سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ: الْمُطَلَّقَةِ ثَلاَثًا هَلْ لَهَا سُكْنَى وَنَفَقَةٌ
باب: کیا تین طلاق پائی ہوئی عورت نفقہ اور رہائش کی حقدار ہے؟
حدیث نمبر: 2036
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: قَالَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ : طَلَّقَنِي زَوْجِي عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا سُكْنَى لَكِ وَلَا نَفَقَةَ".
شعبی کہتے ہیں کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ میرے شوہر نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تین طلاقیں دے دیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے نہ سکنی (رہائش) ہے، نہ نفقہ (اخراجات)“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2036]
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ”مجھے میرے خاوند نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تین طلاقیں دے دیں“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے نہ رہائش ہے نہ خرچ۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2036]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطلاق 6 (1480)، سنن الترمذی/الطلاق 5 (1180)، سنن النسائی/الطلاق 7 (3432)، (تحفة الأشراف: 18025) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اہلحدیث نے اس متفق علیہ حدیث سے دلیل لی ہے، صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ تیرے لئے نفقہ نہیں ہے مگر جب تو حاملہ ہو، جمہور کہتے ہیں کہ عمر اور عائشہ رضی اللہ عنہما نے اس حدیث کا انکار کیا، اور عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم اپنے رب کی کتاب اور نبی کی سنت ایک عورت کے قول سے نہیں چھوڑ سکتے، معلوم نہیں اس نے یاد رکھا، یا بھول گئی، اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جب یہ بات پہنچی، تو انہوں نے کہا: تمہارے درمیان اللہ کی کتاب ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ» (سورة الطلاق: 1) یہاں تک فرمایا: «لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا» (سورة الطلاق: 1) تین طلاق کے بعد کون سا امر پیدا ہو گا (یعنی رجوع کی امید نہیں تو نفقہ اور سکنی بھی واجب نہ ہو گا) اہل حدیث یہ بھی کہتے ہیں کہ امام احمد اور نسائی نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”نفقہ اور سکنی اس عورت کے لئے ہے جس سے اس کا شوہر رجوع کر سکتا ہو“ اور امام احمد کی ایک روایت میں ہے کہ جب رجوع نہ کر سکتا ہو تو نہ نفقہ ہے نہ سکنی، اس کی سند میں مجالد بن سعید ہیں ان کی متابعت بھی ہوئی ہے اور وہ ثقہ ہیں تو اس کا حدیث کو مرفوع روایت کرنا مقبول ہو گا، اور قرآن میں بہت سی آیتیں ہیں جو نفقہ اور سکنی کے وجوب پر دلالت کرتی ہیں لیکن وہ سب مطلقہ رجعی سے متعلق ہیں جیسے: «لا تُخْرِجُوهُنَّ مِن بُيُوتِهِنَّ» (سورة الطلاق: 1) اور «أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنتُم مِّن وُجْدِكُمْ» (سورة الطلاق: 6) اور «وَلِلْمُطَلَّقَاتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ» (سورة البقرة: 241) اور دلیل اس تخصیص کی فاطمہ بنت قیس کی حدیث ہے، اور یہ آیت: «لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا» (سورة الطلاق: 1) اور یہ آیت: «وَإِن كُنَّ أُولاتِ حَمْلٍ فَأَنفِقُوا عَلَيْهِنَّ حَتَّى يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ» (سورة الطلاق: 6) کیونکہ اس سے یہ نکلتا ہے کہ اگر حاملہ نہ ہوں تو ان کو خرچ دینا واجب نہیں، اور بیہقی میں جابر رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ جس حاملہ عورت کا شوہر مر جائے اس کو نفقہ نہیں ہے، اس کے بارے میں ابن حجر نے کہا کہ محفوظ یہ ہے کہ یہ موقوف ہے، اور ابو حنیفہ نے کہا کہ وفات والی کے لئے سکنی نہیں ہے وہ جہاں چاہے عدت گزارے، اور مالک رحمہ اللہ نے کہا: اس کے لئے سکنی ہے، اور شافعی کے اس باب میں دو قول ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
11. بَابُ: مُتْعَةِ الطَّلاَقِ
باب: طلاق کے وقت عورت کو کچھ دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2037
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ أَبُو الْأَشْعَثِ الْعِجْلِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ عَمْرَةَ بِنْتَ الْجَوْنِ تَعَوَّذَتْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُدْخِلَتْ عَلَيْهِ، فَقَالَ:" لَقَدْ عُذْتِ بِمُعَاذٍ، فَطَلَّقَهَا، وَأَمَرَ أُسَامَةَ، أَوْ أَنَسًا فَمَتَّعَهَا بِثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ رَازِقِيَّةٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب عمرہ بنت جون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائی گئی تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے (اللہ کی) پناہ مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے ایسی ہستی کی پناہ مانگی جس کی پناہ مانگی جاتی ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے طلاق دے دی، اور اسامہ رضی اللہ عنہ یا انس رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے اسے سفید کتان کے تین کپڑے دیئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2037]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت عمرہ بنت جون رضی اللہ عنہا کو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا (جب ان کی رخصتی ہوئی) تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ کی پناہ مانگی (یہ کہا: «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ» ”آپ سے اللہ بچائے۔“) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لَقَدْ عُذْتِ بِمَعَاذٍ» ”تو نے اس کی پناہ لی ہے جس کی پناہ لی جاتی ہے۔“ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے طلاق دے دی اور حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ یا حضرت انس رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے اسے تین سفید سوتی کپڑے دے دیے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2037]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17097، ومصباح الزجاجة: 718) (منکر)» (اسا مہ اور انس رضی اللہ عنہما کا ذکر اس حدیث میں منکر ہے، لیکن صحیح بخاری میں اس لفظ سے ثابت ہے، «فأمر أبا أ سید أن یجہزہا ویکسوہا ثوبین رازقیتین» (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابواسید کو حکم دیا کہ اس کو تیار کریں، اور دو سفید کتان کے کپڑے پہنائیں، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 7/ 146)
قال الشيخ الألباني: منكر بذكر أسامة أو أنس صحيح بلفظ فأمر أبا أسيد أن يجهزها ويكسوها ثوبين رازقيين خ
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده موضوع
عبيد بن القاسم: متروك،كذبه ابن معين،واتهمه أبو داود بالوضع (تقريب: 4389)
وحديث البخاري ھو الصحيح،انظر سنن ابن ماجه (2050) بتحقيقي
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 451
إسناده موضوع
عبيد بن القاسم: متروك،كذبه ابن معين،واتهمه أبو داود بالوضع (تقريب: 4389)
وحديث البخاري ھو الصحيح،انظر سنن ابن ماجه (2050) بتحقيقي
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 451
12. بَابُ: الرَّجُلِ يَجْحَدُ الطَّلاَقَ
باب: مرد کہے کہ اس نے طلاق نہیں دی ہے (اور بیوی اس کا دعویٰ کرتی ہو) تو اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2038
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ أَبُو حَفْصٍ التَّنِّيسِيُّ ، عَنْ زُهَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا ادَّعَتِ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ زَوْجِهَا، فَجَاءَتْ عَلَى ذَلِكَ بِشَاهِدٍ عَدْلٍ اسْتُحْلِفَ زَوْجُهَا، فَإِنْ حَلَفَ بَطَلَتْ شَهَادَةُ الشَّاهِدِ، وَإِنْ نَكَلَ، فَنُكُولُهُ بِمَنْزِلَةِ شَاهِدٍ آخَرَ وَجَازَ طَلَاقُهُ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب عورت دعویٰ کرے کہ اس کے شوہر نے اسے طلاق دے دی ہے، اور طلاق پہ ایک معتبر شخص کو گواہ لائے (اور اس کا مرد انکار کرے) تو اس کے شوہر سے قسم لی جائے گی، اگر وہ قسم کھا لے تو گواہ کی گواہی باطل ہو جائے گی، اور اگر قسم کھانے سے انکار کرے تو اس کا انکار دوسرے گواہ کے درجہ میں ہو گا، اور طلاق جائز ہو جائے گی“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2038]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب عورت خاوند سے طلاق مل جانے کا دعویٰ کرے اور ایک قابلِ اعتماد گواہ پیش کر دے تو اس کے خاوند سے قسم اٹھانے کا مطالبہ کیا جائے گا۔ اگر اس نے قسم کھا لی (کہ میں نے طلاق نہیں دی) تو گواہ کی گواہی کالعدم ہو جائے گی۔ اور اگر اس نے قسم سے انکار کیا تو اس کا انکار دوسرے گواہ کے قائم مقام ہو جائے گا اور اس کی طلاق نافذ کر دی جائے گی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2038]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8752، ومصباح الزجاجة: 719) (ضعیف)» (سند میں زہیر بن محمد ضعیف حافظہ والے راوی ہیں، اور ابن جریج مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن جريج عنعن
وعمرو بن أبي سلمة يروي بواطيل عن زهير بن محمد
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 452
إسناده ضعيف
ابن جريج عنعن
وعمرو بن أبي سلمة يروي بواطيل عن زهير بن محمد
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 452
13. بَابُ: مَنْ طَلَّقَ أَوْ نَكَحَ أَوْ رَاجَعَ لاَعِبًا
باب: ہنسی مذاق میں طلاق دینے یا نکاح کرنے یا رجوع کرنے کے احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: 2039
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَبِيبِ بْنِ أَرْدَكَ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ثَلَاثٌ جِدُّهُنَّ جِدٌّ، وَهَزْلُهُنَّ جِدٌّ النِّكَاحُ، وَالطَّلَاقُ، وَالرَّجْعَةُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین کام ہیں جو سنجیدگی سے کرنا بھی حقیقت ہے، اور مذاق کے طور پر کرنا بھی حقیقت ہے، ایک نکاح، دوسرے طلاق، تیسرے (طلاق سے) رجعت“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2039]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین چیزیں قصد و ارادے سے کی جائیں تو بھی حقیقی (شمار ہوتی) ہیں اور ہنسی مذاق میں کی جائیں تو بھی حقیقی (شمار ہوتی) ہیں: نکاح، طلاق اور رجوع۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2039]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطلاق 9 (2194)، سنن الترمذی/الطلاق 9 (1184)، (تحفة الأشراف: 14854) (حسن)» (شواہد کی بناء پر یہ حسن کے درجہ کو ہے، عبد الرحمن بن حبیب میں ضعف ہے)
وضاحت: ۱؎: یعنی ہنسی مذاق اور ٹھٹھے کے طور پر اور اس کے مقابل جِد ہے یعنی درحقیقت ایک کام کا کرنا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
14. بَابُ: مَنْ طَلَّقَ فِي نَفْسِهِ وَلَمْ يَتَكَلَّمْ بِهِ
باب: دل میں طلاق دینے اور زبان سے کچھ نہ کہنے کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2040
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، وَعَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ . ح وحَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ جَمِيعًا، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي عَمَّا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا مَا لَمْ تَعْمَلْ بِهِ أَوْ تَكَلَّمْ بِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے میری امت سے معاف کر دیا ہے جو وہ دل میں سوچتے ہیں جب تک کہ اس پہ عمل نہ کریں، یا اسے زبان سے نہ کہیں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2040]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے میری امت کے لوگوں سے وہ سب کچھ معاف کر دیا ہے جو وہ اپنے دلوں میں بات کریں، جب تک اس (خیال) کو عمل میں نہ لائیں یا (زبان سے) کلام نہ کریں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2040]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العتق 6 (2528)، الطلاق 11 (5269)، الأیمان والنذور 15 (6664)، صحیح مسلم/الإیمان 58 (127)، سنن ابی داود/الطلاق 15 (2209)، سنن الترمذی/الطلاق 8 (1183)، سنن النسائی/الطلاق 22 (3464، 3465)، (تحفة الأشراف: 12896)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/398، 425، 474، 481، 491) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: دل میں اگر طلاق کا خیال گزرے لیکن زبان سے کچھ نہ کہے تو طلاق واقع نہ ہو گی، سب امور میں یہی حکم ہے جیسے عتاق، رجوع، بیع وشراء وغیرہ میں، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ گناہ کا اگر کوئی ارادہ کرے لیکن ہاتھ پاؤں یا زبان سے اس کو نہ کرے تو لکھا نہ جائے گا، یعنی اس پر اس کی پکڑ نہ ہو گی، یہ اللہ تعالی کی اس امت پر عنایت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
15. بَابُ: طَلاَقِ الْمَعْتُوهِ وَالصَّغِيرِ وَالنَّائِمِ
باب: دیوانہ، نابالغ اور سوئے ہوئے شخص کی طلاق کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2041
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خِدَاشٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ: عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الصَّغِيرِ حَتَّى يَكْبَرَ، وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَعْقِلَ، أَوْ يُفِيقَ"، قَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي حَدِيثِهِ: وَعَنِ الْمُبْتَلَى حَتَّى يَبْرَأَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین افراد سے قلم اٹھا لیا گیا ہے: ایک تو سونے والے سے یہاں تک کہ وہ جاگے، دوسرے نابالغ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے، تیسرے پاگل اور دیوانے سے یہاں تک کہ وہ عقل و ہوش میں آ جائے“۔ ابوبکر کی روایت میں «وعن المجنون حتى يعقل» کے بجائے «وعن المبتلى حتى يبرأ» ”دیوانگی میں مبتلا شخص سے یہاں تک کہ وہ اچھا ہو جائے“ ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2041]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین افراد سے قلم اٹھا لیا گیا ہے: سوئے ہوئے سے حتی کہ وہ جاگ پڑے، بچے سے حتی کہ وہ بالغ ہو جائے اور دیوانے سے حتی کہ اس کی عقل واپس آ جائے، یا اسے (وقتی طور پر) افاقہ ہو جائے۔“ ایک روایت میں ہے: ”(ذہنی) بیماری والے سے حتی کہ وہ تندرست ہو جائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2041]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحدود 16 (4398)، سنن النسائی/الطلاق 21 (3462)، (تحفة الأشراف: 15935)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/100، 101، 144)، سنن الدارمی/الحدود 1 (2342) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ان میں سے کسی کی طلاق نہ پڑے گی، لیکن پاگل اور دیوانے میں اختلاف ہے اور اکثر کے نزدیک اس کی طلاق پڑ جائے گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (4398) نسائي (3462)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 452
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (4398) نسائي (3462)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 452
حدیث نمبر: 2042
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَنْبَأَنَا الْقَاسِمُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يُرْفَعُ الْقَلَمُ عَنِ الصَّغِيرِ، وَعَنِ الْمَجْنُونِ، وَعَنِ النَّائِمِ".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بچے، دیوانے اور سوئے ہوئے شخص سے قلم اٹھا لیا جاتا ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2042]
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بچے سے، پاگل سے اور سوئے ہوئے سے قلم اٹھا لیا جاتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2042]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10255)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحدود 1 (1423) (صحیح)» (دوسرے شواہد کے بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، اس کی سند میں القاسم بن یزید مجہول ہیں، اور ان کی ملاقات علی رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف،القاسم بن يزيد ھذا مجھول و أيضًا لم يدرك علي بن أبي طالب‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 452
إسناده ضعيف
قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف،القاسم بن يزيد ھذا مجھول و أيضًا لم يدرك علي بن أبي طالب‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 452
16. بَابُ: طَلاَقِ الْمُكْرَهِ وَالنَّاسِي
باب: زبردستی یا بھول سے دی گئی طلاق کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2043
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأَ وَالنِّسْيَانَ وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْهِ".
ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے میری امت سے بھول چوک، اور جس کام پہ تم مجبور کر دیئے جاؤ معاف کر دیا ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2043]
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے میری خاطر میری امت کو غلطی، بھول اور وہ کام معاف کر دیے ہیں جن پر انہیں مجبور کیا گیا ہو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2043]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11922) (صحیح)» (سند میں ابو بکرالہذلی ضعیف راوی ہے، لیکن حدیث شواہد کی بناء پر صحیح ہے)
وضاحت: ۱؎: جب اللہ تعالی نے اس کو معاف کیا، اور دنیا کے احکام میں معافی ہو گئی، تو جب اس نے بھولے سے طلاق دی یا مجبوری کی حالت میں تو طلاق نہ پڑے گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 2044
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي عَمَّا تُوَسْوِسُ بِهِ صُدُورُهَا مَا لَمْ تَعْمَلْ بِهِ، أَوْ تَتَكَلَّمْ بِهِ وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے میری امت سے جو ان کے دلوں میں وسوسے آتے ہیں معاف کر دیا ہے جب تک کہ اس پہ عمل نہ کریں، یا نہ بولیں، اور اسی طرح ان کاموں سے بھی انہیں معاف کر دیا ہے جس پر وہ مجبور کر دیئے جائیں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2044]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے میری امت کے ان کے دلوں میں آنے والے وسوسے معاف کر دیے ہیں، جب تک ان پر عمل نہ کریں، یا انہیں زبان سے ادا نہ کریں اور (وہ گناہ بھی معاف کر دیے ہیں) جن پر انہیں زبردستی مجبور کیا جائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2044]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظرحدیث رقم: 2040 (صحیح)» (حدیث میں «وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْهِ» کا لفظ شاذ ہے، لیکن اگلی حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما میں یہ لفظ ثابت ہے)
وضاحت: ۱؎: شیخ عبدالحق محدث رحمہ اللہ لمعات التنقیح میں فرماتے ہیں کہ ائمہ ثلاثہ نے اسی حدیث کی رو سے یہ حکم دیا ہے کہ جس پر زبردستی کی جائے اس کی طلاق اور عتاق (آزادی) نہ پڑے گی اور ہمارے مذہب (حنفی) میں قیاس کی رو سے ہزل پر طلاق اور عتاق دونوں پڑ جائے گی تو جو عقد ہزل میں نافذ ہو جاتا ہے۔ وہ اکراہ (زبردستی) میں بھی نافذ ہو جائے گا، مولانا وحید الزمان صاحب اس قول پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ افسوس ہے کہ حنفیہ نے قیاس کو حدیث پر مقدم رکھا، اور نہ صرف اس حدیث پر بلکہ ابوذر، ابوہریرہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کی احادیث پر بھی جو اوپر گزریں، اور یہاں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حنفیہ نے جو اصول بنائے ہیں کہ خبر واحد، مرسل حدیث اور ضعیف حدیث بلکہ صحابی کا قول بھی قیاس پر مقدم ہے، یہ صرف کہنے کی باتیں ہیں، سیکڑوں مسائل میں انہوں نے قیاس کو احادیث صحیحہ پر مقدم رکھا ہے، اور یقیناً یہ متاخرین حنفیہ کا فعل ہے، امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اس سے بالکل بری تھے، جیسے انہوں نے نبیذ سے وضو اور نماز میں قہقہہ سے وضو ٹوٹ جانے میں ضعیف حدیث کی وجہ سے قیاس جلی کو ترک کر دیا ہے، تو بھلا صحیح حدیث کے خلاف وہ کیونکر اپنا قیاس قائم رکھتے، اور محدثین نے باسناد مسلسل امام ابوحنیفہ سے نقل کیا ہے کہ سب سے پہلے حدیث پر عمل لازم ہے، اور میرا قول حدیث کی وجہ سے چھوڑ دینا، امام ابوحنیفہ سے منقول ہے کہ جب تک لوگ علم حدیث حاصل کرتے رہیں گے اچھے رہیں گے، اور جب حدیث چھوڑ دیں گے تو بگڑ جائیں گے، لیکن افسوس ہے کہ حنفیہ نے اس باب میں اپنے امام کی وصیت پر عمل نہیں کیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح ق دون قوله وما استكرهوا عليه فإنه شاذ وإنما صح في حديث ابن عباس
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 2045
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأَ، وَالنِّسْيَانَ، وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْهِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ نے میری امت سے بھول چوک اور زبردستی کرائے گئے کام معاف کر دیئے ہیں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2045]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے میری امت سے غلطی، بھول اور وہ گناہ معاف کر دیے ہیں جن پر انہیں زبردستی مجبور کیا گیا ہو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2045]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5905، ومصباح الزجاجة: 722) (صحیح) (ملاحظہ ہو: الإرواء: 82)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح