🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. بَابُ: مَا جَاءَ فِي «الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ»
باب: مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے اس کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1658
حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيُّ ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" مَا صُمْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ أَكْثَرُ مِمَّا صُمْنَا ثَلَاثِينَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بہ نسبت ۳۰ دن کے زیادہ تر انتیس دن کے روزے رکھے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1658]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں تیس روزوں کی نسبت انتیس روزے زیادہ دفعہ رکھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1658]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14622، ومصباح الزجاجة: 602) (حسن صحیح) (ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: 2011)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سعيد بن اياس الجريري اختلط
و لا يعرف سماع القاسم بن مالك منه قبل اختلاطه
و حديث أبي داود (الأصل: 2322 وسنده حسن) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 440

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. بَابُ: مَا جَاءَ فِي شَهْرَيِ الْعِيدِ
باب: عید کے دونوں مہینوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1659
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" شَهْرَا عِيدٍ لَا يَنْقُصَانِ رَمَضَانُ، وَذُو الْحِجَّةِ".
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عید کے دونوں مہینے رمضان اور ذی الحجہ کم نہیں ہوتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1659]
حضرت ابوبکرہ (نفیع بن حارث ثقفی) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عید کے دو مہینے ناقص نہیں ہوتے، یعنی رمضان اور ذوالحجہ۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1659]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الصوم 12 (1912)، صحیح مسلم/الصوم 7 (1089)، سنن ابی داود/الصوم 4 (2323)، سنن الترمذی/الصوم 8 (692)، (تحفة الأشراف: 11677)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/38، 47، 50) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی دونوں مہینے ۲۹ دن کے نہیں ہوتے، اگر ایک ۲۹ کا ہوتا ہے، تو دوسرا تیس کا، اور بعض نے کہا: مطلب یہ ہے کہ گو ان مہینوں کے دن کم ہوں لیکن اجر و ثواب کم نہیں ہوتا، تیس دن کا ثواب ملتا ہے اور یہی صحیح ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1660
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي عُمَرَ الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْفِطْرُ يَوْمَ تُفْطِرُونَ، وَالْأَضْحَى يَوْمَ تُضَحُّونَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عید الفطر وہ دن ہے جس میں تم لوگ روزہ توڑ دیتے ہو، اور عید الاضحی وہ دن ہے جس میں تم لوگ قربانی کرتے ہو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1660]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عید الفطر اس دن ہے جس دن تم (رمضان مکمل کر کے) روزہ چھوڑتے ہو، اور عید الاضحیٰ اس دن ہے جس دن تم قربانی کرتے ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1660]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14428)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصوم 5 (2324)، سنن الترمذی/الصوم 11 (697) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: مطلب یہ ہے کہ جب مسلمان عید کریں تو ہر ایک کو اس میں شریک ہو جانا چاہئے، جماعت سے الگ رہ کر اپنی عید علیحدہ کرنا اور چاند کی تحقیق میں مبالغہ کرنا ضروری نہیں ہے، ہماری عید جماعت کی عید کے ساتھ پوری ہو جائے گی، اور جس نے جھوٹ بولا یا جھوٹی گواہی دی اس سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ
باب: سفر میں روزہ رکھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1661
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ وَأَفْطَرَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں روزہ رکھا بھی ہے، اور نہیں بھی رکھا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1661]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں (کبھی) روزہ رکھا اور (کبھی) چھوڑ دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1661]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الصوم 38 (1948)، صحیح مسلم/الصوم 15 (1113)، سنن النسائی/الصوم 31 (2293)، (تحفة الأشراف: 6425)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصوم 42 (2404)، موطا امام مالک/الصیام 7 (21)، مسند احمد (1/244، 350)، سنن الدارمی/الصوم 15 (1749) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سفر میں روزہ رکھنے کے سلسلہ میں اختیار ہے چاہے رکھے یا نہ رکھے، اور آگے جو باب آ رہا ہے اس کی حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ سفر میں روزہ نہ رکھنا افضل ہے، اس لئے بہتر یہی ہے کہ سفر میں روزہ نہ رکھا جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1662
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: سَأَلَ حَمْزَةُ الْأَسْلَمِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي أَصُومُ أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ؟، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ شِئْتَ فَصُمْ، وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میں روزہ رکھتا ہوں تو کیا میں سفر میں بھی روزہ رکھوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر چاہو تو رکھو، اور چاہو تو نہ رکھو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1662]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا اور کہا: میں (نفلی) روزے رکھا کرتا ہوں، کیا سفر میں بھی روزہ رکھ لیا کروں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تو چاہے تو روزہ رکھ لے، چاہے تو چھوڑ دے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1662]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصوم 17 (1121)، (تحفة الأشراف: 16986)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصوم 42 (2404)، سنن النسائی/الصیام 31 (2308)، 43 (2386)، مسند احمد (3/494)، سنن الدارمی/الصوم 15 (1748) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1663
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ جَمِيعًا، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَيَّانَ الدِّمَشْقِيِّ ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ الدَّرْدَاءِ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّهُ، قَالَ:" لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فِي الْيَوْمِ الْحَارِّ الشَّدِيدِ الْحَرِّ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَضَعُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ، وَمَا فِي الْقَوْمِ أَحَدٌ صَائِمٌ إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ".
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں سخت گرمی کے دن دیکھا کہ آدمی اپنا ہاتھ گرمی کی شدت کی وجہ سے اپنے سر پر رکھ لیتا، اور لوگوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی بھی روزے سے نہ تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1663]
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے دیکھا کہ ہم لوگ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور اس دن شدید گرمی تھی حتی کہ آدمی گرمی کی شدت سے بچنے کے لیے اپنے سر پر ہاتھ رکھ لیتا تھا۔ (اس دن قافلے کے) لوگوں میں کسی کا روزہ نہیں تھا، سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1663]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصوم 17 (1122)، (تحفة الأشراف: 10991)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم 35 (1945)، سنن ابی داود/الصوم 44 (2409)، مسند احمد (5/194، 6/44) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. بَابُ: مَا جَاءَ فِي الإِفْطَارِ فِي السَّفَرِ
باب: سفر میں روزہ نہ رکھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1664
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَاصِمٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ".
کعب بن عاصم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1664]
حضرت کعب بن عاصم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1664]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الصیام 25 (2257)، (تحفة الأشراف: 11105)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5 /434)، سنن الدارمی/الصوم 15 (1751) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1665
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1665]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1665]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8110، ومصباح الزجاجة: 603) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1666
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى التَّيْمِيُّ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَائِمُ رَمَضَانَ فِي السَّفَرِ كَالْمُفْطِرِ فِي الْحَضَرِ". قَالَ أبُو إسحَاق: هذَا الحَدِيثُ لَيسَ بِشَئ.
عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفر میں روزہ رکھنے والا ایسا ہے جیسے کہ حضر میں روزہ نہ رکھنے والا۔ ابواسحاق کہتے ہیں: یہ حدیث کچھ نہیں ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1666]
حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفر میں رمضان کا روزہ رکھنے والا ایسے ہی ہے جیسے گھر میں ہوتے ہوئے روزہ نہ رکھنے والا۔ ابو اسحاق رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث کسی کام کی نہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1666]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9730، ومصباح الزجاجة: 604) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (ابوسلمہ کا اپنے والد عبدالرحمن سے سماع نہیں ہے، اور اسامہ بن زید ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 498)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (2286)
أبو سلمة لم يسمع من أبيه والزهري عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 440

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. بَابُ: مَا جَاءَ فِي الإِفْطَارِ لِلْحَامِلِ وَالْمُرْضِعِ
باب: حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کے روزہ نہ رکھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1667
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَوَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: أَغَارَتْ عَلَيْنَا خَيْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَغَدَّى، فَقَالَ:" ادْنُ فَكُلْ"، قُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ، قَالَ:" اجْلِسْ أُحَدِّثْكَ عَنِ الصَّوْمِ، أَوِ الصِّيَامِ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ شَطْرَ الصَّلَاةِ، وَعَنِ الْمُسَافِرِ، وَالْحَامِلِ، وَالْمُرْضِعِ الصَّوْمَ، أَوِ الصِّيَامَ"، وَاللَّهِ لَقَدْ قَالَهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِلْتَاهُمَا، أَوْ إِحْدَاهُمَا، فَيَا لَهْفَ نَفْسِي، فَهَلَّا كُنْتُ طَعِمْتُ مِنْ طَعَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ بنی عبدالاشہل کے اور علی بن محمد کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی عبداللہ بن کعب کے ایک شخص نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوار ہمارے اوپر حملہ آور ہوئے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ دوپہر کا کھانا تناول فرما رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب آ جاؤ اور کھاؤ میں نے کہا: میں روزے سے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹھو میں تمہیں روزے کے سلسلے میں بتاتا ہوں اللہ تعالیٰ نے مسافر سے آدھی نماز معاف کر دی ہے، اور مسافر، حاملہ اور مرضعہ (دودھ پلانے والی) سے روزہ معاف کر دیا ہے، قسم اللہ کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دونوں باتیں فرمائیں، یا ایک بات فرمائی، اب میں اپنے اوپر افسوس کرتا ہوں کہ میں نے آپ کے کھانے میں سے کیوں نہیں کھایا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1667]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، یہ صحابی قبیلہ بنو عبدالاشہل کی شاخ بنو عبداللہ بن کعب سے ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھڑ سوار دستے نے ہمارے قبیلے پر حملہ کیا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھانا کھا رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آ جاؤ، کھانا کھا لو۔ میں نے کہا: میرا روزہ ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹھ جاؤ! میں تمہیں روزے کی بات بتاؤں، اللہ تعالیٰ نے مسافر کو آدھی نماز معاف کر دی ہے، اور مسافر، حاملہ اور دودھ پلانے والی کو روزہ یا روزے معاف کر دیے ہیں۔ اللہ کی قسم! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دونوں لفظ فرمائے یا ان میں سے ایک لفظ فرمایا، مجھے اپنے آپ پر افسوس ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانے میں شریک نہ ہوا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1667]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الصوم 43 (2408)، سنن الترمذی/الصوم 21 (715)، سنن النسائی/الصوم 28 (2276)، 34 (1317)، (تحفة الأشراف: 1732)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/347، 5/29) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اگر ان کے روزہ رکھنے سے پیٹ کے بچہ کو یا دودھ پینے والے بچے کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو وہ روزہ نہ رکھیں، اور بعد میں ان کی قضا کریں۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں