یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. باب في العتيرة
باب: عتیرہ (یعنی ماہ رجب کی قربانی) کا بیان۔
حدیث نمبر: 2833
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ كُلِّ خَمْسِينَ شَاةً شَاةٌ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ بَعْضُهُمُ الْفَرَعُ أَوَّلُ مَا تُنْتِجُ الإِبِلُ كَانُوا يَذْبَحُونَهُ لِطَوَاغِيتِهِمْ ثُمَّ يَأْكُلُونَهُ، وَيُلْقَى جِلْدُهُ عَلَى الشَّجَرِ وَالْعَتِيرَةُ فِي الْعَشْرِ الأُوَلِ مِنْ رَجَبٍ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہر پچاس بکری میں سے ایک بکری ذبح کرنے کا حکم دیا ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: بعض حضرات نے «فرع» کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اونٹ کے سب سے پہلے بچہ کی پیدائش پر کفار اسے بتوں کے نام ذبح کر کے کھا لیتے، اور اس کی کھال کو درخت پر ڈال دیتے تھے، اور «عتیرہ» ایسے جانور کو کہتے ہیں جسے رجب کے پہلے عشرہ میں ذبح کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2833]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ”ہر پچاس بکریوں میں ایک بکری (صدقہ) ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”بعض علماء نے بیان کیا ہے کہ «الْفَرَعُ» سے مراد اونٹوں میں پیدا ہونے والا پہلا بچہ ہوتا تھا، جسے وہ لوگ اپنے بتوں کے نام سے ذبح کرتے تھے، گوشت کھا لیتے اور اس کا چمڑا کسی درخت پر ڈال دیتے تھے، اور «الْعَتِيرَةُ» اسے کہتے تھے جسے وہ رجب کے پہلے دس دنوں میں ذبح کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2833]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 17835)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/158، 251) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ حکم مستحب تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه ابن ماجه (3163 وسنده حسن) ورواه الترمذي (1513 وسنده حسن)
أخرجه ابن ماجه (3163 وسنده حسن) ورواه الترمذي (1513 وسنده حسن)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2833
| من كل خمسين شاة شاة |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2833 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2833
فوائد ومسائل:
ابتدائے اسلام میں فرع اور عتیرہ پرعمل ہوتا تھا۔
کہ کفار غیر اللہ کے نام پرکرتے تھے۔
اور مسلمان اللہ کے نام پر مگر بعد میں جب قربانی کا حکم ہوا تو انہیں منسوخ کر دیا گیا۔
یعنی ان کا وجوب
2۔
مجموعی طور پر حدیث سے عمومی صدقہ کے طور پر ان کا استحباب باقی ہے۔
مگر خیال رہے کہ کفار اور جاہلی لوگوں سے مشابہت نہ ہو۔
وہ لوگ غیر اللہ کے نام سے ذبح کرتے ہیں۔
جو سراسر شرک ہے۔
کچھ لوگ خون بہانا لازمی سمجھتے ہیں۔
اور اسے ہی تقرب کا ذریعہ جانتے ہیں۔
تو یہ بھی کوئی ضروری نہیں۔
(نیل الأوطار، باب ماجاء في الفرع والعتیرہ ونسخھا: 157/5) مذید دیکھئے حدیث 2788 کے فوائد)
ابتدائے اسلام میں فرع اور عتیرہ پرعمل ہوتا تھا۔
کہ کفار غیر اللہ کے نام پرکرتے تھے۔
اور مسلمان اللہ کے نام پر مگر بعد میں جب قربانی کا حکم ہوا تو انہیں منسوخ کر دیا گیا۔
یعنی ان کا وجوب
2۔
مجموعی طور پر حدیث سے عمومی صدقہ کے طور پر ان کا استحباب باقی ہے۔
مگر خیال رہے کہ کفار اور جاہلی لوگوں سے مشابہت نہ ہو۔
وہ لوگ غیر اللہ کے نام سے ذبح کرتے ہیں۔
جو سراسر شرک ہے۔
کچھ لوگ خون بہانا لازمی سمجھتے ہیں۔
اور اسے ہی تقرب کا ذریعہ جانتے ہیں۔
تو یہ بھی کوئی ضروری نہیں۔
(نیل الأوطار، باب ماجاء في الفرع والعتیرہ ونسخھا: 157/5) مذید دیکھئے حدیث 2788 کے فوائد)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2833]
Sunan Abi Dawud Hadith 2833 in Urdu
حفصة بنت عبد الرحمن التيمية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق