سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ: مَا جَاءَ فِي وِصَالِ شَعْبَانَ بِرَمَضَانَ
باب: شعبان کے روزوں کو رمضان کے روزوں سے ملانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1648
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصِلُ شَعْبَانَ بِرَمَضَانَ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کو رمضان سے ملا دیتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1648]
حضرت ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کو رمضان سے ملا دیتے تھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1648]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصوم 37 (736)، سنن النسائی/الصیام 19 (2178)، 70 (2354، 2355)، (تحفة الأشراف: 18232)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصوم 11 (2336)، مسند احمد (6/300، 311)، سنن الدارمی/الصوم 33 (1780) (صحیح) (ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: 2024)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 1649
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ الْغَازِ ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَقَالَتْ:" كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ حَتَّى يَصِلَهُ بِرَمَضَانَ".
ربیعہ بن الغاز سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے سلسلے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم پورے شعبان روزے رکھتے تھے یہاں تک کہ اسے رمضان سے ملا دیتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1649]
حضرت ربیعہ بن غاز رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے بارے میں سوال کیا تو ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم پورا شعبان روزے رکھتے تھے، حتیٰ کہ اسے رمضان سے ملا دیتے تھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1649]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصیام 44 (745 مختضراً)، سنن النسائی/الصیام 19 (2188)، (تحفة الأشراف: 16081)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم 52 (970)، صحیح مسلم/الصیام 3 (1082)، موطا امام مالک/الصیام 22 (56)، مسند احمد (6/80، 89، 106) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 1739) (حسن صحیح) (صحیح أبی داود: 2101)»
وضاحت: ۱؎: پورے شعبان روزے رکھنے کے معنی یہ ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان میں روزے زیادہ رکھتے تھے کیونکہ اس مہینہ میں اعمال رب العالمین کی بارگاہ میں پیش کئے جاتے ہیں،اور آپ کو یہ بات بےحد پسند تھی کہ جب آپ کے اعمال بارگاہ الٰہی میں پیش ہوں تو آپ روزے کی حالت میں ہوں۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
5. بَابُ: مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنْ أَنْ يَتَقَدَّمَ رَمَضَانَ بِصَوْمٍ إِلاَّ مَنْ صَامَ صَوْمًا فَوَافَقَهُ
باب: رمضان سے ایک روز پہلے روزہ رکھنے کی ممانعت اگر کوئی شخص پہلے سے روزہ رکھتا چلا آیا ہو تو جائز ہے۔
حدیث نمبر: 1650
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ حَبِيبٍ ، وَالْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَقَدَّمُوا صِيَامَ رَمَضَانَ بِيَوْمٍ وَلَا بِيَوْمَيْنِ، إِلَّا رَجُلٌ كَانَ يَصُومُ صَوْمًا فَيَصُومُهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان سے ایک دن یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھو، الا یہ کہ کوئی آدمی پہلے سے روزے رکھ رہا ہو تو وہ اسے رکھے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1650]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان (شروع ہونے) سے ایک دو دن پہلے روزہ نہ رکھو، سوائے اس شخص کے جو پہلے سے وہ روزہ رکھتا چلا آ رہا ہو تو اس دن بھی رکھ لے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1650]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الصوم 31 (2171، 2172)، 38 (2189)، (تحفة الأشراف: 15391)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم 14 (1914)، صحیح مسلم/الصوم 3 (1082)، سنن ابی داود/الصوم 11 (2335)، سنن الترمذی/الصوم 2 (685)، مسند احمد (3/234، 347، 408، 438، 7 7 4، 497، 513)، سنن الدارمی/الصوم 4 (1731) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مثلاً پہلے سے جمعرات یا سوموار (پیر) کے روزے رکھنے کا معمول ہو، اور یہ دن اتفاق سے رمضان سے دو یا ایک دن پہلے آ جائے تو اس کا روزہ رکھے کیونکہ یہ روزہ رمضان کے استقبال کے لیے نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
حدیث نمبر: 1651
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ . ح وحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كَانَ النِّصْفُ مِنْ شَعْبَانَ فَلَا صَوْمَ حَتَّى يَجِيءَ رَمَضَانُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نصف شعبان ہو جائے، تو روزے نہ رکھو، جب تک کہ رمضان نہ آ جائے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1651]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب شعبان آدھا ہو جائے تو رمضان آ جانے تک کوئی روزہ نہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1651]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصوم 12 (2337)، سنن الترمذی/الصوم 38 (738)، (تحفة الأشراف: 14051، 14095)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصوم 34 (1781) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ بات عام امت کے لئے ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں آتا ہے کہ آپ شعبان کے روزوں کو رمضان سے ملا دیا کرتے تھے کیونکہ آپ کو روحانی قوت حاصل تھی اس لئے روزہ آپ کے لئے کمزوری کا سبب نہیں بنتا تھا، لیکن امت کے لئے حکم یہ ہے کہ وہ نصف ثانی میں روزہ نہ رکھیں تاکہ ان کی قوت و توانائی رمضان کے روزوں کے لئے برقرار رہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
6. بَابُ: مَا جَاءَ فِي الشَّهَادَةِ عَلَى رُؤْيَةِ الْهِلاَلِ
باب: رویت ہلال (چاند دیکھنے) کی گواہی کا بیان۔
حدیث نمبر: 1652
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيُّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَبْصَرْتُ الْهِلَالَ اللَّيْلَةَ، فَقَالَ:" أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" قُمْ يَا بِلَالُ فَأَذِّنْ فِي النَّاسِ أَنْ يَصُومُوا غَدًا"، قَالَ أَبُو عَلِيٍّ: هَكَذَا رِوَايَةُ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، وَالْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، فَلَمْ يَذْكُرْ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَقَالَ: فَنَادَى أَنْ يَقُومُوا، وَأَنْ يَصُومُوا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے کہا: رات میں نے چاند دیکھا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول ہیں“؟ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بلال اٹھو، اور لوگوں میں اعلان کر دو کہ لوگ کل روزہ رکھیں“۔ ابوعلی کہتے ہیں: ایسے ہی ولید بن ابی ثور اور حسن بن علی کی روایت ہے، اس کو حماد بن سلمہ نے روایت کیا ہے، اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں کیا اور کہا: تو بلال رضی اللہ عنہ نے اعلان کیا کہ لوگ قیام اللیل کریں (یعنی صلاۃ تراویح پڑھیں) اور روزہ رکھیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1652]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ایک اعرابی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: میں نے آج رات چاند دیکھا ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں؟“ اس نے کہا: ”جی ہاں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال! اٹھو لوگوں میں اعلان کر دو کہ کل روزہ رکھیں۔“ ایک روایت میں ہے: ”بلال رضی اللہ عنہ نے اعلان کر دیا کہ وہ قیام کریں اور روزہ رکھیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1652]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصوم 14 (2340، 2341)، سنن الترمذی/الصوم 7 (691)، سنن النسائی/الصوم 6 (2115)، (تحفة الأشراف: 6104)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصوم 6 (1734) (ضعیف)» (سند میں سماک ہیں جن کی عکرمہ سے روایت میں اضطراب ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (2340) ترمذي (691)نسائي (2114)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 439
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (2340) ترمذي (691)نسائي (2114)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 439
حدیث نمبر: 1653
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمُومَتِي مِنَ الْأَنْصَارِ، مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: أُغْمِيَ عَلَيْنَا هِلَالُ شَوَّالٍ فَأَصْبَحْنَا صِيَامًا، فَجَاءَ رَكْبٌ مِنْ آخِرِ النَّهَارِ، فَشَهِدُوا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ رَأَوْا الْهِلَالَ بِالْأَمْسِ،" فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُفْطِرُوا، وَأَنْ يَخْرُجُوا إِلَى عِيدِهِمْ مِنَ الْغَدِ".
ابوعمیر بن انس بن مالک کہتے ہیں کہ میرے انصاری چچاؤں نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے، مجھ سے بیان کیا ہے کہ ہمارے اوپر شوال کا چاند مشتبہ ہو گیا تو اس کی صبح ہم نے روزہ رکھا، پھر شام کو چند سوار آئے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گواہی دی کہ انہوں نے کل چاند دیکھا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ روزہ توڑ دیں اور دوسرے دن صبح عید کے لیے نکلیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1653]
حضرت ابو عمیر عبداللہ بن انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے میرے چچاؤں نے حدیث سنائی، جو انصاری صحابی رضی اللہ عنہم تھے، انہوں نے فرمایا: ”ہمیں شوال کا چاند (بادل وغیرہ کی وجہ سے) نظر نہ آیا تو ہم نے صبح کو روزہ رکھ لیا۔ دن کے آخری حصے میں ایک قافلہ آیا، ان لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گواہی دی کہ انہوں نے کل چاند دیکھا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ روزہ چھوڑ دیں اور اگلے دن عید کے لیے (عید گاہ کی طرف) نکلیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1653]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 255 (1157)، سنن النسائی/صلاة العیدین 1 (1558)، (تحفة الأشراف: 15603)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/57، 58) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عید کے چاند کے لئے دو آدمیوں کی شہادت ضروری ہے، اور اہل حدیث کا یہ قول ہے کہ اگر شوال کے چاند کے دن یعنی رمضان کی ۲۹ تاریخ کو بادل ہو تو تیس دن پورے کرے جب تک چاند ثابت نہ ہو، جیسا کہ آگے آنے والی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں آیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
7. بَابُ: مَا جَاءَ فِي «صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ»
باب: چاند دیکھ کر روزہ رکھنے اور چاند دیکھ کر روزہ توڑنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1654
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ فَصُومُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ"، قَالَ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَصُومُ قَبْلَ الْهِلَالِ بِيَوْمٍ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو، اور چاند دیکھ کر ہی روزہ توڑا کرو، اور اگر چاند بادل کی وجہ سے مشتبہ ہو جائے تو تیس دن کی تعداد پوری کرو“ ۱؎۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما چاند نکلنے کے ایک روز پہلے سے ہی روزہ رکھنا شروع کر دیتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1654]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم چاند دیکھو تو روزے رکھو، اور جب چاند دیکھو تو روزے چھوڑ دو۔ اگر تم پر بادل چھا جائے تو اس کا اندازہ کر لو۔“ ابن عمر رضی اللہ عنہما چاند سے ایک دن پہلے روزہ رکھتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1654]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6804)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم 5 (1900)، 11 (1908)، صحیح مسلم/الصوم 2 (1081)، سنن ابی داود/الصوم 4 (2320)، سنن النسائی/الصوم 7 (2122)، موطا امام مالک/الصیام 1 (1) مسند احمد (2/5، 5/5، 13، 63، 145)، سنن الدارمی/الصوم 2 (1726) (صحیح) (ملاحظہ ہو: الإرواء: 4/10 و صحیح أبی داود: 2009)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ روزہ رکھنے اور چھوڑنے میں چاند دیکھنا ضروری ہے محض فلکی حساب کافی نہیں۔ رہا یہ مسئلہ کہ ایک علاقہ کی رویت دوسرے علاقہ والوں کے لیے معتبر ہو گی یا نہیں تو اس مسئلہ میں علماء کا اختلاف ہے، رویت ہلال کا مسئلہ ہمیشہ بحث کا موضوع بنا رہتا ہے، اس لیے اس مسئلہ کی وضاحت ضروری ہے: اگر کسی جگہ چاند نظر آ جائے تو کیا سارے مسلمانوں کے لیے واجب ہے کہ وہ اس رویت کی بنا پر روزہ رکھیں یا روزہ توڑ دیں یا ہر ملک اور علاقہ کے لوگ اپنے ملک کے مطلع کے مطابق چاند دیکھ کر اس کا اعتبار کریں، اور اس کے مطابق عمل کریں۔ (۱) جمہور اہل علم جن میں امام ابوحنیفہ اور امام احمد بھی داخل ہیں کے نزدیک اگر ایک شہر میں چاند نکل آئے تو ہر جگہ کے لوگ اس کے مطابق روزہ رکھیں، اور چھوڑیں، یعنی ایک علاقے کی رویت دوسرے علاقے کے لیے کافی ہو گی، اس لیے کہ حدیث میں وارد «صوموا» اور «أفطروا» کا حکم عام ہے، اس کے مخاطب دنیا کے تمام مسلمان ہیں، ان کے نزدیک رویت ہلال میں مطالع کے اتفاق اور اختلاف کا کوئی اعتبار نہیں۔ (۲) علماء کی ایک جماعت جن میں امام شافعی سرفہرست ہیں کے نزدیک رویت ہلال کے مسئلے میں اختلاف مطالع مؤثر اور معتبر ہے، زیر نظر حدیث میں جو حکم ہے وہ ان لوگوں کے لیے جن کے یہاں ہلال نظر آ گیا ہے، لیکن جہاں چاندنظر ہی نہیں آیا تو ان کے لیے یہ حکم اس وقت مؤثر ہو گا جب چاند نظر آئے جا ئے گا جیسے صوم و صلاۃ کے اوقات میں ہر جگہ کے طلوع اور غروب کا اعتبار ہے، ایسے ہی چاند کی رویت میں بھی اختلاف مطالع مؤثر ہے، اس لیے ایک علاقہ کی رویت دوسرے علاقے کے مسلمانوں کے لئے کافی نہیں، اس حدیث کے مخاطب صرف وہ مسلمان ہیں جنھوں نے چاند دیکھا ہو، اور جن علاقے کے مسلمانوں نے چاند دیکھا ہی نہیں وہ اس کے مخاطب نہیں ہیں، اس لیے ہر علاقے کے لیے اپنی اپنی الگ الگ رویت ہے جس کے مطابق وہ روزہ رکھنے اور عید منانے کا فیصلہ کریں گے۔ شیخ الإسلام ابن تیمیہ کہتے ہیں: اہل علم کا اس مسئلے پر اتفاق ہے کہ مطالع مختلف ہوتے ہیں، اگر مطلع ایک ہو تو روزہ لازمی طور پر رکھنا ہو گا، ورنہ اختلاف مطالع کی صورت میں روزہ رکھنا ضروری نہیں ہو گا، شافعیہ کا صحیح ترین قول نیز حنبلی مذہب کا ایک قول یہی ہے، اس عقلی دلیل کے ساتھ اختلاف مطالع کے مؤثر ہونے کی نقلی دلیل صحیح مسلم میں آئی ہے: کریب کہتے ہیں کہ میں شام آیا اور جمعہ کی رات میں رمضان کا چاند دیکھا آخری مہینہ میں واپس مدینہ آیا تو مجھ سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا: تم لوگوں نے شام میں کب چاند دیکھا تو میں نے جواب دیا کہ جمعہ کی رات کو لوگوں نے چاند دیکھا اور روزہ رکھا، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ہم لوگوں نے مدینہ میں سنیچر کی رات کو چاند دیکھا ہے، ہم چاند دیکھ کر روزہ توڑیں گے یا تیس دن پورا کریں گے، اس لیے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسے ہی حکم دیا ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ اہل علم کا عمل اس حدیث پر ہے۔ اس قصے سے یہ بات واضح ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے شام والوں کی رویت کا اعتبار نہیں کیا بلکہ مدینہ والوں کی رویت کو معتبر مانا۔ اس مذہب کے قائلین اختلاف مطالع کو جو کہ ایک حقیقت ہے رویت ہلال کے مسئلہ میں معتبر مانتے ہیں، امت میں اس سلسلے میں شروع سے اختلاف چلا آ رہا ہے، جس کی بنیاد حدیث کے ساتھ ساتھ اختلاف مطالع کو معتبر ماننا بھی ہے۔ کتاب الزلال کے مؤلف فرماتے ہیں: یہ بات یقینی طور پر جان لینی چاہئے صحیح بات جس پر محقق علمائے حدیث و اہل نظر اور فلکیات کے ماہرین کا اتفاق ہے کہ رویتِ ہلال میں دیکھا جائے گا کہ جس جگہ رویت ہوئی ہے، وہاں سے دو ہزار دو سو چھبیس (۲۲۲۶) کلومیٹر کے درمیان کی دوری کا حکم اتحاد مطالع کی وجہ سے روزہ رکھنے اور توڑنے میں یکساں ہو گا، اور اگر اس سے زیادہ مسافت ہو گی تو اس کا اعتبارصحیح نہیں ہو گا، اور ہر علاقے کا حکم اس کے مطلع کے اختلاف کے مطابق ہو گا، چاہے یہ دوری مشرق و مغرب کی ہو یا شمال و جنوب کی اور چاہے یہ ایک ملک میں ہو یا ایک اقلیم میں، یہ شرعی دلائل اور فلکیاتی حساب کے موافق ہے، اور اس سے سارے اشکالات ختم ہو جاتے ہیں «واللہ اعلم» رویت ہلال سے متعلق سعودی عرب کے کبار علماء کے بورڈ کے متفق علیہ فتوے کا خلاصہ درج ذیل ہے: اختلافِ مطالع ضروری طور پر معلوم و مشہور چیز ہے، جس کے بارے میں کوئی اختلاف ہے ہی نہیں، ہاں علماء کے نزدیک اس کے معتبر ماننے اور نہ ماننے کے درمیان اختلاف ہے، اختلافِ مطالع کو رویت ہلال کے سلسلے میں مؤثر و معتبر ماننا اور نہ ماننا ان مسائل میں سے ہے جن میں اجتہاد کی گنجائش ہے، معتبر اہل علم اور اہل دین کے یہاں اس میں اختلاف رہا ہے، اور یہ جائز قسم کا اختلاف ہے، اہل علم کی اس میں دو رائے ہے، ایک گروہ اختلافِ مطالع کو مؤثر مانتا ہے، اور دوسرے گروہ کے یہاں اختلافِ مطالع کا اعتبار نہیں ہے، ہر فریق کا اپنا اپنا استدلال ہے، علماء بورڈ نے اس مسئلے کے مختلف گوشوں پر غور و خوض کر کے اور یہ مان کر کہ یہ مسئلہ چودہ سال سے امت میں موجود ہے، اس رائے کا اظہار کیا کہ ان گزشتہ صدیوں میں ہمیں کسی ایسے زمانے کا علم نہیں ہے جس میں ایک شہر کی رویت کی بنا پر سب لوگوں نے ایک دن ہی عید منائی ہو، اس لیے بورڈ کے ممبران کا فیصلہ یہ ہے کہ یہ مسئلہ جیسے ہے ویسے ہی رہنے دیا جائے، ہر اسلامی ملک کو اس بات کا حق ہے کہ ان دونوں میں سے ان کے علماء وفقہاء جس رائے کے مطابق فتوی دیں اس کے مطابق عمل کیا جائے، رہ گیا چاند کا ثبوت فلکیاتی حساب سے تو علماء بورڈ اسے بالاجماع غیر معتبر مانتا ہے، «واللہ اعلم» ۔ (ملاحظہ ہو: توضیح الأحکام من بلوغ المرام للشیخ عبداللہ بن عبدالرحمن البسام حدیث نمبر:۵۴۱)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
حدیث نمبر: 1655
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ فَصُومُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَصُومُوا ثَلَاثِينَ يَوْمًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم چاند دیکھو تو روزہ رکھو، اور جب چاند دیکھو تو روزہ توڑ دو، اگر بادل آ جائے تو تیس روزے پورے کرو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1655]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم چاند دیکھو تو روزے رکھو اور جب (دوبارہ) چاند دیکھو تو روزے رکھنا چھوڑ دو۔ اگر تم پر بادل ہو جائیں تو تیس دن روزے رکھ لو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1655]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصوم 2 (1081)، (تحفة الأشراف: 13102)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم 11 (1906)، سنن الترمذی/الصوم 2 (684)، سنن النسائی/الصیام 7 (2120)، مسند احمد (2/ 259، 263، 28، 287، 415، 422، 430، 438، 454، 456، 469، 497)، سنن الدارمی/الصوم 2 (1767) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
8. بَابُ: مَا جَاءَ فِي «الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ»
باب: مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 1656
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَمْ مَضَى مِنَ الشَّهْرِ؟"، قَالَ: قُلْنَا: اثْنَانِ وَعِشْرُونَ وَبَقِيَتْ ثَمَانٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الشَّهْرُ هَكَذَا، وَالشَّهْرُ هَكَذَا، وَالشَّهْرُ هَكَذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَأَمْسَكَ وَاحِدَةً".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ میں کتنے دن گزرے ہیں؟“ ہم نے عرض کیا: بائیس دن گزرے ہیں اور آٹھ دن باقی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ اتنا، اتنا اور اتنا ہے، اور تیسری بار ایک انگلی بند کر لی“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1656]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینے کا کتنا حصہ گزر گیا ہے؟“ ہم نے کہا: بائیس (دن گزر گئے ہیں) اور باقی آٹھ دن ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ اتنا ہوتا ہے اور مہینہ اتنا ہوتا ہے، اور مہینہ اتنا ہوتا ہے۔“ آپ نے تین بار یہ الفاظ فرمائے اور (تیسری بار) ایک انگلی بند فرما لی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1656]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12551، ومصباح الزجاجة: 601)، مسند احمد (2/251) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے تین بار اشارہ فرمایا، اور تیسری بار میں ایک انگلی بند کرلی تو ۲۹ دن ہوئے، مطلب آپ کا یہ تھا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جو کہا کہ ۲۲ دن گزرے ہیں اور آٹھ دن باقی ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیشہ مہینہ تیس دن کا ہوتا ہے، یہ بات نہیں ہے، ۲۹ دن کا بھی ہوتا ہے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن سے ایک ماہ کے لئے ایلا کیا تھا، پھر ۲۹ دن کے بعد ان کے پاس آ گئے، اس سے معلوم ہوا کہ اگر ایک مہینہ تک کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کے لئے قسم کھائے تو ۲۹ دن قسم پر عمل کرنا کافی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سليمان الأعمش عنعن
و الحديث الآتي (الأصل: 1657) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 439
إسناده ضعيف
سليمان الأعمش عنعن
و الحديث الآتي (الأصل: 1657) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 439
حدیث نمبر: 1657
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الشَّهْرُ هَكَذَا، وَهَكَذَا، وَهَكَذَا، وَعَقَدَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ فِي الثَّالِثَةِ".
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ اتنا، اتنا اور اتنا ہے، تیسری دفعہ میں ۲۹ کا عدد بنایا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1657]
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ اتنا اتنا اور اتنا ہوتا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری بار کے اشارے سے انتیس کا اشارہ مکمل کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1657]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصوم 4 (1086)، سنن النسائی/الصیام 8 (2137، 2138)، (تحفة الأشراف: 3920)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/184) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم