🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مسند امام شافعی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشافعی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1819)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. بَابُ إِثْمِ مَنْ لَا يُؤَدِّي زَكَاةَ مَالِهِ
اپنے مال کی زکوٰۃ ادا نہ کرنے والے کے گناہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 681
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ جَامِعَ بْنَ أَبِي رَاشِدٍ، وَعَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ أَعْيَنَ، سَمِعَا أَبَا وَائِلٍ يُخْبِرُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:"مَا مِنْ رَجُلٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاةَ مَالِهِ إِلَّا مُثِّلَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَفِرُّ مِنْهُ، وَهُوَ يَتْبَعُهُ حَتَّى يُطَوِّقَهُ فِي عُنُقِهِ". ثُمَّ قَرَأَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ   [آلِ عِمْرَانَ: 180] .
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے: جو آدمی اپنے مال کی زکوٰۃ نہیں دیتا، قیامت کے دن اس کے مال کو گنجے سانپ کی شکل دے دی جائے گی، آدمی اس سے بھاگے اور وہ اس کا پیچھا کرے گا یہاں تک کہ وہ اس کی گردن میں طوق کی طرح پہنا دیا جائے گا۔ پھر ہم پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی کہ عنقریب قیامت کے دن یہ اپنی بخل کی اشیاء سے طوق ڈال دیے جائیں گے۔ (آل عمران: 180) [مسند امام شافعی/ كتاب الزكاة /حدیث: 681]
تخریج الحدیث: «أخرجه الترمذي، تفسير القرآن باب ومن سورة آل عمران (3012) . وقال ”حسن صحيح“ وابن ماجه، الزكاة، باب ماجاء في منع الزكاة (1784) . وصححه ابن خزيمة (2256).» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 682
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: مَنْ كَانَ لَهُ مَالٌ لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهُ، مُثِّلَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ لَهُ زَبِيبَتَانِ يَطْلُبُهُ حَتَّى يُمْكِنَهُ يَقُولُ: أَنَا كَنْزُكَ.  
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں: جس کے پاس مال ہے اور وہ اس کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا تو قیامت کے دن اس کے مال کو گنجے سانپ کی شکل دے دی جائے گی۔ جس کی آنکھوں کے اوپر دو نقطے ہوں گے اسے ڈھونڈے گا یہاں تک کہ اس کو پا لے گا اور کہے گا، میں تیرا خزانہ ہوں۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الزكاة /حدیث: 682]
تخریج الحدیث: «صحيح موقوفا وقد صح مرفوعا: اخرجه البخاري، الزكاة، باب اثم مانع الزكاة (1403).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 683
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: مَنْ كَانَ لَهُ مَالٌ لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهُ، مُثِّلَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ لَهُ زَبِيبَتَانِ يَطْلُبُهُ حَتَّى يُمْكِنَهُ يَقُولُ: أَنَا كَنْزُكَ.  أَخْرَجَ الثَّلَاثَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الزَّكَاةِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے بیان فرماتے ہیں جس کے پاس مال ہے اور وہ اس کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا تو قیامت کے دن اس کے مال کو گنجے سانپ کی شکل دے دی جائے گی جس کی آنکھوں کے اوپر دو نقطے ہوں گے اسے تلاش کرے گا حتیٰ کہ اسے پا لے گا اور کہے گا میں تیرا خزانہ ہوں۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الزكاة /حدیث: 683]
تخریج الحدیث: «صحيح موقوفا وقد صح مرفوعا: اخرجه البخاري، الزكاة، باب اثم مانع الزكاة (1403).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. بَابٌ فِي الْكَنْزِ
خزانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 684
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ وَهُوَ يَسْأَلُ عَنِ الْكَنْزِ، فَقَالَ: هُوَ الْمَالُ الَّذِي لَا تُؤَدُّوا مِنْهُ الزَّكَاةَ.  
عبداللہ بن دینار کہتے ہیں میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا کہ آپ سے کنز کے متعلق سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: یہ وہ مال ہے جس کی تم زکوٰۃ نہ دو۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الزكاة /حدیث: 684]
تخریج الحدیث: «صحیح اخرجه البيهقى 4 / 83 . وفى المعرفة السنن والآثار له (2213).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 685
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ: كُلُّ مَالٍ تُؤَدَّى زَكَاتُهُ فَلَيْسَ بِكَنْزٍ وَإِنْ كَانَ مَدْفُونًا، وَكُلُّ مَالٍ لَا تُؤَدَّى زَكَاتُهُ فَهُوَ كَنْزٌ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَدْفُونًا.  أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الزَّكَاةِ.
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے: ہر وہ مال جس کی تو زکوٰۃ ادا کرے وہ خزانہ نہیں اگرچہ دفن شدہ ہی ہو، اور ہر وہ مال جس کی تو زکوٰۃ نہیں دیتا وہ خزانہ ہے اگرچہ دفن نہ بھی ہو۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الزكاة /حدیث: 685]
تخریج الحدیث: «صحیح موقوفا: اخرجه البيهقى فى المعرفة السنن والآثار (2212) . وفي الكبرى له: 4/ 83 . وعبدالرزاق (1840)، (1841)، (1842) وابن ابي شيبة (10519).» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. بَابُ الصَّدَقَةِ مِنَ الْكَسْبِ الطَّيِّبِ وَالْمُنْفِقِ وَالْبَخِيلِ
پاکیزہ کمائی سے صدقہ کرنے اور خرچ کرنے والے اور بخیل کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 686
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:"وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا مِنْ عَبْدٍ يَتَصَدَّقُ بِصَدَقَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ، وَلَا يَقْبَلُ اللَّهُ إِلَّا طَيِّبًا، وَلَا يَصْعَدُ إِلَى [ ص: 138 ] اللَّهِ، إِلَّا طَيِّبٌ إِلَّا كَأَنَّمَا يَضَعُهَا فِي يَدِ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ فَيُرَبِّيهَا لَهُ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ حَتَّى إِنَّ اللُّقْمَةَ لَتَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَإِنَّهَا لَمِثْلُ الْجَبَلِ الْعَظِيمِ". ثُمَّ قَرَأَ: أَنَّ اللَّهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَأْخُذُ الصَّدَقَاتِ   [التَّوْبَةِ: 104] .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے، مجھے اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جو شخص حلال کمائی سے صدقہ کرے، اور اللہ تعالیٰ صرف حلال (کمائی) (کے صدقے) کو ہی قبول فرماتے ہیں اور اللہ کی طرف صرف حلال کمائی کا صدقہ ہی جاتا ہے۔ یہ اسی طرح جیسے کوئی (اللہ) رحمان کے ہاتھ میں رکھتا ہے، پھر وہ (اللہ) اس میں صدقہ کرنے والے کے لیے اضافہ کرتا ہے، جس طرح کہ تم میں سے کوئی اپنے جانور کے بچے کو کھلا پلا کر بڑھاتا ہے۔ یہاں تک کہ ایک لقمہ قیامت کے دن اس کے لیے بہت بڑے پہاڑ کے برابر ہو کر آئے گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: اللہ تعالی ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور وہی صدقات کو قبول کرتا ہے۔ (التوبہ: 104) [مسند امام شافعی/ كتاب الزكاة /حدیث: 686]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخارى، الزكاة، باب الصدقة، من كسب طيب لقوله ويربي الصدقات ..... الخ) (1410) . ومسلم، الزكاة، باب قبول الصدقة من الكسب الطيب وتربيتها (1014).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 687
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَثَلُ الْمُنْفِقِ وَالْبَخِيلِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُبَّتَانِ أَوْ جُنَّتَانِ مِنْ لَدُنْ ثَدْيَيْهِمَا إِلَى تَرَاقِيهِمَا فَإِذَا أَرَادَ الْمُنْفِقُ أَنْ يُنْفِقَ سَبَغَتْ عَلَيْهِ الدِّرْعُ أَوْ مَرَّتْ حَتَّى [ ص: 139 ] تُجِنَّ ثِيَابَهُ وَتَعْفُوَ أَثَرَهُ، وَإِذَا أَرَادَ الْبَخِيلُ أَنْ يُنْفِقَ قَلَصَتْ وَلَزِمَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ مَوْضِعَهَا حَتَّى تَأْخُذَ بِعُنُقِهِ أَوْ تَرْقُوَتِهِ فَهُوَ يُوَسِّعُهَا وَلَا تَتَّسِعُ"  .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صدقہ دینے والے اور کنجوس انسان کی مثال ایسے دو شخصوں کی طرح ہے جن پر دو کرتے یا زرہیں ہیں جو چھاتی سے لے کر ہنسلی تک ہیں۔ جب خرچ کرنے والا (سخی) خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ زرہ اس کے جسم کو چھپا لیتی ہے یا وہ (جسم سے) تجاوز کر جاتا ہے حتیٰ کہ اس کے کپڑوں کو ڈھانپ لیتی ہے اور چلنے میں اس کا نشان مٹتا جاتا ہے، اور جب کنجوس خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے، تو وہ (کرتا) تنگ ہو جاتا ہے اور ہر حلقہ اپنی جگہ سے چمٹ جاتا ہے، حتیٰ کہ وہ اس کی گردن یا گلے کو (بھی دبا لیتا ہے)۔ بخیل اس کو کشادہ کرنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن وہ کشادہ نہیں ہو پاتا۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الزكاة /حدیث: 687]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخارى الزكاة، باب مثل البخيل والمتصدق (1443) . ومسلم، الزكاة، باب مثل المنفق والبخيل (1021).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 688
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:"فَهُوَ يُوَسِّعُهَا وَلَا تَتَوَسَّعُ"  . أَخْرَجَ الثَّلَاثَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الزَّكَاةِ.
ایک دوسری سند سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے اسی طرح مروی ہے مگر اس میں الفاظ یہ ہیں: کہ وہ اسے کشادہ کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن کر نہیں پاتا۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الزكاة /حدیث: 688]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخارى الزكاة، باب مثل البخيل والمتصدق (1443) . ومسلم، الزكاة، باب مثل المنفق والبخيل (1021).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. بَابُ رِضَى الْمُصَدِّقِ
زکات وصول کرنے والے کی خوشنودی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 689
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِذَا أَتَاكُمُ الْمُصَدِّقُ فَلَا يُفَارِقَنَّكُمْ إِلَّا عَنْ رِضًى"  .
جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تمہارے پاس زکوٰۃ وصول کرنے والا آئے تو وہ تمہارے پاس سے خوش ہو کر جائے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الزكاة /حدیث: 689]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم، الزكاة، باب ارضاء السعاة، رقم 989 . والترمذى الزكاة، باب ماجاء في رضا المصدق، رقم: (647) (648).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 690
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي رَجُلَانِ مِنْ أَشْجَعَ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ سَلَمَةَ الْأَنْصَارِيَّ كَانَ يَأْتِيهِمْ مُصَدِّقًا فَيَقُولُ لِرَبِّ الْمَالِ: أَخْرِجْ إِلَيَّ صَدَقَةَ مَالِكَ، فَلَا يَقُودُ إِلَيْهِ شَاةً فِيهَا وَفَاءٌ مِنْ حَقِّهِ إِلَّا قَبِلَهَا.  أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الزَّكَاةِ.
محمد بن یحییٰ بن حبان بیان کرتے ہیں کہ مجھے اشجع قبیلہ کے دو آدمیوں نے بتایا کہ محمد بن سلمہ انصاری رضی اللہ عنہ ان کے پاس زکوٰۃ لینے آتے تو وہ مال کے مالک سے کہتے: زکوٰۃ کا مال لاؤ، جب بھی کوئی بکری جس کا حق پورا کرنا ضروری ہوتا لائی جاتی تو وہ اسے قبول فرما لیتے تھے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الزكاة /حدیث: 690]
تخریج الحدیث: «اسناده لضعف لابهام من أخبر مهد بن يحيى اخرجه البيهقي: 4 / 158، 102.» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں