🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن الشافعی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (648)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
286. (بَابُ الإِفَاضَةِ مِنْ مُزْدَلِفَةَ إِلَى مِنًى)
(مزدلفہ سے منی کو روانگی)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 437
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ شَوَّالٍ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، قَالَتْ:" كُنَّا نُغَلِّسُ مِنْ جَمْعٍ إِلَى مِنًى عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں رات کے اندھیرے میں مزدلفہ سے منی کو چلے جایا کرتے تھے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب عمارة الأرضين/حدیث: 437]
تخریج الحدیث: «صحیح مسلم، الحج، باب استحباب تقديم دفع الضعفة من النساء الخ، رقم: 1292»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
287. (بَابُ كَيْفِيَّةِ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمُزْدَلِفَةِ)
(مزدلفہ میں مغرب و عشاء کا طریقہ)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 438
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِالْمُزْدَلِفَةِ جَمِيعًا لَمْ يُنَادَ فِي وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا إِلا بِالإِقَامَةِ وَلَمْ يُسَبِّحْ بَيْنَهُمَا وَلا عَلَى إِثْرِ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا".
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب و عشاء کی نمازیں بغیر اذان کے اکٹھی پڑھائیں البتہ ہر ایک کے لیے اقامت کہی گئی۔ اور دونوں نمازوں کے درمیان یا بعد میں کوئی سنت یا نفل نہ پڑھے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب عمارة الأرضين/حدیث: 438]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، الحج، باب من جمع بينهما ولم يتطوع، رقم: 1673، صحیح مسلم، الحج، باب الافاضة من عرفات الى المزدلفة، رقم: 703»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 439
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ، أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ الأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ،" صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِالْمُزْدَلِفَةِ جَمِيعًا".
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کے موقع پر نماز مغرب و عشاء مزدلفہ میں اکٹھی ادا کی۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب عمارة الأرضين/حدیث: 439]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، الحج، باب من جمع بينهما ولم يتطوع، رقم: 1674، صحیح مسلم، الحج، باب الافاضة من عرفات الى المزدلفة، رقم: 1287»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 440
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِالْمُزْدَلِفَةِ جَمِيعًا".
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں نماز مغرب و عشاء اکٹھی پڑھی۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب عمارة الأرضين/حدیث: 440]
تخریج الحدیث: «تقدیم تخریجہ برقم: 438»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 441
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالشِّعْبِ نَزَلَ فَبَالَ ثُمَّ تَوَضَّأَ فَلَمْ يُسْبِغِ الْوُضُوءَ، فَقُلْتُ لَهُ: الصَّلاةَ، فَقَالَ:" الصَّلاةُ أَمَامَكَ"، فَرَكِبَ فَلَمَّا جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ نَزَلَ فَتَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ وُضُوءَهُ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلاةُ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَنَاخَ كُلُّ إِنْسَانٍ بَعِيرَهُ فِي مَنْزِلِهِ ثُمَّ أُقِيمَتِ الْعِشَاءُ فَصَلاهَا وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا.
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے لوٹے، جب گھاٹی سے گزرے تو سواری سے اترے قضائے حاجت سے فارغ ہوئے پھر وضو کیا اور خوب اچھی طرح نہیں کیا تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! نماز پڑھنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز تمہارے آگے مزدلفہ میں ہے۔ پھر سوار ہو گئے جب مزدلفہ آئے تو سواری سے اترے تب اچھی طرح وضو کیا پھر اقامت کہی گئی تو مغرب پڑھائی پھر ہر بندے نے اپنی جگہ اونٹ بٹھایا پھر نماز عشاء کی جماعت کھڑی کی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور ان دونوں نمازوں کے درمیان کوئی (سنت و نفل) نہیں پڑھی۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب عمارة الأرضين/حدیث: 441]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، الوضوء، باب اسباغ الوضوء، رقم: 139، صحیح مسلم، الحج، باب الافاضة من عرفات الى المزدلفة، رقم: 1280»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 442
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ:" صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِجَمْعٍ جَمِيعًا".
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز مغرب و عشاء مزدلفہ میں اکٹھی پڑھی۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب عمارة الأرضين/حدیث: 442]
تخریج الحدیث: «تقدیم تخریجہ برقم: 439»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
288. (بَابُ حُكْمِ فَسْخِ الْحَجِّ إِلَى الْعُمْرَةِ)
(حج کو عمرہ میں بدلنے کا حکم)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 443
عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيِّ، عَنْ حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ هُوَ وَأَصْحَابُهُ بِالْحَجِّ، وَلَيْسَ مَعَ أَحَدٍ مِنْهُمْ هَدْيٌ غَيْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَلْحَةَ، وَكَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَدِمَ مِنَ الْيَمَنِ وَمَعَهُ هَدْيٌ، فَقَالَ: أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً وَيَطُوفُوا ثُمَّ يُقَصِّرُوا وَيَحِلُّوا إِلا مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ، فَقَالُوا: أَنَنْطَلِقُ إِلَى مِنًى وَذَكَرُ أَحَدِنَا يَقْطُرُ؟ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ وَلَوْلا أَنَّ مَعِيَ الْهَدْيَ لَحَلَلْتُ"، وَأَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا حَاضَتْ فَنَسَكَتِ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا غَيْرَ أَنَّهَا لَمْ تَطُفْ بِالْبَيْتِ، فَلَمَّا طَهُرَتْ وَأَفَاضَتْ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَنْطَلِقُونَ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ وَأَنْطَلِقُ بِالْحَجِّ؟ فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ أَنْ يَخْرُجَ مَعَهَا إِلَى التَّنْعِيمِ، فَاعْتَمَرَتْ بَعْدَ الْحَجِّ فِي ذِي الْحِجَّةِ، وَأَنَّ سُرَاقَةَ بْنَ جُعْشُمٍ لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَقَبَةِ وَهُوَ يَرْمِيهَا، فَقَالَ: لَكُمْ هَذِهِ خَاصَّةً؟ قَالَ:" لا بَلْ لِلأَبَدِ".
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے حج کا احرام باندھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے سوا کسی کے پاس قربانی کا جانور نہیں تھا، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے تھے ان کے ساتھ بھی قربانی کا جانور تھا تو انہوں نے نیت یہ کی تھی کہ میرا احرام بھی وہی ہے جس نیت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو حکم دیا کہ حج کو عمرہ بنا لیں کعبہ کا طواف کریں پھر بال تراشیں اور احرام کھول دیں ماسوائے ان لوگوں کے جو جانور ساتھ لائے ہیں (کیونکہ ان کا حج قرآن تھا قرآن میں عمرے کے بعد احرام نہیں کھولا جاتا اس احرام میں منی جانا ہوتا ہے) تو وہ کہنے لگے کیا ہم اس حال میں منی جائیں گے کہ ہمارے ذکر سے منی ٹپک رہی ہو گی یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بات اب ظاہر ہوئی ہے اگر پہلے معلوم ہوتی تو میں اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہ لاتا اور اگر ہدی ساتھ نہ ہوتی تو میں عمرہ کر کے احرام کھول دیتا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حائضہ ہو گئیں انہوں نے سارے مناسک ادا کیے لیکن بیت اللہ کا طواف نہیں کیا وہ جب پاک ہوئیں تو طواف کر لیا اور کہنے لگیں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگ حج اور عمرہ دونوں کر کے لوٹیں گے اور میں صرف حج کے ساتھ واپس جاؤں گی؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ انہیں تنعیم لے جائیں (وہاں سے عمرہ کی نیت کر کے) عمرہ کریں تو ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حج کے بعد ذوالحجہ میں عمرہ ادا کیا، سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس وقت ملے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کو کنکریاں مار رہے تھے انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا یہ (عمرہ اور حج کے درمیان احرام کھول دینا) صرف آپ لوگوں کے ساتھ خاص ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ہمیشہ کے لیے یہی ہے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب عمارة الأرضين/حدیث: 443]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، الحج، باب تقضى الحائض المناسك كلها الخ، رقم: 1651، صحیح مسلم، الحج، باب بيان وجوه الاحرام .... الخ، رقم: 1213»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں