سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب الْحَثِّ عَلَى طَلَبِ الْعِلْمِ
باب: علم حاصل کرنے کی طرف رغبت دلانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3641
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ جَمِيلٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ:" كُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِي الدَّرْدَاءِ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ، إِنِّي جِئْتُكَ مِنْ مَدِينَةِ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَدِيثٍ بَلَغَنِي أَنَّكَ تُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا جِئْتُ لِحَاجَةٍ، قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَطْلُبُ فِيهِ عِلْمًا سَلَكَ اللَّهُ بِهِ طَرِيقًا مِنْ طُرُقِ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا رِضًا لِطَالِبِ الْعِلْمِ، وَإِنَّ الْعَالِمَ لَيَسْتَغْفِرُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ وَالْحِيتَانُ فِي جَوْفِ الْمَاءِ، وَإِنَّ فَضْلَ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ عَلَى سَائِرِ الْكَوَاكِبِ، وَإِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ، وَإِنَّ الْأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَرَّثُوا الْعِلْمَ فَمَنْ أَخَذَهُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ".
کثیر بن قیس کہتے ہیں کہ میں ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کے ساتھ دمشق کی مسجد میں بیٹھا تھا کہ اتنے میں ان کے پاس ایک شخص آیا اور ان سے کہنے لگا: اے ابو الدرداء! میں آپ کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر سے اس حدیث کے لیے آیا ہوں جس کے متعلق مجھے یہ خبر ملی ہے کہ آپ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں میں آپ کے پاس کسی اور غرض سے نہیں آیا ہوں، اس پر ابوالدرداء نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص طلب علم کے لیے راستہ طے کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اسے جنت کی راہ چلاتا ہے اور فرشتے طالب علم کی بخشش کی دعا کرتے ہیں یہاں تک کہ مچھلیاں پانی میں دعائیں کرتی ہیں، اور عالم کی فضیلت عابد پر ایسے ہی ہے جیسے چودھویں رات کی تمام ستاروں پر، اور علماء انبیاء کے وارث ہیں، اور نبیوں نے اپنا وارث درہم و دینار کا نہیں بنایا بلکہ علم کا وارث بنایا تو جس نے علم حاصل کیا اس نے ایک وافر حصہ لیا“۔ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3641]
جناب کثیر بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں دمشق کی مسجد میں سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: ”اے ابوالدرداء! میں ایک حدیث کی خاطر مدینۃ الرسول سے آپ کی خدمت میں آیا ہوں۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں۔ مجھے یہاں اس کے سوا اور کوئی کام نہیں ہے۔“ تو انہوں نے کہا: بے شک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جو شخص کسی راستے میں حصولِ علم کی خاطر چلا ہو، تو اللہ تعالیٰ اسے جنت کی راہوں میں سے ایک راہ پر چلائے گا۔ اور بلاشبہ فرشتے طالبِ علم کی رضامندی کے لیے اپنے پر بچھاتے ہیں، اور صاحبِ علم کے لیے آسمانوں میں بسنے والے، زمین میں رہنے والے اور پانی کے اندر مچھلیاں بھی مغفرت طلب کرتی ہیں۔ اور بلاشبہ عالم کی عابد پر فضیلت ایسے ہی ہے جیسے کہ چودھویں کے چاند کی سب ستاروں پر ہوتی ہے، بلاشبہ علماء انبیاء کے وارث ہیں اور انبیاء نے کوئی درہم و دینار ورثے میں نہیں چھوڑے ہیں۔ انہوں نے علم کی وراثت چھوڑی ہے۔ جس نے اسے حاصل کر لیا اس نے بڑا نصیبہ (وافر حصہ) پایا۔“ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3641]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/العلم 19 (2682)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 17 (223)، (تحفة الأشراف: 10958)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/196)، سنن الدارمی/المقدمة 32 (354) (صحیح)» (متابعات سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ داود اور کثیر دونوں ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: زہد وکیع نمبر: 519 بتحقیق الفریوائی)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (2682) ابن ماجه (223)
داود بن جميل وشيخه كثير بن قيس : ضعيفان (تق: 1778،5624)
وحديث مسلم (2699) يغني عنه
وانظر ضعيف سنن الترمذي (2650) ص (317)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 130
إسناده ضعيف
ترمذي (2682) ابن ماجه (223)
داود بن جميل وشيخه كثير بن قيس : ضعيفان (تق: 1778،5624)
وحديث مسلم (2699) يغني عنه
وانظر ضعيف سنن الترمذي (2650) ص (317)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 130
حدیث نمبر: 3642
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَزِيرِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: لَقِيتُ شَبِيبَ بْنَ شَيْبَةَ فَحَدَّثَنِي بِهِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ يَعْنِي، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ.
اس سند سے بھی ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً مروی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3642]
عثمان بن ابی سودہ نے سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ”مذکورہ بالا روایت کے ہم معنی“ بیان کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3642]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 10951) (صحیح) (دیکھئے حدیث سابق)»
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
شبيب بن شيبة : مجھول (تق : 2741)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 130
إسناده ضعيف
شبيب بن شيبة : مجھول (تق : 2741)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 130
حدیث نمبر: 3643
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَا مِنْ رَجُلٍ يَسْلُكُ طَرِيقًا يَطْلُبُ فِيهِ عِلْمًا إِلَّا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقَ الْجَنَّةِ، وَمَنْ أَبْطَأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص حصول علم کے لیے کوئی راستہ طے کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے، اور جس کو اس کے عمل نے پیچھے کر دیا تو اسے اس کا نسب آگے نہیں کر سکے گا“۔ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3643]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی علم حاصل کرنے کے لیے کسی راہ پر چلتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے لیے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے، اور جسے اس کے عمل نے پیچھے رکھا اس کا نسب اسے آگے نہیں بڑھا سکتا۔“ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3643]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12377)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الذکر والتوبة 11 (2699)، سنن الترمذی/العلم 2 (2646)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 17 (226)، مسند احمد (2/252)، سنن الدارمی/المقدمة 32 (356) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
رواه مسلم (2699) مطولًا
رواه مسلم (2699) مطولًا
2. باب رِوَايَةِ حَدِيثِ أَهْلِ الْكِتَابِ
باب: اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کی باتوں کی روایت کا حکم۔
حدیث نمبر: 3644
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي نَمْلَةَ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ مُرَّ بِجَنَازَةٍ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، هَلْ تَتَكَلَّمُ هَذِهِ الْجَنَازَةُ؟، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُ أَعْلَمُ، فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: إِنَّهَا تَتَكَلَّمُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا حَدَّثَكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ فَلَا تُصَدِّقُوهُمْ وَلَا تُكَذِّبُوهُمْ، وَقُولُوا: آمَنَّا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ، فَإِنْ كَانَ بَاطِلًا لَمْ تُصَدِّقُوهُ، وَإِنْ كَانَ حَقًّا لَمْ تُكَذِّبُوهُ".
ابونملہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے پاس ایک یہودی بھی تھا کہ اتنے میں ایک جنازہ لے جایا گیا تو یہودی نے کہا: اے محمد! کیا جنازہ بات کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ بہتر جانتا ہے“ یہودی نے کہا: جنازہ بات کرتا ہے (مگر دنیا کے لوگ نہیں سنتے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بات تم سے اہل کتاب بیان کریں نہ تو تم ان کی تصدیق کرو نہ تکذیب، بلکہ یوں کہو: ہم ایمان لائے اللہ اور اس کے رسولوں پر، اگر وہ بات جھوٹ ہو گی تو تم نے اس کی تصدیق نہیں کی، اور اگر سچ ہو گی تو تم نے اس کی تکذیب نہیں کی“۔ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3644]
جناب ابن ابی نملہ اپنے والد (ابونملہ عمار بن معاذ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں بیٹھے ہوئے تھے اور ایک یہودی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک جنازہ گزرا۔ اس نے پوچھا: ”اے محمد! کیا یہ (میت) بولتی ہے؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔“ یہودی نے کہا: ”یہ بولتی ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہل کتاب جو تمہیں بیان کریں تم اس کی تصدیق کرو نہ تکذیب، بلکہ یوں کہو: «آمَنَّا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ» ”ہم اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔“ اگر ان کی بات غلط ہوئی تو تم نے (گویا) اس کی تصدیق نہیں کی اور اگر سچ ہوئی تو اسے جھٹلایا نہیں ہو گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3644]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ، أبوداود، (تحفة الأشراف: 12177)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/136) (ضعیف)» (اس کے راوی ابن ابی نملہ لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نملة بن أبي نملة مستور كما في التحرير (7189) وثقه ابن حبان وحده (485/5)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 130
إسناده ضعيف
نملة بن أبي نملة مستور كما في التحرير (7189) وثقه ابن حبان وحده (485/5)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 130
حدیث نمبر: 3645
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ يَعْنِي ابْنَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ:" أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَعَلَّمْتُ لَهُ كِتَابَ يَهُودَ، وَقَالَ:" إِنِّي وَاللَّهِ مَا آمَنُ يَهُودَ عَلَى كِتَابِي، فَتَعَلَّمْتُهُ، فَلَمْ يَمُرَّ بِي إِلَّا نِصْفُ شَهْرٍ حَتَّى حَذَقْتُهُ، فَكُنْتُ أَكْتُبُ لَهُ إِذَا كَتَبَ، وَأَقْرَأُ لَهُ إِذَا كُتِبَ إِلَيْهِ".
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تو میں نے آپ کی خاطر یہودیوں کی تحریر سیکھ لی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم اللہ کی میں اپنی خط و کتابت کے سلسلہ میں یہودیوں سے مامون نہیں ہوں“ تو میں اسے سیکھنے لگا، ابھی آدھا مہینہ بھی نہیں گزرا تھا کہ میں نے اس میں مہارت حاصل کر لی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ لکھوانا ہوتا تو میں ہی لکھتا اور جب کہیں سے کوئی مکتوب آتا تو اسے میں ہی پڑھتا۔ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3645]
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تو میں نے یہودیوں کی تحریر سیکھ لی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! یہودیوں سے جو میں لکھواتا ہوں اس پر مجھے اعتماد نہیں ہے۔“ چنانچہ میں نے (ان کی زبان لکھنا پڑھنا) سیکھ لی، اور دو ہفتے نہ گزرے کہ میں اس میں خوب ماہر ہو گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کچھ لکھنا ہوتا تو میں ہی لکھا کرتا، اور جب کوئی خط وغیرہ آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھ کر سناتا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3645]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/ الأحکام 40 (7195 تعلیقًا)، سنن الترمذی/الاستئذان 22 (2715)، (تحفة الأشراف: 3702)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/186) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه الترمذي (2715 وسنده حسن)
أخرجه الترمذي (2715 وسنده حسن)
3. باب فِي كِتَابَةِ الْعِلْمِ
باب: علم کے لکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3646
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُغِيثٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ:" كُنْتُ أَكْتُبُ كُلَّ شَيْءٍ أَسْمَعُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيدُ حِفْظَهُ، فَنَهَتْنِي قُرَيْشٌ، وَقَالُوا: أَتَكْتُبُ كُلَّ شَيْءٍ تَسْمَعُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَشَرٌ يَتَكَلَّمُ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَا؟، فَأَمْسَكْتُ عَنِ الْكِتَابِ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَوْمَأَ بِأُصْبُعِهِ إِلَى فِيهِ، فَقَالَ: اكْتُبْ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا يَخْرُجُ مِنْهُ إِلَّا حَقٌّ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں ہر اس حدیث کو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنتا یاد رکھنے کے لیے لکھ لیتا، تو قریش کے لوگوں نے مجھے لکھنے سے منع کر دیا، اور کہا: کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہر سنی ہوئی بات کو لکھ لیتے ہو؟ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بشر ہیں، غصے اور خوشی دونوں حالتوں میں باتیں کرتے ہیں، تو میں نے لکھنا چھوڑ دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی سے اپنے منہ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: ”لکھا کرو، قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس سے حق بات کے سوا کچھ نہیں نکلتا“۔ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3646]
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے منقول ہے، وہ کہتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں جو کچھ سنتا وہ سب لکھ لیا کرتا تھا تاکہ اسے حفظ کر لوں۔ تو (بعض) قریشیوں نے مجھے منع کیا۔ انہوں نے کہا: ”تو ہر بات، جو سنتا ہے، لکھ لیتا ہے، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انسان ہیں غصے اور خوشی (دونوں حالتوں) میں گفتگو کرتے ہیں،“ تو میں نے لکھنا موقوف کر دیا اور یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دہن مبارک کی طرف انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ”لکھا کرو، قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس سے سوائے حق کے اور کچھ نکلتا ہی نہیں ہے۔““ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3646]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 8955)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/162، 192)، سنن الدارمی/المقدمة 43 (501) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3647
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ، قَالَ: دَخَلَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ عَلَى مُعَاوِيَةَ، فَسَأَلَهُ عَنْ حَدِيثٍ، فَأَمَرَ إِنْسَانًا يَكْتُبُهُ، فَقَالَ لَهُ زَيْدٌ: إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَنَا أَنْ لَا نَكْتُبَ شَيْئًا مِنْ حَدِيثِهِ، فَمَحَاهُ".
مطلب بن عبداللہ بن حنطب کہتے ہیں کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے ایک حدیث کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے ایک شخص کو اس حدیث کے لکھنے کا حکم دیا، تو زید رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم آپ کی حدیثوں میں سے کچھ نہ لکھیں تو انہوں نے اسے مٹا دیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3647]
مطلب بن عبداللہ بن حنطب سے منقول ہے کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاں آئے تو انہوں نے ان سے ایک حدیث کے بارے میں پوچھا۔ تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص سے کہا: ”اسے لکھ لو۔“ تو سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تھا کہ ہم ان کی کوئی حدیث ضبطِ تحریر میں نہ لائیں۔“ چنانچہ انہوں نے اسے مٹا دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3647]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3740)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/182) (ضعیف الإسناد)» (اس کے راواة کثیر اور مطلب متکلم فیہ ہیں)
وضاحت: ۱؎: یہ ممانعت پہلے تھی جب احادیث کے قرآن کے ساتھ خلط ملط ہوجانے کا اندیشہ تھا، بعد میں کتابت حدیث کی اجازت دے دی گئی جیسا کہ پہلی روایت سے واضح ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
المطلب لم يسمع من زيد بن ثابت رضي اللّٰه عنه (انظر جامع التحصيل ص281) ولم يلق معاوية رضي اللّٰه عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 130
إسناده ضعيف
المطلب لم يسمع من زيد بن ثابت رضي اللّٰه عنه (انظر جامع التحصيل ص281) ولم يلق معاوية رضي اللّٰه عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 130
حدیث نمبر: 3648
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:" مَا كُنَّا نَكْتُبُ غَيْرَ التَّشَهُّدِ وَالْقُرْآنِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم لوگ تشہد اور قرآن کے علاوہ کچھ نہیں لکھتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3648]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ”ہم تشہد اور قرآن کے علاوہ کچھ نہ لکھا کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3648]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4258) (شاذ)» (اس کے راوی ابو شہاب حَنَّاط حافظہ کے کمزور ہیں، اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے صحیح روایت تو یہ ہے کہ قرآن کے سوا اور کچھ مت لکھو)
قال الشيخ الألباني: شاذ
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3649
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ. ح وحَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ:" لَمَّا فُتِحَتْ مَكَّةُ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْخُطْبَةَ خُطْبَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ يُقَالُ لَهُ: أَبُو شَاهَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اكْتُبُوا لِي، فَقَالَ: اكْتُبُوا لِأَبِي شَاهَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب مکہ فتح ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، پھر انہوں نے (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ کا ذکر کیا، پھر کہا کہ ایک یمنی شخص کھڑا ہوا جسے ابو شاہ کہا جاتا تھا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے لیے (یہ خطبہ) لکھ دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابو شاہ کے لیے لکھ دو“۔ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3649]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب مکہ فتح ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبے کا ذکر کیا، تو اہل یمن کا ایک آدمی کھڑا ہوا، اس کا نام ابوشاہ تھا، اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! یہ مجھے لکھ دیجیے۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوشاہ کو لکھ دو۔“ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3649]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (2017)، (تحفة الأشراف: 15383) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2434) صحيح مسلم (1355)
حدیث نمبر: 3650
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي عَمْرٍو:" مَا يَكْتُبُوهُ؟" قَالَ:" الْخُطْبَةَ الَّتِي سَمِعَهَا يَوْمَئِذٍ مِنْهُ".
ولید (ولید بن مزید) کہتے ہیں میں نے ابوعمرو (اوزاعی) سے کہا: ”وہ لوگ لکھ دیں“ سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: وہ خطبہ جسے آپ سے اس روز ابوشاہ نے سنا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3650]
ولید (ولید بن مزید) نے کہا کہ ”میں نے ابوعمرو (اوزاعی رحمہ اللہ) سے پوچھا کہ اس نے کیا چیز لکھوائی تھی؟“ انہوں نے کہا کہ ”وہی خطبہ جو اس نے اس روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3650]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم (2017)، (تحفة الأشراف: 15383) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أبو عمرو الأوزاعي
أبو عمرو الأوزاعي