سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. بَابُ: الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الطَّوَافِ
باب: طواف کے بعد کی دو رکعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2959
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْعَبْدِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ" قَالَ وَكِيعٌ: يَعْنِي عِنْدَ الْمَقَامِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّفَا.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آ کر بیت اللہ کا سات بار طواف کیا، پھر طواف کی دونوں رکعتیں پڑھیں۔ وکیع کہتے ہیں: یعنی مقام ابراہیم کے پاس، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑی کی طرف نکلے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2959]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کے گرد سات چکر لگائے، پھر دو رکعتیں پڑھیں۔“ (امام) وکیع نے فرمایا: ”مقام ابراہیم کے پاس۔“ پھر ”(مسجد سے) نکل کر صفا کی طرف تشریف لے گئے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2959]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 104 (1691)، صحیح مسلم/الحج 28 (1234)، سنن النسائی/الحج 142 (2933)، (تحفة الأشراف: 7352)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الحج 24 (1805)، موطا امام مالک/الحج 37 (116)، مسند احمد (2/15، 85، 152، 3/309)، سنن الدارمی/المناسک 84 (1972) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 2960
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ " أَنَّهُ لَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ طَوَافِ الْبَيْتِ، أَتَى مَقَامَ إِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا مَقَامُ أَبِينَا إِبْرَاهِيمَ الَّذِي قَالَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ: وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125"، قَالَ الْوَلِيدُ: فَقُلْتُ لِمَالِكٍ: هَكَذَا قَرَأَهَا وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125، قَالَ: نَعَمْ.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے طواف سے فارغ ہوئے تو مقام ابراہیم کے پاس آئے، عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ ہمارے باپ ابراہیم کی جگہ ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» ”مقام ابراھیم کو نماز کی جگہ بناؤ“، ولید کہتے ہیں کہ میں نے مالک سے کہا: کیا اس کو اسی طرح (بکسر خاء) صیغہ امر کے ساتھ پڑھا؟ انہوں نے کہا: ہاں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2960]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ کے طواف سے فارغ ہوئے تو مقام ابراہیم پر تشریف لے گئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اللہ کے رسول! یہ ہمارے جد امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مقام ہے جس کے بارے میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ﴾ [سورة البقرة: 125] ”ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کی جگہ بناؤ۔“““ ولید بن مسلم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ”میں نے امام مالک رحمہ اللہ سے دریافت کیا: ”کیا (آپ کے استاد جعفر بن محمد رحمہ اللہ نے) یہ آیت اسی طرح پڑھی تھی ﴿وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ﴾ [سورة البقرة: 125] ؟“ انہوں نے فرمایا: ”ہاں۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2960]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحروف 1 (3969)، سنن الترمذی/الحج 38 (856)، سنن النسائی/الحج 163 (2964)، (تحفة الأشراف: 2595)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج 15 (1263)، سنن الدارمی/المناسک 34 (1892) (صحیح)» (یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: 1008)
وضاحت: ۱؎: یہی قراءت مشہور ہے، اور بعضوں نے «واتخَذوا» خاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے، یہ صیغہ ماضی یعنی انہوں نے مقام ابراہیم کو مصلیٰ بنایا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
34. بَابُ: الْمَرِيضِ يَطُوفُ رَاكِبًا
باب: بیمار کے سواری پر طواف کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2961
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ابْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ " أَنَّهَا مَرِضَتْ فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ تَطُوفَ مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَهِيَ رَاكِبَةٌ، قَالَتْ: فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَى الْبَيْتِ، وَهُوَ يَقْرَأُ: وَالطُّورِ {1} وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ {2} سورة الطور آية 1-2"، قَالَ ابْن مَاجَةَ: هَذَا حَدِيثُ أَبِي بَكْرٍ.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ بیمار ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لوگوں کے پیچھے سوار ہو کر طواف کرنے کا حکم دیا، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ «والطور وكتاب مسطور» کی قرات فرما رہے تھے۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: یہ ابوبکر بن ابی شیبہ کی روایت ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2961]
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ بیمار ہو گئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ وہ سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے سے طواف کر لیں۔ انھوں نے فرمایا: ”میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز ادا کر رہے تھے اور یہ آیات تلاوت فرما رہے تھے: ﴿وَالطُّورِ * وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ﴾ [سورة الطور: 1-2] ”قسم ہے طور کی اور لکھی ہوئی کتاب کی۔“”امام ابن ماجہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ”یہ ابوبکر بن شیبہ کی حدیث ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2961]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 78 (464)، الحج 64 (1619)، 71 (1626)، 74 (1633)، تفسیرالطور 1 (4853)، صحیح مسلم/الحج 42 (1276)، سنن ابی داود/الحج 49 (1882)، سنن النسائی/الحج 138 (2928)، (تحفة الأشراف: 18262)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 40 (123)، مسند احمد (6/290، 319) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بیماری اور کمزوری کی حالت میں سوار ہو کر طواف کرنا درست ہے، آج کل بھیڑ بھاڑ کی وجہ سے سواری پر طواف کرنا بڑا مشکل بلکہ ناممکن ہے، اس لیے اس کی جگہ پرمخصوص لوگ حجاج کو چارپائی پر بٹھا کرطواف کراتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
35. بَابُ: الْمُلْتَزَمِ
باب: ملتزم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2962
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُثَنَّى بْنَ الصَّبَّاحِ ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ:" طُفْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، فَلَمَّا فَرَغْنَا مِنَ السَّبْعِ رَكَعْنَا فِي دُبُرِ الْكَعْبَةِ، فَقُلْتُ: أَلَا نَتَعَوَّذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ، قَالَ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ، قَالَ: ثُمَّ مَضَى، فَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ، ثُمَّ قَامَ بَيْنَ الْحَجَرِ وَالْبَاب: فَأَلْصَقَ صَدْرَهُ وَيَدَيْهِ وَخَدَّهُ إِلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ".
شعیب کہتے ہیں کہ میں نے (اپنے دادا) عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کے ساتھ طواف کیا، جب ہم سات پھیروں سے فارغ ہوئے، تو ہم نے کعبہ کے پیچھے طواف کی دو رکعتیں ادا کیں، میں نے کہا: کیا ہم جہنم سے اللہ تعالیٰ کی پناہ نہ چاہیں؟ انہوں نے کہا: میں جہنم سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں، شعیب کہتے ہیں: پھر عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے چل کر حجر اسود کا استلام کیا، پھر حجر اسود اور باب کعبہ کے درمیان کھڑے ہوئے، اور اپنا سینہ، دونوں ہاتھ اور چہرے کو اس سے چمٹا دیا، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2962]
حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد (حضرت شعیب بن محمد) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے دادا (حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ) کے بارے میں بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”میں نے اپنے دادا حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے ساتھ طواف کیا۔ جب ہم سات چکروں سے فارغ ہوئے تو ہم نے کعبہ کے پیچھے نماز ادا کی۔ میں نے کہا: کیا آپ آگ سے اللہ کی پناہ نہیں مانگتے؟ انہوں نے کہا: «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ» ”میں (جہنم کی) آگ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔“ پھر وہ (حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ) چلے اور حجرِ اسود کو بوسہ دیا۔ پھر حجرِ اسود اور (کعبہ کے) دروازے کے درمیان کھڑے ہو کر اپنا سینہ، اپنے ہاتھ اور رخسار کعبہ سے لگا دیا۔ پھر فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2962]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/المناسک 55 (1899)، (تحفة الأشراف: 8776) (حسن)» (سند میں مثنی بن الصباح ضعیف ہیں، لیکن متابعت اور شواہد کی وجہ سے یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2138)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (1899)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 484
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (1899)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 484
36. بَابُ: الْحَائِضُ تَقْضِي الْمَنَاسِكَ إِلاَّ الطَّوَافَ
باب: حائضہ سوائے طواف کے حج کے سارے مناسک ادا کرے۔
حدیث نمبر: 2963
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَرَى إِلَّا الْحَجَّ، فَلَمَّا كُنَّا بِسَرِفَ أَوْ قَرِيبًا مِنْ سَرِفَ حِضْتُ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ:" مَا لَكِ، أَنَفِسْتِ؟"، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" إِنَّ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، فَاقْضِي الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا، غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ"، قَالَتْ: وَضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ بِالْبَقَرِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہمارے پیش نظر صرف حج کرنا تھا، جب ہم مقام سرف میں تھے یا سرف کے قریب پہنچے تو مجھے حیض آ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، میں رو رہی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کیا ہوا؟ کیا حیض آ گیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو ایسی چیز ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آدم زادیوں پر لکھ دیا ہے، تم حج کے سارے اعمال ادا کرو، البتہ خانہ کعبہ کا طواف نہ کرنا“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2963]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے تو ہمارا ارادہ صرف حج کا تھا۔ جب ہم سرف (مقام) پر یا سرف کے قریب پہنچے تو مجھے حیض آگیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں رو رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے کیا ہوا؟ کیا حیض آ گیا؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو ایسی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی بیٹیوں پر لکھی ہے، تو حج کے سارے اعمال ادا کر مگر بیت اللہ کا طواف نہیں کرنا۔““ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے ذبح کی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2963]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحیض 1 (294)، الأضاحي 3 (5548)، 10 (5559)، صحیح مسلم/الحج 17 (1211)، سنن ابی داود/الحج 23 (1778)، سنن النسائی/الحج 58 (2764)، (تحفة الأشراف: 17482)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 74 (223)، مسند احمد (3/394)، سنن الدارمی/المناسک 62 (1945) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
37. بَابُ: الإِفْرَادِ بِالْحَجِّ
باب: حج افراد کا بیان۔
حدیث نمبر: 2964
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَأَبُو مُصْعَبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَفْرَدَ الْحَجَّ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج افراد کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2964]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حجِ مفرد ادا کیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2964]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 17 (1211)، سنن ابی داود/الحج 23 (1777)، سنن الترمذی/الحج 10 (820)، سنن النسائی/الحج 48 (2716)، (تحفة الأشراف: 17517)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 11 (37)، مسند احمد (6/243)، سنن الدارمی/المناسک 16 (1853) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2965
حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ ، وَكَانَ يَتِيمًا فِي حِجْرِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَفْرَدَ الْحَجَّ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج افراد کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2965]
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”حج مفرد ادا کیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2965]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 34 (1562)، المغازي 78 (4408)، صحیح مسلم/الحج 17 (1211)، سنن ابی داود/المناسک 23 (1779، 1780)، سنن النسائی/المناسک 48 (2717)، (تحفة الأشراف: 16389)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/36، 104، 107، 243) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 2966
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، وَحَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَفْرَدَ الْحَجَّ".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج افراد کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2966]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج مفرد ادا کیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2966]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2638، ومصباح الزجاجة: 1040) (صحیح) (ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے یہ ثابت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج قران کیا، نیز ملاحظہ ہو: تراجع الألبانی: رقم: 371)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2967
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ أَفْرَدُوا الْحَجَّ".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم نے حج افراد کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2967]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم نے حج مفرد ادا کیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2967]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3068، ومصباح الزجاجة: 1041) (ضعیف الإسناد)» (سند میں قاسم بن عبد اللہ متروک راوی ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
38. بَابُ: مَنْ قَرَنَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ
باب: حج قِران کا بیان۔
حدیث نمبر: 2968
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:" لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحِجَّةً".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ کی طرف نکلے، میں نے آپ کو حج اور عمرہ کا ایک ساتھ تلبیہ پکارتے ہوئے سنا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2968]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: «لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحِجَّةً» ”عمرہ اور حج کے لیے حاضر ہوں“۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2968]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 34 (1251)، سنن ابی داود/الحج 24 (1795)، سنن النسائی/الحج 49 (2730)، (تحفة الأشراف: 1653)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 11 (821)، مسند احمد (3/99، 282)، سنن الدارمی/المناسک 78 (1965) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم