سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب : كراهية الاعتداء في الدعاء
باب: دعا میں حد سے تجاوز کرنے کی ممانعت۔
حدیث نمبر: 3864
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , أَنْبَأَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ , عَنْ أَبِي نَعَامَةَ , أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ , سَمِعَ ابْنَهُ , يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْقَصْرَ الْأَبْيَضَ عَنْ يَمِينِ الْجَنَّةِ , إِذَا دَخَلْتُهَا , فَقَالَ: أَيْ بُنَيَّ! سَلِ اللَّهَ الْجَنَّةَ وَعُذْ بِهِ مِنَ النَّارِ , فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" سَيَكُونُ قَوْمٌ يَعْتَدُونَ فِي الدُّعَاءِ".
ابونعامہ (قیس بن عبایہ) سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کو یہ دعا مانگتے سنا: «اللهم إني أسألك القصر الأبيض عن يمين الجنة إذا دخلتها» ”اللہ! جب میں جنت میں جاؤں تو مجھے جنت کی دائیں جانب سفید محل عطا فرما“، تو انہوں نے کہا: میرے بیٹے! اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرو اور جہنم سے پناہ مانگو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”عنقریب کچھ ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو دعا میں حد سے آگے بڑھ جائیں گے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3864]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 45 (96)، (تحفة الأشراف: 9664)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/86، 187، 5/55) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے کراہت نکلی ان پر تکلف اور مسجع اور مقفی دعاؤں کی جو متاخرین نے ایجاد کیں ہیں، اور جاہل ان کے الفاظ پر فریفتہ ہو جاتے ہیں، عمدہ دعائیں وہی ہیں جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں، آپ مختصر اور جامع دعائیں پسند فرماتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
96
| سيكون في هذه الأمة قوم يعتدون في الطهور الدعاء |
سنن ابن ماجه |
3864
| سيكون قوم يعتدون في الدعاء |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3864 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3864
اردو حاشہ:
وفائدو مسائل:
(1)
دعا میں اللہ تعالی کی عظمت و احترام کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔
(2)
جوشخص جنت میں پہنچ گیا، اسے وہاں ہر وہ چیز ملے گی جس کی اسے خواہش ہوگی، اس لیے دعا میں جنت کی نعمتوں کی تفصیل بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔
(3)
جنت الفردوس کی دعا کرنا یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑوس کی دعا کرنا درست ہے کیونکہ بعض اعمال پر ان کی بشارت موجود ہے۔
وفائدو مسائل:
(1)
دعا میں اللہ تعالی کی عظمت و احترام کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔
(2)
جوشخص جنت میں پہنچ گیا، اسے وہاں ہر وہ چیز ملے گی جس کی اسے خواہش ہوگی، اس لیے دعا میں جنت کی نعمتوں کی تفصیل بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔
(3)
جنت الفردوس کی دعا کرنا یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑوس کی دعا کرنا درست ہے کیونکہ بعض اعمال پر ان کی بشارت موجود ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3864]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 96
استنجا، وضو اور غسل وغیرہ میں حد سے زیادہ پانی بہانا ناجائز ہے
«. . . سَمِعَ ابْنَهُ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْقَصْرَ الْأَبْيَضَ عَنْ يَمِينِ الْجَنَّةِ إِذَا دَخَلْتُهَا، فَقَالَ: أَيْ بُنَيَّ، سَلِ اللَّهَ الْجَنَّةَ وَتَعَوَّذْ بِهِ مِنَ النَّارِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّهُ سَيَكُونُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ قَوْمٌ يَعْتَدُونَ فِي الطَّهُورِ وَالدُّعَاءِ . . .»
”. . . ابونعامہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کو کہتے سنا: اے اللہ! میں جب جنت میں داخل ہوں تو مجھے جنت کے دائیں طرف کا سفید محل عطا فرما، آپ نے کہا: میرے بیٹے! تم اللہ سے جنت طلب کرو اور جہنم سے پناہ مانگو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: اس امت میں عنقریب ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو طہارت اور دعا میں حد سے تجاوز کریں گے . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 96]
«. . . سَمِعَ ابْنَهُ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْقَصْرَ الْأَبْيَضَ عَنْ يَمِينِ الْجَنَّةِ إِذَا دَخَلْتُهَا، فَقَالَ: أَيْ بُنَيَّ، سَلِ اللَّهَ الْجَنَّةَ وَتَعَوَّذْ بِهِ مِنَ النَّارِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّهُ سَيَكُونُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ قَوْمٌ يَعْتَدُونَ فِي الطَّهُورِ وَالدُّعَاءِ . . .»
”. . . ابونعامہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کو کہتے سنا: اے اللہ! میں جب جنت میں داخل ہوں تو مجھے جنت کے دائیں طرف کا سفید محل عطا فرما، آپ نے کہا: میرے بیٹے! تم اللہ سے جنت طلب کرو اور جہنم سے پناہ مانگو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: اس امت میں عنقریب ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو طہارت اور دعا میں حد سے تجاوز کریں گے . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 96]
فوائد و مسائل:
➊ معلوم ہوا کہ طہارت (استنجاء، وضو اور غسل وغیرہ) میں حد سے زیادہ پانی بہانا ناجائز ہے، بالخصوص استنجاء کے سلسلے میں وہم میں مبتلا رہنا، شریعت نہیں، بلکہ وضو کے بعد شرم گاہ والی جگہ پر چھینٹے مار لینے چاہییں۔
➋ دعا بھی جامع ہونی چاہیے جیسے کہ قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ماثور اور مسنون ہیں۔
➊ معلوم ہوا کہ طہارت (استنجاء، وضو اور غسل وغیرہ) میں حد سے زیادہ پانی بہانا ناجائز ہے، بالخصوص استنجاء کے سلسلے میں وہم میں مبتلا رہنا، شریعت نہیں، بلکہ وضو کے بعد شرم گاہ والی جگہ پر چھینٹے مار لینے چاہییں۔
➋ دعا بھی جامع ہونی چاہیے جیسے کہ قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ماثور اور مسنون ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 96]
قيس بن عباية الحنفي ← عبد الله بن مغفل المزني