🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. باب مَا جَاءَ فِي ذَكَاةِ الْجَنِينِ
باب: جانور کے پیٹ میں موجود بچے کا ذبح اس کی ماں کا ذبح ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2828
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْقَدَّاحُ الْمَكِّيُّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" ذَكَاةُ الْجَنِينِ ذَكَاةُ أُمِّهِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پیٹ کے بچے کا ذبح اس کی ماں کا ذبح ہے (یعنی ماں کا ذبح کرنا پیٹ کے بچے کے ذبح کو کافی ہے)“۔ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2828]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بچے کا ذبح کرنا اس کی ماں کے ذبح کرنے میں ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2828]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2882)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الأضاحي 17(2022) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (4091)
وللحديث شاھد حسن عند ابن حبان (1077)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. باب مَا جَاءَ فِي أَكْلِ اللَّحْمِ لاَ يُدْرَى أَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ أَمْ لاَ
باب: جس گوشت کے بارے میں یہ نہ معلوم ہو کہ وہ «بسم اللہ» پڑھ کر ذبح کیا گیا ہے یا بغیر «بسم اللہ» کے، اس کے کھانے کا کیا حکم ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2829
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ. ح وحَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ. ح وحَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ، وَمُحَاضِرٌ الْمَعْنَى، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ وَلَمْ يَذْكُرَا، عَنْ حَمَّادٍ، وَمَالِكٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهُمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ قَوْمًا حَدِيثُو عَهْدٍ بِالْجَاهِلِيَّةِ يَأْتُونَنَا بِلُحْمَانٍ لَا نَدْرِي أَذَكَرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا أَمْ لَمْ يَذْكُرُوا أَفَنَأْكُلُ مِنْهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَمُّوا اللَّهَ وَكُلُوا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کچھ لوگ ہیں جو جاہلیت سے نکل کر ابھی نئے نئے ایمان لائے ہیں، وہ ہمارے پاس گوشت لے کر آتے ہیں، ہم نہیں جانتے کہ ذبح کے وقت اللہ کا نام لیتے ہیں یا نہیں تو کیا ہم اس میں سے کھائیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «بسم الله» کہہ کر کھاؤ ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2829]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ لوگوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! کچھ لوگ، جو جاہلیت سے نئے نئے نکلے ہیں، ہمارے پاس گوشت لاتے ہیں، ہمیں معلوم نہیں ہوتا کہ انہوں نے ان جانوروں کو ذبح کرتے ہوئے «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام سے“ پڑھی یا نہیں، تو کیا ہم یہ کھا لیں؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اللہ کا نام لو اور کھا لو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2829]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/البیوع 5 (2057)، الصید 21 (5507)، التوحید 13 (7398)، (تحفة الأشراف: 16950، 17181، 19029)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الضحایا 38 (4441)، سنن ابن ماجہ/الذبائح 4 (3174)، موطا امام مالک/الأضاحي 4 (7)، والذبائح 1 (1)، سنن الدارمی/الأضاحي 14 (2019) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: مطلب یہ ہے کہ تم اہل اسلام کے سلسلے میں نیک گمان رکھو کہ انہوں نے اللہ کا نام لے کر ذبح کیا ہو گا، پھر بھی شک و شبہ کو دور کرنے کے لئے کھاتے وقت «بسم الله» کہہ لیا کرو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
رواه البخاري (2057، 5507، 7398)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. باب فِي الْعَتِيرَةِ
باب: عتیرہ (یعنی ماہ رجب کی قربانی) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2830
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ. ح وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ بِشْرِ بْنِ الْمُفَضَّلِ الْمَعْنَى، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، قَالَ: قَالَ نُبَيْشَةُ نَادَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّا كُنَّا نَعْتِرُ عَتِيرَةً فِي الْجَاهِلِيَّةِ فِي رَجَبٍ، فَمَا تَأْمُرُنَا، قَالَ:" اذْبَحُوا لِلَّهِ فِي أَيِّ شَهْرٍ كَانَ وَبَرُّوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَطْعِمُوا، قَالَ: إِنَّا كُنَّا نُفْرِعُ فَرَعًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: فِي كُلِّ سَائِمَةٍ فَرَعٌ تَغْذُوهُ مَاشِيَتَكَ حَتَّى إِذَا اسْتَحْمَلَ"، قَالَ نَصْرٌ: اسْتَحْمَلَ لِلْحَجِيجِ ذَبَحْتَهُ فَتَصَدَّقْتَ بِلَحْمِهِ، قَالَ خَالِدٌ: أَحْسَبَهُ، قَالَ عَلَى ابْنِ السَّبِيلِ: فَإِنَّ ذَلِكَ خَيْرٌ، قَالَ خَالِدٌ: قُلْتُ لِأَبِي قِلَابَةَ كَمْ السَّائِمَةُ قَالَ: مِائَةٌ.
نبیشہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکار کر کہا: ہم جاہلیت میں رجب کے مہینے میں «عتيرة» (یعنی جانور ذبح) کیا کرتے تھے تو آپ ہم کو کیا حکم کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”جس مہینے میں بھی ہو سکے اللہ کی رضا کے لیے ذبح کرو، اللہ کے لیے نیکی کرو، اور کھلاؤ“۔ پھر وہ کہنے لگا: ہم زمانہ جاہلیت میں «فرع» (یعنی قربانی) کرتے تھے، اب آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر چرنے والے جانور میں ایک «فرع» ہے، جسے تمہارے مویشی پالتے/کھلاتے ہیں (یعنی وہ تمہارے ریوڑ کے ساتھ ہی پلتا بڑھتا ہے)، جب (اونٹ) بوجھ لادنے کے قابل ہو جائے (نصر کی روایت میں ہے: جب حاجیوں کے لیے بوجھ لادنے کے قابل ہو جائے) تو اس کو ذبح کرو پھر اس کا گوشت صدقہ کرو - خالد کہتے ہیں: میرا خیال ہے انہوں نے کہا: مسافروں پر صدقہ کرو - یہ بہتر ہے“۔ خالد کہتے ہیں: میں نے ابوقلابہ سے پوچھا: کتنے جانوروں میں ایسا کرے؟ انہوں نے کہا: سو جانوروں میں۔ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2830]
سیدنا نبیثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکار کر کہا: ”ہم جاہلیت میں رجب کے مہینے میں قربانی کیا کرتے تھے ( «عَتِيرَةٌ»)، تو آپ ہمیں کیا ارشاد فرماتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے لیے ذبح کرو جس مہینے میں بھی ہو، اللہ عزوجل کے لیے نیکی کرو اور کھلایا کرو۔“ اس آدمی نے کہا کہ: ”ہم جاہلیت میں «فَرَعٌ» بھی کرتے تھے، تو آپ ہمیں کیا فرماتے ہیں؟“ فرمایا: ”تمام چرنے والے جانوروں میں ایک «فَرَعٌ» ہے (ذبیحہ ہے)، یہ نومولود بچہ جسے کہ تیرے دوسرے جانور غذا دیتے ہیں حتیٰ کہ جب وہ بوجھ اٹھانے کے قابل ہو جائے۔“ نصر بن علی نے کہا: ”جب وہ حاجیوں کو اٹھانے کے قابل ہو جائے تو، تو اسے ذبح کر اور اس کا گوشت صدقہ کر۔“ خالد حذاء کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ (استاذ ابوقلابہ نے) یوں کہا: ”مسافروں پر صدقہ کر بلاشبہ یہ خیر کا عمل ہے۔“ خالد حذاء کہتے ہیں: میں نے استاذ ابوقلابہ سے پوچھا کہ «سَائِمَةٌ» (چرنے والے) جانوروں کی تعداد کیا ہوتی ہے؟ انہوں نے کہا: ”ایک سو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2830]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الفرع والعتیرة 1 (4233)، سنن ابن ماجہ/الذبائح 2 (3137)، (تحفة الأشراف: 11586)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/75، 76) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (1478)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2831
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا فَرَعَ وَلَا عَتِيرَةَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اسلام میں) نہ «فرع» ہے اور نہ «عتیرہ» ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2831]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ «فَرَعٌ» (واجب) ہے اور نہ «عَتِيْرَةٌ» ۔“ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2831]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/العقیقة 4 (5473)، صحیح مسلم/الأضاحي 6 (1976)، سنن الترمذی/الأضاحي 15 (1512)، سنن النسائی/الفرع والعتیرة (4227)، سنن ابن ماجہ/الذبائح 2 (3168)، (تحفة الأشراف: 13127)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/239، 254، 285)، سنن الدارمی/الأضاحي 8 (2007) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: «فرع» زمانہ جاہلیت میں جس جانور کا پہلوٹہ بچہ پیدا ہوتا اس کو بتوں کے نام ذبح کرتے تھے، اور ابتدائے اسلام میں مسلمان بھی ایسا اللہ کے واسطے کرتے تھے پھر کفار سے مشابہت کی بنا پر اسے منسوخ کر دیا گیا، اور اس کام سے منع کر دیا گیا، اور «عتیرہ» رجب کے پہلے عشرہ میں تقرب حاصل کرنے کے لئے زمانہ جاہلیت میں ذبح کرتے تھے، اور اسلام کے ابتداء میں مسلمان بھی ایسا کرتے تھے، کافر اپنے بتوں سے تقرب کے لئے اور مسلمان اللہ تعالی سے تقرب کے لئے کرتے تھے، پھر یہ دونوں منسوخ ہو گئے، اب نہ «فرع» ہے اور نہ «عتیرہ» ، بلکہ مسلمانوں کے لئے عیدالاضحی کے روز قربانی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5474) صحيح مسلم (1976)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2832
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، قَالَ: الْفَرَعُ أَوَّلُ النَّتَاجِ كَانَ يُنْتَجُ لَهُمْ فَيَذْبَحُونَهُ.
سعید بن مسیب کہتے ہیں «فرع» پہلوٹے بچے کو کہتے ہیں جس کی پیدائش پر اسے ذبح کر دیا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2832]
جناب سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ” «فَرَعْ» اس بچے کو کہتے تھے جو ان کے جانوروں میں سب سے پہلے پیدا ہوتا، پھر وہ اسے ذبح کر دیتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2832]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17833) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنده ضعيف من أجل عنعنة الزھري ومعناه صحيح بالإتفاق
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 102

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2833
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ كُلِّ خَمْسِينَ شَاةً شَاةٌ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ بَعْضُهُمُ الْفَرَعُ أَوَّلُ مَا تُنْتِجُ الإِبِلُ كَانُوا يَذْبَحُونَهُ لِطَوَاغِيتِهِمْ ثُمَّ يَأْكُلُونَهُ، وَيُلْقَى جِلْدُهُ عَلَى الشَّجَرِ وَالْعَتِيرَةُ فِي الْعَشْرِ الأُوَلِ مِنْ رَجَبٍ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہر پچاس بکری میں سے ایک بکری ذبح کرنے کا حکم دیا ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: بعض حضرات نے «فرع» کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اونٹ کے سب سے پہلے بچہ کی پیدائش پر کفار اسے بتوں کے نام ذبح کر کے کھا لیتے، اور اس کی کھال کو درخت پر ڈال دیتے تھے، اور «عتیرہ» ایسے جانور کو کہتے ہیں جسے رجب کے پہلے عشرہ میں ذبح کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2833]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ”ہر پچاس بکریوں میں ایک بکری (صدقہ) ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”بعض علماء نے بیان کیا ہے کہ «الْفَرَعُ» سے مراد اونٹوں میں پیدا ہونے والا پہلا بچہ ہوتا تھا، جسے وہ لوگ اپنے بتوں کے نام سے ذبح کرتے تھے، گوشت کھا لیتے اور اس کا چمڑا کسی درخت پر ڈال دیتے تھے، اور «الْعَتِيرَةُ» اسے کہتے تھے جسے وہ رجب کے پہلے دس دنوں میں ذبح کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2833]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 17835)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/158، 251) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ حکم مستحب تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه ابن ماجه (3163 وسنده حسن) ورواه الترمذي (1513 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. باب فِي الْعَقِيقَةِ
باب: عقیقہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2834
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ مَيْسَرَةَ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ الْكَعْبِيَّةِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافِئَتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمِعْت أَحْمَدَ، قَالَ: مُكَافِئَتَانِ أَيْ مُسْتَوِيَتَانِ أَوْ مُقَارِبَتَانِ.
ام کرز کعبیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے: ”(عقیقہ) میں لڑکے کی طرف سے دو بکریاں برابر کی ہیں، اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: احمد نے «مكافئتان» کے معنی یہ کئے ہیں کہ دونوں (عمر میں) برابر ہوں یا قریب قریب ہوں۔ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2834]
سیدہ ام کرز رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”لڑکے کی طرف سے دو بکریاں برابر برابر (ایک جیسی) اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے امام احمد رحمہ اللہ سے سنا، کہتے تھے کہ «مُكَافِئَتَانِ» کے معنی ہیں کہ ”دونوں بکریاں برابر برابر ہوں یا قریب قریب ہوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2834]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الأضاحي 17 (1516)، سنن النسائی/العقیقة 2 (4221)، سنن ابن ماجہ/الذبائح 1 (3162)، (تحفة الأشراف: 18352)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/381، 422)، سنن الدارمی/الأضاحي 9 (2009) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث الآتي (2835)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2835
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ، قَالَتْ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" أَقِرُّوا الطَّيْرَ عَلَى مَكِنَاتِهَا، قَالَتْ: وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ لَا يَضُرُّكُمْ أَذُكْرَانًا كُنَّ أَمْ إِنَاثًا".
ام کرز رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”پرندوں کو ان کے گھونسلوں میں بیٹھے رہنے دو (یعنی ان کو گھونسلوں سے اڑا کر تکلیف نہ دو)“، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا ہے: ”لڑکے کی طرف سے (عقیقہ میں) دو بکریاں ہیں، اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے، اور تمہیں اس میں کچھ نقصان نہیں کہ وہ نر ہوں یا مادہ“۔ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2835]
سیدہ ام کرز رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”پرندوں کو اپنے گھونسلوں میں رہنے دو (انہیں اچھا یا برا شگون لینے کے لیے نہ اڑاؤ)۔“ کہتی ہیں: اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”لڑکے کی طرف سے دو بکریاں ہوں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری، اور کوئی حرج نہیں کہ دونوں مذکر ہوں یا دونوں مؤنث۔“ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2835]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/العقیقة 3 (4223، 4222)، سنن ابن ماجہ/الذبائح 1 (3162)، (تحفة الأشراف: 18347)، وقد أخرجہ: دی/ الأضاحی 9 (2011) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (یہ حدیث ضعیف ہے،اس کی سند میں اضطراب ہے، عقیقہ سے متعلق حدیث کے لئے اوپر اور نیچے کی احادیث دیکھئے، ملاحظہ ہو: صحیح ابوداود 8/183)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (4152)
أخرجه النسائي (4222 وسنده حسن) والحميدي (346 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2836
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مِثْلَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا هُوَ الْحَدِيثُ وَحَدِيثُ سُفْيَانَ وَهْمٌ.
ام کرز رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(عقیقے میں) لڑکے کی طرف سے برابر کی دو بکریاں ہیں، اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہی دراصل حدیث ہے، اور سفیان کی حدیث (نمبر: ۲۸۳۵) وہم ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2836]
سیدہ ام کرز رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لڑکے کی طرف سے دو بکریاں ہیں ہم مثل (ایک جیسی) اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”صحیح حدیث یہی ہے جبکہ سفیان کی حدیث وہم ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2836]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (2834)، (تحفة الأشراف: 18347) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی: عبید اللہ بن ابی یزید کے بعد سند میں «عن ابیہ» کا اضافہ سفیان کا وہم ہے، حماد کی روایت میں یہ اضافہ نہیں ہے اور یہی دیگر لوگوں کی روایتوں میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (2835)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2837
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كُلُّ غُلَامٍ رَهِينَةٌ بِعَقِيقَتِهِ تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ السَّابِعِ وَيُحْلَقُ رَأْسُهُ وَيُدَمَّى"، فَكَانَ قَتَادَةُ إِذَا سُئِلَ عَنِ الدَّمِ كَيْفَ يُصْنَعُ بِهِ قَالَ: إِذَا ذَبَحْتَ الْعَقِيقَةَ أَخَذْتَ مِنْهَا صُوفَةً وَاسْتَقْبَلْتَ بِهِ أَوْدَاجَهَا، ثُمَّ تُوضَعُ عَلَى يَافُوخِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَسِيلَ عَلَى رَأْسِهِ مِثْلَ الْخَيْطِ، ثُمَّ يُغْسَلُ رَأْسُهُ بَعْدُ وَيُحْلَقُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا وَهْمٌ مِنْ هَمَّامٍ وَيُدَمَّى، قَالَ أَبُو دَاوُد: خُولِفَ هَمَّامٌ فِي هَذَا الْكَلَامِ وَهُوَ وَهْمٌ مِنْ هَمَّامٍ، وَإِنَّمَا قَالُوا: يُسَمَّى، فَقَالَ هَمَّامٌ: يُدَمَّى، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَلَيْسَ يُؤْخَذُ بِهَذَا.
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر لڑکا اپنے عقیقہ کے بدلے میں گروی ہے ساتویں دن اس کی طرف سے ذبح کیا جائے اور اس کا سر مونڈا جائے اور عقیقہ کا خون اس کے سر پر لگایا جائے ۱؎“۔ قتادہ سے جب پوچھا جاتا کہ کس طرح خون لگایا جائے؟ تو کہتے: جب عقیقے کا جانور ذبح کرنے لگو تو اس کے بالوں کا ایک گچھا لے کر اس کی رگوں پر رکھ دو، پھر وہ گچھا لڑکے کی چندیا پر رکھ دیا جائے، یہاں تک کہ خون دھاگے کی طرح اس کے سر سے بہنے لگے پھر اس کے بعد اس کا سر دھو دیا جائے اور سر مونڈ دیا جائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «يدمى» ہمام کا وہم ہے، اصل میں «ويسمى» تھا جسے ہمام نے «يدمى» کر دیا، ابوداؤد کہتے ہیں: اس پر عمل نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2837]
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر بچہ اپنے عقیقے کے ساتھ گروی ہوتا ہے۔ (لہٰذا) ساتویں دن اس کی طرف سے جانور ذبح کیا جائے، سر منڈایا جائے اور اس پر خون لگایا جائے۔“ قتادہ رحمہ اللہ سے جب یہ پوچھا جاتا کہ خون کس طرح لگایا جائے تو وہ کہتے: ”جب جانور ذبح کیا جا رہا ہو تو اس کے چند بال لے کر اس کی (کٹنے والی) رگوں کے آگے کر دو اور بچے کی چندیا پر رکھ دیے جائیں حتیٰ کہ وہ (تازہ تازہ خون) اس کے سر پر دھاگے کی مانند بہنے لگے۔ پھر اس کا سر دھویا جائے اور بال مونڈ دیے جائیں۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ «وَيُدَمَّىٰ» ”خون لگانے والی بات“ ہمام کا وہم ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس جملے میں ہمام کی مخالفت کی گئی ہے۔ دیگر لوگ «وَيُسَمَّىٰ» ”بچے کا نام رکھا جائے“ روایت کرتے ہیں، مگر ہمام نے اس لفظ کو «وَيُدَمَّىٰ» کہہ دیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”یہ قابل عمل بھی نہیں ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2837]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الأضاحي 23 (1522)، سنن النسائی/العقیقة 4 (4225)، سنن ابن ماجہ/الذبائح 1 (3165)، (تحفة الأشراف: 4581)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العقیقة 2 (5472)، مسند احمد (5/7، 8، 12، 17، 18، 22)، سنن الدارمی/الأضاحي 9 (2012) (صحیح)» ‏‏‏‏ (لیکن «يدمى» کی جگہ «يسمى» صحیح ہے جیسا کہ اگلی روایت میں آرہا ہے، ترمذی نسائی اور ابن ماجہ میں «يسمى» ہی ہے)
وضاحت: ۱؎: بریدہ رضی اللہ عنہ کی آنے والی حدیث نمبر (۲۸۴۳) اس حدیث کے لئے ناسخ ہے، لہٰذا عقیقہ کا خون بچے کے سر پر نہیں لگایا جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله ويدمى والمحفوظ ويسمى
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قتادة : عنعن والحديث الآتي(الأصل:2838) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 102

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں