🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الشافعی سے متعلقہ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

14. بَابُ النَّصِيحَةِ
خیر خواہی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1806
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: نَضَّرَ اللَّهُ عَبْدًا سَمِعَ مَقَالَتِي فَحَفِظَهَا وَوَعَاهَا وَأَدَّاهَا، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى غَيْرِ فَقِيهٍ وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ. ثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ مُسْلِمٍ: إِخْلَاصُ الْعَمَلِ للَّهِ تَعَالَى، وَالنَّصِيحَةُ لِلْمُسْلِمِينَ، وَلُزُومُ جَمَاعَاتِهِمْ، فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تُحِيطُ مِنْ وَرَائِهِمْ. أَخْرَجَ الثَّلَاثَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الرِّسَالَةِ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس بندے کے چہرے کو ترو تازہ رکھے جس نے میری بات سنی، اس کو محفوظ کیا، اس کو یاد رکھا، اور لوگوں تک پہنچا دیا، کیونکہ بعض دفعہ علم کے حامل خود فقیہ نہیں ہوتے (یعنی استنباط کا ملکہ نہیں رکھتے) اور بعض دفعہ علم کے حامل اس کی طرف بات پہنچا دیتے ہیں جو ان سے بھی زیادہ فقیہ ہوتا ہے۔ تین خصلتیں ایسی ہیں جن میں ایک مسلمان کا دل خیانت نہیں کرتا (یعنی مسلمان انہیں خوش دلی سے اپناتا ہے) اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کے ساتھ عمل کرنا، مسلمانوں کی خیر خواہی کرنا، اور مسلمانوں کی جماعت سے وابستہ رہنا، کیونکہ ان کی دعا انہیں پیچھے سے گھیرے میں لیے ہوئے ہوتی ہے۔ [مسند الشافعی/ كتاب فضائل قريش وغيرهم وأبواب متفرقة /حدیث: 1806]
تخریج الحدیث: «اخرجه الترمذى، العلم، باب ما جاء في الحث على تبليغ السماع (2657)، (2658) وقال حسن صحیح وابن ماجة، السنة، باب من بلغ علماء (232) وصححه ابن حبان.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. بَابُ إِثْمِ الْكَذِبِ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولنے کے گناہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1807
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ بُخْتٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْبَصْرِيِّ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"إِنَّ أَفْرَى الْفِرَى مَنْ قَوَّلَنِي مَا لَمْ أَقُلْ، وَمَنْ أَرَى عَيْنَيْهِ فِي الْمَنَامِ مَا لَمْ تَرَيَا وَمَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ".
واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بڑا بہتان یہ ہے کہ کوئی میرے ذمے وہ بات لگائے جو میں نے نہیں کہی، اور جو اپنی آنکھوں کو خواب میں وہ دکھائے جو انہوں نے نہیں دیکھا (یعنی جھوٹا خواب بیان کرے) اور جو اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کو اپنا باپ ظاہر کرے۔ [مسند الشافعی/ كتاب فضائل قريش وغيرهم وأبواب متفرقة /حدیث: 1807]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخارى، المناقب، باب (3509).» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1808
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ [ ص: 70 ] عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ، قَالَ:"مَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے میرے ذمے وہ بات لگائی جو میں نے نہیں کہی، تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم بنا لے۔ [مسند الشافعی/ كتاب فضائل قريش وغيرهم وأبواب متفرقة /حدیث: 1808]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخارى، العلم، باب اثم من كذب على النبي صلی اللہ علیہ وسلم (110)، (6197) - ومسلم، المقدمة، باب تغليظ الكذب على رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم (3).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1809
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"إِنَّ الَّذِي يَكْذِبُ عَلَيَّ يُبْنَى لَهُ بَيْتٌ فِي النَّارِ".
ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مجھ پر جھوٹ منسوب کرتا ہے، اس کے لیے جہنم میں گھر بنا دیا جاتا ہے۔ [مسند الشافعی/ كتاب فضائل قريش وغيرهم وأبواب متفرقة /حدیث: 1809]
تخریج الحدیث: «صحيح: اخرجه البيهقي في المعرفة السنن والآثار: 1/ 77 واحمد: 2/ 22، 103، 104 - وابن أبي شيبة (26236) . والطبراني في الكبير (13154).» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1810
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ التِّنِّيسِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَسِيدِ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ، عَنْ أُمِّهِ، قَالَتْ: قُلْتُ لِأَبِي قَتَادَةَ: مَا لَكَ لَا تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا يُحَدِّثُ عَنْهُ النَّاسُ؟ قَالَتْ: فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:"مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ لِجَنْبِهِ مَضْجَعًا مِنَ النَّارِ"، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِكَ، وَيَمْسَحُ [ ص: 71 ] بِيَدِهِ الْأَرْضَ.
اسید بن ابی اسید سے روایت ہے، وہ اپنی ماں سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ کو کیا ہے کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح احادیث بیان نہیں کرتے جس طرح دوسرے لوگ بیان کرتے ہیں؟ تو وہ فرماتی ہیں کہ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: جس نے قصداً میری طرف جھوٹ منسوب کیا تو وہ اپنے پہلو کے لیے جہنم میں ٹھکانہ بنا لے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات ارشاد فرما رہے تھے اور ساتھ ساتھ اپنا ہاتھ زمین پر پھیر رہے تھے۔ [مسند الشافعی/ كتاب فضائل قريش وغيرهم وأبواب متفرقة /حدیث: 1810]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعیف فان ام اسيد في عداد المجهولين: اخرجه البيهقي في المعرفة السنن والآثار: (1/ 78).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1811
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"حَدِّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا حَرَجَ وَحَدِّثُوا عَنِّي وَلَا تَكْذِبُوا عَلَيَّ". أَخْرَجَ الْخَمْسَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الرِّسَالَةِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل سے (واقعات) بیان کرو اس میں کوئی حرج نہیں، اور مجھ سے احادیث بیان کرو اور میری طرف جھوٹ منسوب نہ کرو۔ [مسند الشافعی/ كتاب فضائل قريش وغيرهم وأبواب متفرقة /حدیث: 1811]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، احادیث الانبياء، باب ما ذكر عن بنی اسرائیل، رقم: 3461 ـ وابن ماجة، السنة، باب التغليظ في تعمد الكذب على رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم (34).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. بَابُ الْحَدِيثُ لَا يَرْوِيهِ إِلَّا الثِّقَاتُ
حدیث صرف ثقہ راوی ہی روایت کریں اس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1812
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: إِنِّي لَأَسْمَعُ الْحَدِيثَ أَسْتَحْسِنُهُ فَمَا يَمْنَعُنِي مِنْ ذِكْرِهِ إِلَّا كَرَاهِيَةُ أَنْ [ ص: 72 ] يَسْمَعَهُ سَامِعٌ فَيَقْتَدِيَ بِهِ أَسْمَعُهُ مِنَ الرَّجُلِ لَا أَثِقُ بِهِ قَدْ حَدَّثَ عَمَّنْ أَثِقُ بِهِ وَأَسْمَعُهُ مِنَ الرَّجُلِ أَثِقُ بِهِ قَدْ حَدَّثَ بِهِ عَمَّنْ لَا أَثِقُ بِهِ. وَقَالَ سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ: لَا يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا الثِّقَاتُ.
ہشام بن عروہ نے اپنے باپ سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا: بعض دفعہ میں کوئی حدیث سنتا ہوں اور وہ مجھے اچھی بھی لگتی ہے لیکن میں اسے بیان نہیں کرتا کہ کوئی سننے والا سن کر اس پر عمل کرے گا، جبکہ میں وہ بات ایک ایسے آدمی سے سنتا ہوں جس کی میں توثیق نہیں کرتا حالانکہ اس نے اس سے بیان کی ہوتی ہے جس کی میں توثیق کرتا ہوں۔ اور بعض دفعہ کسی ثقہ آدمی سے سنتا ہوں جبکہ وہ کسی غیر ثقہ سے بیان کر رہا ہوتا ہے۔ سعد بن ابراہیم نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثقہ راویوں کے علاوہ اور کوئی احادیث نہ بیان کرے۔ [مسند الشافعی/ كتاب فضائل قريش وغيرهم وأبواب متفرقة /حدیث: 1812]
تخریج الحدیث: «الكفاية للخطيب البغدادی، ص: 32، صحیح مسلم، المقدمة، ح: (15).» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1813
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: سُئِلَ ابْنٌ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ مَسْأَلَةٍ، فَلَمْ يَقُلْ فِيهَا شَيْئًا، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّا لَنُعْظِمُ أَنْ تَكُونَ ابْنَ إِمَامَيْ هُدًى، تَسْأَلُ عَنْ أَمْرٍ لَيْسَ عِنْدَكَ فِيهِ عِلْمٌ. فَقَالَ: أَعْظَمُ وَاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ عِنْدَ اللَّهِ وَعِنْدَ مَنْ عَرَفَ اللَّهَ وَعِنْدَ مَنْ عَقَلَ عَنِ اللَّهِ أَنْ أَقُولَ بِمَا لَيْسَ لِي بِهِ عِلْمٌ أَوْ أُخْبِرَ عَنْ غَيْرِ ثِقَةٍ.
یحییٰ بن سعید نے بیان فرمایا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بیٹے سے مسئلہ پوچھا گیا تو انہوں نے کوئی جواب نہ دیا، پھر ان سے کہا گیا: ہم یہ بات بڑی (عجیب) سمجھتے ہیں کہ آپ دو ہدایت یافتہ اماموں (یعنی عمر اور ابن عمر رضی اللہ عنہما) کے بیٹے ہیں اور آپ سے ایک مسئلہ پوچھا گیا جبکہ آپ کے پاس اس کے متعلق علم نہیں ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: اس سے بھی بڑی عجیب بات اللہ کے ہاں، اور جس نے اللہ کو پہچانا، اور جس نے اللہ سے سمجھ حاصل کی یہ ہے کہ میں وہ بات کہوں جس کا میرے پاس علم نہیں ہے، یا میں کسی غیر ثقہ (راوی) سے کوئی بات بتاؤں۔ [مسند الشافعی/ كتاب فضائل قريش وغيرهم وأبواب متفرقة /حدیث: 1813]
تخریج الحدیث: «أيضاً.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1814
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ: وَقَدْ رَوَيْتُ أَحَادِيثَ مُرْسَلَةً عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعُقُوبَاتِ وَتَوْقِيتِهَا تَرَكْنَاهَا لِانْقِطَاعِهَا. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ، وَهُمَا آخِرُ مَا فِيهِ، وَالثَّالِثَ مِنْ كِتَابِ الْجَنَائِزِ، وَهُوَ آخِرُ مَا فِيهِ.
محمد بن ادریس (شافعی) رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سزاؤں اور ان کے اوقات کے تعین کے بارے میں مرسل احادیث روایت کی ہیں، لیکن ہم نے انہیں صرف ان کے منقطع ہونے کی وجہ سے چھوڑ دیا ہے۔ [مسند الشافعی/ كتاب فضائل قريش وغيرهم وأبواب متفرقة /حدیث: 1814]
تخریج الحدیث: «صحیح مسلم، المقدمة، ح: (16).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. بَابُ أَخْبَارٍ مُتَفَرِّقَةٍ
متفرق خبروں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1815
قَالَ الرَّبِيعُ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: سُئِلَ أَبُو حَنِيفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الصَّائِمِ يَأْكُلُ وَيَشْرَبُ وَيَطَأُ إِلَى اطِّلَاعِ الْفَجْرِ، وَكَانَ عِنْدَهُ رَجُلٌ نَبِيلٌ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ طَلَعَ الْفَجْرُ نِصْفَ اللَّيْلِ؟ فَقَالَ: الْزَمِ الصَّمْتَ يَا أَعْرَجُ.
ربیع نے کہا میں نے امام شافعی رحمہ اللہ سے سنا، وہ کہتے ہیں: امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے روزہ دار کے متعلق پوچھا گیا کہ وہ طلوعِ فجر تک کھاتا، پیتا اور مباشرت کرتا ہے (تو اس کا کیا حکم ہے؟)۔ ان کے پاس ایک معزز آدمی بیٹھا ہوا تھا جس نے کہا: اگر فجر آدھی رات کو طلوع ہو جائے تو آپ کا کیا خیال ہے؟ تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا: اے لنگڑے! خاموش ہو جاؤ۔ [مسند الشافعی/ كتاب فضائل قريش وغيرهم وأبواب متفرقة /حدیث: 1815]
تخریج الحدیث: «تلاش بسیار کے بعد یہ روایت نہیں ملی.» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں