🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. بَابُ: لُبْسِ الأَحْمَرِ لِلرِّجَالِ
باب: مردوں کے سرخ لباس پہننے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3599
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْقَاضِي , عَنْ أَبِي إِسْحَاق , عَنْ الْبَرَاءِ , قَالَ:" مَا رَأَيْتُ أَجْمَلَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَرَجِّلًا فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ".
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوبصورت بال جھاڑے اور سنوارے ہوئے سرخ جوڑے میں ملبوس کسی کو نہیں دیکھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3599]
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: میں نے کسی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ صاحب جمال نہیں دیکھا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بالوں میں) کنگھی کی ہوئی تھی اور سرخ چادریں (تہبند اور چادر) پہن رکھی تھیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3599]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1868، ومصباح الزجاجة: 1255)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المناقب 23 (3551)، اللباس 35 (5848)، 68 (5901)، صحیح مسلم/الفضائل 25 (2337)، سنن ابی داود/اللباس 21 (4072)، الترجل 9 (4185)، سنن الترمذی/اللباس 4 (1724)، الأدب 47 (2811)، المناقب 8 (3635)، الشمائل 1 (62)، 3 (64)، سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ 5 (5234)، مسند احمد (4/281، 295) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3600
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ بَرَّادِ بْنِ يُوسُفَ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ , قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ , حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ , قَاضِي مَرْوَ , حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ , أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ , قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ , فَأَقْبَلَ حَسَنٌ , وَحُسَيْنٌ عَلَيْهِمَا السَّلَام , عَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَعْثُرَانِ وَيَقُومَانِ , فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَخَذَهُمَا فَوَضَعَهُمَا فِي حِجْرِهِ , فَقَالَ:" صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلادُكُمْ فِتْنَةٌ سورة التغابن آية 15، رَأَيْتُ هَذَيْنِ , فَلَمْ أَصْبِرْ" , ثُمَّ أَخَذَ فِي خُطْبَتِهِ.
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے دیکھا، اتنے میں حسن اور حسین رضی اللہ عنہما دونوں لال قمیص پہنے ہوئے آ گئے کبھی گرتے تھے کبھی اٹھتے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (منبر سے) اترے، دونوں کو اپنی گود میں اٹھا لیا، اور فرمایا: اللہ اور اس کے رسول کا قول سچ ہے: «إنما أموالكم وأولادكم فتنة» بلاشبہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد آزمائش ہیں، میں نے ان دونوں کو دیکھا تو صبر نہ کر سکا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ شروع کر دیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3600]
حضرت بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ اتنے میں حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما آ گئے۔ انہوں نے سرخ قمیص پہن رکھی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (منبر سے) اتر آئے اور انہیں گود میں اٹھا لیا اور فرمایا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا: ﴿إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ﴾ [سورة التغابن: 15] تمہارے مال اور تمہاری اولاد آزمائش ہے میں نے انہیں دیکھا تو مجھ سے صبر نہ ہوا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دینا شروع کر دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3600]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 233 (1109)، سنن الترمذی/المناقب 31 (3774)، سنن النسائی/الجمعة 30 (1414)، العیدین 27 (1586)، (تحفة الأشراف: 1958)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/354) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے کئی باتیں معلوم ہوئیں ایک یہ کہ خطبہ کے درمیان بات کرنا اور بچوں کا اٹھا لینا اور کسی کام کے لئے منبر پر سے اترنا اور تھوڑی دیر کے لئے خطبہ روک دینا جائز ہے، دوسرے حسن و حسین رضی اللہ عنہما کی فضیلت و منقبت، تیسرے یہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دونوں سے غایت درجہ محبت اورقلبی لگاؤ، چوتھے چیز لال رنگ کا جواز کیونکہ یہ دونوں صاحبزادے لال رنگ کی قمیص پہنے ہوئے تھے، اگر یہ ناجائز ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے منع فرماتے یا اسے اتارنے کا حکم دیتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. بَابُ: كَرَاهِيَةِ الْمُعَصْفَرِ لِلرِّجَالِ
باب: مردوں کے لیے پیلے کپڑے پہننے کی کراہت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3601
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ , عَنْ الْحَسَنِ بْنِ سُهَيْلٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَنِ الْمُفَدَّمِ" , قَالَ يَزِيدُ: قُلْتُ لِلْحَسَنِ: مَا الْمُفَدَّمُ؟ قَالَ: الْمُشْبَعُ بِالْعُصْفُرِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «مفدم» سے منع کیا ہے، یزید کہتے ہیں کہ میں نے حسن سے پوچھا: «مفدم» کیا ہے؟ انہوں نے کہا: جو کپڑا «کسم» میں رنگنے سے خوب پیلا ہو جائے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3601]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گہرے رنگ سے منع فرمایا۔ (حدیث کے راوی) یزید بیان کرتے ہیں (حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے شاگرد) حضرت حسن بن سہل رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا: «المُفَدَّمُ» سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا: جو عُصفُر (کسم) سے خوب رنگا گیا ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3601]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6691، ومصباح الزجاجة: 1256)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/99) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱ ؎: اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہلکا سرخ رنگ «کسم» کا بھی جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3602
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ , قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا , يَقُولُ:" نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَلَا أَقُولُ نَهَاكُمْ , عَنْ لُبْسِ الْمُعَصْفَرِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پیلے رنگ کے کپڑے پہننے سے روکا، میں یہ نہیں کہتا کہ تمہیں منع کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3602]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے «عُصْفُر» (کسم) کا رنگا ہوا کپڑا پہننے سے منع فرمایا۔ اور میں نہیں کہتا: تمہیں منع فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3602]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 41 (479)، اللباس 4 (2078)، سنن ابی داود/اللباس 11 (4044، 4045)، سنن الترمذی/الصلاة 80 (264)، اللباس 5 (1725)، 13 (1737)، سنن النسائی/التطبیق 7 (1044، 1045)، 61 (1119)، الزینة من المجتبیٰ 23 (5180)، (تحفة الأشراف: 10179)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة 6 (28)، مسند احمد (1/80، 81، 92، 104، 105، 114، 119، 121، 123، 126، 127، 132، 133، 134، 137، 138، 146) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3603
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ , عَنْ هِشَامِ بْنِ الْغَازِ , عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ثَنِيَّةِ أَذَاخِرَ , فَالْتَفَتَ إِلَيَّ وَعَلَيَّ رَيْطَةٌ مُضَرَّجَةٌ بِالْعُصْفُرِ , فَقَالَ:" مَا هَذِهِ؟" , فَعَرَفْتُ مَا كَرِهَ , فَأَتَيْتُ أَهْلِي وَهُمْ يَسْجُرُونَ تَنُّورَهُمْ فَقَذَفْتُهَا فِيهِ , ثُمَّ أَتَيْتُهُ مِنَ الْغَدِ , فَقَالَ:" يَا عَبْدَ اللَّهِ , مَا فَعَلَتِ الرَّيْطَةُ" , فَأَخْبَرْتُهُ , فَقَالَ:" أَلَا كَسَوْتَهَا بَعْضَ أَهْلِكَ , فَإِنَّهُ لَا بَأْسَ بِذَلِكَ لِلنِّسَاءِ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم اذاخر ۱؎ کے موڑ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آئے، آپ میری طرف متوجہ ہوئے، میں باریک چادر پہنے ہوئے تھا جو کسم کے رنگ میں رنگی ہوئی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ میں آپ کی اس ناگواری کو بھانپ گیا، چنانچہ میں اپنے گھر والوں کے پاس آیا، وہ اس وقت اپنا تنور گرم کر رہے تھے، میں نے اسے اس میں ڈال دیا، دوسری صبح میں آپ کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عبداللہ! چادر کیا ہوئی؟ میں نے آپ کو ساری بات بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اپنی کسی گھر والی کو کیوں نہیں پہنا دی؟ اس لیے کہ اسے پہننے میں عورتوں کے لیے کوئی مضائقہ نہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3603]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم لوگ ثنیۃ اذاخر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے جبکہ میں نے عصفر سے رنگی ہوئی چادر اوڑھ رکھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کیا ہے؟ میں سمجھ گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا چیز ناگوار گزری ہے۔ میں گھر والوں کے پاس گیا، انہوں نے تنور جلا رکھا تھا۔ میں نے وہ (چادر) تنور میں ڈال دی۔ اگلے دن میں حاضر خدمت ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عبداللہ! چادر کا کیا بنا؟ میں نے بتا دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے اپنے گھر والوں میں سے کسی کو کیوں نہ پہنا دی؟ عورتوں کے لیے تو اس (چادر کے استعمال) میں کوئی حرج نہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3603]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/اللباس20 (4066)، (تحفة الأشراف: 8811)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/164، 196) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اذاخر: مکہ و مدینہ کے درمیان ایک مقام ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. بَابُ: الصُّفْرَةِ لِلرِّجَالِ
باب: مردوں کے لیے زرد (پیلے) لباس کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3604
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شُرَحْبِيلَ , عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ , قَالَ:" أَتَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَوَضَعْنَا لَهُ مَاءً يَتَبَرَّدُ بِهِ فَاغْتَسَلَ , ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِمِلْحَفَةٍ صَفْرَاءَ , فَرَأَيْتُ أَثَرَ الْوَرْسِ عَلَى عُكَنِهِ".
قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، تو ہم نے آپ کے لیے پانی رکھا تاکہ آپ اس سے ٹھنڈے ہوں، آپ نے اس سے غسل فرمایا، پھر میں آپ کے پاس ایک پیلی چادر لے کر آیا، (اس کو آپ نے پہنا) تو میں نے آپ کے پیٹ کی سلوٹوں پر ورس کا نشان دیکھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3604]
حضرت قیس بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نہانے کے لیے پانی رکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل فرمایا۔ پھر میں نے آپ کی خدمت میں زرد چادر پیش کی (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوڑھ لی)۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شکم مبارک کی سلوٹوں پر ورس کا نشان دیکھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3604]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «(یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 466)، (تحفة الأشراف: 11095) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں محمد بن شر حبیل مجہول، اور محمد بن عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ ضعیف ہیں)
وضاحت: ۱؎: ایک پیلا، خوشبودار پودا ہے جو یمن میں پایا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
انظر الحديث السابق (466)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 507

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. بَابُ: الْبَسْ مَا شِئْتَ مَا أَخْطَأَكَ سَرَفٌ أَوْ مَخِيلَةٌ
باب: جو چاہو پہنو بس اسراف اور تکبر نہ ہو (یعنی فضول خرچی اور گھمنڈ سے ہٹ کر ہر لباس پہنو)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3605
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أَنْبَأَنَا هَمَّامٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُوا وَاشْرَبُوا , وَتَصَدَّقُوا , وَالْبَسُوا , مَا لَمْ يُخَالِطْهُ إِسْرَافٌ , أَوْ مَخِيلَةٌ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھاؤ پیو، صدقہ و خیرات کرو، اور پہنو ہر وہ لباس جس میں اسراف و تکبر (فضول خرچی اور گھمنڈ) کی ملاوٹ نہ ہو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3605]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھاؤ، پیو، صدقہ کرو اور پہنو، جب تک اس میں فضول خرچی یا تکبر کی آمیزش نہ ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3605]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8773، ومصباح الزجاجة: 1257)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس 1 (تعلیقا) سنن النسائی/الزکاة 66 (2560)، مسند احمد (2/181، 182) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ضرورت سے زیادہ مال خرچ کرنے کو اسراف کہتے ہیں،جوحرا م ہے، قرآن میں ہے: «ولا تسرفوا إنه لا يحب المسرفين» (سورة الأعراف: 31) اسراف نہ کرو، بیشک اللہ تعالی اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا دوسری جگہ ہے: «إن المبذرين كانوا إخوان الشياطين وكان الشيطان لربه كفورا» (سورة الإسراء: 27) بے جا خرچ کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے رب کا بڑا ہی ناشکرا ہے اور خلاف شرع کام میں ایک پیسہ بھی صرف کرنا اسراف میں داخل ہے جیسے پتنگ بازی، کبوتر بازی اور آتش بازی وغیرہ وغیرہ
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (2560)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 507

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. بَابُ: مَنْ لَبِسَ شُهْرَةً مِنَ الثِّيَابِ
باب: جو شخص شہرت اور ناموری کے لیے پہنے اس پر وارد وعید کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3606
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ , وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْوَاسِطِيَّانِ , قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ , عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ , عَنْ مُهَاجِرٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ لَبِسَ ثَوْبَ شُهْرَةٍ , أَلْبَسَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَوْبَ مَذَلَّةٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے شہرت کا لباس پہنا اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن ذلت کا لباس پہنائے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3606]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص شہرت والا لباس پہنے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے ذلت کا لباس پہنائے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3606]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/اللباس 5 (4029، 4030)، (تحفة الأشراف: 7464)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/92، 139) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3607
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ , حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ , عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ , عَنْ الْمُهَاجِرِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ:" مَنْ لَبِسَ ثَوْبَ شُهْرَةٍ فِي الدُّنْيَا , أَلْبَسَهُ اللَّهُ ثَوْبَ مَذَلَّةٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ , ثُمَّ أَلْهَبَ فِيهِ نَارًا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے دنیا میں شہرت کا لباس پہنا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے ذلت کا لباس پہنائے گا، پھر اس میں آگ بھڑکائے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3607]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص دنیا میں شہرت کا لباس پہنے گا، اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن ذلت کا لباس پہنائے گا، پھر اس میں آگ بھڑکا دے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3607]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3608
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ الْبَحْرَانِيُّ , حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ مُحْرِزٍ النَّاجِيُّ , حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ جَهْمٍ , عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ , عَنْ أَبِي ذَرٍّ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" مَنْ لَبِسَ ثَوْبَ شُهْرَةٍ , أَعْرَضَ اللَّهُ عَنْهُ حَتَّى يَضَعَهُ مَتَى وَضَعَهُ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے شہرت کی خاطر لباس پہنا، اللہ تعالیٰ اس سے منہ پھیر لے گا یہاں تک کہ اسے اس جگہ رکھے گا جہاں اسے رکھنا ہے (یعنی جہنم میں)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3608]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے شہرت کا لباس پہنا، اللہ تعالیٰ اس سے (ناراض ہوکر) منہ پھیر لے گا حتیٰ کہ اسے ذلیل کردے گا جب بھی ذلیل کرے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3608]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ (تحفة الأشراف: 11912، ومصباح الزجاجة: 1258) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں وکیع بن محرز کے پاس عجیب و غریب احادیث ہیں، اور عباس بن یزید مختلف فیہ راوی ہیں، لیکن سابقہ احادیث میں جیسا گزرا متن حدیث ثابت ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 4650)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عثمان بن جهم: مجهول (التحرير: 4454)
لم يوثقه غير ابن حبان ولبعضه شواهد
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 507

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں