🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
39. باب : طاعة الإمام
باب: امام کی اطاعت و فرماں برداری کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2862
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّهُ انْتَهَى إِلَى الرَّبَذَةِ وَقَدْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَإِذَا عَبْدٌ يَؤُمُّهُمْ، فَقِيلَ: هَذَا أَبُو ذَرٍّ فَذَهَبَ يَتَأَخَّرُ، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ:" أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَسْمَعَ وَأُطِيعَ، وَإِنْ كَانَ عَبْدًا حَبَشِيًّا مُجَدَّعَ الْأَطْرَافِ".
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ مقام ربذہ میں پہنچے تو نماز کے لیے تکبیر کہی جا چکی تھی، تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک غلام لوگوں کی امامت کر رہا ہے، اس سے کہا گیا: یہ ابوذر رضی اللہ عنہ ہیں، یہ سن کر وہ پیچھے ہٹنے لگا تو ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے خلیل (جگری دوست) محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ وصیت کی کہ امام گرچہ اعضاء کٹا حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو میں اس کی بات سنوں اور مانوں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2862]
حضرت عبداللہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ ربذہ تشریف لائے تو نماز کی اقامت ہو چکی تھی اور ایک غلام نماز کی امامت کرا رہا تھا۔ (اسے) کہا گیا: یہ ابوذر رضی اللہ عنہ (آ گئے ہیں۔) وہ پیچھے ہٹنے لگا (تاکہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نماز پڑھائیں) تو حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت کی ہے کہ میں سنوں اور مانوں اگرچہ (حاکم) ناک کٹا حبشی غلام ہی ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2862]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإمارة 8 (1837)، (تحفة الأشراف: 11950)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 1256) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر حال میں مسلمانوں کی جماعت سے اتفاق کا خیال رکھنا ضروری ہے اور اگر کسی مستحب یا مسنون امر کی وجہ سے اتفاق ختم ہو جانے کا اندیشہ ہو تو جب تک یہ اندیشہ باقی رہے، اس امر مستحب یا مسنون سے باز رہ سکتے ہیں، لیکن جہاں تک ہو سکے حکمت عملی سے لوگوں کو سمجھا دینا چاہئے کہ یہ فعل مستحب اور سنت رسول ہے، اور اس کے لئے فتنہ و فساد کرنا صریح غیر ایمانی بات ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو ذر الغفاري، أبو ذرصحابي
👤←👥عبد الله بن الصامت الغفاري، أبو النضر
Newعبد الله بن الصامت الغفاري ← أبو ذر الغفاري
ثقة
👤←👥عبد الملك بن حبيب الأسدي، أبو عمران
Newعبد الملك بن حبيب الأسدي ← عبد الله بن الصامت الغفاري
ثقة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← عبد الملك بن حبيب الأسدي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥محمد بن جعفر الهذلي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن جعفر الهذلي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← محمد بن جعفر الهذلي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
4755
أسمع وأطيع وإن كان عبدا مجدع الأطراف
سنن ابن ماجه
2862
أوصاني خليلي أن أسمع وأطيع وإن كان عبدا حبشيا مجدع الأطراف
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2862 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2862
اردو حاشہ:
فوائد  و مسائل:

(1)
مسلمان حاکم کی اطاعت ضروری ہے۔

(2)
اسلامی حکومت میں عہدہ اہلیت وقابلیت کی بنیاد پر دیا جاتا ہے رنگ ونسل یا ظاہری حسن جمال کی بنیاد پر نہیں۔

(3)
حکمرانوں کا فرض ہے کہ اسلامی سلطنت کا نظم ونسق احکام شریعت کے مطابق چلائیں ورنہ خلاف شریعت حکم تسلیم کرنے سے انکار کیا جاسکتا ہے۔
اور اسے بغاوت قرار نہیں دیا جائے گا۔

(4)
عالم کا احترام کرنا چاہیے۔

(5)
  عالم کے احترام میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اس کی موجودگی میں کم درجے کا عالم نماز نہ پڑھائے۔

(6)
عالم کی اجازت سے کم درجے کا شخص بھی نماز پڑھا سکتا ہے۔

(7)
حاکم اپنے عہدے کی بناء پر نماز کا امام بننے کا حق رکھتا ہے۔

(8)
مسلمانوں میں اجتماعی ڈسپلن قائم رکھنا بہت ضروری ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2862]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4755
حضرت ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے خلیل (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) نے تلقین فرمائی کہ میں سنوں اور اطاعت کروں خواہ امیر اعضاء کٹا غلام ہو۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4755]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
مُجَدَّعَ الأَطرَاف:
جس کے اعضاء کاٹ دئیے گئے ہوں،
مقصود ہے ایک حقیر اور بدصورت غلام بھی اگر حاکم ہو اور صحیح کام کا حکم دے تو اس کی اطاعت بھی واجب ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4755]

Sunan Ibn Majah Hadith 2862 in Urdu