سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. بَابُ: اسْمِ اللَّهِ الأَعْظَمِ
باب: اللہ تعالیٰ کے اسم اعظم کا بیان۔
حدیث نمبر: 3856M
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ , قَالَ: ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعِيسَى بْنِ مُوسَى , فَحَدَّثَنِي أَنَّهُ سَمِعَ غَيْلَانَ بْنَ أَنَسٍ يُحَدِّثُ , عَنْ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , نَحْوَهُ.
اس سند سے ابوامامہ سے بھی اسی طرح مرفوعاً مروی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3856M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4921، ومصباح الزجاجة: 1352) (حسن)» (غیلان بن انس مقبول ہیں، لیکن ابو یعلی میں عبداللہ بن العلاء نے ان کی متابعت کی ہے، نیز أسماء بنت یزید کی حدیث شاہد ہے، جو ترمذی اور ابوداود میں ہے)
حدیث نمبر: 3857
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ , أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , رَجُلًا يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ سَأَلَ اللَّهَ بِاسْمِهِ الْأَعْظَمِ , الَّذِي إِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى , وَإِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یہ کہتے سنا: «اللهم إني أسألك بأنك أنت الله الأحد الصمد الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد» ”اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کیونکہ تو ہی اکیلا اللہ ہے، بے نیاز ہے، جس نے نہ جنا اور نہ وہ جنا گیا، اور نہ کوئی اس کا ہم سر ہے“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے ذریعہ سوال کیا ہے جس کے ذریعہ اگر سوال کیا جائے تو اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے، اور دعا کی جائے تو وہ قبول کرتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3857]
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو یوں کہتے سنا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ» ”اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، اس لیے کہ تو اللہ ہے، اکیلا ہے، بے نیاز ہے جس نے کسی کو جنم نہیں دیا ہے، اور نہ ہی اسے کسی نے جنم دیا، نہ اس کا کوئی ہمسر ہے۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص نے اللہ سے اس کے عظیم ترین نام (اسم اعظم) کے وسیلے سے سوال کیا ہے جس کے وسیلے سے جب اس سے مانگا جائے تو وہ عطا فرماتا ہے اور جب اس کے وسیلے سے اس سے دعا کی جائے تو وہ قبول فرماتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3857]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 358 (1493، 1494)، سنن الترمذی/الدعوات 64 (3475)، (تحفة الأشراف: 1998)، وقد أخرجہ: مسند احمد (0.6355/349، 350، 360) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3858
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا أَبُو خُزَيْمَةَ , عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , رَجُلًا يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ , لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ , الْمَنَّانُ بَدِيعُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ , ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ , فَقَالَ:" لَقَدْ سَأَلَ اللَّهَ بِاسْمِهِ الْأَعْظَمِ , الَّذِي إِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى وَإِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یہ دعا کرتے سنا، «اللهم إني أسألك بأن لك الحمد لا إله إلا أنت وحدك لا شريك لك المنان بديع السموات والأرض ذو الجلال والإكرام» ”اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کیونکہ تیرے ہی لیے حمد ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تو اکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں، تو بہت احسان کرنے والا ہے، آسمانوں اور زمین کو بغیر مثال کے پیدا کرنے والا ہے، جلال اور عظمت والا ہے“، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے ذریعہ سوال کیا ہے کہ جب بھی اس کے ذریعہ سوال کیا جائے تو وہ عطا کرتا ہے، اور جب اس کے ذریعہ دعا مانگی جائے تو وہ قبول کرتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3858]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو سنا، وہ کہہ رہا تھا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، الْمَنَّانُ، بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» ”اے اللہ! میں تجھ سے اس وسیلے سے سوال کرتا ہوں کہ تعریف صرف تیرے لیے ہے۔ تجھے اکیلے کے سوا کوئی معبود نہیں۔ تیرا کوئی شریک نہیں۔ تو احسان کرنے والا ہے۔ آسمانوں اور زمین کو بغیر مثال کے پیدا کرنے والا ہے۔ جلال و عزت والا ہے۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے اللہ سے اس کے عظیم ترین نام (اسم اعظم) کے واسطے سے سوال کیا ہے، جس کے وسیلے سے مانگا جائے تو وہ عطا فرماتا ہے اور جب اس کے وسیلے سے دعا کی جائے تو وہ قبول فرماتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3858]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 238، ومصباح الزجاجة: 1353)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدعوت 110 (3544)، سنن ابی داود/الصلاة 358 (1495)، سنن النسائی/السہو 58 (1301)، مسند احمد (3/120، 158، 245) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 3859
حَدَّثَنَا أَبُو يُوسُفَ الصَّيْدَلَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الرَّقِّيُّ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ الْفَزَارِيِّ , عَنْ أَبِي شَيْبَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ الْجُهَنِيِّ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الطَّاهِرِ الطَّيِّبِ الْمُبَارَكِ الْأَحَبِّ إِلَيْكَ الَّذِي , إِذَا دُعِيتَ بِهِ أَجَبْتَ , وَإِذَا سُئِلْتَ بِهِ أَعْطَيْتَ , وَإِذَا اسْتُرْحِمْتَ بِهِ رَحِمْتَ , وَإِذَا اسْتُفْرِجَتَ بِهِ فَرَّجْتَ" , قَالَتْ: وَقَالَ ذَاتَ يَوْمٍ:" يَا عَائِشَةُ , هَلْ عَلِمْتِ أَنَّ اللَّهَ قَدْ دَلَّنِي عَلَى الِاسْمِ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ" , قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي فَعَلِّمْنِيهِ , قَالَ:" إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لَكِ يَا عَائِشَةُ" , قَالَتْ: فَتَنَحَّيْتُ وَجَلَسْتُ سَاعَةً , ثُمَّ قُمْتُ فَقَبَّلْتُ رَأْسَهُ , ثُمَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , عَلِّمْنِيهِ , قَالَ:" إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لَكِ يَا عَائِشَةُ أَنْ أُعَلِّمَكِ , إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لَكِ أَنْ تَسْأَلِينَ بِهِ شَيْئًا مِنَ الدُّنْيَا" , قَالَتْ: فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ , ثُمَّ صَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ , ثُمَّ قُلْتُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَدْعُوكَ اللَّهَ , وَأَدْعُوكَ الرَّحْمَنَ , وَأَدْعُوكَ الْبَرَّ , الرَّحِيمَ , وَأَدْعُوكَ بِأَسْمَائِكَ الْحُسْنَى كُلِّهَا مَا عَلِمْتُ مِنْهَا وَمَا لَمْ أَعْلَمْ , أَنْ تَغْفِرَ لِي , وَتَرْحَمَنِي , قَالَتْ: فَاسْتَضْحَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ثُمَّ قَالَ:" إِنَّهُ لَفِي الْأَسْمَاءِ الَّتِي دَعَوْتِ بِهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا ہے: «اللهم إني أسألك باسمك الطاهر الطيب المبارك الأحب إليك الذي إذا دعيت به أجبت وإذا سئلت به أعطيت وإذا استرحمت به رحمت وإذا استفرجت به فرجت» ”اے اللہ! میں تجھ سے تیرے اس پاکیزہ، مبارک اچھے نام کے واسطہ سے دعا کرتا ہوں جو تجھے زیادہ پسند ہے کہ جب اس کے ذریعہ تجھ سے دعا کی جاتی ہے، تو تو قبول فرماتا ہے، اور جب اس کے ذریعہ تجھ سے سوال کیا جاتا ہے تو تو عطا کرتا ہے، اور جب اس کے ذریعہ تجھ سے رحم طلب کی جائے تو تو رحم فرماتا ہے، اور جب مصیبت کو دور کرنے کی دعا کی جاتی ہے تو مصیبت اور تنگی کو دور کرتا ہے“، اور ایک روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! کیا تم جانتی ہو کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا وہ نام بتایا ہے کہ جب بھی اس کے ذریعہ دعا کی جائے تو وہ اسے قبول کرے گا“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، مجھے بھی وہ نام بتا دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! یہ تمہارے لیے مناسب نہیں“، میں یہ سن کر علیحدہ ہو گئی اور کچھ دیر خاموش بیٹھی رہی، پھر میں نے اٹھ کر آپ کے سر مبارک کو چوما، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے بتا دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! تمہارے لیے مناسب نہیں کہ میں تمہیں بتاؤں، اور تمہارے لیے اس اسم اعظم کے واسطہ سے دنیا کی کوئی چیز طلب کرنی مناسب نہیں، یہ سن کر میں اٹھی، وضو کیا، پھر میں نے دو رکعت نماز پڑھی، اس کے بعد میں نے یہ دعا مانگی: «اللهم إني أدعوك الله وأدعوك الرحمن وأدعوك البر الرحيم وأدعوك بأسمائك الحسنى كلها ما علمت منها وما لم أعلم أن تغفر لي وترحمني» ”اے اللہ! میں تجھ اللہ سے دعا کرتی ہوں، میں تجھ رحمن سے دعا کرتی ہوں، اور میں تجھ محسن و مہربان سے دعا کرتی ہوں اور میں تجھ سے تیرے تمام اسماء حسنیٰ سے دعا کرتی ہوں، جو مجھے معلوم ہوں یا نہ معلوم ہوں، یہ کہ تو مجھے بخش دے، اور مجھ پر رحم فرما“، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے اور فرمایا: ”اسم اعظم انہی اسماء میں ہے جس کے ذریعہ تم نے دعا مانگی ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3859]
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: «اللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الطَّاهِرِ الطَّيِّبِ الْمُبَارَكِ الْأَحَبِّ إِلَيْكَ الَّذِي إِذَا دُعِيتَ بِهِ أَجَبْتَ وَإِذَا سُئِلْتَ بِهِ أَعْطَيْتَ وَإِذَا اسْتُرْحِمْتَ بِهِ رَحِمْتَ وَإِذَا اسْتُفْرِجْتَ بِهِ فَرَّجْتَ» ”یا اللہ! میں تجھ سے تیرے اس طاہر، طیب، برکت والے اور تجھے سب سے پیارے نام کے واسطے سے سوال کرتا ہوں جس کے وسیلے سے جب تجھ سے دعا کی جائے تو قبول فرماتا ہے، اور جب تجھ سے اس کے وسیلے سے کچھ مانگا جائے تو عطا فرماتا ہے، اور جب تجھ سے اس کے واسطے سے رحمت طلب کی جائے تو تو رحمت فرماتا ہے، اور جب تجھ سے اس کے واسطے سے پریشانی دور کرنے کی درخواست کی جائے تو تو پریشانی دور کرتا (اور مشکل کشائی فرماتا) ہے۔“ (بعد میں) ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! تجھے پتہ ہے اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ نام بتا دیا ہے جس کے واسطے سے جب اسے پکارا جائے تو وہ قبول فرماتا ہے؟“ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان! مجھے بھی سکھا دیجیے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! وہ تیرے لیے مناسب نہیں۔“ انہوں نے کہا: میں کچھ دیر ایک طرف بیٹھی رہی، پھر میں اٹھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک کو بوسہ دے کر عرض کیا: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے سکھا دیجیے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! یہ بات تمہارے لیے مناسب نہیں کہ میں تمہیں وہ سکھاؤں۔ تمہارے لیے مناسب نہیں کہ اس کے وسیلے سے دنیا کی کوئی چیز مانگو۔“ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے اٹھ کر وضو کیا، پھر دو رکعت نماز پڑھی، پھر میں نے کہا: «اللّٰهُمَّ إِنِّي أَدْعُوكَ اللّٰهَ وَأَدْعُوكَ الرَّحْمٰنَ وَأَدْعُوكَ الْبَرَّ الرَّحِيمَ وَأَدْعُوكَ بِأَسْمَائِكَ الْحُسْنٰى كُلِّهَا مَا عَلِمْتُ مِنْهَا وَمَا لَمْ أَعْلَمْ أَنْ تَغْفِرَ لِي وَتَرْحَمَنِي» ”یا اللہ! میں تجھے اللہ کہتی ہوں، میں تجھے رحمان کے نام سے پکارتی ہوں، میں تجھے برٌ رحیم پکارتی ہوں، میں تجھے تیرے تمام بہترین ناموں کا واسطہ دیتی ہوں جو نام مجھے معلوم ہیں اور جو معلوم نہیں (ان سب ناموں کا واسطہ دے کر دعا کرتی ہوں) کہ میری مغفرت فرما دے اور مجھ پر رحمت فرما دے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوب ہنسے اور فرمایا: ”وہ انہیں ناموں میں ہے جن کے وسیلے سے تو نے دعا کی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3859]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16272، ومصباح الزجاجة: 1354) (ضعیف)» (سند میں ابوشیبہ مجہول راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو شيبة غير منسوب،وقال البوصيري: ’’ لم أر من جرحه ولا وثقه ‘‘ يعني أنه مجهول الحال وھو مذكور في التقريب (8165)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 514
إسناده ضعيف
أبو شيبة غير منسوب،وقال البوصيري: ’’ لم أر من جرحه ولا وثقه ‘‘ يعني أنه مجهول الحال وھو مذكور في التقريب (8165)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 514
10. بَابُ: أَسْمَاءِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
باب: اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ کا بیان۔
حدیث نمبر: 3860
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا , مِائَةً إِلَّا وَاحِدًا , مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے نناوے نام ہیں ایک کم سو، جو انہیں یاد (حفظ) کرے ۱؎ تو وہ شخص جنت میں داخل ہو گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3860]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے ننانوے، یعنی ایک کم سو نام ہیں، جو انہیں شمار کرے گا، جنت میں داخل ہو جائے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3860]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15067)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الشروط 18 (2736)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء 2 (2677)، سنن الترمذی/الدعوات 83 (3506)، مسند احمد (2/458، 499، 503) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ان ناموں کی پوری پوری معرفت حاصل ہو، اور ان میں پائے جانے والے معانی و مفاہیم کے جو تقاضے ہیں ان کے مطابق زندگی گزارے، تو ان شاء اللہ وہ جنت کا مستحق ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 3861
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّنْعَانِيُّ , حَدَّثَنَا أَبُو الْمُنْذِرِ زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمِيمِيُّ , حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ , حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا , مِائَةً إِلَّا وَاحِدًا , إِنَّهُ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ , مَنْ حَفِظَهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ , وَهِيَ: اللَّهُ الْوَاحِدُ الصَّمَدُ الْأَوَّلُ الْآخِرُ الظَّاهِرُ الْبَاطِنُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ الْمَلِكُ الْحَقُّ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ الْعَلِيمُ الْعَظِيمُ الْبَارُّ الْمُتْعَالِ الْجَلِيلُ الْجَمِيلُ الْحَيُّ الْقَيُّومُ الْقَادِرُ الْقَاهِرُ الْعَلِيُّ الْحَكِيمُ الْقَرِيبُ الْمُجِيبُ الْغَنِيُّ الْوَهَّابُ الْوَدُودُ الشَّكُورُ الْمَاجِدُ الْوَاجِدُ الْوَالِي الرَّاشِدُ الْعَفُوُّ الْغَفُورُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ التَّوَّابُ الرَّبُّ الْمَجِيدُ الْوَلِيُّ الشَّهِيدُ الْمُبِينُ الْبُرْهَانُ الرَّءُوفُ الرَّحِيمُ الْمُبْدِئُ الْمُعِيدُ الْبَاعِثُ الْوَارِثُ الْقَوِيُّ الشَّدِيدُ الضَّارُّ النَّافِعُ الْبَاقِي الْوَاقِي الْخَافِضُ الرَّافِعُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الْمُعِزُّ الْمُذِلُّ الْمُقْسِطُ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ الْقَائِمُ الدَّائِمُ الْحَافِظُ الْوَكِيلُ الْفَاطِرُ السَّامِعُ الْمُعْطِي الْمُحْيِي الْمُمِيتُ الْمَانِعُ الْجَامِعُ الْهَادِي الْكَافِي الْأَبَدُ الْعَالِمُ الصَّادِقُ النُّورُ الْمُنِيرُ التَّامُّ الْقَدِيمُ الْوِتْرُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ" , قَالَ زُهَيْرٌ: فَبَلَغَنَا مِنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ أَوَّلَهَا يُفْتَحُ بِقَوْلِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ , لَهُ الْمُلْكُ , وَلَهُ الْحَمْدُ , بِيَدِهِ الْخَيْرُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ , لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں ایک کم سو، چونکہ اللہ تعالیٰ طاق ہے اس لیے طاق کو پسند کرتا ہے جو انہیں یاد کرے گا وہ جنت میں داخل ہو گا، اور وہ ننانوے نام یہ ہیں: «الله» ”اسم ذات سب ناموں سے اشرف اور اعلیٰ“، «الواحد» ”اکیلا، ایکتا“، «الصمد» ”بے نیاز“، «الأول» ”پہلا“، «الآخر» ”پچھلا“، «الظاهر» ”ظاہر“، «الباطن» ”باطن“، «الخالق» ”پیدا کرنے والا“، «البارئ» ”بنانے والا“، «المصور» ”صورت بنانے والا“، «الملك» ”بادشاہ“، «الحق» ”سچا“، «السلام» ”سلامتی دینے والا“، «المؤمن» ”یقین والا“، «المهيمن» ”نگہبان“، «العزيز» ”غالب“، «الجبار» ”تسلط والا“، «المتكبر» ”بڑائی والا“، «الرحمن» ”بہت رحم کرنے والا“، «الرحيم» ”مہربان“، «اللطيف» ”بندوں پر شفقت کرنے والا“، «الخبير» ”خبر رکھنے والا“، «السميع» ”سننے والا“، «البصير» ”دیکھنے والا“، «العليم» ”جاننے والا“، «العظيم» ”بزرگی والا“، «البار» ”بھلائی والا“، «المتعال» ”برتر“، «الجليل» ”بزرگ“، «الجميل» ”خوبصورت“، «الحي» ”زندہ“، «القيوم» ”قائم رہنے اور قائم رکھنے والا“، «القادر» ”قدرت والا“، «القاهر» ”قہر والا“، «العلي» ”اونچا“، «الحكيم» ”حکمت والا“، «القريب» ”نزدیک“، «المجيب» ”قبول کرنے والا“، «الغني» ”تونگر بے نیاز“، «الوهاب» ”بہت دینے والا“، «الودود» ”بہت چاہنے والا“، «الشكور» ”قدر کرنے والا“، «الماجد» ”بزرگی والا“، «الواجد» ”پانے والا“، «الوالي» ”مالک مختار، حکومت کرنے والا“، «الراشد» ”خیر والا“، «العفو» ”بہت معاف کرنے والا“، «الغفور» ”بہت بخشنے والا“، «الحليم» ”بردبار“، «الكريم» ”کرم والا“، «التواب» ”توبہ قبول کرنے والا“، «الرب» ”پالنے والا“، «المجيد» ”بزرگی والا“، «الولي» ”مددگار و محافظ“، «الشهيد» ”نگراں، حاضر“، «المبين» ”ظاہر کرنے والا“، «البرهان» ”دلیل“، «الرءوف» ”شفقت والا“، «الرحيم» ”مہربان“، «المبدئ» ”پہلے پہل پیدا کرنے والا“، «المعيد» ”دوبارہ پیدا کرنے والا“، «الباعث» ”زندہ کر کے اٹھانے والا“، «الوارث» ”وارث“، «القوي» ”(قوی) زور آور“، «الشديد» ”سخت“، «الضار» ”نقصان پہنچانے والا“، «النافع» ”نفع دینے والا“، «الباقي» ”قائم“، «الواقي» ”بچانے والا“، «الخافض» ”پست کرنے والا“، «الرافع» ”اونچا کرنے والا“، «القابض» ”روکنے والا“، «الباسط» ”چھوڑ دینے والا، پھیلانے والا“، «المعز» ”عزت دینے والا“، «المذل» ”ذلت دینے والا“، «المقسط» ”منصف“، «الرزاق» ”روزی دینے والا“، «ذو القوة» ”طاقت والا“، «المتين» ”مضبوط“، «القائم» ”ہمیشہ رہنے والا“، «الدائم» ”ہمیشگی والا“، «الحافظ» ”بچانے والا“، «الوكيل» ”کارساز“، «الفاطر» ”پیدا کرنے والا“، «السامع» ”سننے والا“، «المعطي» ”دینے والا“، «المحيي» ”زندہ کرنے والا“، «المميت» ”مارنے والا“، «المانع» ”روکنے والا“، «الجامع» ”جمع کرنے والا“، «الهادي» ”(رہبری ہادی) راہ بنانے والا“، «الكافي» ”کفایت کرنے والا“، «الأبد» ”ہمیشہ برقرار“، «العالم» ”(عالم) جاننے والا“، «الصادق» ”سچا“، «النور» ”روشن، ظاہر“، «المنير» ”روشن کرنے والا“، «التام» ”مکمل“، «القديم» ”ہمیشہ رہنے والا“، «الوتر» ”طاق“، «الأحد» ”اکیلا“، «الصمد» ”بے نیاز“، «الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد» ”جس نے نہ جنا ہے نہ وہ جنا گیا ہے، اور اس کا کوئی ہمسر نہیں ہے“۔ زہیر کہتے ہیں: ہمیں بہت سے اہل علم سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ ان ناموں کی ابتداء اس قول سے کی جاتی ہے: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد بيده الخير وهو على كل شيء قدير لا إله إلا الله له الأسماء الحسنى» ”اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اسی کے لیے ہر طرح کی تعریف ہے، اسی کے ہاتھ میں خیر ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت والا ہے، اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اسی کے لیے اچھے نام ہیں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3861]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے ننانوے یعنی ایک کم سو نام ہیں، وہ اکیلا ہے، طاق عدد کو پسند کرتا ہے۔ جو شخص انہیں یاد کرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا۔ وہ یہ ہیں: «اَللّٰهُ» ”معبود“، «اَلْوَاحِدُ» ”ایک“، «اَلصَّمَدُ» ”بے نیاز“، «اَلْاَوَّلُ» ”سب سے پہلے موجود“، «اَلْاٰخِرُ» ”سب کے بعد رہنے والا“، «اَلظَّاهِرُ» ”اپنی قدرتوں کے لحاظ سے ظاہر“، «اَلْبَاطِنُ» ”اپنی حقیقت کے لحاظ سے پوشیدہ“، «اَلْخَالِقُ» ”پیدا کرنے والا“، «اَلْبَارِئُ» ”بنانے والا“، «اَلْمُصَوِّرُ» ”صورتیں بنانے والا“، «اَلْمَالِكُ» ”بادشاہ“، «اَلْحَقُّ» ”سچا“، «اَلسَّلَامُ» ”سلامتی والا“، «اَلْمُؤْمِنُ» ”امن دینے والا“، «اَلْمُهَيْمِنُ» ”نگہبان“، «اَلْعَزِيزُ» ”غالب“، «اَلْجَبَّارُ» ”زبردست یا کمی پورا کرنے والا“، «اَلْمُتَكَبِّرُ» ”اپنی عظمت کا اظہار کرنے والا“، «اَلرَّحْمٰنُ» ”انتہائی رحم کرنے والا“، «اَلرَّحِيمُ» ”ہمیشہ رحم کرنے والا“، «اَللَّطِيفُ» ”باریک بین“، «اَلْخَبِيرُ» ”ہمیشہ باخبر“، «اَلسَّمِيعُ» ”خوب سننے والا“، «اَلْبَصِيرُ» ”خوب دیکھنے والا“، «اَلْعَلِيمُ» ”خوب جاننے والا“، «اَلْعَظِيمُ» ”خوب عظمت والا“، «اَلْبَارُّ» ”احسان کرنے والا“، «اَلْمُتَعَالُ» ”بلند“، «اَلْجَلِيلُ» ”جاہ و جلال والا“، «اَلْجَمِيلُ» ”صاحب جمال“، «اَلْحَيُّ» ”زندہ“، «اَلْقَيُّومُ» ”قائم رہنے والا اور قائم رکھنے والا“، «اَلْقَادِرُ» ”سب کچھ کر سکنے والا“، «اَلْقَاهِرُ» ”غالب“، «اَلْعَلِيُّ» ”بہت بلند“، «اَلحَكِيمُ» ”خوب حکمتوں والا“، «اَلْقَرِيبُ» ”علم و قدرت کے اعتبار سے مخلوق سے انتہائی قریب“، «اَلْمُجِيبُ» ”قبول کرنے والا“، «اَلغَنِيُّ» ”بے پروا جو کسی کا محتاج نہیں“، «اَلْوَهَّابُ» ”بہت کچھ دینے والا“، «اَلْوَدُودُ» ”بہت زیادہ محبت رکھنے والا محبوب“، «اَلشَّكُورُ» ”نہایت قدردان“، «اَلْمَاجِدُ» ”بزرگی والا“، «اَلْوَاجِدُ» ”ایسا غنی جو کبھی مفلس و محتاج نہ ہو“، «اَلْوَالِي» ”مالک و مختار“، «اَلرَّاشِدُ» ”ہدایت دینے والا“، «اَلْعَفُوُّ» ”بہت زیادہ معاف کرنے والا“، «اَلْغَفُورُ» ”بہت گناہ بخشنے والا“، «اَلْحَلِيمُ» ”ہمیشہ درگزر کرنے والا“، «اَلْكَرِيمُ» ”بے انتہا سخی، ہر قسم کی صفاتِ کمال سے متصف“، «اَلتَّوَّابُ» ”بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا“، «اَلرَّبُّ» ”مالک، پالنے والا“، «اَلْوَلِيُّ» ”مددگار“، «اَلشَّهِيدُ» ”گواہی دینے والا، ناظر“، «اَلْمُبِينُ» ”واضح کرنے والا“، «اَلْبُرْهَانُ» ”دلیل“، «اَلرَّؤُوفُ» ”بہت شفقت کرنے والا“، «اَلرَّحِيمُ» ”ہمیشہ رحم کرنے والا“، «اَلْمُبْدِئُ» ”پہلی بار پیدا کرنے والا“، «اَلْمُعِيدُ» ”دوبارہ پیدا کرنے والا“، «اَلْبَاعِثُ» ”قبروں سے اٹھانے والا“، «اَلْوَارِثُ» ”وارث (باقی رہنے والا)“، «اَلْقَوِيُّ» ”بہت زیادہ قوت والا“، «اَلشَّدِيدُ» ”سختی کرنے والا“، «اَلضَّارُّ» ”نقصان کا اختیار رکھنے والا“، «اَلنَّافِعُ» ”نفع پہنچانے والا“، «اَلْبَاقِي» ”ہمیشہ باقی رہنے والا“، «اَلْوَاقِي» ”بچانے والا، محفوظ رکھنے والا“، «اَلْخَافِضُ» ”پست کرنے والا“، «اَلرَّافِعُ» ”بلند کرنے والا“، «اَلْقَابِضُ» ”تنگی کرنے والا“، «اَلْبَاسِطُ» ”فراخی کرنے والا“، «اَلْمُعِزُّ» ”عزت دینے والا“، «اَلْمُذِلُّ» ”ذلت دینے والا“، «اَلْمُقْسِطُ» ”انصاف کرنے والا“، «اَلرَّزَّاقُ» ”رزق دینے والا“، «ذُو الْقُوَّةِ» ”قوت والا“، «اَلْمَتِينُ» ”نہایت مضبوط“، «اَلْقَائِمُ» ”ہمیشہ رہنے والا“، «اَلدَّائِمُ» ”ہمیشگی والا“، «اَلحَافِظُ» ”حفاظت کرنے والا“، «اَلْوَكِيلُ» ”کارساز“، «اَلْفَاطِرُ» ”پیدا کرنے والا“، «اَلسَّامِعُ» ”سننے والا“، «اَلْمُعْطِي» ”دینے والا“، «اَلْمُحْيِي» ”زندگی بخشنے والا“، «اَلْمُقِيتُ» ”موت دینے والا“، «اَلْمَانِعُ» ”روکنے والا“، «اَلْجَامِعُ» ”جمع کرنے والا“، «اَلْهَادِي» ”ہدایت دینے والا، رہنمائی کرنے والا“، «اَلْكَافِي» ”کفایت کرنے والا“، «اَلْاَبَدُ» ”ہمیشگی والا“، «اَلْعَالِمُ» ”جاننے والا“، «اَلصَّادِقُ» ”سچا“، «اَلنُّورُ» ”روشن“، «اَلْمُنِيرُ» ”روشنی کرنے والا“، «اَلتَّامُّ» ”مکمل“، «اَلْقَدِيمُ» ”قدیم“، «اَلْوِتْرُ» ”ایک“، «اَلْاَحَدُ» ”اکیلا“، «اَلصَّمَدُ» ”بے نیاز“، ﴿لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ٭ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 3-4] ”جس نے نہ کسی کو جنم دیا نہ اسے کسی نے جنم دیا نہ اس کا کوئی ہمسر ہے۔“ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى» ”اکیلے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہی اسی کی ہے اور تعریف بھی اسی کی ہے، اسی کے ہاتھ میں ساری بھلائی ہے اور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی کے بہترین نام ہیں۔“ ” [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3861]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13970، ومصباح الزجاجة: 1355) (ضعیف)» (سند میں عبدالملک بن محمد لین الحدیث ہیں، اور اسماء حسنیٰ کے اس سیاق سے حدیث ضعیف ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح دون عد الأسماء
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبدالملك الصنعاني: لين الحديث
وللحديث طريق آخر ضعيف عند الترمذي (3507)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 514
إسناده ضعيف
عبدالملك الصنعاني: لين الحديث
وللحديث طريق آخر ضعيف عند الترمذي (3507)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 514
11. بَابُ: دَعْوَةِ الْوَالِدِ وَدَعْوَةِ الْمَظْلُومِ
باب: ماں باپ کی دعا اولاد کے لیے اور مظلوم کی دعا کا بیان۔
حدیث نمبر: 3862
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ , عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ يُسْتَجَابُ لَهُنَّ لَا شَكَّ فِيهِنَّ: دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ , وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ , وَدَعْوَةُ الْوَالِدِ لِوَلَدِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین دعائیں ہیں جن کی قبولیت میں کوئی شک نہیں: مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا، والد (اور والدہ) کی دعا اپنی اولاد کے حق میں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3862]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین دعائیں قبول ہوتی ہیں، ان (کی قبولیت) میں کوئی شک نہیں: مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا اور والد کی اپنی اولاد کے حق میں دعا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3862]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 364 (1536)، سنن الترمذی/البروالصلة 7 (1905)، (تحفة الأشراف: 14873)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/258، 348، 478، 517، 523) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
حدیث نمبر: 3863
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى , حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ , حَدَّثَتْنَا حُبَابَةُ ابْنَةُ عَجْلَانَ , عَنْ أُمِّهَا أُمِّ حَفْصٍ , عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ جَرِيرٍ , عَنْ أُمِّ حَكِيمٍ بِنْتِ وَدَّاعٍ الْخُزَاعِيَّةِ , قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" دُعَاءُ الْوَالِدِ يُفْضِي إِلَى الْحِجَابِ".
ام حکیم بنت وداع خزاعیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”والد (اور والدہ) کی دعا حجاب الٰہی (مقام قبولیت) تک پہنچتی ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3863]
حضرت ام حکیم بنت وداع خزاعیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(ماں) ماں باپ کی دعا (اللہ تعالیٰ کے) حجاب تک پہنچ جاتی ہے (قبول ہوتی ہے)۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3863]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 18315، ومصباح الزجاجة: 1356) (ضعیف)» (سند میں حبابہ، ام حفص، اور صفیہ سب مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قال الذهبي في ميزان الإعتدال: ’’ حبابة لا تعرف،ولا أمها،ولا صفية،تفرد عنها التبوذكي‘‘ (605/4)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 515
إسناده ضعيف
قال الذهبي في ميزان الإعتدال: ’’ حبابة لا تعرف،ولا أمها،ولا صفية،تفرد عنها التبوذكي‘‘ (605/4)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 515
12. بَابُ: كَرَاهِيَةِ الاِعْتِدَاءِ فِي الدُّعَاءِ
باب: دعا میں حد سے تجاوز کرنے کی ممانعت۔
حدیث نمبر: 3864
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , أَنْبَأَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ , عَنْ أَبِي نَعَامَةَ , أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ , سَمِعَ ابْنَهُ , يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْقَصْرَ الْأَبْيَضَ عَنْ يَمِينِ الْجَنَّةِ , إِذَا دَخَلْتُهَا , فَقَالَ: أَيْ بُنَيَّ! سَلِ اللَّهَ الْجَنَّةَ وَعُذْ بِهِ مِنَ النَّارِ , فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" سَيَكُونُ قَوْمٌ يَعْتَدُونَ فِي الدُّعَاءِ".
ابونعامہ (قیس بن عبایہ) سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کو یہ دعا مانگتے سنا: «اللهم إني أسألك القصر الأبيض عن يمين الجنة إذا دخلتها» ”اللہ! جب میں جنت میں جاؤں تو مجھے جنت کی دائیں جانب سفید محل عطا فرما“، تو انہوں نے کہا: میرے بیٹے! اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرو اور جہنم سے پناہ مانگو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”عنقریب کچھ ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو دعا میں حد سے آگے بڑھ جائیں گے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3864]
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو دعا میں «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْقَصْرَ الْأَبْيَضَ عَنْ يَمِينِ الْجَنَّةِ إِذَا دَخَلْتُهَا» ”اے اللہ! میں تجھ سے درخواست کرتا ہوں کہ جب میں جنت میں داخل ہوں تو مجھے جنت کے دائیں طرف سفید محل دینا“ کہتے سنا، تو انہوں نے فرمایا: ”بیٹے! اللہ سے جنت مانگو اور (جہنم کی) آگ سے اس کی پناہ مانگو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”آئندہ ایسے لوگ ہوں گے جو دعا میں حد سے تجاوز کریں گے۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3864]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 45 (96)، (تحفة الأشراف: 9664)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/86، 187، 5/55) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے کراہت نکلی ان پر تکلف اور مسجع اور مقفی دعاؤں کی جو متاخرین نے ایجاد کیں ہیں، اور جاہل ان کے الفاظ پر فریفتہ ہو جاتے ہیں، عمدہ دعائیں وہی ہیں جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں، آپ مختصر اور جامع دعائیں پسند فرماتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
13. بَابُ: رَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي الدُّعَاءِ
باب: دعا میں دونوں ہاتھ اٹھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3865
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مَيْمُونٍ , عَنْ أَبِي عُثْمَانَ , عَنْ سَلْمَانَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" إِنَّ رَبَّكُمْ حَيِيٌّ كَرِيمٌ , يَسْتَحْيِي مِنْ عَبْدِهِ أَنْ يَرْفَعَ إِلَيْهِ يَدَيْهِ , فَيَرُدَّهُمَا صِفْرًا أَوْ قَالَ خَائِبَتَيْنِ".
سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا رب «حی» (بڑا باحیاء، شرمیلا) اور کریم ہے، اسے اس بات سے شرم آتی ہے کہ اس کا بندہ اس کے سامنے ہاتھ پھیلائے تو وہ انہیں خالی یا نامراد لوٹا دے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3865]
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمھارا پروردگار حیا دار اور سخی ہے، وہ اس بات سے شرماتا ہے کہ بندہ (دعا کے لیے) اسی کی طرف ہاتھ اٹھائے اور وہ انھیں خالی یا فرمایا: ناکام پھیر دے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3865]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 358 (1488)، سنن الترمذی/الدعوات 105 (3556)، (تحفة الأشراف: 4494)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/438) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی صالح مومن کی دعا خالی نہیں جاتی، یا تو دنیا ہی میں قبول کر لی جاتی ہے، یا پھر آخرت میں اسے اس کا بہتر بدلہ ملے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
وله شاھد حسن عند امالي المحاملي (433 وسنده حسن، /نديم ظهير)
وله شاھد حسن عند امالي المحاملي (433 وسنده حسن، /نديم ظهير)