🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. بَابُ: مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الأَضَاحِيِّ
باب: کن جانوروں کی قربانی مستحب ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3129
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ ، قَالَ:" خَرَجْتُ مَعَ أَبِي سَعِيدٍ الزُّرَقِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى شِرَاءِ الضَّحَايَا، قَالَ يُونُسُ: فَأَشَارَ أَبُو سَعِيدٍ إِلَى كَبْشٍ أَدْغَمَ لَيْسَ بِالْمُرْتَفِعِ، وَلَا الْمُتَّضِعِ فِي جِسْمِهِ، فَقَالَ لِي: اشْتَرِ لِي هَذَا، كَأَنَّهُ شَبَّهَهُ بِكَبْشِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
یونس بن میسرہ بن حلبس کہتے ہیں کہ میں صحابی رسول ابوسعید زرقی رضی اللہ عنہ کے ساتھ قربانی کے جانور خریدنے گیا، تو آپ نے ایک ایسے مینڈھے کی نشاندہی کی جس کی ٹھوڑی اور کانوں میں کچھ سیاہی تھی، اور وہ جسمانی طور پر نہ زیادہ بلند تھا، نہ ہی زیادہ پست، انہوں نے مجھ سے کہا: میرے لیے اسے خرید لو، شاید انہوں نے اس جانور کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مینڈھے کے مشابہ سمجھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كِتَابُ الْأَضَاحِي/حدیث: 3129]
حضرت یونس بن میسرہ بن حلبس رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت ابوسعید زرقی رضی اللہ عنہ کے ساتھ قربانی کے جانور خریدنے گیا۔ یونس بن میسرہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے ایک ایسے مینڈھے کی طرف اشارہ کیا جس کے کانوں اور گلے کا کچھ حصہ سیاہ تھا، وہ جسمانی طور پر نہ زیادہ اونچا تھا نہ زیادہ پست تھا۔ انہوں نے فرمایا: میرے لیے یہ خرید لو۔ گویا انہوں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مینڈھے کے مشابہ قرار دیا۔ [سنن ابن ماجه/كِتَابُ الْأَضَاحِي/حدیث: 3129]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12046، ومصباح الزجاجة: 1085) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: سبحان اللہ، صحابہ کرام کا اتباع کہ قربانی کا جانور خریدنے میں بھی ویسا ہی جانور ڈھونڈھتے جیسا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3130
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَائِذٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ سُلَيْمَ بْنَ عَامِرٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" خَيْرُ الْكَفَنِ الْحُلَّةُ، وَخَيْرُ الضَّحَايَا الْكَبْشُ الْأَقْرَنُ".
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہترین کفن جوڑا (تہبند اور چادر) ہے، اور بہترین قربانی سینگ دار مینڈھا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كِتَابُ الْأَضَاحِي/حدیث: 3130]
حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہترین کفن وہ ہے جو ایک رنگ کی دو چادروں پر مشتمل ہو اور بہترین قربانی سینگوں والا مینڈھا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كِتَابُ الْأَضَاحِي/حدیث: 3130]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الأضاحي 18 (1517)، (تحفة الأشراف: 4866) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں ابوعائذ ضعیف راوی ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1517) ابن ماجه (3128)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 489

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ: عَنْ كَمْ تُجْزِئُ الْبَدَنَةُ وَالْبَقَرَةُ
باب: اونٹ اور گائے کی قربانی کتنے لوگوں کی طرف سے کافی ہو گی؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3131
حَدَّثَنَا هَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، أَنْبَأَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، عَنْ عِلْبَاءَ بْنِ أَحْمَرَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَحَضَرَ الْأَضْحَى، فَاشْتَرَكْنَا فِي الْجَزُورِ عَنْ عَشَرَةٍ، وَالْبَقَرَةِ عَنْ سَبْعَةٍ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ اتنے میں عید الاضحی آ گئی، تو ہم اونٹ میں دس آدمی، اور گائے میں سات آدمی شریک ہو گئے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كِتَابُ الْأَضَاحِي/حدیث: 3131]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم لوگ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے کہ عیدالاضحی آ گئی، چنانچہ ہم نے دس دس آدمیوں کی طرف سے ایک ایک اونٹ اور سات سات آدمیوں کی طرف سے ایک ایک گائے مشترکہ طور پر ذبح کی۔ [سنن ابن ماجه/كِتَابُ الْأَضَاحِي/حدیث: 3131]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الحج 66 (905)، الأضاحي 8 (1502)، سنن النسائی/الضحایا 14 (4397)، (تحفة الأشراف: 6158)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/275) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، لیکن اور علماء کے نزدیک اونٹ میں بھی سات آدمیوں سے زیادہ شریک نہیں ہو سکتے اور ان کی دلیل جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے جو آگے آتی ہے، وہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث منسوخ ہے اور جابر رضی اللہ عنہ کی ناسخ، اور نسخ کی کوئی دلیل نہیں ہے،جب تک کہ تاریخ معلوم نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3132
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" نَحَرْنَا بِالْحُدَيْبِيَةِ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ، وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حدیبیہ میں اونٹ کو سات آدمیوں کی طرف سے نحر کیا، اور گائے کو بھی سات آدمیوں کی طرف سے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كِتَابُ الْأَضَاحِي/حدیث: 3132]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم نے حدیبیہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک اونٹ سات افراد کی طرف سے اور ایک گائے سات افراد کی طرف سے ذبح کی۔ [سنن ابن ماجه/كِتَابُ الْأَضَاحِي/حدیث: 3132]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 62 (1318)، سنن ابی داود/الضحایا 7 (2809)، سنن الترمذی/الحج 66 (904)، (تحفة الأشراف: 2933)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الضحایا 15 (4398)، موطا امام مالک/الضحایا5 (9)، سنن الدارمی/الأضاحي 5 (1999) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: سات افراد کی طرف سے اونٹ یا گائے ذبح کرنے کا یہ اصول ہدی کے جانوروں کے لیے ہے، قربانی میں ایک اونٹ دس افراد کی طرف سے جائز ہے، جیسا کہ حدیث رقم: (۳۱۳۱) سے واضح ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3133
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّنْ اعْتَمَرَ مِنْ نِسَائِهِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بَقَرَةً بَيْنَهُنَّ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اپنی ان ساری بیویوں کی طرف سے جنہوں نے حجۃالوداع میں عمرہ کیا تھا، ایک ہی گائے ذبح کی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كِتَابُ الْأَضَاحِي/حدیث: 3133]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اپنی ان ازواج کی طرف سے، جنہوں نے عمرہ ادا کیا تھا، مشترکہ طور پر ایک گائے ذبح کی۔ [سنن ابن ماجه/كِتَابُ الْأَضَاحِي/حدیث: 3133]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/المناسک 14 (1751)، (تحفة الأشراف: 15386) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ایک گائے یا اونٹ میں سات آدمیوں کی شرکت ہو سکتی ہے، اس حج میں آپ کے ساتھ ہی سات ازواج مطہرات رہی ہوں گی، یا بخاری و مسلم کے لفظ «ضحّی» (قربانی کی) سے پتہ چلتا ہے کہ آپ نے بطور ہدی نہیں بلکہ بطور قربانی ذبح کیا، تو پورے گھر والوں کی طرف سے ایک گائے کافی تھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (1751)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 489

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3134
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ أَبِي حَاضِرٍ الْأَزْدِيِّ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" قَلَّتِ الْإِبِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَنْحَرُوا الْبَقَرَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اونٹ کم ہو گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں گائے ذبح کرنے کا حکم دیا۔ [سنن ابن ماجه/كِتَابُ الْأَضَاحِي/حدیث: 3134]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں (ایک بار) اونٹوں کی قلت ہوگئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گایوں کو قربان کرنے کا حکم دیا۔ [سنن ابن ماجه/كِتَابُ الْأَضَاحِي/حدیث: 3134]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5874، ومصباح الزجاجة: 1086) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3135
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ أَبُو طَاهِرٍ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحَرَ عَنْ آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بَقَرَةً وَاحِدَةً".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں آل محمد کی طرف سے ایک گائے کی قربانی کی۔ [سنن ابن ماجه/كِتَابُ الْأَضَاحِي/حدیث: 3135]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ایک گائے ذبح کی۔ [سنن ابن ماجه/كِتَابُ الْأَضَاحِي/حدیث: 3135]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/المناسک 14 (1750)، 23 (1778)، (تحفة الأشراف: 17924)، وقد أخرجہ: وقد تقدم بلفظ اتم برقم (3000/3075)، صحیح البخاری/الحیض 7 (294)، الحج 33 (1560)، 81 (1651)، العمرة 9 (1788)، الأضاحي 3 (5548)، صحیح مسلم/الحج 17 (1211)، الحیض 1 (347)، موطا امام مالک/الحج 58 (179)، مسند احمد (6/248)، سنن الدارمی/المناسک 62 (1945) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. بَابُ: كَمْ تُجْزِئُ مِنَ الْغَنَمِ عَنِ الْبَدَنَةِ
باب: ایک اونٹ کے بدلے کتنی بکریوں کی قربانی کافی ہو گی؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3136
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: قَالَ عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّ عَلَيَّ بَدَنَةً، وَأَنَا مُوسِرٌ بِهَا وَلَا أَجِدُهَا فَأَشْتَرِيَهَا، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبْتَاعَ سَبْعَ شِيَاهٍ فَيَذْبَحَهُنَّ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص آیا، اور اس نے عرض کیا کہ میرے ذمہ ایک اونٹ کی (قربانی) ہے، اور میں اس کی استطاعت بھی رکھتا ہوں، لیکن اونٹ دستیاب نہیں کہ میں اسے خرید سکوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سات بکریاں خریدنے اور انہیں ذبح کرنے کا حکم دیا۔ [سنن ابن ماجه/كِتَابُ الْأَضَاحِي/حدیث: 3136]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: میرے ذمے ایک اونٹ ہے (میں نے اسے ذبح کرنے کی نذر مانی ہے) اور میں (مالی طور پر) اس کی طاقت بھی رکھتا ہوں لیکن مجھے وہ ملتا نہیں کہ خرید لوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ سات بکریاں خرید کر ذبح کر دے۔ [سنن ابن ماجه/كِتَابُ الْأَضَاحِي/حدیث: 3136]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5973، ومصباح الزجاجة: 1087)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/311، 312) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (ابن جریج کی عطاء سے روایت میں ضعف ہے، نیز عطاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نہیں سنا)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عطاء الخراساني عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 489

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3137
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ ، وَعَبْدُ الرَّحِيمِ ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، ح حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ:" كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ مِنْ تِهَامَةَ، فَأَصَبْنَا إِبِلًا وَغَنَمًا فَعَجِلَ الْقَوْمُ فَأَغْلَيْنَا الْقُدُورَ، قَبْلَ أَنْ تُقْسَمَ، فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِهَا، فَأُكْفِئَتْ ثُمَّ عَدَلَ الْجَزُورَ بِعَشَرَةٍ مِنَ الْغَنَمِ".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تہامہ کے ذوالحلیفہ نامی جگہ میں تھے، ہم نے اونٹ اور بکریاں مال غنیمت میں پائیں، پھر لوگوں نے (گوشت کاٹنے میں) عجلت سے کام لیا، اور ہم نے (مال غنیمت) کی تقسیم سے پہلے ہی ہانڈیاں چڑھا دیں، پھر ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، اور ہانڈیوں کو الٹ دینے کا حکم دیا، تو وہ الٹ دی گئیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹ کو دس بکریوں کے برابر ٹھہرایا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كِتَابُ الْأَضَاحِي/حدیث: 3137]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تہامہ کے علاقے میں ذوالحلیفہ کے مقام پر تھے۔ ہمیں (غنیمت میں) اونٹ اور بکریاں ملیں۔ لوگوں نے جلدی کی۔ (یعنی) ہم نے (غنیمت) تقسیم ہونے سے پہلے (جانور ذبح کرکے) دیگیں پکالیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ان (دیگوں) کو الٹا دیا گیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹ دس بکریوں کے برابر قرار دیا (اور اس کے مطابق مال غنیمت کے جانور تقسیم کیے۔) [سنن ابن ماجه/كِتَابُ الْأَضَاحِي/حدیث: 3137]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الشرکة 3 (2488)، 16 (2507)، الجہاد 191 (3075)، الذبائح 15 (5498)، 18 (5503)، 23 (5509)، 36 (5543)، 37 (5544)، صحیح مسلم/الأضاحي 4 (1968)، سنن ابی داود/الاضاحي 15 (2821)، سنن الترمذی/الأحکام 5 (1491) 16 (1492)، السیر 40 (1600)، سنن النسائی/الصید والذبائح 17 (4302)، الضحایا 15 (4396)، 26 (4414، 4415)، (تحفة الأشراف: 3561)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/463، 464، 4/140، 142) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس سے یہ نہیں معلوم ہوا کہ قربانی میں اونٹ دس بکریوں کے برابر ہے یعنی ایک اونٹ میں دس آدمی شریک ہو سکتے ہیں، یہ اسحاق بن راہویہ کا قول ہے بلکہ یہ خاص تھا اس موقع سے شاید وہاں کے اونٹ بڑے اور تیار ہوں گے، بکریاں چھوٹی ہوں گی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹ کو دس بکریوں کے برابر رکھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. بَابُ: مَا تُجْزِئُ مِنَ الأَضَاحِيِّ
باب: قربانی کے لیے کون سا جانور کافی ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3138
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهُ غَنَمًا، فَقَسَمَهَا عَلَى أَصْحَابِهِ ضَحَايَا فَبَقِيَ عَتُودٌ، فَذَكَرَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ضَحِّ بِهِ أَنْتَ".
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بکریاں عنایت کیں، تو انہوں نے ان کو اپنے ساتھیوں میں قربانی کے لیے تقسیم کر دیا، ایک بکری کا بچہ بچ رہا، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی قربانی تم کر لو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كِتَابُ الْأَضَاحِي/حدیث: 3138]
حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کچھ بکریاں دیں جو انہوں نے قربانی کے لیے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے) صحابہ میں تقسیم کر دیں۔ (ان کے پاس) بکری کا ایک سالہ بچہ (باقی) رہ گیا۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی تم قربانی دے دو۔ [سنن ابن ماجه/كِتَابُ الْأَضَاحِي/حدیث: 3138]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوکالة 1 (2300)، الشرکة 12 (2500)، الأضاحي 2 (5547)، 7 (5555)، صحیح مسلم/الأضاحي 2 (1965)، سنن الترمذی/الاضاحي 7 (1500)، سنن النسائی/الضحایا 12 (4384)، (تحفة الأشراف: 9955)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/149، 152)، سنن الدارمی/الأضاحي 4 (1991) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: بیہقی کی روایت میں ہے کہ تمہارے بعد پھر کسی کے لیے یہ جائز نہ ہو گا، اس کی سند صحیح ہے، جمہور علماء اور اہل حدیث کا یہی مذہب ہے کہ دانتی بکری جس کے سامنے والے نچلے دو دانت خودبخود اکھڑنے کے بعد گر کر دوبارہ نکل آئے ہوں اس سے کم عمر کی بکری کی قربانی جائز نہیں کیونکہ ابوبردہ رضی اللہ عنہ کی صحیحین میں حدیث ہے کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول میرے پاس بکری کا ایک جذعہ ہے جس کو میں نے گھر میں پالا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسی کو ذبح کر دو اور تمہارے سوا اور کسی کو یہ کافی نہ ہو گا اور جذعہ وہ ہے جو ایک سال کا ہو گیا ہو، لیکن جمہور علماء اور اہل حدیث کے نزدیک بھیڑ کا جذعہ جائز ہے، یعنی اگر بھیڑ ایک سال کی ہو جائے تو اس کی قربانی جائز ہے، مسند احمد، اور سنن ترمذی میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ بھیڑ کا جذعہ اچھی قربانی ہے، لیکن بکری کا جذعہ تو وہ بالاتفاق جائز نہیں ہے، یہ امام نووی نے نقل کیا ہے خلاصہ کلام یہ ہے کہ اونٹ، گائے اور بکری کی قربانی دانتے جانوروں کی جائز ہے، اس سے کم عمر والے جانوروں کی قربانی جائز نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں