مسند الشافعی سے متعلقہ
4. بَابٌ فِي فَضْلِ أَهْلِ بَدْرٍ
اہلِ بدر کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 1786
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَالزُّبَيْرَ وَالْمِقْدَادَ، فَقَالَ:"انْطَلِقُوا حَتَّى تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخَ فَإِنَّ بِهَا ظَعِينَةً مَعَهَا كِتَابٌ"، فَخَرَجْنَا تَعَادَى بِنَا خَيْلُنَا، فَإِذَا نَحْنُ بِظَعِينَةٍ، فَقُلْنَا: أَخْرِجِي الْكِتَابَ. فَقَالَتْ: مَا مَعِي كِتَابٌ، فَقُلْنَا لَهَا: لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ أَوْ لَنُلْقِيَنَّ الثِّيَابَ، فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ عِقَاصِهَا، فَأَتَيْنَا بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا فِيهِ: مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى أُنَاسٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ مِمَّنْ بِمَكَّةَ يُخْبِرُ بِبَعْضِ أَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:"مَا هَذَا يَا حَاطِبُ؟" قَالَ: لَا تَعْجَلْ عَلَيَّ إِنِّي كُنْتُ امْرَأً مُلْصَقًا فِي قُرَيْشٍ، وَلَمْ أَكُنْ مِنْ أَنْفَسِهَا، وَكَانَ مِمَّنْ مَعَكَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ لَهُمْ قَرَابَاتٌ يَحْمُونَ بِهَا قَرَابَاتِهِمْ، وَلَمْ يَكُنْ لِي بِمَكَّةَ قَرَابَةٌ فَأَحْبَبْتُ إِذْ فَاتَنِي ذَلِكَ أَنْ أَتَّخِذَ عِنْدَهُمْ يَدًا، وَاللَّهِ مَا فَعَلْتُهُ شَكًّا فِي دِينِي وَلَا رِضًا بِالْكُفْرِ بَعْدَ الْإِسْلَامِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِنَّهُ قَدْ صَدَقَ". فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، دَعْنِي أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَقَدْ شَهِدَ بَدْرًا، وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ، فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ، وَنَزَلَتْ: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ [الْمُمْتَحَنَةِ: 1] . أَخْرَجَهُ مِنْ كِتَابِ الْأُسَارَى وَالْغُلُولِ.
عبید الله بن أبي رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرمایا میں نے علی رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور زبیر اور مقداد رضی اللہ عنہما کو بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم روضہ خاخ (ایک جگہ کا نام ہے) پر پہنچو تو وہاں ایک بڑھیا (اونٹ پر سوار) تمہیں ملے گی، اس کے پاس ایک خط ہوگا۔ ہم روانہ ہوئے تو ہمارے گھوڑے ہمیں تیزی سے لے جا رہے تھے کہ ہم اس بوڑھی عورت کے پاس پہنچ گئے۔ تو ہم نے (اس سے) کہا، خط نکالو! اس نے کہا، میرے پاس تو کوئی خط نہیں۔ ہم نے پھر اس سے کہا تو خط نکال یا ہم تیرے کپڑے اتار دیں گے۔ تو اس نے وہ خط اپنی مینڈھی سے نکالا، ہم اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو اس کا مضمون یہ تھا، حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے مشرکین مکہ کے چند آدمیوں کی طرف، وہ اس خط میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض معاملات (رازوں) کی (انہیں) خبر دے رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اے حاطب! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا میرے بارے میں جلدی (فیصلہ) نہ کریں، میری حیثیت یہ تھی کہ میں نے قریش میں رہنا اختیار کر لیا، اور میرا ان سے کوئی رشتہ نہ تھا، اور آپ کے ساتھ دوسرے مہاجرین کی ان سے رشتہ داریاں ہیں، تو وہ (مکہ والے) ان کی رشتہ داریوں کی وجہ سے ان کے (رشتہ داروں اور مالوں کی) حفاظت و حمایت کریں گے، اور میری مکہ والوں سے کوئی رشتہ داری نہ تھی، لہذا میں نے چاہا جب میری ان سے رشتہ داری نہیں تو میں ان پر احسان کر دیتا ہوں (جس کے صلہ میں وہ میرے رشتہ داروں کی حفاظت کریں گے۔ اللہ کی قسم! نہ تو میں نے یہ کام اپنے دین میں شک کی بنیاد پر کیا اور نہ ہی اسلام کے بعد کفر پر رضا مند ہونے کی وجہ سے کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان کی بات سن کر) فرمایا: انہوں نے سچ کہا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اجازت دیں میں اس منافق کا سر اڑا دوں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یہ بدر کی لڑائی میں (مسلمانوں کے ساتھ) شریک ہوئے ہیں، اور تمہیں معلوم نہیں، اللہ تعالیٰ نے بدر والوں پر جھانکا ہے اور فرمایا ہے: تم جو چاہو کرو، میں نے تمہیں معاف کر دیا ہے۔ اور پھر یہ آیت نازل ہوئی: ”اے ایمان والو! میرے اور (خود) اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ کہ تم ان کی طرف دوستی کے پیغام بھیجتے ہو۔“ (المتحہ: 1) [مسند الشافعی/ كتاب فضائل قريش وغيرهم وأبواب متفرقة /حدیث: 1786]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، الجهاد والسير باب الجاسوس والتجسس التبحث...... الخ (3007)، (4890) ومسلم، فضائل الصحابة، باب من فضائل حاطب بن ابی بلتعه واهل بدر (2494).»
5. بَابٌ فِي فَضْلِ أَهْلِ الْحُدَيْبِيَةِ
اہلِ حدیبیہ کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 1787
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"أَنْتُمُ الْيَوْمَ خَيْرُ أَهْلِ الْأَرْضِ". قَالَ جَابِرٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لَوْ كُنْتُ أُبْصِرُ لَأَرَيْتُكُمْ مَوْضِعَ الشَّجَرَةِ. أَخْرَجَهُ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان فرمایا، حدیبیہ کے دن ہماری تعداد 1400 تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج تم تمام دنیا والوں سے بہتر ہو۔“ جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر آج میری بینائی ہوتی تو میں تمہیں اس درخت کا مقام بتاتا۔“ [مسند الشافعی/ كتاب فضائل قريش وغيرهم وأبواب متفرقة /حدیث: 1787]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، المغازی، باب غزوة الحديبية (4154) ومسلم، الامارة، باب استحباب مبايعة الامام الجيش عند ارادة القتال ..... الخ (1856).»
6. بَابٌ فِي فَضْلِ الصَّحَابَةِ وَالتَّابِعِينَ وَتَابِعِي التَّابِعِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ
صحابہ کرام، تابعین اور تبع تابعین رضی اللہ عنہم اجمعین کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 1788
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ، عَنِ ابْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَامَ بِالْجَابِيَةِ خَطِيبًا، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِينَا كَقِيَامِي فِيكُمْ، فَقَالَ:"أَكْرِمُوا أَصْحَابِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ يَظْهَرُ الْكَذِبُ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَحْلِفُ وَلَا يُسْتَحْلَفُ وَيَشْهَدُ وَلَا يُسْتَشْهَدُ أَلَا فَمَنْ سَرَّهُ أَنْ يَسْكُنَ بُحْبُوحَةَ الْجَنَّةِ فَلْيَلْزَمِ الْجَمَاعَةَ؛ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ مَعَ الْفَذِّ، وَهُوَ مِنَ الِاثْنَيْنِ أَبْعَدُ وَلَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ ثَالِثُهُمَا وَمَنْ سَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ وَسَاءَتْهُ سَيِّئَتُهُ فَهُوَ مُؤْمِنٌ". أَخْرَجَهُ مِنْ كِتَابِ الرِّسَالَةِ.
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جابیہ پر خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے تو فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان اسی طرح کھڑے ہوئے جس طرح میں کھڑا ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے صحابہ کی عزت کرو، پھر ان لوگوں کی جو ان کے قریب ہیں (تابعین)، پھر ان لوگوں کی جو ان کے قریب ہیں (تبع تابعین)، پھر جھوٹ عام ہو جائے گا یہاں تک کہ ایک شخص (خود بخود) قسم اٹھائے گا اور اس سے قسم طلب نہیں کی جائے گی، اور وہ گواہی دے گا جبکہ اس سے گواہی طلب نہیں کی جائے گی۔ خبردار! جس شخص کو جنت کی درمیانی جگہ میں رہنا پسند ہے وہ جماعت کے ساتھ ملا رہے، بلاشبہ شیطان اکیلے کے ساتھ ہے، جبکہ شیطان دو آدمیوں سے (ان کے اتحاد کی بدولت) دور ہوتا ہے، اور کوئی شخص کسی غیر محرم عورت کے ساتھ خلوت اختیار نہ کرے کیونکہ (اس وقت) شیطان ان کے ساتھ تیسرا ہوتا ہے، اور جس کو اس کی نیکی پسند آئے اور برائی غمزدہ کرے تو وہ مومن ہے۔“ [مسند الشافعی/ كتاب فضائل قريش وغيرهم وأبواب متفرقة /حدیث: 1788]
تخریج الحدیث: «أخرجه الترمذى الفتن، باب ماجاء في لزوم الجماعة (2165) وقال حسن صحيح - وابن ماجة، الشهادات باب كراهية الشهادة لمن لم يستشهد (2363) وصححه ابن حبان.»
7. بَابٌ فِي فَضْلِ أَهْلِ الْيَمَنِ
اہل یمن کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 1789
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَلْيَنُ قُلُوبًا، وَأَرَقُّ أَفْئِدَةً، الْإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَّةٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہارے پاس یمن والے آتے ہیں، وہ نرم دلوں والے ہیں، اور ان کے دل کے پردے باریک ہیں، ایمان یمن والوں کا ہے اور حکمت بھی یمن والوں کی ہے۔“ [مسند الشافعی/ كتاب فضائل قريش وغيرهم وأبواب متفرقة /حدیث: 1789]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، المغازی، باب قدوم الاشعريين واهل اليمن (4388)، (3301) ومسلم، الایمان، باب تفاضل اهل الايمان فيه ورجحان اهل اليمن فيه (52).»
حدیث نمبر: 1790
أَخْبَرَنَا عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْعَبَّاسِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْقَاسِمِ الْأَزْرَقِ قَالَ: وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ثَنِيَّةِ تَبُوكَ، فَقَالَ:"مَا هَهُنَا شَأْمٌ"، وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى جِهَةِ الشَّأْمِ،"وَمَا هَهُنَا يَمَنٌ"، وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى جِهَةِ الْمَدِينَةِ. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الْأَشْرِبَةِ وَفَضَائِلِ قُرَيْشٍ.
حسن بن قاسم الازرق نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبوک کے پہاڑی راستے پر کھڑے ہو کر فرمایا: ”یہاں پر نحوست ہے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے شام کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: ”اور یہاں پر برکت ہے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے مدینہ کی طرف اشارہ کیا۔ [مسند الشافعی/ كتاب فضائل قريش وغيرهم وأبواب متفرقة /حدیث: 1790]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لا عضاله ولجهالة الحسن بن القاسم: اخرجه البيهقي في المعرفة السنن والآثار: (1/ 91).»
8. بَابٌ فِي فَضْلِ دَوْسٍ
قبیلہ دوس کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 1791
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو الدَّوْسِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ دَوْسًا قَدْ عَصَتْ وَأَبَتْ فَادْعُ اللَّهَ عَلَيْهَا. فَاسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِبْلَةَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ، فَقَالَ النَّاسُ: هَلَكَتْ دَوْسٌ، فَقَالَ:"اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَائْتِ بِهِمْ". أَخْرَجَهُ مِنْ كِتَابِ الْأَشْرِبَةِ وَفَضَائِلِ قُرَيْشٍ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! (قبیلہ) دوس نے بات نہیں مانی اور اللہ کا کلام سننے سے انکار کیا ہے، لہذا آپ ان پر بددعا کریں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف منہ کیا اور اپنے ہاتھ اٹھائے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا کہ اب دوس کے لوگ ہلاک ہو جائیں گے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: ”اے اللہ! قبیلہ دوس (کے لوگوں) کو ہدایت دے اور انہیں (اسلام کی طرف) لے آ۔“ [مسند الشافعی/ كتاب فضائل قريش وغيرهم وأبواب متفرقة /حدیث: 1791]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، المغازی، باب قصة دوس والطفيل بن عمرو الدوسي (4392) ومسلم، فضائل الصحابة، باب من فضائل غفار و اسلم وجهينة..... الخ (2524).»
9. بَابُ خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقُهُوا
جاہلیت میں ان کے بہترین لوگ اسلام میں بھی ان کے بہترین ہیں جب وہ دین کی سمجھ حاصل کرلیں کا بیان
حدیث نمبر: 1792
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"تَجِدُونَ النَّاسَ مَعَادِنَ فَخِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقُهُوا". أَخْرَجَهُ مِنْ كِتَابِ الْأَشْرِبَةِ وَفَضَائِلِ قُرَيْشٍ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگوں کو (اچھائی اور برائی میں) کانوں کی طرح پاؤ گے، جو لوگ ان میں سے جاہلیت میں بہترین ہیں وہ اسلام میں بھی بہترین ہیں جبکہ وہ دین کی سمجھ حاصل کریں۔“ [مسند الشافعی/ كتاب فضائل قريش وغيرهم وأبواب متفرقة /حدیث: 1792]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، المناقب، باب المناقب (3495)، (3496) ومسلم، فضائل الصحابة، باب خيار الناس (2526).»
10. بَابُ إِنَّ مُوسَى الْخَضِرِ مُوسَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ
خضر کے موسیٰ کا بنی اسرائیل والے موسیٰ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1793
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنَّ نَوْفًا الْبِكَالِيَّ يَزْعُمُ أَنَّ مُوسَى صَاحِبَ الْخَضِرِ لَيْسَ مُوسَى بَنِي إِسْرَائِيلَ. فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: كَذَبَ وَاللَّهِ عَدُوُّ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ثُمَّ ذَكَرَ حَدِيثَ مُوسَى وَالْخَضِرِ بِشَيْءٍ يَدُلُّ عَلَى أَنَّ مُوسَى صَاحِبُ الْخَضِرِ. أَخْرَجَهُ مِنْ كِتَابِ الرِّسَالَةِ.
سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے بیان فرمایا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ نوف بکالی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ خضر کے ساتھی موسیٰ (علیہ السلام)، بنی اسرائیل کے (نبی) موسیٰ علیہ السلام نہیں تھے۔ تو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اللہ کے دشمن نے جھوٹ بولا ہے۔“ مجھے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے بتایا، فرمایا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے موسیٰ اور خضر کے واقعے والی لمبی حدیث بیان کی جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ موسیٰ (نبی) علیہ السلام ہی خضر کے ساتھی تھے۔ [مسند الشافعی/ كتاب فضائل قريش وغيرهم وأبواب متفرقة /حدیث: 1793]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاری، احادیث الانبياء، باب حديث الخضر مع موسى عليهما السلام (3401) ومسلم، الفضائل، باب من فضائل الخضر (2380).»
11. بَابُ الْأَمْرِ بِاتِّبَاعِ السُّنَّةِ
سنت کی پیروی کرنے کے حکم کا بیان
حدیث نمبر: 1794
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، سَمِعَ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي رَافِعٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا أَلْفَيَنَّ أَحَدَكُمْ مُتَّكِئًا عَلَى أَرِيكَتِهِ يَأْتِيهِ الْأَمْرُ مِنْ أَمْرِي مِمَّا أَمَرْتُ بِهِ أَوْ نَهَيْتُ عَنْهُ، فَيَقُولُ: لَا أَدْرِي، مَا وَجَدْنَا فِي كِتَابِ اللَّهِ اتَّبَعْنَاهُ.
ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تم میں سے کسی کو (اس حال میں) نہ پاؤں کہ وہ اپنی چارپائی پر تکیہ لگائے ہوئے ہو اور اس کے پاس میرے حکموں میں سے کوئی حکم آ جائے جس کے کرنے کا میں نے حکم دیا ہو یا جس سے میں نے منع کیا ہو، اور وہ (جواب میں) کہے: میں تو نہیں جانتا، ہم نے جو کچھ اللہ کی کتاب میں پایا ہم اسی کی پیروی کریں گے۔“ [مسند الشافعی/ كتاب فضائل قريش وغيرهم وأبواب متفرقة /حدیث: 1794]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابو داود، السنة، باب في لزوم السنة، رقم 4605 - والترمذى، العلم، باب ما نهى عند ان يقال عند حديث رسول الله (2663). وقال حسن صحيح وصححه الحاكم: 1/ 108، 109 ـ ووافقه الذهبي، وصححه ابن حبان.»
حدیث نمبر: 1795
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا. قَالَ الشَّافِعِيُّ: الْأَرِيكَةُ: السَّرِيرُ.
ہمیں سفیان رحمہ اللہ نے خبر دی، فرمایا مجھے محمد بن منکدر رحمہ اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطہ سے یہی حدیث مرسل بیان کی ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”الاریکہ“ سے مراد سریر (چارپائی) ہے۔ [مسند الشافعی/ كتاب فضائل قريش وغيرهم وأبواب متفرقة /حدیث: 1795]
تخریج الحدیث: «قد صح موصولا انظر الحديث الذي قبله برقم (1794) - اخرجه البيهقي في الدلائل: 1/ 24ـ وفي المعرفة السنن والآثار له: 1 / 67 - والحمیدی (551) مرسلاً.»