🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
30. بَابُ: الاِنْتِعَالِ قَائِمًا
باب: کھڑے ہو کر جوتا پہننے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3619
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْ يَنْتَعِلَ الرَّجُلُ قَائِمًا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے کھڑے جوتا پہننے سے منع فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3619]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہوکر جوتے پہننے سے منع فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3619]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7170، ومصباح الزجاجة: 1262) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سفيان الثوري عنعن
والحديث ضعيف من جميع طرقه ولم يصب من صححه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 507

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
31. بَابُ: الْخِفَافِ السُّودِ
باب: کالے موزے پہننے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3620
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا دَلْهَمُ بْنُ صَالِحٍ الْكِنْدِيُّ , عَنْ حُجَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْكِنْدِيِّ , عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ , عَنْ أَبِيهِ ," أَنَّ النَّجَاشِيَّ أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , خُفَّيْنِ سَاذَجَيْنِ أَسْوَدَيْنِ , فَلَبِسَهُمَا".
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نجاشی (اصحمہ بن بحر) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دو کالے اور چمڑے کے سادہ موزے تحفہ میں بھیجے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پہنا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3620]
حضرت بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت نجاشی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ کے طور پر سیاہ سادہ موزوں کا جوڑا ارسال کیا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہنا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3620]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (549) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (549)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 507

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
32. بَابُ: الْخِضَابِ بِالْحِنَّاءِ
باب: مہندی کا خضاب لگانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3621
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ , وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ يُخْبِرَانِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" إِنَّ الْيَهُودَ , وَالنَّصَارَى , لَا يَصْبُغُونَ فَخَالِفُوهُمْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہود و نصاریٰ خضاب نہیں لگاتے، تو تم ان کی مخالفت کرو (یعنی خضاب لگاؤ)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3621]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ یہودی اور عیسائی بالوں کو نہیں رنگتے، چنانچہ تم ان کی مخالفت کرو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3621]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأنبیاء 50 (3462)، اللباس 67 (5899)، صحیح مسلم/اللباس 25 (2103)، سنن ابی داود/الترجل 18 (4203)، سنن النسائی/الزینة 14 (5075)، (تحفة الأشراف: 13480، 15142)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/اللباس20 (1752)، مسند احمد (2/240، 260، 309، 401) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: بالکل سیاہ رنگ سے اجتناب کیا جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3622
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ , عَنْ الْأَجْلَحِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ , عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدَّيْلَمِيِّ , عَنْ أَبِي ذَرٍّ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَحْسَنَ مَا غَيَّرْتُمْ بِهِ الشَّيْبَ الْحِنَّاءُ وَالْكَتَمُ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بالوں کی سفیدی بدلنے کے لیے سب سے بہترین چیز مہندی اور کتم ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3622]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بڑھاپے (کے بالوں) کا رنگ بدلنے کے لیے سب سے بہتر چیز مہندی اور وسمہ ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3622]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الترجل 18 (4205)، سنن الترمذی/اللباس20 (1753)، سنن النسائی/الزینة 16 (5081، 5082)، (تحفة الأشراف: 11927، 18882)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/147، 150، 154، 156، 169) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱ ؎: «كَتَمُ» : ایک پودا ہے جس کی جڑ سے خضاب بنایا جاتا ہے، نیز اس کو جوش دے کر روشنائی تیار کی جاتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3623
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ , عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مَوْهَبٍ , قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ , قَالَ:" فَأَخْرَجَتْ إِلَيَّ شَعَرًا مِنْ شَعْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مَخْضُوبًا بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ".
عثمان بن موہب کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک بال نکال کر مجھے دکھایا، جو مہندی اور کتم سے رنگا ہوا تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3623]
حضرت عثمان بن موہب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چند بال نکال کر مجھے دکھائے جو مہندی اور وسمہ سے رنگے ہوئے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3623]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللباس 66 (5896، 5897)، (تحفة الأشراف: 18196)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/296، 319، 322) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
33. بَابُ: الْخِضَابِ بِالسَّوَادِ
باب: کالے خضاب کے استعمال کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3624
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عُلَيَّةَ , عَنْ لَيْثٍ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: جِيءَ بِأَبِي قُحَافَةَ , يَوْمَ الْفَتْحِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَأَنَّ رَأْسَهُ ثَغَامَةٌ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اذْهَبُوا بِهِ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ فَلْتُغَيِّرْهُ , وَجَنِّبُوهُ السَّوَادَ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن ابوقحافہ رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، اس وقت ان کے بال سفید گھاس کی طرح تھے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں ان کی کسی عورت کے پاس لے جاؤ کہ وہ انہیں بدل دے (یعنی خضاب لگا دے)، لیکن کالے خضاب سے انہیں بچاؤ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3624]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: فتح مکہ کے دن حضرت ابوقحافہ رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر کیا گیا، ان کا سر «الثَّغَامَةِ» (سفید گھاس) کی طرح (سفید) تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں ان (کے گھر) کی کسی خاتون کے پاس لے جاؤ، وہ (مہندی وغیرہ کے ذریعے) ان کے بالوں کا رنگ تبدیل کر دے اور انہیں سیاہ رنگ سے بچانا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3624]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2932، ومصباح الزجاجة: 1263)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/اللباس 24 (2102)، سنن ابی داود/الترجل 18 (4204)، سنن النسائی/الزینة 15 (5079)، الزینة من المجتبیٰ 10 (5244)، مسند احمد (3/، 322، 338) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف ہیں، لیکن دوسرے طرق سے یہ صحیح ہے، کمافی التخریج)
وضاحت: ۱؎: خضاب لگانے کا مقصد یہود و نصاریٰ کی مخالفت ہے، اہل کتاب کی مخالفت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود کرتے تھے، اور اس کا حکم بھی دیتے تھے، البتہ اس حدیث کی روشنی میں کالے خضاب سے بچنا چاہیے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3625
حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ الصَّيْرَفِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ فِرَاسٍ , حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بْنِ زَكَرِيَّا الرَّاسِبِيُّ , حَدَّثَنَا دَفَّاعُ بْنُ دَغْفَلٍ السَّدُوسِيُّ , عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ صَيْفِيٍّ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ صُهَيْبِ الْخَيْرِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَحْسَنَ مَا اخْتَضَبْتُمْ بِهِ لَهَذَا السَّوَادُ أَرْغَبُ لِنِسَائِكُمْ فِيكُمْ , وَأَهْيَبُ لَكُمْ فِي صُدُورِ عَدُوِّكُمْ".
صہیب الخیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو خضاب تم لگاتے ہو ان میں بہترین کالا خضاب ہے، اس سے عورتیں تمہاری طرف زیادہ راغب ہوتی ہیں، اور تمہارے دشمنوں کے دلوں میں تمہاری ہیبت زیادہ بیٹھتی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3625]
حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہترین چیز جس سے تم خضاب کرتے ہو، سیاہ رنگ ہے۔ اس سے تمہاری عورتوں کے دلوں میں تمہاری رغبت (اور محبت) زیادہ ہوتی ہے اور تمہارے دشمنوں کے دلوں میں تمہارا رعب زیادہ ہوتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3625]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4965، ومصباح الزجاجة: 1264) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (عمر بن خطاب بن زکریا راسبی اور دفاع سدوسی دونوں ضعیف راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
دفاع: ضعيف (تقريب: 1827)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 508

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
34. بَابُ: الْخِضَابِ بِالصُّفْرَةِ
باب: خضاب میں زرد رنگ کے استعمال کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3626
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ , أَنَّ عُبَيْدَ بْنَ جُرَيْجٍ , سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ , قَالَ: رَأَيْتُكَ تُصَفِّرُ لِحْيَتَكَ بِالْوَرْسِ , فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: أَمَّا تَصْفِيرِي لِحْيَتِي , فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَفِّرُ لِحْيَتَهُ".
عبید بن جریج سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: میں آپ کو اپنی داڑھی ورس سے زرد (پیلی) کرتے دیکھتا ہوں؟، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں اس لیے زرد (پیلی) کرتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی داڑھی زرد (پیلی) کرتے دیکھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3626]
حضرت عبید بن جریج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ ورس کے ذریعے سے اپنی داڑھی کا رنگ زرد کر لیتے ہیں (اس کی کیا وجہ ہے؟) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرا اپنی داڑھی کو زرد کرنے کا سبب یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی ریش مبارک زرد کرتے دیکھا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3626]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/ الوضوء 30 (166)، اللباس 37 (5851)، صحیح مسلم/الحج 5 (1187)، سنن ابی داود/المناسک 21 (1772)، اللباس 18 (4064)، سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ 11 (5245)، (تحفة الأشراف: 7316) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3627
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ , عَنْ حُمَيْدِ بْنِ وَهْبٍ , عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ , عَنْ طَاوُسٍ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ قَدْ خَضَبَ بِالْحِنَّاءِ , فَقَالَ:" مَا أَحْسَنَ هَذَا" , ثُمَّ مَرَّ بِآخَرَ قَدْ خَضَبَ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ , فَقَالَ:" هَذَا أَحْسَنُ مِنْ هَذَا" , ثُمَّ مَرَّ بِآخَرَ قَدْ خَضَبَ بِالصُّفْرَةِ , فَقَالَ:" هَذَا أَحْسَنُ مِنْ هَذَا كُلِّهِ" , قَالَ: وَكَانَ طَاوُسٌ يُصَفِّرُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک ایسے شخص کے پاس ہوا جس نے مہندی کا خضاب لگا رکھا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کتنا اچھا ہے، پھر آپ ایک دوسرے شخص کے پاس سے گزرے جس نے مہندی اور کتم (وسمہ) کا خضاب لگایا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اس سے اچھا ہے! پھر آپ کا گزر ایک دوسرے کے پاس ہوا جس نے زرد خضاب لگا رکھا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ان سب سے اچھا اور بہتر ہے۔ ابن طاؤس کہتے ہیں کہ اسی لیے طاؤس بالوں کو زرد خضاب کیا کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3627]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک آدمی کے پاس سے ہوا جس نے مہندی کا خضاب کیا ہوا تھا (بالوں کا رنگ مہندی لگا کر تبدیل کیا ہوا تھا۔) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کتنا اچھا ہے! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک اور آدمی کے پاس سے گزرے جس نے مہندی اور وسمہ کا خضاب کیا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اس سے زیادہ اچھا ہے۔ پھر ایک اور آدمی کے پاس سے گزرے جس نے زرد خضاب کیا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ان سب سے اچھا ہے۔ راویِ حدیث بیان کرتے ہیں (حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے شاگرد) حضرت طاؤس رحمہ اللہ زرد خضاب استعمال کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3627]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الترجل 19 (4211)، (تحفة الأشراف: 5720) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں حمید بن وہب لین الحدیث راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (4211)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 508

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
35. بَابُ: مَنْ تَرَكَ الْخِضَابَ
باب: جس نے خضاب نہیں لگایا اس کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3628
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ , حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق , عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ , قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ مِنْهُ بَيْضَاءُ" , يَعْنِي عَنْفَقَتَهُ.
ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ بال یعنی داڑھی بچہ سفید دیکھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3628]
حضرت ابوجحیفہ وہب بن عبداللہ سوائی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کے یہ بال سفید تھے۔ ان کا اشارہ نچلے ہونٹ اور ٹھوڑی کے درمیان کے بالوں کی طرف تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3628]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/المناقب 23 (3545)، صحیح مسلم/الفضائل 29 (2342)، (تحفة الأشراف: 11802)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأدب60 (2826)، مسند احمد (4/308، 309) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ان کا اشارہ نچلے ہونٹ اور ٹھوڑی کے درمیان کے بالوں کی طرف تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں