سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. بَابُ: مَا جَاءَ فِي الإِفْطَارِ لِلْحَامِلِ وَالْمُرْضِعِ
باب: حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کے روزہ نہ رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1668
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحُبْلَى الَّتِي تَخَافُ عَلَى نَفْسِهَا أَنْ تُفْطِرَ، وَلِلْمُرْضِعِ الَّتِي تَخَافُ عَلَى وَلَدِهَا".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاملہ کو جسے اپنی جان کا ڈر ہو، اور دودھ پلانے والی عورت کو جسے اپنے بچے کا ڈر ہو، رخصت دی کہ وہ دونوں روزے نہ رکھیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1668]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حاملہ کو جسے اپنی جان کا خطرہ ہو روزہ چھوڑنے کی رخصت دی ہے، اور دودھ پلانے والی اس عورت کو بھی (رخصت دی ہے) جسے اپنے بچے کے بارے میں (نقصان پہنچنے کا) خوف ہو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1668]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 540) (ضعیف جدا)» (اس کی سند میں ربیع بن بدر متروک راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
الربيع بن بدر: متروك
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 440
إسناده ضعيف جدًا
الربيع بن بدر: متروك
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 440
13. بَابُ: مَا جَاءَ فِي قَضَاءِ رَمَضَانَ
باب: رمضان کے چھوٹے ہوئے روزوں کی قضاء کا بیان۔
حدیث نمبر: 1669
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ:" إِنْ كَانَ لَيَكُونُ عَلَيَّ الصِّيَامُ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ فَمَا أَقْضِيهِ حَتَّى يَجِيءَ شَعْبَانُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے اوپر رمضان کے روزے ہوتے تھے میں ان کی قضاء نہیں کر پاتی تھی یہاں تک کہ شعبان کا مہینہ آ جاتا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1669]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میرے ذمہ رمضان کے روزے ہوتے تھے تو میں ان کی قضا نہیں کر پاتی تھی حتیٰ کہ شعبان آ جاتا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1669]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصوم 40 (1950)، صحیح مسلم/الصوم 26 (1146)، سنن ابی داود/الصوم 40 (2399)، سنن النسائی/الصیام 36 (2321)، (تحفة الأشراف: 17777)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصیام 20 (54)، مسند احمد (6/124، 179) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جب شعبان کا مہینہ آتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس مہینہ میں بہت روزے رکھتے، ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا بھی قضا کرتیں، اور قضا میں دیر کرنے کی وجہ یہ ہوتی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عائشہ رضی اللہ عنہا کی محبت بہت تھی، پہلے روزے رکھنے سے اندیشہ تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف ہو گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
حدیث نمبر: 1670
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كُنَّا نَحِيضُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَأْمُرُنَا بِقَضَاءِ الصَّوْمِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حیض آتا تھا تو آپ ہمیں روزے کی قضاء کا حکم دیتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1670]
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں رہتے ہوئے ہمیں حیض آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں روزے کی قضا کا حکم دیتے تھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1670]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطہارة 97 (130)، (تحفة الأشراف: 15974)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحیض20 (321)، صحیح مسلم/الحیض 15 (335)، سنن ابی داود/الطہارة 105 (263)، سنن النسائی/الحیض 17 (382)، الصیام 36 (2320)، مسند احمد (6/32، 97، 120) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
14. بَابُ: مَا جَاءَ فِي كَفَّارَةِ مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ
باب: رمضان کا کوئی روزہ چھوڑنے کا کفارہ۔
حدیث نمبر: 1671
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: هَلَكْتُ، قَالَ:" وَمَا أَهْلَكَكَ"، قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعْتِقْ رَقَبَةً"، قَالَ: لَا أَجِدُهَا، قَالَ:" صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ"، قَالَ: لَا أُطِيقُ، قَالَ:" أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا"، قَالَ: لَا أَجِدُ، قَالَ:" اجْلِسْ"، فَجَلَسَ فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ أُتِيَ بِمِكْتَلٍ يُدْعَى الْعَرَقَ، فَقَالَ:" اذْهَبْ فَتَصَدَّقْ بِهِ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنَّا، قَالَ:" فَانْطَلِقْ فَأَطْعِمْهُ عِيَالَكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا، اس نے عرض کیا: میں ہلاک ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کس چیز نے ہلاک کر دیا؟ اس نے کہا: میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے صحبت کر لی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ایک غلام آزاد کرو“، اس نے کہا: میرے پاس غلام آزاد کرنے کی طاقت نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا تو دو مہینے لگاتار روزے رکھو“، اس نے کہا: میں اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ“ اس نے کہا: مجھے اس کی بھی طاقت نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ“ وہ بیٹھ گیا، اسی دوران آپ کے پاس کھجور کا ایک ٹوکرا آ گیا، اس ٹوکرے کو «عرق» کہتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”جاؤ اسے صدقہ کر دو“، اس نے کہا: اللہ کے رسول! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، مدینہ کی ان دونوں سیاہ پتھریلی پہاڑیوں کے بیچ کوئی اور گھر والا ہم سے زیادہ محتاج نہیں ہے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اپنے گھر والوں کو کھلا دو“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1671]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: ”میں تباہ ہو گیا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو کیسے تباہ ہو گیا؟“ اس نے کہا: ”میں رمضان میں اپنی بیوی سے ہم بستری کر بیٹھا ہوں۔“ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک انسان (غلام یا لونڈی) آزاد کرو۔“ اس نے کہا: ”میرے پاس (غلام خریدنے کے لیے مال) نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلسل دو ماہ روزے رکھ لو۔“ اس نے کہا: ”مجھ میں اس کی طاقت نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو۔“ اس نے کہا: ”میرے پاس (اتنا مال بھی) نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ۔“ تو وہ بیٹھ گیا۔ اسی اثنا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں (کھجوروں کا) ایک ٹوکرا لایا گیا، جسے «الْعَرَقُ» ”عَرَق“ کہا جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ یہ صدقہ کر دو۔“ اس نے کہا: ”اللہ کے رسول! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق دے کر مبعوث فرمایا، مدینے میں دونوں پتھریلے علاقوں کے درمیان کوئی گھرانہ ہم سے زیادہ اس کا ضرورت مند نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اور یہ اپنے اہل و عیال کو کھلا دو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1671]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصوم 30 (1936)، الہبة 20 (2600)، النفقات 13 (5368)، الأدب 68 (6087)، 95 (6164)، کفارات الأیمان 2 (6709)، 3 (6710)، 4 (6711)، صحیح مسلم/الصوم 14 (1111)، سنن ابی داود/الصوم 37 (2390)، سنن الترمذی/الصوم 28 (724)، (تحفة الأشراف: 12275)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصیام 9 (28)، مسند احمد (2/208، 241، 273، 281، 516)، سنن الدارمی/الصوم 8 (1757) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ رمضان کا صیام قصداً توڑنے سے ظہار کا سا کفارہ لازم ہے، سبحان اللہ اس شخص کی بھی کیا قسمت تھی کہ روزے کا کفارہ بھی ساقط اور کھجور کا ٹوکرہ مفت ہاتھ آیا، علماء نے کہا ہے کہ یہ اس شخص کے ساتھ خاص تھا اگر دوسرا کوئی رمضان کا روزہ قصداً توڑے تو غلام آزاد کرے، اگر یہ نہ ہو سکے تو تو دو مہینے لگا تار روزے رکھے، اگر یہ نہ ہو سکے تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے،اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو ٹھہرا رہے جب روزے کی طاقت آ جائے یا مال ملے تو کفارہ ادا کرے، بہر حال اپنے بال بچوں کے کھلا دینے سے کفارے کا ادا ہو جانا اس شخص کے ساتھ خاص تھا، «واللہ اعلم»
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
حدیث نمبر: 1671M
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِذَلِكَ، فَقَالَ:" وَصُمْ يَوْمًا مَكَانَهُ".
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے ایسے ہی بیان کیا ہے، اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی جگہ پر ایک دن کا روزہ رکھ لو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1671M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13376، ومصباح الزجاجة: 605)، مسند احمد (2/208) (صحیح)»
حدیث نمبر: 1672
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنِ ابْنِ الْمُطَوِّسِ ، عَنْ أَبِيهِ الْمُطَوِّسِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ رُخْصَةٍ لَمْ يُجْزِهِ صِيَامُ الدَّهْرِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص رمضان کا ایک روزہ بغیر کسی رخصت کے چھوڑ دے تو اسے پورے سال کے روزے (بھی) کافی نہ ہوں گے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1672]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بغیر عذر کے رمضان کا ایک بھی روزہ چھوڑ دیا، اس کے بدلے زمانے بھر کے روزے بھی کافی نہیں ہوں گے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1672]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصوم 38 (2396)، سنن الترمذی/الصوم 27 (723)، (تحفة الأشراف: 14616)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/386، 442، 458)، سنن الدارمی/الصوم 18 (1756) (ضعیف)» (اس کے راوی ابن المطوس لین الحدیث اور والد مطوس مجہول ہیں، ملاحظہ ہو: ضعیف أبی داود: 413)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داو د (2396) ترمذي (723)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 440
إسناده ضعيف
سنن أبي داو د (2396) ترمذي (723)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 440
15. بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَنْ أَفْطَرَ نَاسِيًا
باب: روزہ میں بھول کر کھا پی لے تو اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 1673
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ خِلَاسٍ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَكَلَ نَاسِيًا وَهُوَ صَائِمٌ فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بھول کر کھا لیا اور وہ روزہ دار ہو تو اپنا روزہ پورا کر لے (توڑے نہیں) اس لیے کہ اسے اللہ تعالیٰ نے کھلایا اور پلایا ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1673]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے روزے کی حالت میں بھول کر کچھ کھا لیا، اسے چاہیے کہ اپنا روزہ پورا کرے، اسے اللہ نے کھلایا اور پلایا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1673]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصوم 26 (1933)، سنن الترمذی/الصوم 26 (722)، (تحفة الأشراف: 12303، 14479)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصوم 33 (1155)، سنن ابی داود/الصوم 39 (2398)، مسند احمد (2/395، 425، 491، 513)، سنن الدارمی/الصوم 23 (1767) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري
حدیث نمبر: 1674
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ:" أَفْطَرْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ غَيْمٍ، ثُمَّ طَلَعَتِ الشَّمْسُ"، قُلْتُ لِهِشَامٍ: أُمِرُوا بِالْقَضَاءِ، قَالَ: لَا بُدَّ مِنْ ذَلِكَ.
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک دن بدلی میں روزہ افطار کر لیا، پھر سورج نکل آیا، ابواسامہ کہتے ہیں کہ میں نے ہشام سے کہا: پھر تو لوگوں کو روزے کی قضاء کا حکم دیا گیا ہو گا؟، انہوں نے کہا: یہ تو ضروری ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1674]
حضرت اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک ابر آلود دن میں ہم نے روزہ کھول دیا (یہ سمجھے کہ سورج غروب ہو چکا ہے) لیکن پھر (بادل ہٹ گئے اور) سورج نکل آیا۔“ (ابواسامہ کہتے ہیں:) میں نے ہشام بن عروہ سے کہا: ”کیا انہیں (روزے کی) قضا کا حکم دیا گیا تھا؟“ انہوں نے کہا: ”یہ تو ضروری تھا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1674]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصوم 46 (1959)، سنن ابی داود/الصوم 23 (2359)، (تحفة الأشراف: 15749)، مسند احمد (6/346) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی قضا تو کرنا ضروری ہے ایسی حالت میں اس پر سب کا اتفاق ہے کہ جب دھوکہ سے روزہ کھول ڈالے بعد میں معلوم ہو کہ دن باقی تھا اور سورج نہیں ڈوبا تھا تو قضا لازم آئے گی، لیکن کفارہ لازم نہ ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري
16. بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّائِمِ يَقِيءُ
باب: روزہ دار قے کر دے تو اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 1675
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَعْلَى ، وَمُحَمَّدُ ابنا عبيد الطنافسي، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي مَرْزُوقٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ يُحَدِّثُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَرَجَ عَلَيْهِمْ فِي يَوْمٍ كَانَ يَصُومُهُ، فَدَعَا بِإِنَاءٍ فَشَرِبَ"، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا يَوْمٌ كُنْتَ تَصُومُهُ، قَالَ:" أَجَلْ وَلَكِنِّي قِئْتُ".
فضالہ بن عبید انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس ایک ایسے دن میں آئے جس میں آپ روزہ رکھا کرتے تھے، آپ نے ایک برتن منگوایا اور پانی پیا، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ دن تو آپ کے روزے کا ہے؟! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، لیکن آج میں نے قے کی ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1675]
حضرت فضالہ بن عبید انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے دن ان کے پاس تشریف لائے جس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پانی کا) برتن طلب فرمایا اور پی لیا۔“ ہم نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! یہ تو وہ دن ہے جس دن آپ روزہ رکھا کرتے تھے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، لیکن مجھے قے آ گئی تھی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1675]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11041، ومصباح الزجاجة: 606)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/18، 19، 21، 22) (ضعیف)» (اس میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کی ہے، نیز ابو مرزوق کا سماع فضالہ رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں ہے، اس لئے اس کی سند میں انقطاع بھی ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 1676
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سُلَيْمَانَ أَبُو الشَعْثَاءِ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ جَمِيعًا، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ ذَرَعَهُ الْقَيْءُ فَلَا قَضَاءَ عَلَيْهِ، وَمَنِ اسْتَقَاءَ فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے خود بہ خود قے آ جائے اس پر روزے کی قضاء نہیں، اور جس نے جان بوجھ کر قے کی تو اس پر روزے کی قضاء ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1676]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کو خود بخود قے آ جائے اس پر قضا نہیں، اور جو قصداً قے کرے، اس پر قضا ضروری ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1676]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «حدیث عبید اللہ عن علی قد تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14519) وحدیث عبید اللہ عن الحکم قد أخرجہ: سنن ابی داود/الصوم 32 (2380)، سنن الترمذی/الصوم 25 (720)، (تحفة الأشراف: 14542)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/498)، سنن الدارمی/الصوم 25 (1770) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (2380) ترمذي (720)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 440
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (2380) ترمذي (720)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 440