سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب فَضْلِ نَشْرِ الْعِلْمِ
باب: علم پھیلانے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3661
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلٍ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" وَاللَّهِ لَأَنْ يَهْدِيَ اللَّهُ بِهُدَاكَ رَجُلًا وَاحِدًا خَيْرٌ لَكَ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ".
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم اللہ کی، اگر تیری رہنمائی سے اللہ تعالیٰ ایک آدمی کو بھی ہدایت دیدے تو یہ تیرے لیے سرخ اونٹ سے (جو بہت قیمتی اور عزیز ہوتے ہیں) بہتر ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3661]
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم اللہ کی! اللہ عزوجل تیری رہنمائی سے کسی ایک شخص کو بھی راہ حق دکھا دے تو یہ تیرے لیے سرخ اونٹوں سے افضل ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3661]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4730)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجھاد 102(2942)، 143 (3009)، المناقب 1 (3701)، المغازي 38 (4210)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 4 (2406)، مسند احمد (1/185) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3701) صحيح مسلم (2406)
11. باب الْحَدِيثِ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ
باب: بنی اسرائیل سے روایت کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 3662
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حَدِّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا حَرَجَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنی اسرائیل سے روایت کرو، اس میں کوئی مضائقہ نہیں“۔ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3662]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنی اسرائیل (اہل کتاب) سے روایت کر سکتے ہیں اس میں کوئی حرج نہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3662]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 15072)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/474، 502، 3/46، 56) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه الحميدي بتحقيقي (1174 وسنده حسن)
أخرجه الحميدي بتحقيقي (1174 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 3663
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ:" كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُحَدِّثُنَا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ حَتَّى يُصْبِحَ مَا يَقُومُ إِلَّا إِلَى عُظْمِ صَلَاةٍ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے بنی اسرائیل کی باتیں اس قدر بیان کرتے کہ صبح ہو جاتی اور صرف فرض نماز ہی کے لیے اٹھتے۔ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3663]
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (بعض اوقات) ہمیں بنی اسرائیل کی باتیں بیان کرتے رہتے حتیٰ کہ صبح ہو جاتی اور پھر نماز کے خیال ہی سے اٹھتے۔“ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3663]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 8935)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/437) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قتادة عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 131
إسناده ضعيف
قتادة عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 131
12. باب فِي طَلَبِ الْعِلْمِ لِغَيْرِ اللَّهِ تَعَالَى
باب: غیر اللہ کے لیے علم حاصل کرنے کی برائی کا بیان۔
حدیث نمبر: 3664
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، عَنْ أَبِي طُوَالَةَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَعَلَّمَ عِلْمًا مِمَّا يُبْتَغَى بِهِ وَجْهُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَتَعَلَّمُهُ إِلَّا لِيُصِيبَ بِهِ عَرَضًا مِنَ الدُّنْيَا لَمْ يَجِدْ عَرْفَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، يَعْنِي رِيحَهَا.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے ایسا علم صرف دنیاوی مقصد کے لیے سیکھا جس سے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کی جاتی ہے تو وہ قیامت کے دن جنت کی خوشبو تک نہیں پائے گا“۔ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3664]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی رضا مندی والا علم اس غرض سے حاصل کیا کہ دنیا حاصل کرے، تو ایسا آدمی قیامت کے دن جنت کی خوشبو نہیں پا سکے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3664]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/المقدمة 23 (252)، (تحفة الأشراف: 13386)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/338) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (227)
أخرجه ابن ماجه (252 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (227)
أخرجه ابن ماجه (252 وسنده حسن)
13. باب فِي الْقَصَصِ
باب: وعظ و نصیحت اور قصہ گوئی کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 3665
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ، حَدَّثَنِي عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْخَوَّاصُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا يَقُصُّ إِلَّا أَمِيرٌ، أَوْ مَأْمُورٌ، أَوْ مُخْتَالٌ".
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”وعظ و نصیحت وہی کرتا ہے جو امیر ہو یا مامور ہو یا فریبی“۔ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3665]
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”وعظ وہی کہے گا جو امیر ہو یا اس کی طرف سے مقرر کیا گیا ہو یا کوئی اپنی بڑائی یا شیخی کا اظہار کرنے والا ہو گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3665]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 10913)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/23، 27، 29) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (240)
مشكوة المصابيح (240)
حدیث نمبر: 3666
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ الْمُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ بَشِيرٍ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:" جَلَسْتُ فِي عِصَابَةٍ مِنْ ضُعَفَاءِ الْمُهَاجِرِينَ، وَإِنَّ بَعْضَهُمْ لَيَسْتَتِرُ بِبَعْضٍ مِنَ الْعُرْيِ، وَقَارِئٌ يَقْرَأُ عَلَيْنَا إِذْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ عَلَيْنَا، فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَكَتَ الْقَارِئُ، فَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: مَا كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ؟، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ كَانَ قَارِئٌ لَنَا يَقْرَأُ عَلَيْنَا، فَكُنَّا نَسْتَمِعُ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ مِنْ أُمَّتِي مَنْ أُمِرْتُ أَنْ أَصْبِرَ نَفْسِي مَعَهُمْ، قَالَ: فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسْطَنَا لِيَعْدِلَ بِنَفْسِهِ فِينَا، ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ: هَكَذَا فَتَحَلَّقُوا وَبَرَزَتْ وُجُوهُهُمْ لَهُ، قَالَ: فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَفَ مِنْهُمْ أَحَدًا غَيْرِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَبْشِرُوا يَا مَعْشَرَ صَعَالِيكِ الْمُهَاجِرِينَ بِالنُّورِ التَّامِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَاءِ النَّاسِ بِنِصْفِ يَوْمٍ وَذَاكَ خَمْسُ مِائَةِ سَنَةٍ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں غریب و خستہ حال مہاجرین کی جماعت میں جا بیٹھا، ان میں بعض بعض کی آڑ میں برہنگی کے سبب چھپتا تھا اور ایک قاری ہم میں قرآن پڑھ رہا تھا، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ہمارے درمیان آ کر کھڑے ہو گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے تو قاری خاموش ہو گیا، آپ نے ہمیں سلام کیا پھر فرمایا: ”تم لوگ کیا کر رہے تھے؟“ ہم نے عرض کیا: ہمارے یہ قاری ہیں ہمیں قرآن پڑھ کر سنا رہے تھے اور ہم اللہ کی کتاب سن رہے تھے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سبھی تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے میری امت میں ایسے لوگوں کو پیدا کیا کہ مجھے حکم دیا گیا کہ میں اپنے آپ کو ان کے ساتھ روکے رکھوں“۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان میں آ کر بیٹھ گئے تاکہ اپنے آپ کو ہمارے برابر کر لیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے حلقہ بنا کر بیٹھنے کا اشارہ کیا، تو سبھی لوگ حلقہ بنا کر بیٹھ گئے اور ان سب کا رخ آپ کی طرف ہو گیا۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میرے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو نہیں پہچانا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے فقرائے مہاجرین کی جماعت! تمہارے لیے قیامت کے دن نور کامل کی بشارت ہے، تم لوگ جنت میں مالداروں سے آدھے دن پہلے داخل ہو گے، اور یہ پانچ سو برس ہو گا ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3666]
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں غریب مہاجرین کی مجلس میں جا بیٹھا، وہ لوگ لباس میں تنگی کی بنا پر عریاں ہو جانے کے ڈر سے ایک دوسرے کی اوٹ میں بیٹھے ہوئے تھے اور ایک قاری ہم پر پڑھ رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور برسرِ مجلس کھڑے ہو گئے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو قاری خاموش ہو گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کیا اور پوچھا: ”تم کیا کر رہے تھے؟“ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! قاری پڑھ رہا تھا اور ہم اللہ تعالیٰ کی کتاب سن رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حمد ہے اس اللہ کی جس نے میری امت میں ایسے لوگ پیدا کیے جن کے بارے میں مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اپنے آپ کو ان کے ساتھ روکے رکھوں۔“ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان میں بیٹھ گئے تاکہ اپنے آپ کو ہمارے برابر ثابت کریں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا تو انہوں نے حلقہ بنا لیا اور ان سب کے چہرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ گئے، ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نہیں سمجھتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سوا کسی کو پہچانا ہو، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے مہاجرین کے فقیر لوگو! تمہیں قیامت کے روز کامل نور کی بشارت ہو، تم لوگ اغنیاء سے آدھا دن پہلے جنت میں داخل ہو گے اور اس کی مقدار پانچ سو سال ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3666]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3978)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/ الزہد 6 (1422)، (قولہ: فقراء المہاجرون یدخلون الجنة قبل أغنیاء الناس۔۔۔) مسند احمد (3/63، 96) (ضعیف)» (اس کے راوی العلاء مجہول ہیں، لیکن آخر ی ٹکڑا متابعات کے سبب حسن ہے)
وضاحت: ۱؎: معلوم ہوا کہ ایسے فقراء و مساکین کا مقام و مرتبہ اغنیاء اور مالداروں سے بڑھ کر ہو گا، اور قیامت کے دن کے طویل ہونے میں جو اختلاف آیات و احادیث میں مذکور ہے تو یہ لوگوں کے اختلاف حال پر محمول ہے، یعنی جس پر جتنی سختی ہو گی اسے قیامت کا دن اتنا ہی لمبا معلوم ہو گا، اور اس پر جس قدر تکلیف کم ہوگی اسے اتنا ہی کم معلوم ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف إلا جملة دخول الجنة فصحيحة
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
العلاء بن بشير : مجهول (تقريب التهذيب: 5229)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 131
إسناده ضعيف
العلاء بن بشير : مجهول (تقريب التهذيب: 5229)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 131
حدیث نمبر: 3667
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي عَبْدُ السَّلَامِ يَعْنِي ابْنَ مُطَهَّرٍ أَبُو ظَفَرٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ خَلَفٍ الْعَمِّيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَأَنْ أَقْعُدَ مَعَ قَوْمٍ يَذْكُرُونَ اللَّهَ تَعَالَى مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتِقَ أَرْبَعَةً مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيل، وَلَأَنْ أَقْعُدَ مَعَ قَوْمٍ يَذْكُرُونَ اللَّهَ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلَيَّ مَنْ أَنْ أَعْتِقَ أَرْبَعَةً".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا ایسی قوم کے ساتھ بیٹھنا جو فجر سے لے کر طلوع شمس تک اللہ کا ذکر کرتی ہو میرے نزدیک اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ پسندیدہ امر ہے، اور میرا ایسی قوم کے ساتھ بیٹھنا جو نماز عصر سے غروب آفتاب تک اللہ کے ذکرو اذکار میں منہمک رہتی ہو میرے نزدیک چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ محبوب ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3667]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو لوگ نماز فجر سے سورج نکلنے تک اللہ کا ذکر کریں مجھے ان کے ساتھ بیٹھے رہنا زیادہ پسند ہے، اس سے کہ اولاد اسماعیل سے چار غلام آزاد کروں۔ اور میں ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھا رہوں جو نماز عصر سے سورج غروب ہونے تک اللہ کا ذکر کریں زیادہ پسندیدہ ہے اس سے کہ چار غلام آزاد کروں۔“ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3667]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1351) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قتادة عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 131
إسناده ضعيف
قتادة عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 131
حدیث نمبر: 3668
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْرَأْ عَلَيَّ سُورَةَ النِّسَاءِ، قَالَ: قُلْتُ: أَقْرَأُ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ؟، قَالَ: إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي، قَالَ: فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ حَتَّى إِذَا انْتَهَيْتُ إِلَى قَوْلِهِ: فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ سورة النساء آية 41، فَرَفَعْتُ رَأْسِي، فَإِذَا عَيْنَاهُ تَهْمِلَانِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم مجھ پر سورۃ نساء پڑھو“ میں نے عرض کیا: کیا میں آپ کو پڑھ کے سناؤں؟ جب کہ وہ آپ پر اتاری گئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں چاہتا ہوں کہ میں اوروں سے سنوں“ پھر میں نے آپ کو «فكيف إذا جئنا من كل أمة بشهيد» ”اس وقت کیا ہو گا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے“ (سورة النساء: ۴۱) تک پڑھ کر سنایا، اور اپنا سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ آپ کی دونوں آنکھوں سے آنسو جاری ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3668]
سیدنا عبداللہ (عبداللہ بن مسعود) رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”مجھ پر سورۃ النساء کی قراءت کرو۔“ میں نے عرض کیا: ”میں آپ پر پڑھوں حالانکہ (قرآن) آپ پر نازل ہوا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں دوسرے سے سننا چاہتا ہوں۔“ چنانچہ میں نے قراءت کی حتیٰ کہ جب میں آیت کریمہ ﴿فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ﴾ [سورة النساء: 41] پر پہنچا تو میں نے اپنا سر اٹھایا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں آنسوؤں سے بہہ رہی تھیں۔ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3668]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تفسیر القرآن 9 (4582)، فضائل القرآن 32 (5049)، 33 (5050)، 35 (5055)، صحیح مسلم/المسافرین 40 (800)، سنن الترمذی/تفسیر سورة النساء 5 (3025)، (تحفة الأشراف: 9402)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/380، 432) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5049) صحيح مسلم (800)