سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. بَابُ: دُخُولِ الْحَرَمِ
باب: حرم میں داخل ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2939
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ صَبِيحٍ ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ حَسَّانَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَتِ الْأَنْبِيَاءُ تَدْخُلُ الْحَرَمَ مُشَاةً حُفَاةً، وَيَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ، وَيَقْضُونَ الْمَنَاسِكَ حُفَاةً مُشَاةً".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انبیاء کرام (علیہ السلام) حرم میں پیدل اور ننگے پاؤں داخل ہوتے تھے، اور بیت اللہ کا طواف کرتے تھے، اور حج کے سارے ارکان ننگے پاؤں اور پیدل چل کر ادا کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2939]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”انبیاء کرام چلتے ہوئے (سواری کے بغیر) اور ننگے پاؤں حرم میں داخل ہوا کرتے تھے اور (اسی طرح) بیت اللہ کا طواف کرتے تھے۔ وہ تمام مناسک (اور اعمال) پیدل اور ننگے پاؤں ادا کرتے تھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2939]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5957، ومصباح الزجاجة: 1035) (ضعیف)» (سند میں مبارک بن حسان منکر الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
مبارك بن حسان: لين الحديث
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 483
إسناده ضعيف
مبارك بن حسان: لين الحديث
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 483
26. بَابُ: دُخُولِ مَكَّةَ
باب: مکہ میں داخل ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2940
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْخُلُ مَكَّةَ مِنْ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا، وَإِذَا خَرَجَ خَرَجَ مِنْ الثَّنِيَّةِ السُّفْلَى".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں «ثنية العليا» ”بلند گھاٹی“ سے داخل ہوتے، اور جب نکلتے تو «ثنية السفلى» ”نشیبی گھاٹی“ سے نکلتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2940]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”مکہ میں ثنیہ علیا سے داخل ہوتے تھے اور جب (مکہ شریف سے) باہر نکلتے تو ثنیہ سفلیٰ سے باہر نکلتے تھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2940]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8114)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 40 (1576)، 41 (1577)، صحیح مسلم/الحج 37 (1257)، سنن ابی داود/الحج 45 (1866)، سنن النسائی/الحج 105 (2868)، مسند احمد (2/14، 19)، سنن الدارمی/المناسک 81 (1969) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «ثنية العليا» اور «ثنية السفلى» یہ دونوں مکہ کی دو گھاٹیاں ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2941
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْعُمَرِيُّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ نَهَارًا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں دن میں داخل ہوئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2941]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں دن کے وقت داخل ہوئے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2941]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الحج 31 (854)، (تحفة الأشراف: 7723)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 89 (484)، الحج 148 (1573)، 149 (1574)، صحیح مسلم/الحج 38 (1259)، سنن النسائی/الحج 103 (2865)، مسند احمد (2/59، 78)، سنن الدارمی/المناسک 80 (1968) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 2942
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيْنَ تَنْزِلُ غَدًا؟ وَذَلِكَ فِي حَجَّتِهِ، قَالَ:" وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مَنْزِلًا؟"، ثُمَّ قَالَ:" نَحْنُ نَازِلُونَ غَدًا بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ، يَعْنِي الْمُحَصَّبَ، حَيْثُ قَاسَمَتْ قُرَيْشٌ عَلَى الْكُفْرِ"، وَذَلِكَ أَنَّ بَنِي كِنَانَةَ حَالَفَتْ قُرَيْشًا عَلَى بَنِي هَاشِمٍ، أَنْ لَا يُنَاكِحُوهُمْ وَلَا يُبَايِعُوهُمْ، قَالَ مَعْمَرٌ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَالْخَيْفُ الْوَادِي.
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کل (مکہ میں) کہاں اتریں گے؟ یہ بات آپ کے حج کے دوران کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا عقیل نے ہمارے لیے کوئی گھر باقی چھوڑا ہے“؟ ۱؎ پھر فرمایا: ”ہم کل «خیف بنی کنانہ» یعنی محصب میں اتریں گے، جہاں قریش نے کفر پر قسم کھائی تھی، اور وہ یہ تھی کہ بنی کنانہ نے قریش سے عہد کیا تھا کہ وہ بنی ہاشم سے نہ تو شادی بیاہ کریں گے اور نہ ان سے تجارتی لین دین“ ۲؎۔ زہری کہتے ہیں کہ «خیف» وادی کو کہتے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2942]
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کل آپ کہاں قیام فرمائیں گے؟“ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے دوران کا واقعہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا عقیل نے رہنے کے لیے کوئی گھر چھوڑا ہے؟“ پھر فرمایا: ”ہم کل بنو کنانہ کے خیف (وادی محصب) میں ٹھہریں گے جہاں قریش نے کفر پر قائم رہنے کے لیے آپس میں قسمیں کھائی تھیں۔“ یہ اس حدیث کی طرف اشارہ ہے جب بنو کنانہ نے قریش سے قسمیں کھا کر بنو ہاشم کے خلاف معاہدہ کیا تھا کہ بنو ہاشم سے رشتہ ناتا نہیں کریں گے اور ان سے خرید و فروخت بھی نہیں کریں گے۔ امام زہری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”خیف“ وادی کو کہتے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2942]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 44 (1588)، الجہاد180 (3058)، مناقب الأنصار 39 (4282)، المغازي 48 (4282)، التوحید 31 (7479)، صحیح مسلم/الحج 80 (1351)، سنن ابی داود/الفرائض 10 (2909، 10 29)، (تحفة الأشراف: 114)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الفرائض 15 (2107)، موطا امام مالک/الفرائض 13 (10)، مسند احمد (2/237، سنن الدارمی/الفرائض 29 (3026) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ابوطالب کی ساری جائداد اور مکان عقیل نے بیچ کھائی، ایک مکان بھی باقی نہ رکھا کہ ہم اس میں اتریں جب علی اور جعفر رضی اللہ عنہما اور ابوطالب کے بیٹے مسلمان ہو گئے اور انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کو ہجرت کی تو عقیل اور طالب دو بھائی جو ابھی تک کافر تھے مکہ میں رہ گئے، اور ابوطالب کی کل جائداد انہوں نے لے لی، اور جعفر رضی اللہ عنہ کو اس میں سے کچھ حصہ نہ ملا کیونکہ وہ دونوں مسلمان ہو گئے اور مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوتا۔
۲؎: یہ جگہ سیرت کی کتابوں میں شعب أبی طالب سے مشہور ہے، جہاں پر ابو طالب بنی ہاشم اور بنی مطلب کو لے کر چھپ گئے تھے، اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی پناہ میں لے لیا تھا، اور قریش کے کافروں نے عہد نامہ لکھا تھا کہ ہم بنی ہاشم اور بنی مطلب سے نہ شادی بیاہ کریں گے نہ اور کوئی معاملہ، اور اس کا قصہ طویل ہے اور سیرت کی کتابوںمیں بالتفصیل مذکور ہے۔
۲؎: یہ جگہ سیرت کی کتابوں میں شعب أبی طالب سے مشہور ہے، جہاں پر ابو طالب بنی ہاشم اور بنی مطلب کو لے کر چھپ گئے تھے، اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی پناہ میں لے لیا تھا، اور قریش کے کافروں نے عہد نامہ لکھا تھا کہ ہم بنی ہاشم اور بنی مطلب سے نہ شادی بیاہ کریں گے نہ اور کوئی معاملہ، اور اس کا قصہ طویل ہے اور سیرت کی کتابوںمیں بالتفصیل مذکور ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
27. بَابُ: اسْتِلاَمِ الْحَجَرِ
باب: حجر اسود کے استلام (چومنے یا چھونے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 2943
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ، قَالَ: رَأَيْتُ الْأُصَيْلِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يُقَبِّلُ الْحَجَرَ، وَيَقُولُ:" إِنِّي لَأُقَبِّلُكَ وَإِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ، مَا قَبَّلْتُكَ".
عبداللہ بن سرجس کہتے ہیں کہ میں نے «اصیلع» یعنی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ حجر اسود کو چوم رہے تھے، اور کہہ رہے تھے: میں تجھے چوم رہا ہوں حالانکہ مجھے معلوم ہے کہ تو ایک پتھر ہے، جو نہ نقصان پہنچا سکتا ہے نہ فائدہ، اور میں نے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے چومتے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے نہ چومتا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2943]
حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے کم بالوں والے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ حجرِ اسود کو بوسہ دیتے اور فرماتے تھے: ”میں تجھے چوم رہا ہوں، حالانکہ میں جانتا ہوں کہ تو محض ایک پتھر ہے، نہ کسی کو نقصان پہنچا سکتا ہے، نہ نفع دے سکتا ہے۔ اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے چومتے نہ دیکھا ہوتا تو تجھے نہ چومتا۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2943]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 41 (1270)، (تحفة الأشراف: 10486)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 50 (1597)، 57 (1605)، 60 (1610)، سنن ابی داود/الحج 47 (1873)، سنن الترمذی/الحج 37 (860)، سنن النسائی/الحج 147 (2940)، موطا امام مالک/الحج 36 (115)، مسند احمد (1/21، 26، 34، 35، 39، 46، 51، 53، 54)، سنن الدارمی/المناسک 42 (1906) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «اصیلع» : «اصلع» کی تصغیر ہے جس کے سر کے اگلے حصے کے بال جھڑ گئے ہوں اس کو «اصلع» کہتے ہیں۔
۲؎: کیونکہ پتھر کا چومنا اسلامی شریعت میں جائز نہیں ہے، اس لیے کہ اس میں کفار کی مشابہت ہے، کیونکہ وہ بتوں تصویروں اور پتھروں کو چومتے ہیں، اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل کے سبب سے حجر اسود کا چومنا خاص کیا گیا ہے، عمر رضی اللہ عنہ نے یہ کہا کہ اگر میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے چومتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تم کو نہ چومتا، تو پھر دوسری قبروں اور مزاروں کا چومنا کیوں کر جائز ہو گا، عمر رضی اللہ عنہ نے یہ اس لیے فرمایا کہ جاہلیت اور شرک کا زمانہ قریب گزرا تھا، ایسا نہ ہو کہ بعض کچے مسلمان حجر اسود کے چومنے سے دھوکہ کھائیں، اور حجر اسود کو یہ سمجھیں کہ اس میں کچھ قدرت یا اختیار ہے جیسے مشرک بتوں کے بارے میں خیال کرتے تھے، آپ نے بیان کر دیا کہ حجر اسود ایک پتھر ہے اس میں کچھ اختیار اور قدرت نہیں اور اس کا چومنا محض رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدار اور پیروی کے لئے ہے۔
۲؎: کیونکہ پتھر کا چومنا اسلامی شریعت میں جائز نہیں ہے، اس لیے کہ اس میں کفار کی مشابہت ہے، کیونکہ وہ بتوں تصویروں اور پتھروں کو چومتے ہیں، اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل کے سبب سے حجر اسود کا چومنا خاص کیا گیا ہے، عمر رضی اللہ عنہ نے یہ کہا کہ اگر میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے چومتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تم کو نہ چومتا، تو پھر دوسری قبروں اور مزاروں کا چومنا کیوں کر جائز ہو گا، عمر رضی اللہ عنہ نے یہ اس لیے فرمایا کہ جاہلیت اور شرک کا زمانہ قریب گزرا تھا، ایسا نہ ہو کہ بعض کچے مسلمان حجر اسود کے چومنے سے دھوکہ کھائیں، اور حجر اسود کو یہ سمجھیں کہ اس میں کچھ قدرت یا اختیار ہے جیسے مشرک بتوں کے بارے میں خیال کرتے تھے، آپ نے بیان کر دیا کہ حجر اسود ایک پتھر ہے اس میں کچھ اختیار اور قدرت نہیں اور اس کا چومنا محض رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدار اور پیروی کے لئے ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2944
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ الرَّازِيُّ ، عَنْ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيَأْتِيَنَّ هَذَا الْحَجَرُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَهُ عَيْنَانِ يُبْصِرُ بِهِمَا، وَلِسَانٌ يَنْطِقُ بِهِ، يَشْهَدُ عَلَى مَنْ يَسْتَلِمُهُ بِحَقٍّ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ پتھر قیامت کے دن آئے گا اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے وہ دیکھ رہا ہو گا، ایک زبان ہو گی جس سے وہ بول رہا ہو گا، اور گواہی دے گا اس شخص کے حق میں جس نے حق کے ساتھ اسے چھوا ہو گا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2944]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن یہ پتھر (حجر اسود) ضرور اس حال میں حاضر ہو گا کہ اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے وہ دیکھے گا، اور اس کی زبان ہو گی جس سے وہ بولے گا۔ جس نے اسے حق کے ساتھ چوما ہو گا اس کے حق میں گواہی دے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2944]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الحج 113 (961)، (تحفة الأشراف: 5536)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/247، 266، 291، 307، 371)، سنن الدارمی/المناسک 26 (1881) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ایمان کے ساتھ، اس سے وہ مشرک نکل گئے جنہوں نے شرک کی حالت میں حجر اسود کو چوما ان کے لیے اس کا چومنا کچھ مفید نہ ہوگا اس لیے کہ کفر کے ساتھ کوئی بھی عبادت نفع بخش اور مفید نہیں ہوتی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
حدیث نمبر: 2945
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا خَالِي يَعْلَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" اسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجَرَ، ثُمَّ وَضَعَ شَفَتَيْهِ عَلَيْهِ يَبْكِي طَوِيلًا، ثُمَّ الْتَفَتَ، فَإِذَا هُوَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يَبْكِي، فَقَالَ يَا عُمَرُ: هَاهُنَا تُسْكَبُ الْعَبَرَاتُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کی طرف رخ کیا، پھر اپنے دونوں ہونٹ اس پر رکھ دئیے، اور دیر تک روتے رہے، پھر ایک طرف نظر اٹھائی تو دیکھا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی رو رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمر! اس جگہ آنسو بہائے جاتے ہیں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2945]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجرِ اسود کی طرف آئے، پھر اس پر اپنے مبارک ہونٹ رکھ کر دیر تک روتے رہے، پھر مڑ کر دیکھا تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روتے نظر آئے۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمر! اس مقام پر آنسو بہائے جاتے ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2945]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8441، ومصباح الزجاجة: 1036) (ضعیف جدا)» (سند میں محمد بن عون خراسانی ضعیف الحدیث و منکر الحدیث ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 1111)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
محمد بن عون: متروك (تقريب: 6203)
والسند ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 483
إسناده ضعيف جدًا
محمد بن عون: متروك (تقريب: 6203)
والسند ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 483
حدیث نمبر: 2946
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُ مِنْ أَرْكَانِ الْبَيْتِ، إِلَّا الرُّكْنَ الْأَسْوَدَ وَالَّذِي يَلِيهِ مِنْ نَحْوِ دُورِ الْجُمَحِيِّينَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بجز حجر اسود اور اس کے جو اس سے قریب ہے یعنی رکن یمانی جو بنی جمح کے محلے کی طرف ہے بیت اللہ کے کسی کونے کا استلام نہیں فرماتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2946]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے کونوں میں سے صرف حجر اسود کا اور بنو جمح کے گھروں کی طرف واقع حجر اسود سے متصل کونے (رکن یمانی) کا استلام کرتے تھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2946]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 40 (1268)، سنن النسائی/الحج 157 (2952)، (تحفة الأشراف: 6988)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 59 (1611)، سنن ابی داود/الحج 48 (1874)، مسند احمد (2/86، 114، 115)، سنن الدارمی/المناسک 25 (1880) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: طواف کرنے والے کو اختیار ہے کہ تین باتوں میں سے جو ممکن ہو سکے کرے ہر ایک کافی ہے، حجر اسود کا چومنا، یا اس پر ہاتھ رکھ کر ہاتھ کو چومنا، یا لکڑی اور چھڑی سے اس کی طرف اشارہ کرنا، اور اگر بھیڑ بھاڑ کی وجہ سے چومنا یا چھونا مشکل ہو تو صرف ہاتھ سے اشارہ کرنا ہی کافی ہے، اور ہر صورت میں لوگوں کو ایذاء دینا اور دھکیلنا منع ہے جیسے کہ اس زمانے میں قوی اور طاقتور لوگ کرتے ہیں، یا عورتوں کے درمیان گھسنا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
28. بَابُ: مَنِ اسْتَلَمَ الرُّكْنَ بِمِحْجَنِهِ
باب: چھڑی سے حجر اسود کے استلام (چھونے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 2947
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، قَالَتْ:" لَمَّا اطْمَأَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ، طَافَ عَلَى بَعِيرهُ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنٍ بِيَدِهِ، ثُمَّ دَخَلَ الْكَعْبَةَ فَوَجَدَ فِيهَا حَمَامَةَ عَيْدَانٍ فَكَسَرَهَا، ثُمَّ قَامَ عَلَى بَاب: الْكَعْبَةِ فَرَمَى بِهَا، وَأَنَا أَنْظُرُهُ".
صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب فتح مکہ کے سال اطمینان ہوا تو آپ نے اپنے اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا، آپ حجر اسود کا استلام ایک لکڑی سے کر رہے تھے جو آپ کے ہاتھ میں تھی، پھر کعبہ میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ اس میں لکڑی کی بنی ہوئی کبوتر کی مورت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے توڑ دیا، پھر کعبہ کے دروازے پر کھڑے ہوئے اور اسے پھینک دیا، اس وقت میں آپ کو دیکھ رہی تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2947]
حضرت صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”فتحِ مکہ کے سال جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (فتح سے متعلق معاملات نپٹا کر) اطمینان حاصل ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا۔ (اس دوران میں) نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ میں موجود چھڑی کے ساتھ استلام کرتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ شریف کے اندر داخل ہوئے تو اس کے اندر کھجور کی لکڑی سے بنی ہوئی ایک کبوتری نظر آئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے توڑ دیا، پھر کعبہ کے دروازے پر کھڑے ہو کر اسے (کعبہ سے باہر) پھینک دیا، اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (کبوتری کا بت کعبہ سے باہر پھینکتے) دیکھ رہی تھی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2947]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحج 49 (1878)، (تحفة الأشراف: 15909) (حسن)» (سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے حسن ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: 1641)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 2948
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى بَعِيرٍ، يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنٍ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا، اور آپ ایک چھڑی سے حجر اسود کا استلام کر رہے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2948]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”حجۃ الوداع کے دوران میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا اور چھڑی سے حجرِ اسود کا استلام کرتے رہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2948]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 58 (1607)، 61 (1612)، 62 (1613)، 74 (1632)، الطلاق 24 (5293)، صحیح مسلم/الحج 42 (1272)، سنن النسائی/المساجد 21 (714)، الحج 159 (2957)، 160 (2958)، (تحفة الأشراف: 5837)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الحج 49 (1877)، سنن الترمذی/الحج 40 (865)، مسند احمد (1/214، 237، 248، 304)، سنن الدارمی/المناسک 26 (1881) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه