162، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19571، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2122» «رقم طبعة با وزير 5128»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما بعده.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
10. ذكر إباحة إعطاء الحجام أجرته بحجمه-
- یہ بیان کہ حجام کو اس کے کام (حجامت) کی اجرت دینا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 5151
أَخْبَرَنَا الْخَلِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ابْنَةِ تَمِيمِ بْنِ الْمُنْتَصِرِ بِوَاسِطٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ السُّكَّرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ :" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگوائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگانے والے کو اس کا معاوضہ ادا کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإجارة/حدیث: 5151]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2102، 2210، 2277، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1577، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5151، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7537، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3424، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1278، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2664، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2164، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 15887، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12147» «رقم طبعة با وزير 5129»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «مختصر الشمائل» (309).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم