🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. بَابُ: التَّلْبِيَةِ
باب: لبیک پکارنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2920
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي تَلْبِيَتِهِ:" لَبَّيْكَ إِلَهَ الْحَقِّ لَبَّيْكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے تلبیہ میں یوں کہا: «لبيك إله الحق لبيك» حاضر ہوں، اے معبود برحق، حاضر ہوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2920]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے تلبیے میں فرمایا: «لَبَّيْكَ إِلٰهَ الْحَقِّ، لَبَّيْكَ» حاضر ہوں، اے سچے معبود! میں حاضر ہوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2920]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ: (تحفة الأشراف: 13941، ومصباح الزجاجة: 1030)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الحج 54 (2753)، مسند احمد (2/341، 352، 476) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2921
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا مِنْ مُلَبٍّ يُلَبِّي، إِلَّا لَبَّى مَا عَنْ يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ، مِنْ حَجَرٍ أَوْ شَجَرٍ أَوْ مَدَرٍ، حَتَّى تَنْقَطِعَ الْأَرْضُ مِنْ هَهُنَا، وَهَهُنَا".
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی تلبیہ کہنے والا تلبیہ کہتا ہے، تو اس کے دائیں اور بائیں دونوں جانب سے درخت، پتھر اور ڈھیلے سبھی تلبیہ کہتے ہیں، دونوں جانب کی زمین کے آخری سروں تک۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2921]
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بھی تلبیہ کہنے والا «لَبَّيْكَ» پکارتا ہے، اس کے دائیں بائیں دونوں طرف زمین کی انتہا تک ہر پتھر، درخت اور اینٹ (ہر چیز) «لَبَّيْكَ» پکارتی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2921]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الحج 14 (828)، (تحفة الأشراف: 4735) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. بَابُ: رَفْعِ الصَّوْتِ بِالتَّلْبِيَةِ
باب: بلند آواز سے لبیک کہنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2922
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، حَدَّثَهُ عَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَمَرَنِي، أَنْ آمُرَ أَصْحَابِي أَنْ يَرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالْإِهْلَالِ".
سائب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور مجھے حکم دیا کہ میں اپنے صحابہ سے کہوں کہ تلبیہ بلند آواز سے پکاریں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2922]
حضرت خلاد بن سائب رضی اللہ عنہ نے اپنے والد (حضرت سائب بن خلاد بن سوید رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حضرت جبریل علیہ السلام نے میرے پاس آ کر مجھے کہا کہ میں اپنے ساتھیوں کو حکم دوں کہ «لَبَّيْكَ» لبیک بلند آواز سے پکاریں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2922]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحج 27 (1814)، سنن الترمذی/الحج 15 (829)، سنن النسائی/الحج 55 (2754)، (تحفة الأشراف: 3788)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 10 (34)، مسند احمد (4/55، 56)، سنن الدارمی/المناسک 14 (1850) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ حکم مردوں کے لیے ہے، عورت بھی تلبیہ پکارے گی لیکن دھیمی آواز سے، حدیث کے مطابق طریقہ یہ ہے کہ حاجی غسل کرے،پھر خوشبو لگائے اور احرام کی چادریں اوڑھے، اور لبیک پکار کر کہے، اگر صرف حج کی نیت ہو تو «لبیک بحجۃ» کہے، اور اگر عمرے کی نیت ہو تو «لبیک عمرۃ» کہے، اگر دونوں کی ایک ساتھ نیت ہو یعنی حج قران کی تو یوں کہے «لبیک بحجۃ وعمرۃ» ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2923
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ ، عَنْ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ ، عَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" جَاءَنِي جِبْرِيلُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، مُرْ أَصْحَابَكَ فَلْيَرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالتَّلْبِيَةِ، فَإِنَّهَا مِنْ شِعَارِ الْحَجِّ".
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبرائیل آئے اور بولے: اے محمد! اپنے صحابہ سے کہو کہ وہ تلبیہ باآواز بلند پکاریں، اس لیے کہ یہ حج کا شعار ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2923]
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبریل علیہ السلام تشریف لائے اور فرمایا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنے ساتھیوں کو حکم دیجیے کہ «لَبَّيْكَ» لبیک بلند آواز سے پکارا کریں کیونکہ یہ حج کے شعار (امتیازی اعمال) میں شامل ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2923]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3750، و مصباح الزجاجة: 1031)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/192) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے لبیک پکارنے کا وجوب نکلتا ہے، «شعار» کے لفظ سے واجب ہونا ضروری نہیں، بہت سی چیزیں سنت ہیں، پر شعائر میں سے ہیں جیسے اذان وغیرہ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2924
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَرْبُوعٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ، أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟، قَالَ: الْعَجُّ وَالثَّجُّ".
ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: سب سے بہتر عمل کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «عج» اور «ثج» ، یعنی باآواز بلند تلبیہ پکارنا، اور خون بہانا (یعنی قربانی کرنا)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2924]
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا: کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الْعَجُّ وَالثَّجُّ» آواز بلند کرنا (لبیک بلند آواز سے کہنا) اور خون بہانا (قربانی کرنا)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2924]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الحج 14 (827)، (تحفة الأشراف: 6608)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/المناسک 8 (1838) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (827)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 483

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. بَابُ: الظِّلاَلِ لِلْمُحْرِمِ
باب: محرم کے لیے سایہ کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2925
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ مُحْرِمٍ يَضْحَى لِلَّهِ يَوْمَهُ، يُلَبِّي حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ، إِلَّا غَابَتْ بِذُنُوبِهِ، فَعَادَ كَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: محرم (احرام باندھنے والا) جو چاشت کے وقت سے سورج ڈوبنے تک سارے دن اللہ کے لیے (دھوپ میں) لبیک کہتا رہے، تو سورج اس کے گناہوں کو ساتھ لے کر ڈوبے گا، اور وہ ایسا (بےگناہ) ہو جائے گا گویا اس کی ماں نے جنم دیا ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2925]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو احرام والا اللہ کی رضا کے لیے دن بھر دھوپ میں «لَبَّيْكَ» میں حاضر ہوں پکارتا ہے حتیٰ کہ سورج غروب ہو جائے تو سورج اس کے گناہوں سمیت غروب ہوتا ہے (جس طرح سورج غروب ہو گیا، اس طرح اس کے گناہ ختم ہو گئے۔) اور وہ اس طرح (گناہوں سے پاک صاف) ہو جاتا ہے جیسے وہ اپنی ماں سے پیدا ہوا تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2925]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2362، ومصباح الزجاجة: 1032)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/273) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں عاصم بن عبید اللہ اور عاصم بن عمر بن حفص ضعیف راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 5018)۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف (ح 2928،انظر ص 342،371)
عاصم بن عمر: ضعيف
وعاصم بن عبيد اللّٰه: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 483

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. بَابُ: الطِّيبِ عِنْدَ الإِحْرَامِ
باب: احرام کے وقت خوشبو لگانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2926
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ جَمِيعًا، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ:" طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِحْرَامِهِ، قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ، وَلِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ"، قَالَ سُفْيَانُ: بِيَدَيَّ هَاتَيْنِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام کے وقت احرام باندھنے سے قبل خوشبو لگائی، اور احرام کھولنے کے وقت بھی طواف افاضہ کرنے سے پہلے۔ سفیان کی روایت میں یہ بھی ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: خوشبو میں نے اپنے انہی دونوں ہاتھوں سے لگائی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2926]
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے احرام باندھنے سے پہلے خوشبو لگائی اور احرام کھولنے کے وقت طوافِ افاضہ کرنے سے پہلے بھی۔ سفیان کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: (میں نے) اپنے دونوں ہاتھوں سے (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگائی۔) [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2926]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «حدیث أبي بکر بن أبي شیبة أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 18 (1539)، 143 (1754)، اللباس 73 (5922)، 74 (5923)، 79 (5928)، 81 (5930)، (تحفة الأشراف: 17485)، وحدیث محمد بن رمح تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17514)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج 7 (1189)، سنن ابی داود/الحج 11 (1745)، سنن الترمذی/الحج 77 (917)، سنن النسائی/الحج 41 (2687)، موطا امام مالک/الحج 7 (17)، مسند احمد (6/98، 106، 130، 162، 181، 186، 192، 200، 207، 209، 214، 216، 237، 238، 244، 245، 258)، سنن الدارمی/المناسک 10 (1844) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2927
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ، فِي مَفَارِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُلَبِّي".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں، اور آپ لبیک کہہ رہے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2927]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «لَبَّيْكَ» پکار رہے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2927]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 7 (1190)، (تحفة الأشراف: 17645)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/109، 207) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2928
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَأَنِّي أَرَى وَبِيصَ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ثَلَاثَةٍ، وَهُوَ مُحْرِمٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ گویا میں تین دن بعد تک خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں، اور آپ احرام کی حالت میں ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2928]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں جب کہ آپ کو احرام باندھے تین دن ہو چکے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2928]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الحج 41 (2695)، 42 (6296، 2704)، (تحفة الأشراف: 16026)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الغسل 14 (267)، الحج 18 (1539)، اللباس 70 (5918)، صحیح مسلم/الحج 7 (1190)، بدون ذکر'' بعد ثلاثة ''، مسند احمد (6/200، 207، 209، 214، 216، 237، 238، 244، 245، 258) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
سنده ضعيف
نسائي (2704)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 535

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. بَابُ: مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ
باب: محرم کے لباس کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2929
حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَلْبَسُ الْقُمُصَ، وَلَا الْعَمَائِمَ، وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ، وَلَا الْبَرَانِسَ، وَلَا الْخِفَافَ، إِلَّا أَنْ لَا يَجِدَ نَعْلَيْنِ، فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ، وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ، وَلَا تَلْبَسُوا مِنَ الثِّيَابِ شَيْئًا مَسَّهُ الزَّعْفَرَانُ، أَوِ الْوَرْسُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: محرم کون سے کپڑے پہنے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: قمیص، عمامے (پگڑیاں)، پاجامے، ٹوپیاں، اور موزے نہ پہنے، البتہ اگر جوتے میسر نہ ہوں تو موزے پہن لے، اور انہیں کاٹ کر ٹخنوں سے نیچے کر لے، اور کوئی ایسا لباس بھی نہ پہنے جس میں زعفران یا ورس لگی ہو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2929]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: محرم کون سے کپڑے پہن سکتا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قمیض، پگڑی، شلوار، برنس اور موزے نہ پہنے، البتہ اگر کسی کو جوتے دستیاب نہ ہوں تو موزے پہن لے اور انہیں ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ لے (تاکہ جوتوں کی طرح بن جائیں) اور ایسا کوئی کپڑا نہ پہنو جسے زعفران یا ورس لگی ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2929]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العلم 53 (134)، الصلاة 9 (366)، الحج 21 (1542)، جزاء الصید 13 (1838)، 15 (1842)، اللباس 8 (5794)، 13 (5803)، 15 (5806)، صحیح مسلم/الحج 1 (1177)، سنن ابی داود/المناسک 32 (1824)، سنن الترمذی/الحج 18 (833)، سنن النسائی/الحج 30 (2670)، (تحفة الأشراف: 8325)، موطا امام مالک/الحج 4 (9)، مسند احمد (2/4، 8، 22، 29، 32، 34، 41، 54، 56، 58، 63، 65، 177، 119)، سنن الدارمی/المناسک 9 (1839) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: امام احمد کے نزدیک موزوں کا کاٹنا ضروری نہیں، دیگر ائمہ کے نزدیک کاٹنا ضروری ہے، دلیل ان کی یہی حدیث ہے، اور امام احمد کی دلیل ابن عباس رضی اللہ عنہما کی وہ حدیث ہے جس میں کاٹنے کا ذکر نہیں ہے، جب کہ وہ میدان عرفات کے موقع کی حدیث ہے، یعنی ابن عمر رضی اللہ عنہما کی اس حدیث کی ناسخ ہے، اور ورس اور زعفران سے منع اس لیے کیا گیا کہ اس میں خوشبو ہوتی ہے، یہی حکم ہر اس رنگ کا ہے جس میں خوشبو ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں