🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. بَابُ: مَا يَدْعُو بِهِ الرَّجُلُ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ
باب: گھر سے نکلتے وقت کیا دعا پڑھے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3886
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ , حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ هَارُونَ , عَنْ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" إِذَا خَرَجَ الرَّجُلُ مِنْ بَابِ بَيْتِهِ أَوْ مِنْ بَابِ دَارِهِ كَانَ مَعَهُ مَلَكَانِ مُوَكَّلَانِ بِهِ , فَإِذَا قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ , قَالَا: هُدِيتَ , وَإِذَا قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ , قَالَا: وُقِيتَ , وَإِذَا قَالَ: تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ , قَالَا: كُفِيتَ , قَالَ: فَيَلْقَاهُ قَرِينَاهُ , فَيَقُولَانِ: مَاذَا تُرِيدَانِ مِنْ رَجُلٍ قَدْ هُدِيَ وَكُفِيَ وَوُقِيَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی اپنے گھر یا اپنے مکان کے دروازے سے باہر نکلتا ہے، تو اس کے ساتھ دو فرشتے مقرر ہوتے ہیں، جب وہ «بسم الله» کہتا ہے تو وہ دونوں فرشتے کہتے ہیں: تو نے سیدھی راہ اختیار کی، اور جب وہ آدمی «لا حول ولا قوة إلا بالله» کہتا ہے تو وہ فرشتے کہتے ہیں کہ اب تو ہر آفت سے محفوظ ہے اور جب آدمی «توكلت على الله» کہتا ہے، تو وہ دونوں فرشتے کہتے ہیں کہ اب تجھے کسی اور کی مدد کی حاجت نہیں، اس کے بعد اس شخص کے دونوں شیطان جو اس کے ساتھ رہتے ہیں وہ اس سے ملتے ہیں تو یہ فرشتے ان سے کہتے ہیں کہ اب تم اس کے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہو جس نے سیدھا راستہ اختیار کیا، تمام آفات و مصائب سے محفوظ ہو گیا، اور اللہ کی مدد کے علاوہ دوسرے کی مدد سے بے نیاز ہو گیا اور ہر ایک آفت و مصیبت سے بچا لیا گیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3886]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی اپنے گھر کے دروازے سے باہر نکلتا ہے تو اس کے ساتھ دو فرشتے ہوتے ہیں جو اس کے ساتھ مقرر ہیں۔ جب وہ کہتا ہے: «بِسْمِ اللّٰهِ» تو وہ کہتے ہیں: تجھے ہدایت مل گئی۔ جب وہ کہتا ہے: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ» تو وہ کہتے ہیں: تیری حفاظت ہو گئی۔ جب وہ کہتا ہے: «تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ» تو وہ کہتے ہیں: تو (اللہ کے سوا) دوسروں سے بے نیاز ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اسے اس کے (ساتھ رہنے والے) دو شیطان ملتے ہیں تو وہ دونوں (آپس میں) کہتے ہیں: اس شخص سے تم کیا چاہتے ہو جس کی رہنمائی کی گئی، جسے بے نیازی حاصل ہو گئی اور جس کو (ہم سے) محفوظ کر دیا گیا؟ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3886]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13972، ومصباح الزجاجة: 1360) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (ہارون بن ہارون ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
هارون بن هارون: ضعيف
ولبعض الحديث شواهد ضعيفة عند أبي داود (5095) وغيره
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 515

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. بَابُ: مَا يَدْعُو بِهِ إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ
باب: گھر میں داخل ہوتے وقت کیا دعا پڑھے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3887
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ , حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ , عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ بَيْتَهُ , فَذَكَرَ اللَّهَ عِنْدَ دُخُولِهِ وَعِنْدَ طَعَامِهِ , قَالَ الشَّيْطَانُ: لَا مَبِيتَ لَكُمْ وَلَا عَشَاءَ , وَإِذَا دَخَلَ وَلَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ عِنْدَ دُخُولِهِ , قَالَ الشَّيْطَانُ: أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ , فَإِذَا لَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ عِنْدَ طَعَامِهِ , قَالَ: أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ وَالْعَشَاءَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب آدمی گھر میں داخل ہوتے وقت اور کھانا کھاتے وقت اللہ کا ذکر کرتا (یعنی بسم اللہ کہتا) ہے، تو شیطان اپنے لشکر سے کہتا ہے کہ آج یہاں نہ تمہاری رات گزر سکتی ہے (یعنی نہ سونے کی جگہ تم کو مل سکتی ہے) اور نہ تمہیں کھانا مل سکتا ہے، اور جب آدمی گھر میں بغیر اللہ کا ذکر کئے (یعنی بغیر بسم اللہ کہے) داخل ہوتا ہے، تو شیطان (اپنے لشکر سے) کہتا ہے کہ تم نے سونے کی جگہ پا لی، اگر آدمی کھانے کے وقت بھی اللہ کا نام نہیں لیتا ہے، تو شیطان کہتا ہے کہ تم نے کھانے اور سونے دونوں کی جگہ پا لی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3887]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا: جب آدمی اپنے گھر میں داخل ہوتا ہے اور داخل ہوتے وقت اور کھانا کھاتے وقت اللہ کا نام لیتا ہے تو شیطان (اپنے ساتھیوں سے) کہتا ہے: تمہارے لیے (یہاں) نہ رات گزارنے کی جگہ ہے نہ رات کا کھانا ہے۔ اور جب وہ گھر میں داخل ہوتے وقت اللہ کا نام نہ لے تو شیطان (اپنے ساتھیوں سے) کہتا ہے: تمہیں رات گزارنے کی جگہ مل گئی۔ اور جب کھانا کھاتے وقت بھی اللہ کا نام نہ لے تو وہ کہتا ہے: تمہیں رات گزارنے کو ٹھکانا بھی مل گیا اور رات کا کھانا بھی مل گیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3887]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الأشربة 13 (2018)، سنن ابی داود/الأطعمة 16 (3765)، (تحفة الأشراف: 2797)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/346، 383) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. بَابُ: مَا يَدْعُو بِهِ الرَّجُلُ إِذَا سَافَرَ
باب: سفر کرتے وقت کون سی دعا پڑھے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3888
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ , وَأَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ , قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: وَقَالَ عَبْدُ الرَّحِيمِ: يَتَعَوَّذُ , إِذَا سَافَرَ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ , وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ , وَالْحَوْرِ بَعْدَ الْكَوْرِ , وَدَعْوَةِ الْمَظْلُومِ , وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ" , وَزَادَ أَبُو مُعَاوِيَةَ , فَإِذَا رَجَعَ , قَالَ: مِثْلَهَا.
عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کرتے تو یہ دعا پڑھتے: (اور عبدالرحیم کی روایت میں ہے کہ آپ پناہ مانگتے تھے): «اللهم إني أعوذ بك من وعثاء السفر وكآبة المنقلب والحور بعد الكور ودعوة المظلوم وسوء المنظر في الأهل والمال» اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں سفر کی صعوبتوں اور مشقتوں سے، واپسی کے غم سے، ترقی کے بعد تنزلی سے، اور مظلوم کی بد دعا سے اور اہل و عیال کے سلسلے میں برا منظر دیکھنے سے۔ اور ابومعاویہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ سفر سے لوٹتے وقت بھی یہی دعا پڑھتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3888]
حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر اختیار فرماتے تو فرماتے اور (راویِ حدیث) عبدالرحیم نے کہا: (ان الفاظ کے ذریعے سے) پناہ مانگتے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ، وَالْحَوْرِ بَعْدَ الْكَوْرِ، وَدَعْوَةِ الْمَظْلُومِ، وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ» یا اللہ! میں سفر کی مشقت سے، پریشان کن واپسی سے، کمال کے بعد تنزل سے، مظلوم کی بد دعا سے اور اہل عیال و مال میں بری صورت حال نظر آنے سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ راویِ حدیث ابو معاویہ یہ اضافہ بھی بیان کرتے ہیں: اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے واپس تشریف لاتے تو یہی دعا پڑھتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3888]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المناسک 75 (1343)، سنن الترمذی/الدعوات 42 (3439)، سنن النسائی/الاستعاذة 41 (5500)، (تحفة الأشراف: 5320)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/82، 83)، سنن الدارمی/الاستئذان 42 (2714) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. بَابُ: مَا يَدْعُو بِهِ الرَّجُلُ إِذَا رَأَى السَّحَابَ وَالْمَطَرَ
باب: بادل اور بارش دیکھنے کے وقت کیا دعا پڑھے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3889
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ , عَنْ أَبِيهِ الْمِقْدَامِ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ , أَنَّ ّالنَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ إِذَا رَأَى سَحَابًا مُقْبِلًا مِنْ أُفُقٍ مِنَ الْآفَاقِ , تَرَكَ مَا هُوَ فِيهِ , وَإِنْ كَانَ فِي صَلَاتِهِ , حَتَّى يَسْتَقْبِلَهُ , فَيَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا أُرْسِلَ بِهِ" , فَإِنْ أَمْطَرَ , قَالَ:" اللَّهُمَّ سَيْبًا نَافِعًا" , مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً , وَإِنْ كَشَفَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَمْ يُمْطِرْ ," حَمِدَ اللَّهَ" عَلَى ذَلِكَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب آسمان کے کسی کنارے سے اٹھتے بادل کو دیکھتے تو جس کام میں مشغول ہوتے اسے چھوڑ دیتے، یہاں تک کہ اگر نماز میں (بھی) ہوتے تو بادل کی طرف چہرہ مبارک کرتے، اور یہ دعا ما نگتے: «اللهم إنا نعوذ بك من شر ما أرسل به» اے اللہ ہم تیری پناہ مانگتے ہیں اس چیز کے شر سے جو اس کے ساتھ بھیجی گئی ہے پھر اگر بارش شروع ہو جاتی تو فرماتے: «اللهم سيبا نافعا» اے اللہ جاری اور فائدہ دینے والا پانی عنایت فرما، دو یا تین مرتبہ یہی الفاظ دہراتے اور اگر اللہ تعالیٰ بادل ہٹا دیتا اور بارش نہ ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر اللہ کا شکر ادا کرتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3889]
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی افق سے بادل آتا دیکھتے تو جس کام میں بھی مشغول ہوتے، خواہ نماز ہی میں کیوں نہ ہوتے، اسے چھوڑ کر بادل کی طرف متوجہ ہو جاتے اور فرماتے: «اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا أُرْسِلَ بِهِ» یا اللہ! ہم اس چیز کے شر سے تیری پناہ میں آتے ہیں جو کچھ دے کر یہ (بادل) بھیجا گیا ہے۔ اگر بارش شروع ہو جاتی تو دو بار یا تین بار فرماتے: «اللَّهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا» یا اللہ! اس بارش کو فائدہ مند بنا دے۔ اگر بارش نہ ہوتی اور اللہ تعالیٰ بادل کو ہٹا دیتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کا شکر کرتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3889]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأدب 113 (5099)، سنن النسائی/الاستسقاء 15 (1522)، (تحفة الأشراف: 16146)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/بدء الخلق 5 (3206)، تفسیرسورةالأحقاف 2 (4829)، الأدب 68 (5099)، صحیح مسلم/الاستسقاء 3 (899)، سنن الترمذی/تفسیرالقرآن 46 (3257)، مسند احمد (6/190) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اگلی امتوں پر بادل کی شکل میں اللہ کا عذاب آیا تھا، اس لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بادل دیکھتے تو عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3890
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ حَبِيبِ بْنِ أَبِي الْعِشْرِينَ , حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ , أَخْبَرَنِي نَافِعٌ , أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَهُ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ إِذَا رَأَى الْمَطَرَ , قَالَ:" اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ صَيِّبًا هَنِيئًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بارش کو دیکھتے تو فرماتے: «اللهم اجعله صيبا هنيئا» اے اللہ! تو اس کو جاری اور بابرکت بنا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3890]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بارش دیکھتے تو فرماتے: «اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ صَيِّبًا هَنِيئًا» یا اللہ! اس بارش کو نفع بخش خوشگوار بنا دے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3890]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الاستسقاء 23 (1032)، (تحفة الأشراف: 17558)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/90، 119، 129) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3891
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ , عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , إِذَا رَأَى مَخِيلَةً , تَلَوَّنَ وَجْهُهُ وَتَغَيَّرَ , وَدَخَلَ وَخَرَجَ , وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ , فَإِذَا أَمْطَرَتْ سُرِّيَ عَنْهُ , قَالَ: فَذَكَرَتْ لَهُ عَائِشَةُ بَعْضَ مَا رَأَتْ مِنْهُ , فَقَالَ:" وَمَا يُدْرِيكِ لَعَلَّهُ كَمَا قَالَ قَوْمُ هُودٍ: فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهِ سورة الأحقاف آية 24.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بادل کو دیکھتے تو (تردد و پریشانی کی وجہ سے) آپ کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل جاتا، کبھی اندر تشریف لے جاتے کبھی باہر، کبھی آگے جاتے کبھی پیچھے، پھر جب بارش ہونے لگتی تو آپ کی یہ کیفیت ختم ہو جاتی، عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی اس کیفیت کا ذکر کیا جسے انہوں نے دیکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ تجھے کیا معلوم؟ ہو سکتا ہے یہ وہی ہو جسے دیکھ کر قوم ہود نے کہا تھا: «فلما رأوه عارضا مستقبل أوديتهم قالوا هذا عارض ممطرنا بل هو ما استعجلتم به» تو جب ان لوگوں نے بادل کو اپنی وادیوں کی طرف آتے دیکھا تو کہنے لگے: یہ بادل ہے جو ہم پر پانی برسائے گا، (نہیں اس میں پانی نہیں تھا) بلکہ وہ چیز (یعنی عذاب) ہے جس کی تم جلدی مچا رہے تھے (سورۃ الاحقاف: ۲۴)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3891]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب گھٹا دیکھتے تو آپ کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل جاتا، آپ کبھی اندر تشریف لے جاتے، کبھی باہر تشریف لے آتے، کبھی (ایک طرف) آتے، کبھی (دوسری طرف) جاتے، پھر جب بارش ہونے لگتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پریشانی دور ہو جاتی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جو کیفیت محسوس کی تھی، وہ آپ کی خدمت میں عرض کی (کہ آپ کی یہ کیفیت کیوں ہوتی ہے؟) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجھے کیا معلوم؟ شاید یہ ویسا ہی بادل ہو جیسے حضرت ہود علیہ السلام کی قوم نے (ایک بادل دیکھ کر) کہا تھا: (اور اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ان کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:) ﴿فَلَمَّا رَأَوْهُ عارضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُنْطِرُنَا بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهِ﴾ [سورة الأحقاف: 24] جب انہوں نے اس (عذاب کو بادل کی صورت میں) اپنی وادیوں کی طرف آتے ہوئے دیکھا تو بولے: یہ بادل ہم پر بارش برسانے والا ہے، (حضرت ہود علیہ السلام نے کہا: نہیں) بلکہ یہ تو وہ عذاب ہے جس کی تم جلدی کر رہے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3891]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/ الاستسقاء 3 (899)، سنن الترمذی/الدعوات 42 (3449)، (تحفة الأشراف: 17385)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/240) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. بَابُ: مَا يَدْعُو بِهِ الرَّجُلُ إِذَا نَظَرَ إِلَى أَهْلِ الْبَلاَءِ
باب: مصیبت زدہ کو دیکھ کر کیا دعا پڑھے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3892
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ خَارِجَةَ بْنِ مُصْعَبٍ , عَنْ أَبِي يَحْيَى عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ , وَلَيْسَ بِصَاحِبِ ابْنِ عُيَيْنَةَ مَوْلَى آلِ الزُّبَيْرِ , عَنْ سَالِم , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ فَجِئَهُ صَاحِبُ بَلَاءٍ , فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَافَانِي مِمَّا ابْتَلَاكَ بِهِ , وَفَضَّلَنِي عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقَ تَفْضِيلًا , عُوفِيَ مِنْ ذَلِكَ الْبَلَاءِ كَائِنًا مَا كَانَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص اچانک کسی کو بلایا مصیبت میں مبتلا دیکھے تو یہ دعا پڑھے: «الحمد لله الذي عافاني مما ابتلاك به وفضلني على كثير ممن خلق تفضيلا» تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے عافیت دی اس چیز سے جس میں تجھ کو مبتلا کیا، اور مجھے اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت بخشی، تو وہ اس بلا اور مصیبت سے محفوظ رہے گا، چاہے کوئی بھی بلا اور مصیبت ہو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3892]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کو اچانک کوئی مصیبت زدہ مل جائے اور وہ (دیکھنے والا) یہ دعا پڑھ لے: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ عَافَانِيْ مِمَّا ابْتَلَاكَ بِهٖ، وَفَضَّلَنِيْ عَلٰی كَثِيْرٍ مِّمَّنْ خَلَقَ تَفْضِيْلًا» ہر قسم کی تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے اس مصیبت سے عافیت میں رکھا جس میں تجھے مبتلا کیا ہے، اور اپنے پیدا کیے ہوئے بہت سے بندوں پر اس نے مجھے فضیلت عطا فرمائی۔ تو وہ اس مصیبت سے محفوظ رہے گا، خواہ کوئی سی مصیبت ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3892]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الدعوات 38 (3431)، (تحفة الأشراف: 6787، 10528) (حسن)» ‏‏‏‏ (خارجہ بن مصعب متروک الحدیث اور ابو یحییٰ عمرو بن دینار ضعیف ہیں، اصل حدیث متابعات و شواہد کی بناء پر حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 602، 2737)
وضاحت: ۱؎: یعنی ہر قسم کی بلاؤں سے لیکن اگر یہ بلا دینی ہو جیسے کسی کو فسق اور فجور میں دیکھے تو یہ دعا پڑھے تاکہ اس شخص کو نصیحت ہو اور اگر دنیوی بلا ہو، جیسے کوڑھ، جذام وغیرہ تو آہستہ سے پڑھے کہ وہ شخص نہ سنے، اور اس کے دل کو رنج نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (3431)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 515

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں