سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
39. بَابُ: طَاعَةِ الإِمَامِ
باب: امام کی اطاعت و فرماں برداری کا بیان۔
حدیث نمبر: 2861
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ الْحُصَيْنِ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنْ أُمِّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ مُجَدَّعٌ، فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا مَا قَادَكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ".
ام الحصین رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اگر تم پر کوئی نک کٹا حبشی غلام امیر (حاکم) بنا دیا جائے تو بھی اس کی بات سنو اور مانو، جب تک کہ وہ اللہ کی کتاب (قرآن) کے مطابق تمہاری سربراہی کرتا رہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2861]
حضرت ام حصین (بنت اسحاق) رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”اگر تم پر ایک ناک کان کٹا حبشی غلام بھی امیر مقرر کیا جائے، تو اس کی بات سنو اور تسلیم کرو جب تک تمہیں اللہ کی کتاب کے مطابق لے کر چلے۔“” [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2861]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 51 (1298)، الإمارة 8 (1838)، سنن النسائی/البیعة 26 (4197)، (تحفة الأشراف: 18311)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/69، 5/381، 6/402، 403) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2862
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّهُ انْتَهَى إِلَى الرَّبَذَةِ وَقَدْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَإِذَا عَبْدٌ يَؤُمُّهُمْ، فَقِيلَ: هَذَا أَبُو ذَرٍّ فَذَهَبَ يَتَأَخَّرُ، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ:" أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَسْمَعَ وَأُطِيعَ، وَإِنْ كَانَ عَبْدًا حَبَشِيًّا مُجَدَّعَ الْأَطْرَافِ".
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ مقام ربذہ میں پہنچے تو نماز کے لیے تکبیر کہی جا چکی تھی، تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک غلام لوگوں کی امامت کر رہا ہے، اس سے کہا گیا: یہ ابوذر رضی اللہ عنہ ہیں، یہ سن کر وہ پیچھے ہٹنے لگا تو ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے خلیل (جگری دوست) محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ وصیت کی کہ امام گرچہ اعضاء کٹا حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو میں اس کی بات سنوں اور مانوں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2862]
حضرت عبداللہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ ربذہ تشریف لائے تو نماز کی اقامت ہو چکی تھی اور ایک غلام نماز کی امامت کرا رہا تھا۔ (اسے) کہا گیا: ”یہ ابوذر رضی اللہ عنہ (آ گئے ہیں۔)“ وہ پیچھے ہٹنے لگا (تاکہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نماز پڑھائیں) تو حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت کی ہے کہ میں سنوں اور مانوں اگرچہ (حاکم) ناک کٹا حبشی غلام ہی ہو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2862]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإمارة 8 (1837)، (تحفة الأشراف: 11950)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 1256) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر حال میں مسلمانوں کی جماعت سے اتفاق کا خیال رکھنا ضروری ہے اور اگر کسی مستحب یا مسنون امر کی وجہ سے اتفاق ختم ہو جانے کا اندیشہ ہو تو جب تک یہ اندیشہ باقی رہے، اس امر مستحب یا مسنون سے باز رہ سکتے ہیں، لیکن جہاں تک ہو سکے حکمت عملی سے لوگوں کو سمجھا دینا چاہئے کہ یہ فعل مستحب اور سنت رسول ہے، اور اس کے لئے فتنہ و فساد کرنا صریح غیر ایمانی بات ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
40. بَابُ: لاَ طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ
باب: اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2863
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ عَلْقَمَةَ بْنَ مُجَزِّرٍ عَلَى بَعْثٍ وَأَنَا فِيهِمْ، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى رَأْسِ غَزَاتِهِ أَوْ كَانَ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ اسْتَأْذَنَتْهُ طَائِفَةٌ مِنَ الْجَيْشِ فَأَذِنَ لَهُمْ، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حُذَافَةَ بْنِ قَيْسٍ السَّهْمِيَّ، فَكُنْتُ فِيمَنْ غَزَا مَعَهُ فَلَمَّا كَانَ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ، أَوْقَدَ الْقَوْمُ نَارًا لِيَصْطَلُوا أَوْ لِيَصْنَعُوا عَلَيْهَا صَنِيعًا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَكَانَتْ فِيهِ دُعَابَةٌ: أَلَيْسَ لِي عَلَيْكُمُ السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ، قَالُوا: بَلَى، قَالَ: فَمَا أَنَا بِآمِرِكُمْ بِشَيْءٍ إِلَّا صَنَعْتُمُوهُ، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنِّي أَعْزِمُ عَلَيْكُمْ إِلَّا تَوَاثَبْتُمْ فِي هَذِهِ النَّارِ، فَقَامَ نَاسٌ فَتَحَجَّزُوا فَلَمَّا ظَنَّ أَنَّهُمْ وَاثِبُونَ، قَالَ: أَمْسِكُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ فَإِنَّمَا كُنْتُ أَمْزَحُ مَعَكُمْ، فَلَمَّا قَدِمْنَا ذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَمَرَكُمْ مِنْهُمْ بِمَعْصِيَةِ اللَّهِ، فَلَا تُطِيعُوهُ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علقمہ بن مجزر رضی اللہ عنہ کو ایک لشکر کا سردار بنا کر بھیجا، میں بھی اس لشکر میں تھا، جب وہ لشکر کے آخری پڑاؤ پر پہنچے یا درمیان راستے ہی میں تھے تو لشکر کی ایک جماعت نے (آگے جانے کی) اجازت مانگی، علقمہ رضی اللہ عنہ نے اجازت دے دی، اور عبداللہ بن حذافہ بن قیس سہمی رضی اللہ عنہ کو ان پر امیر مقرر کر دیا، میں بھی ان لوگوں میں تھا جنہوں نے ان کے ساتھ غزوہ کیا، ابھی وہ راستہ ہی میں تھے کہ ان لوگوں نے تاپنے یا کچھ پکانے کے لیے آگ جلائی، تو عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ (جن کے مزاج میں خوش طبعی پائی جاتی تھی) نے کہا: کیا تم پر میری بات سننا اور اطاعت کرنا واجب نہیں؟ لوگوں نے جواب دیا: کیوں نہیں؟ کہا: میں کسی کام کے کرنے کا تمہیں حکم دوں تو تم حکم بجا لاؤ گے؟ لوگوں نے جواب دیا: ہاں، کہا: میں لازمی حکم دیتا ہوں کہ تم اس آگ میں چھلانگ لگا دو، کچھ لوگ کھڑے ہو گئے اور کودنے کے لیے کمر کس لی، عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کو جب یہ گمان ہوا کہ واقعی یہ تو کود ہی جائیں گے، تو بولے: ٹھہرو، میں تم سے یونہی مذاق کر رہا تھا ۱؎۔ جب ہم لوگ واپس مدینہ آئے، لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سارا ماجرا سنایا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حکام میں جو تمہیں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم دے تو اس کی بات نہ ما نو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2863]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علقمہ بن مجزر رضی اللہ عنہ کی قیادت میں ایک لشکر روانہ فرمایا۔ میں بھی اس میں شامل تھا۔ جب وہ (لشکر) غزوے کے مقام پر پہنچا یا ابھی راستے میں تھا کہ فوج کے ایک حصے نے (دشمن پر حملہ کرنے میں پہل کرنے کے لیے آگے جانے کی) اجازت طلب کی۔ علقمہ رضی اللہ عنہ نے ان کو اجازت دے دی اور حضرت عبداللہ بن قیس سہمی رضی اللہ عنہ کو ان کا امیر مقرر کیا۔ میں ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے (عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ) کے ساتھ مل کر جنگ کی۔ ابھی وہ راستے میں ہی تھے (دشمن سے آمنا سامنا نہیں ہوا تھا) کہ (اس دستے کے) لوگوں نے سردی سے بچاؤ کے لیے یا کسی اور مقصد کے لیے آگ جلائی۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ کچھ مزاحیہ طبیعت رکھتے تھے۔ انہوں نے (ساتھیوں سے) کہا: ”کیا میرا حکم سن کر اطاعت کرنا تم پر لازم نہیں؟“ انہوں نے کہا: ”لازم ہے۔“ فرمایا: ”میں تمہیں جو بھی حکم دوں کیا تم مانو گے؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں۔“ فرمایا: ”میں تمہیں قطعی حکم دیتا ہوں کہ اس آگ میں چھلانگیں لگا دو۔“ (یہ حکم سن کر) بعض افراد کھڑے ہوئے اور چھلانگیں لگانے کو تیار ہو گئے۔ جب عبداللہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ یہ لوگ (آگ میں) کودنے والے ہیں تو فرمایا: ”رک جاؤ، میں تو تم سے مذاق کر رہا تھا۔“ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب ہم واپس (مدینہ) آئے تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گوش گزار کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان (امیروں) میں سے جو کوئی بھی تمہیں اللہ کی نافرمانی کا حکم دے اس کی اطاعت نہ کرو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2863]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4266، ومصباح الزجاجة: 1012)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/67) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: اس واقعہ سے پتہ چلاکہ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم دے تو اس کی بات ہرگز مت مانو اگرچہ وہ امام ہو یا حاکم یا خلیفہ یا بادشاہ یا رئیس یا سردار، اللہ کی اطاعت سب پر مقدم ہے، پھر جب خلاف شریعت باتوں میں امام کی اطاعت منع ہوئی تو اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے خلاف کسی مجتہد یا عالم کی اطاعت کیوں کر جائز ہو گی، اس حدیث سے تقلید کی جڑ کٹ گئی اور یہ بھی معلوم ہوا کہ جو بادشاہ یا امام شریعت کے خلاف حکم دے تو اس کی بات نہ ماننی چاہئے بلکہ اس کو شریعت کی اطاعت کے لئے مجبور کرنا چاہئے، اگر شریعت کی اطاعت قبول نہ کرے تو اگر قدرت اور طاقت ہو تو اس کو فوراً معزول کر کے دوسرے کسی پرہیزگار دین دار کو اپنا امام یا بادشاہ بنانا چاہئے، یہی اسلام کا شیوہ ہے اور یہی حکم الٰہی ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 2864
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ الطَّاعَةُ فِيمَا أَحَبَّ أَوْ كَرِهَ، إِلَّا أَنْ يُؤْمَرَ بِمَعْصِيَةٍ، فَإِذَا أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَلَا سَمْعَ وَلَا طَاعَةَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان آدمی پر (امیر اور حاکم کی) بات ماننا لازم ہے، چاہے وہ اسے پسند ہو یا ناپسند، ہاں اگر اللہ اور رسول کی نافرمانی کا حکم دیا جائے تو اس کو سننا ماننا نہیں ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2864]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان آدمی پر امیر کی اطاعت فرض ہے، خواہ دل چاہے یا نہ چاہے، سوائے اس کے کہ کسی گناہ کا حکم دیا جائے۔ جب کسی گناہ کا حکم دیا جائے تو نہ سننا ہے اور نہ ماننا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2864]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «حدیث عبد اللہ بن رجاء المکی تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7927)، وحدیث اللیث بن سعد أخرجہ: صحیح مسلم/الإمارة 8 (1839)، سنن الترمذی/الجہاد 29 (1707)، (تحفة الأشراف: 8088) وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد 108 (2955)، الأحکام 4 (7144)، سنن ابی داود/الجہاد 96 (2626)، سنن النسائی/البیعة 34 (4211)، مسند احمد (2/17، 42) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2865
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، ح وحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" سَيَلِي أُمُورَكُمْ بَعْدِي رِجَالٌ يُطْفِئُونَ السُّنَّةَ، وَيَعْمَلُونَ بِالْبِدْعَةِ، وَيُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ مَوَاقِيتِهَا"، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ أَدْرَكْتُهُمْ كَيْفَ أَفْعَلُ؟، قَالَ:" تَسْأَلُنِي يَا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ، كَيْفَ تَفْعَلُ؟ لَا طَاعَةَ لِمَنْ عَصَى اللَّهَ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ زمانہ قریب ہے کہ میرے بعد تمہارے معاملات کی باگ ڈور ایسے لوگوں کے ہاتھ میں آئے گی جو سنت کو مٹائیں گے، بدعت پر عمل پیرا ہوں گے، اور نماز کی وقت پر ادائیگی میں تاخیر کریں گے“، میں نے کہا: اللہ کے رسول! اگر میں ان کا زمانہ پاؤں تو کیا کروں؟ فرمایا: ”اے ام عبد کے بیٹے! مجھ سے پوچھ رہے ہو کہ کیا کروں؟ جو شخص اللہ کی نافرمانی کرے اس کی بات نہیں مانی جائے گی“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2865]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے بعد کچھ ایسے لوگ بھی تمہارے معاملات کے نگران (اور تمہارے حکمران) ہوں گے جو سنت کی روشنی بجھائیں گے، بدعت پر عمل پیرا ہوں گے اور نماز کو (افضل) وقت سے دیر کر کے پڑھیں گے۔“ میں نے عرض کیا: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر میں انہیں پاؤں تو کیا کروں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ام عبد کے بیٹے! مجھ سے پوچھتے ہو کہ کیا کرو گے؟ جو شخص اللہ کی نافرمانی کرے اس کی کوئی اطاعت نہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2865]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9370، ومصباح الزجاجة: 1013)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/399، 5/325، 329) (صحیح) (صحیح أبی داود: 458، و سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2/ 139)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
41. بَابُ: الْبَيْعَةِ
باب: بیعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2866
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، وَابْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ:" بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ، وَالْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ، وَالْأَثَرَةِ عَلَيْنَا، وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ، وَأَنْ نَقُولَ الْحَقَّ حَيْثُمَا كُنَّا، لَا نَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ".
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے تنگی اور فراخی، خوشی و ناخوشی، اور اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دئیے جانے کی حالت میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سننے اور اطاعت کرنے پر بیعت کی، نیز اس بات پر بیعت کی کہ حکمرانوں سے نہ جھگڑیں، اور جہاں بھی ہوں حق بات کہیں، اور اللہ کے سلسلے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2866]
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی کہ ہم (ہر حال میں) سنیں گے اور تعمیل کریں گے، مشکل میں بھی اور آسانی میں بھی، دل کی آمادگی کی حالت میں اور طبعی ناگواری کی حالت میں، اور اس وقت بھی جب ہم پر (دوسروں کو) ترجیح دی جائے، اور حکومت کے معاملات میں ہم اہل حکومت سے کشمکش نہیں کریں گے، اور ہم جہاں بھی ہوں گے سچ کہیں گے، اور اللہ (کی رضامندی کے کام) میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2866]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الفتن 2 (7056)، الأحکام 43 (7199، 7200)، صحیح مسلم/الإمارة 8 (1709)، سنن النسائی/البیعة 1 (4154، 4155)، (تحفة الأشراف: 5118)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجہاد1 (5)، مسند احمد (4/314، 318، 319، 321، 325) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی جس بات میں اللہ کی خوشی ہو یعنی ثواب اور عبادت کے کام میں کسی کی بدگوئی سے ہم کو ڈر نہ ہو، یہ مومنین کاملین کی شان ہے کہ وہ سنت پر چلنے میں کسی سے نہیں ڈرتے اور نہ ہی جاہلوں اور اہل بدعت کے غلط پروپگنڈہ سے متاثر ہوتے ہیں، جاہل اور بدعتی حدیث سے محبت رکھنے اور ان پر عمل کرنے والوں کو برے القاب اور خطابات سے پکارتے اور انہیں طرح طرح سے بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جب یہ محبان رسول نماز میں زورسے آمین، رفع یدین اور امام کے پیچھے سورہ فاتحہ کی قرأت کرتے ہیں، تو جاہل مقلد اور بدعتی ان کو لا مذہب کہتے ہیں اور جب شرک کے کاموں سے پرہیز کرتے ہیں، اور غیر اللہ کے پکارنے یا ماسوا اللہ کی عبادت کرنے یا مدد مانگنے سے خود رکتے ہیں اور دوسروں کو روکتے ہیں، تو یہ لوگ انہیں وہابی کے نام سے بدنام کرتے ہیں، اور جب یہ محبان رسول، اللہ تعالیٰ کی صفات جیسے استواء علی العرش، ضحک، (ہنسنا) نزول (آسمان دنیا پر اترنا) وغیرہ وغیرہ ثابت کرتے ہیں تو یہ انہیں مشبہہ کہتے ہیں، اور جب ید (ہاتھ)، وجہ (چہرہ)، عین (آنکھ)، قدم، صوت (آواز) جیسی صفات کا اثبات کرتے ہیں تو وہ انہیں مجسمہ کا لقب دیتے ہیں، لیکن ان سب تہمتوں سے حق پرستوں کو کوئی ڈر نہیں، اور وہ جاہلوں اور بدعتیوں کی عیب جوئی، اور گالی گلوج اور غلط پروپگنڈے سے ڈرتے اور گھبراتے نہیں بلکہ بلا کھٹکے احادیث صحیحہ پر عمل کرتے ہیں، اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبر و ثبات پر اور شرع کی اطاعت اور حاکم کی اطاعت پر بیعت لی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 2867
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ التَّنُوخِيُّ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَبِيبُ الْأَمِينُ أَمَّا هُوَ إِلَيَّ فَحَبِيبٌ، وَأَمَّا هُوَ عِنْدِي فَأَمِينٌ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَةً أَوْ ثَمَانِيَةً أَوْ تِسْعَةً، فَقَالَ:" أَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللَّهِ؟"، فَبَسَطْنَا أَيْدِيَنَا، فَقَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا قَدْ بَايَعْنَاكَ، فَعَلَامَ نُبَايِعُكَ؟، فَقَالَ:" أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ، وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُوا الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ، وَتَسْمَعُوا وَتُطِيعُوا وَأَسَرَّ كَلِمَةً خُفْيَةً، وَلَا تَسْأَلُوا النَّاسَ شَيْئًا"، قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ بَعْضَ أُولَئِكَ النَّفَرِ يَسْقُطُ سَوْطُهُ، فَلَا يَسْأَلُ أَحَدًا يُنَاوِلُهُ إِيَّاهُ.
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہم سات یا آٹھ یا نو آدمی تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم لوگ اللہ کے رسول سے بیعت نہیں کرو گے“؟ ہم نے بیعت کے لیے اپنے ہاتھ پھیلا دئیے (بیعت کرنے کے بعد) ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! ہم آپ سے بیعت تو کر چکے لیکن یہ کس بات پر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس بات پر کہ اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، پانچ وقت کی نماز کا اہتمام کرو، حکم سنو اور مانو“، پھر ایک بات چپکے سے فرمائی: ”لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کرو“، راوی کا بیان ہے کہ (اس بات کا ان لوگوں پر اتنا اثر ہوا کہ) میں نے ان میں سے بعض کو دیکھا کہ اس کا کوڑا بھی گر جاتا تو کسی سے یہ نہ کہتا کہ کوڑا اٹھا کر مجھے دو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2867]
حضرت ابو مسلم (عبداللہ بن ثوبان خولانی رحمہ اللہ) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”مجھے پیارے دیانت دار صحابی حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی، وہ مجھے پیارے تھے اور میری نظر میں دیانت دار تھے، انہوں نے فرمایا: ”ہم سات یا آٹھ یا نو افراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اللہ کے رسول کی بیعت نہیں کرو گے؟“ ہم نے ہاتھ بڑھا دیے، ایک صاحب نے عرض کیا: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم آپ کی بیعت کر چکے ہیں، (اب) کس بات پر بیعت کریں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس بات پر کہ اللہ کی عبادت کرو گے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرو گے، پانچوں نمازیں قائم کرو گے اور حکم سن کر مانو گے۔“ پھر آہستہ سے ایک بات فرمائی: ”اور لوگوں سے کچھ نہیں مانگو گے۔““”حضرت ابو مسلم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”میں نے ان میں سے ایک صاحب کو دیکھا کہ (سواری پر بیٹھے ہوئے) ان کا کوڑا (ہاتھ سے چھوٹ کر) گر پڑتا تھا تو کسی کو یہ نہیں کہتے تھے کہ یہ کوڑا پکڑا دیں، (خود سواری سے اتر کر اٹھا لیتے تھے)۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2867]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الزکاة 35 (1043)، سنن ابی داود/الزکاة 27 (1642)، سنن النسائی/الصلاة 5 (461)، (تحفة الأشراف: 10919) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ بات عادت میں داخل ہے کہ جب آدمی گھوڑے یا کسی دوسری سواری پر ہو اور اس کا کوڑا گر پڑے تو کسی سے بھی کہتا ہے کہ بھائی ذرا میرا کوڑا اٹھا دو، اور ہر ایک راہ چلتا یہ کام کر دیتا ہے، بلکہ اگر کوئی نہ کرے تو لوگ اس کو برا کہیں گے، مگر ان لوگوں نے جن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت میں یہ فرمایا تھا کہ کسی سے کچھ مت مانگنا، اتنا کام بھی اپنا کسی اور سے کرانا گوارا نہ کیا، یہ بہت بڑا مرتبہ ہے کہ آدمی سوا اپنے مالک کے کسی سے درخواست نہ کرے، نہ کسی سے کچھ مانگے اور چونکہ یہ کام بہت مشکل تھا اور ہر ایک شخص اس کو نہیں کر سکتا تھا، لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آہستہ سے اس کو فرمایا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2868
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَتَّابٍ مَوْلَى هُرْمُزَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ:" بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، فَقَالَ: فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سننے اور اطاعت کرنے پر بیعت کی، تو آپ نے فرمایا: ”جہاں تک تم سے ہو سکے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2868]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم نے «السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ» (حکم کو توجہ سے سن کر پوری طرح اطاعت کرنے) پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ» ”تم سے جس قدر ممکن ہو۔“” [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2868]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1087)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/119، 172، 185) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: سبحان اللہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ماں باپ سے زیادہ اپنی امت پر مہربان تھے، آپصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاں تک تم سے ہو سکے“ تاکہ وہ لوگ جھوٹے نہ ہوں جب کسی ایسی بات کا ان کو حکم دیا جائے جو ان کی طاقت سے خارج ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 2869
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: جَاءَ عَبْدٌ فَبَايَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْهِجْرَةِ، وَلَمْ يَشْعُرِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ عَبْدٌ، فَجَاءَ سَيِّدُهُ يُرِيدُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِعْنِيهِ"، فَاشْتَرَاهُ بِعَبْدَيْنِ أَسْوَدَيْنِ، ثُمَّ لَمْ يُبَايِعْ أَحَدًا بَعْدَ ذَلِكَ، حَتَّى يَسْأَلَهُ: أَعَبْدٌ هُوَ؟.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک غلام آیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت پر بیعت کر لی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے غلام ہونے کا معلوم ہی نہ ہوا، چنانچہ اس کا مالک جب اسے لینے کے مقصد سے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ غلام مجھے بیچ دو“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دو کالے غلاموں کے عوض خرید لیا، پھر اس کے بعد کسی سے بھی یہ معلوم کئے بغیر بیعت نہیں کرتے کہ وہ غلام تو نہیں ہے؟۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2869]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ایک غلام نے حاضر ہو کر ہجرت کی بیعت کر لی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم نہ تھا کہ وہ غلام ہے، (بعد میں) اس کا آقا اسے لینے آ گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (فرمایا): ”یہ (غلام) میرے ہاتھ فروخت کر دو۔“ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سیاہ فام غلاموں کے عوض اسے خرید لیا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ پوچھے بغیر کسی سے بیعت نہیں لیتے تھے کہ کیا وہ غلام ہے؟“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2869]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساقاة 23 (1602)، سنن ابی داود/البیوع 17 (3358مختصرا)، سنن الترمذی/البیوع 22 (1239)، السیر 36 (1596)، سنن النسائی/البیعة 21 (4189)، البیوع 64 (4625)، (تحفة الأشراف: 2904)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/349، 372) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
42. بَابُ: الْوَفَاءِ بِالْبَيْعَةِ
باب: بیعت پوری کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2870
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ: رَجُلٌ عَلَى فَضْلِ مَاءٍ بِالْفَلَاةِ يَمْنَعُهُ مِنَ ابْنِ السَّبِيلِ، وَرَجُلٌ بَايَعَ رَجُلًا بِسِلْعَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ فَحَلَفَ بِاللَّهِ لَأَخَذَهَا بِكَذَا وَكَذَا فَصَدَّقَهُ وَهُوَ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ، وَرَجُلٌ بَايَعَ إِمَامًا لَا يُبَايِعُهُ إِلَّا لِدُنْيَا فَإِنْ أَعْطَاهُ مِنْهَا وَفَى لَهُ، وَإِنْ لَمْ يُعْطِهِ مِنْهَا لَمْ يَفِ لَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تین آدمیوں سے نہ بات کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا، نہ ہی انہیں پاک کرے گا، اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے: ایک وہ آدمی جس کے پاس چٹیل میدان میں فالتو پانی ہو اور مسافر کو پانی لینے سے منع کرے، دوسرا وہ شخص جس نے عصر کے بعد کسی کے ہاتھ سامان بیچا اور اللہ کی قسم کھا کر کہا کہ اس نے یہ چیز اتنے اتنے میں لی ہے، پھر خریدار نے اس کی بات کا یقین کر لیا، حالانکہ اس نے غلط بیانی سے کام لیا تھا، تیسرا وہ آدمی جس نے کسی امام کے ہاتھ پر بیعت کی، اور مقصد محض دنیاوی فائدہ تھا، چنانچہ اگر اس نے اسے کچھ دیا تو بیعت کو پورا کیا، اور اگر نہیں دیا تو پورا نہیں کیا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2870]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین آدمی ہیں جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کلام نہیں کرے گا، نہ ان کی طرف (نظر رحمت سے) دیکھے گا، نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ (ایک) وہ آدمی جو بیابان میں اپنی ضرورت سے زائد پانی پر قابض ہے، مسافر کو نہیں لینے دیتا۔ (دوسرا) وہ آدمی جس نے عصر کے بعد کسی آدمی کو کوئی چیز بیچی (بھاؤ طے کرتے وقت) اللہ کی قسم کھا کر کہ اس نے یہ چیز اتنے کی لی تھی، گاہک نے اسے سچا سمجھ لیا، حالانکہ وہ سچا نہ تھا۔ (تیسرا) وہ آدمی جس نے کسی امام (خلیفہ یا اس کے نائب) کی بیعت صرف دنیا کے (حصول کے) لیے کی۔ اگر اس (امام) نے کچھ مال دے دیا تو وفادار رہا اور اگر کچھ نہ دیا تو اس نے بھی وفا نہ کی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2870]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الشہادات 22 (2672)، الأحکام 48 (7212)، صحیح مسلم/الإیمان 46 (108)، البیوع 62 (1566)، سنن الترمذی/السیر 35 (1595)، سنن النسائی/البیوع 6 (4467)، (تحفة الأشراف: 12522)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/253، 480)، (یہ حدیث مکرر ہے دیکھئے: 2207) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح