🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ: مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الصِّيَامِ
باب: روزے کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1638
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعَفُ الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ مَا شَاءَ اللَّهُ، يَقُولُ اللَّهُ: إِلَّا الصَّوْمَ فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، يَدَعُ شَهْوَتَهُ وَطَعَامَهُ مِنْ أَجْلِي، لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ فَرْحَةٌ عِنْدَ فِطْرِهِ، وَفَرْحَةٌ عِنْدَ لِقَاءِ رَبِّهِ، وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انسان کی ہر نیکی دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا دی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: سوائے روزے کے اس لیے کہ وہ میرے لیے خاص ہے، اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا، آدمی اپنی خواہش اور کھانا میرے لیے چھوڑ دیتا ہے، روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: ایک افطار کے وقت اور دوسری اپنے رب سے ملنے کے وقت، اور روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی بو سے بہتر ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1638]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابن آدم کے ہر عمل (کے ثواب) میں اضافہ کیا جاتا ہے، نیکی کا ثواب دس گنا سے سات سو گنا بلکہ (اس سے بھی زیادہ) جتنا اللہ چاہے ملتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: مگر روزہ (اس قانون سے مستثنیٰ ہے) کیوں کہ وہ (خالصتاً) میرے لیے ہوتا ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔ بندہ میری خاطر اپنی خواہشات اور کھانا ترک کرتا ہے۔ روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: ایک خوشی روزہ کھولتے وقت (حاصل ہوتی ہے) اور ایک خوشی اپنے رب سے ملاقات کے وقت (حاصل ہوگی۔) اللہ کے ہاں روزہ دار کے منہ کی بو کستوری کی مہک سے بھی زیادہ عمدہ ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1638]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏حدیث وکیع عن الأعمش قد أخرجہ: صحیح مسلم/الصوم 30 (1151)، (تحفة الأشراف: 12520)، وحدیث أبي معاویہ عن الأعمش قد أخرجہ: صحیح مسلم/الصوم 30 (1151)، (تحفة الأشراف: 12470)، مسند احمد (2/232، 257، 266، 273، 293، 352، 443، 445، 475، 477، 480، 501)، سنن الدارمی/ الصوم 50 (1811) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ روزہ دار کے سوا دوسری نیکیوں کا ثواب معین اور معلوم ہے، یا ان کا ثواب دینا فرشتوں کو سونپ دیا گیا ہے اور روزے کا ثواب اللہ تعالیٰ نے خاص اپنے علم میں رکھا ہے، اور وہ خود ہی قیامت کے دن روزہ دار کو عنایت فرمائے گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ اور نیکیوں میں ریا کی گنجائش ہے، روزہ ریا سے پاک ہے، آدمی اسی وقت روزہ رکھے گا اور حیوانی و نفسانی خواہشات سے اسی وقت باز رہے گا جب اس کے دل میں اللہ تعالی کا ڈر ہو گا، ورنہ روزہ نہ رکھے گا اور لوگوں کے سامنے اپنے آپ کو روزہ دار ظاہر کرے گا۔ «خلوف» سے مراد وہ بو ہے جو سارے دن بھوکا پیاسا رہنے کی وجہ سے روزہ دار کے منہ سے آتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1639
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، أَنَّ مُطَرِّفًا مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ حَدَّثَهُ: أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيَّ، دَعَا لَهُ بِلَبَنٍ يَسْقِيهِ، فَقَالَ مُطَرِّفٌ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ عُثْمَانُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الصِّيَامُ جُنَّةٌ مِنَ النَّارِ كَجُنَّةِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْقِتَالِ".
قبیلہ عامر بن صعصعہ کے مطرف نامی ایک فرد بیان کرتے ہیں کہ عثمان بن ابی العاص ثقفی رضی اللہ عنہ نے انہیں پلانے کے لیے دودھ منگایا، تو انہوں نے کہا کہ میں روزے سے ہوں، اس پر عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: روزہ جہنم سے ڈھال ہے جیسے تم میں سے کسی کے پاس لڑائی میں ڈھال ہوتی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1639]
حضرت مطرف بن عبداللہ رحمہ اللہ جو قبیلہ بنو عامر بن صعصعہ سے تھے، ان سے روایت ہے کہ عثمان بن ابوالعاص ثقفی رضی اللہ عنہ نے انہیں پلانے کے لیے دودھ طلب فرمایا۔ مطرف رحمہ اللہ نے کہا: میں روزے سے ہوں۔ عثمان ثقفی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: روزہ جہنم سے بچانے والی ڈھال ہے جس طرح لڑائی میں تم میں سے کسی کی ڈھال ہوتی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1639]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الصیام 43 (2232)، (تحفة الأشراف: 9771)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/22، 217) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1640
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَابًا، يُقَالُ لَهُ: الرَّيَّانُ يُدْعَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يُقَالُ: أَيْنَ الصَّائِمُونَ؟ فَمَنْ كَانَ مِنَ الصَّائِمِينَ دَخَلَهُ، وَمَنْ دَخَلَهُ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا".
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے، قیامت کے دن پکارا جائے گا، کہا جائے گا روزہ دار کہاں ہیں؟ تو جو روزہ داروں میں سے ہو گا وہ اس دروازے سے داخل ہو گا اور جو اس میں داخل ہو گا وہ کبھی پیاسا نہ ہو گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1640]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت میں ایک دروازہ ہے جسے «الرَّيَّانُ» ریّان کہا جاتا ہے، قیامت کے دن آواز دی جائے گی، کہا جائے گا: روزے رکھنے والے کہاں ہیں؟ چنانچہ جو شخص روزہ رکھنے والوں میں سے ہوگا، وہ اس (دروازے) میں داخل ہو جائے گا، اور جو اس میں داخل ہوگا، اسے کبھی پیاس نہیں لگے گی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1640]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصوم 55 (765)، (تحفة الأشراف: 4771)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم 4 (1896)، بدأالخلق 9 (3257)، صحیح مسلم/الصوم30 (1152)، کلاھمادون جملة الظمأ، سنن النسائی/الصیام43 (2238)، مسند احمد (5/333، 335) (صحیح)» ‏‏‏‏ ( «وَمَنْ دَخَلَهُ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا» کا جملہ صحیح نہیں ہے، تراجع الألبانی: رقم: 351)
قال الشيخ الألباني: صحيح ق دون جملة الظمأ
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
(حديث مرفوع) َدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ: مَا جَاءَ فِي فَضْلِ شَهْرِ رَمَضَانَ
باب: ماہ رمضان کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1641
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے روزہ رکھا، اس کے اگلے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1641]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ایمان رکھتے ہوئے اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے، اس کے سابقہ گناہ معاف ہو جائیں گے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1641]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الإیمان 27 (38)، الصوم 6 (1901)، التراویح 1 (2009)، سنن النسائی/قیام اللیل 3 (1604)، الصوم 22 (2196) الإیمان 21 (5027)، 22 (5030)، (تحفة الأشراف: 15353)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 25 (760)، سنن ابی داود/الصلاة 318 (1371)، سنن الترمذی/الصوم 1 (683)، 83 (808)، موطا امام مالک/الصلاة في رمضان 1 (2)، مسند احمد (2/241، 281، 289، 408، 423، 473، 486، 503، 529، سنن الدارمی/الصوم 54 (1817) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1642
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا كَانَتْ أَوَّلُ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ صُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ، وَمَرَدَةُ الْجِنِّ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ، فَلَمْ يُفْتَحْ مِنْهَا بَابٌ، وَفُتِحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، فَلَمْ يُغْلَقْ مِنْهَا بَابٌ، وَنَادَى مُنَادٍ يَا بَاغِيَ الْخَيْرِ أَقْبِلْ، وَيَا بَاغِيَ الشَّرِّ أَقْصِرْ، وَلِلَّهِ عُتَقَاءُ مِنَ النَّارِ، وَذَلِكَ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیطان اور سرکش جن زنجیروں میں جکڑ دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اور اس کا کوئی بھی دروازہ کھلا ہوا نہیں رہتا، جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، اور اس کا کوئی بھی دروازہ بند نہیں رہتا، منادی پکارتا ہے: اے بھلائی کے چاہنے والے! بھلائی کے کام پہ آگے بڑھ، اور اے برائی کے چاہنے والے! اپنی برائی سے رک جا، کچھ لوگوں کو اللہ جہنم کی آگ سے آزاد کرتا ہے، اور یہ (رمضان کی) ہر رات کو ہوتا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1642]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب رمضان کی پہلی رات آتی ہے تو شیطانوں اور سرکش جنوں کو جکڑ دیا جاتا ہے، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، ان میں سے کوئی دروازہ کھلا نہیں رہتا اور جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں رہتا، اور ایک اعلان کرنے والا منادی کرتا ہے: اے نیکی کے طلب گار! آگے بڑھ اور اے برائی کے طلب گار! رک جا، اور اللہ تعالیٰ جہنم سے (بعض) لوگوں کو آزاد کرتا ہے، (رمضان میں) ہر رات اسی طرح ہوتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1642]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصوم 1 (682)، (تحفة الأشراف: 12490)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم 5 (1898، 1899)، بدأالخلق 11 (3677)، صحیح مسلم/الصوم 1 (1079)، سنن النسائی/الصیام 3 (2099)، موطا امام مالک/الصیام 22 (59)، مسند احمد (2/281، 282، 357، 378، 401)، سنن الدارمی/الصوم 53 (1816) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہی وجہ ہے کہ رمضان میں اہل ایمان کی توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف بڑھ جاتی ہے، اور وہ اس میں تلاوت قرآن، ذکر و عبادت اور توبہ و استغفار کا خصوصی اہتمام کرنے لگتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (682)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 439

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1643
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لِلَّهِ عِنْدَ كُلِّ فِطْرٍ عُتَقَاءَ وَذَلِكَ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ" .
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہر افطار کے وقت کچھ لوگوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے اور یہ (رمضان کی) ہر رات کو ہوتا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1643]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہر افطار کے وقت کچھ لوگوں کو آزاد فرماتا ہے اور یہ (رمضان کی) ہر رات میں ہوتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1643]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2335، ومصباح الزجاجة: 597) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏ (حدیث شواہد کی بناء پر صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: صحیح الترغیب: 991 - 992، صحیح ابن خزیمہ: 1883)
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سليمان الأعمش عنعن
و للحديث شواھد ضعيفة (انظر الترغيب والترهيب 2/ 103۔104)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 439

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1644
حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِلَالٍ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: دَخَلَ رَمَضَانُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ هَذَا الشَّهْرَ قَدْ حَضَرَكُمْ وَفِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ، مَنْ حُرِمَهَا فَقَدْ حُرِمَ الْخَيْرَ كُلَّهُ، وَلَا يُحْرَمُ خَيْرَهَا إِلَّا مَحْرُومٌ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رمضان آیا تو رسول کرام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ مہینہ آ گیا اور اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے، جو اس سے محروم رہا وہ ہر طرح کے خیر (بھلائی) سے محروم رہا، اور اس کی بھلائی سے محروم وہی رہے گا جو (واقعی) محروم ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1644]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رمضان کا مہینہ شروع ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے پاس یہ مہینہ آ گیا ہے، اس میں ایک رات ہے جو ہزار مہینے سے افضل ہے۔ جو اس رات (کا ثواب حاصل کرنے) سے محروم رہا، وہ ہر بھلائی سے محروم ہے۔ اس کے خیر سے وہی محروم رہتا ہے جو واقعی محروم ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1644]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1324، ومصباح الزجاجة: 598) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قتادة عنعن
ولحديثه شاھد منقطع (سنن النسائي: 2108) و مرسل (مصنف عبدالرزاق: 7383)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 439

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ: مَا جَاءَ فِي صِيَامِ يَوْمِ الشَّكِّ
باب: شک کے دن کے روزے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1645
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عَمَّارٍ فِي الْيَوْمِ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ، فَأُتِيَ بِشَاةٍ فَتَنَحَّى بَعْضُ الْقَوْمِ، فَقَالَ عَمَّارٌ :" مَنْ صَامَ هَذَا الْيَوْمَ فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
صلہ بن زفر کہتے ہیں کہ ہم شک والے دن میں عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کے پاس تھے ان کے پاس ایک بھنی ہوئی بکری لائی گئی بعض لوگ اس کو دیکھ کر الگ ہو گئے، (کیونکہ وہ روزے سے تھے) عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: جس نے ایسے دن میں روزہ رکھا اس نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1645]
حضرت صلہ بن زفر رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم لوگ حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھے اور وہ دن تھا جس میں شک کیا جاتا ہے۔ آپ کی خدمت میں ایک (پکائی ہوئی) بکری پیش کی گئی۔ بعض لوگ (کھانے سے اجتناب کرتے ہوئے) ایک طرف ہو گئے۔ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جس نے اس دن روزہ رکھا، اس نے ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1645]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الصوم 11 (1906)، (تعلیقا) سنن ابی داود/الصوم 10 (2334)، سنن الترمذی/الصوم 3 (686)، سنن النسائی/الصیام 20 (2190)، (تحفة الأشراف: 10354) وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصوم 1 (1724) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: شک والے دن سے مراد ۳۰ شعبان کا دن ہے یعنی بادلوں کی وجہ سے ۲۹ ویں کو چاند نظر نہ آیا ہو تو پتہ نہیں چلتا کہ یہ شعبان کا تیسواں دن ہے یا رمضان کا پہلا دن اسی وجہ سے اسے شک کا دن کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (2334) ترمذي (686) نسائي (2190)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 439

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1646
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ تَعْجِيلِ صَوْمِ يَوْمٍ قَبْلَ الرُّؤْيَةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند دیکھنے سے ایک روز پہلے روزہ رکھنے سے منع فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1646]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند نظر آنے سے ایک دن پہلے جلدی کرتے ہوئے روزہ رکھنے سے منع فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1646]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14339، ومصباح الزجاجة: 599) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں عبد اللہ بن سعید المقبری ضعیف ہے، لیکن دوسرے طرق سے یہ صحیح ہے، صحیح ابو داود: 2015)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
عبداﷲ بن سعيد المقبري: متروك
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 439

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1647
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ عَلَى الْمِنْبَرِ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ قَبْلَ شَهْرِ رَمَضَانَ:" الصِّيَامُ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا، وَنَحْنُ مُتَقَدِّمُونَ، فَمَنْ شَاءَ فَلْيَتَقَدَّمْ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيَتَأَخَّرْ".
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما منبر پر کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان سے پہلے منبر پر فر مار ہے تھے: روزہ فلاں فلاں دن شروع ہو گا، اور ہم اس سے پہلے سے روزہ رکھنے والے ہیں لہٰذا جس کا جی چاہے پہلے سے روزہ رکھے، اور جس کا جی چا ہے مؤخر کرے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1647]
حضرت ابو عبدالرحمن قاسم بن عبدالرحمن بن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ فرماتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ماہِ رمضان (شروع ہونے) سے پہلے منبر پر فرما دیا کرتے تھے: روزہ فلاں دن ہوگا اور ہم (عادتاً) اس سے پہلے روزہ رکھنے والے ہیں۔ اب جو چاہے پہلے شروع کر لے اور جو چاہے بعد میں (رمضان شروع ہونے پر روزہ رکھنا) شروع کرے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1647]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11436، ومصباح الزجاجة: 600) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں ھیثم بن حمید ضعیف ہے، نیز (1650) نمبر پر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے یہ مخالف ہے)
وضاحت: ۱؎: یعنی رمضان کا دن آ جائے تب روزہ شروع کرے، واضح رہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے، مسئلہ کے لیے حدیث نمبر (۱۶۵۰) کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف مع مخالفته لحديث أبي هريرة
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
العلاء بن الحارث اختلط (تقريب: 5230)
والحديث شاذ،غريب جدًا،انظرالحديث الآتي (الأصل:1650)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 439

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں