🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. بَابُ: الْجَوَامِعِ مِنَ الدُّعَاءِ
باب: جامع دعاؤں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3847
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ , حَدَّثَنَا جَرِيرٌ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ:" مَا تَقُولُ فِي الصَّلَاةِ؟" , قَالَ: أَتَشَهَّدُ , ثُمَّ أَسْأَلُ اللَّهَ الْجَنَّةَ , وَأَعُوذُ بِهِ مِنَ النَّار , أَمَا وَاللَّهِ مَا أُحْسِنُ دَنْدَنَتَكَ وَلَا دَنْدَنَةَ مُعَاذٍ , قَالَ:" حَوْلَهَا نُدَنْدِنُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے پوچھا: تم نماز میں کیا کہتے ہو؟ اس نے کہا: میں تشہد (التحیات) پڑھتا ہوں، پھر اللہ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور جہنم سے اس کی پناہ مانگتا ہوں، لیکن اللہ کی قسم میں آپ کی اور معاذ کی گنگناہٹ اچھی طرح سمجھ نہیں پاتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم بھی تقریباً ویسے ہی گنگناتے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3847]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے پوچھا: تم نماز میں کیا پڑھتے ہو؟ اس نے کہا: میں تشہد (التحیات) پڑھتا ہوں، پھر اللہ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور (جہنم کی) آگ سے اس کی پناہ مانگتا ہوں۔ قسم ہے اللہ کی! مجھے آپ جیسی یا حضرت معاذ رضی اللہ عنہ جیسی گنگناہٹ نہیں آتی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم بھی انہی (دونوں) کے بارے میں گنگناتے (سوال کرتے) ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3847]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12363، ومصباح الزجاجة: 1347) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور معاذ رضی اللہ عنہ کی گنگناہٹ میں نہیں سمجھتا آواز تو سنتا ہوں لیکن معلوم نہیں ہوتا کہ آپ اور معاذ رضی اللہ عنہ کیا دعا مانگتے ہیں۔
۲؎: یعنی مقصود ہماری دعاؤں کا بھی یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ جنت نصیب کرے اور جہنم سے بچائے۔ آمین۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ: الدُّعَاءِ بِالْعَفْوِ وَالْعَافِيَةِ
باب: عفو اور عافیت کی دعا کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3848
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ أَخْبَرَنِي سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" سَلْ رَبَّكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ" , ثُمَّ أَتَاهُ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" سَلْ رَبَّكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ" , ثُمَّ أَتَاهُ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ , فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ , أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" سَلْ رَبَّكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ , فَإِذَا أُعْطِيتَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ , فَقَدْ أَفْلَحْتَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! کون سی دعا سب سے بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ سے دنیا اور آخرت میں عفو اور عافیت کا سوال کیا کرو، پھر وہ شخص دوسرے دن حاضر خدمت ہوا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سی دعا سب سے بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے رب سے دنیا و آخرت میں عفو اور عافیت کا سوال کیا کرو، پھر وہ تیسرے دن بھی حاضر خدمت ہوا، اور عرض کیا: اللہ کے نبی! کون سی دعا سب سے بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے رب سے دنیا و آخرت میں عفو و عافیت کا سوال کیا کرو، کیونکہ جب تمہیں دنیا اور آخرت میں عفو اور عافیت عطا ہو گئی تو تم کامیاب ہو گئے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3848]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کون سی دعا افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے رب سے دنیا اور آخرت میں معافی اور عافیت کا سوال کر۔ پھر وہ آدمی آپ کے پاس دوسرے دن حاضرِ خدمت ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کون سی دعا افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے رب سے دنیا اور آخرت میں معافی اور عافیت کا سوال کر۔ پھر وہ تیسرے دن حاضرِ خدمت ہوا اور کہا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! کون سی دعا افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے رب سے دنیا اور آخرت میں معافی اور عافیت کا سوال کر۔ جب تجھے دنیا اور آخرت میں معافی اور عافیت مل جائے گی تو یقیناً تو کامیاب ہو جائے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3848]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الدعوات 85 (3512)، (تحفة الأشراف: 869)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/127) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں سلمہ بن وردان ضعیف راوی ہیں)
وضاحت: ۱؎: بیشک عافیت میں عام بلاؤں، بیماریوں اور تکالیف سے حفاظت ہو گی، اور معافی میں گناہوں کی بخشش، اب اور کیا چاہتے ہو، یہ دو لفظ ہزاروں لفظوں کو شامل ہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (3512)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 514

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3849
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: سَمِعْتُ شُعْبَةَ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ , قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَ بْنَ عَامِرٍ يُحَدِّثُ , عَنْ أَوْسَطَ بْنِ إِسْمَاعِيل الْبَجَلِيِّ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بَكْرٍ , حِينَ قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَقَامِي هَذَا عَامَ الْأَوَّلِ , ثُمَّ بَكَى أَبُو بَكْرٍ , ثُمَّ قَالَ:" عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ فَإِنَّهُ مَعَ الْبِرِّ , وَهُمَا فِي الْجَنَّةِ , وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ فَإِنَّهُ مَعَ الْفُجُورِ , وَهُمَا فِي النَّارِ , وَسَلُوا اللَّهَ الْمُعَافَاةَ , فَإِنَّهُ لَمْ يُؤْتَ أَحَدٌ بَعْدَ الْيَقِينِ خَيْرًا مِنَ الْمُعَافَاةِ , وَلَا تَحَاسَدُوا , وَلَا تَبَاغَضُوا , وَلَا تَقَاطَعُوا , وَلَا تَدَابَرُوا , وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا".
اوسط بن اسماعیل بجلی سے روایت ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، تو انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ پچھلے سال میری اس جگہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تھے، پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے روتے ہوئے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے لیے سچائی کو لازم کر لو کیونکہ سچائی نیکی کی ساتھی ہے، اور یہ دونوں جنت میں ہوں گی، اور تم جھوٹ سے پرہیز کرو کیونکہ جھوٹ برائی کا ساتھی ہے، اور یہ دونوں جہنم میں ہوں گی، اور تم اللہ تعالیٰ سے تندرستی اور عافیت طلب کرو کیونکہ ایمان و یقین کے بعد صحت و تندرستی سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہے، تم آپس میں ایک دوسرے سے حسد اور بغض نہ کرو، قطع رحمی اور ترک تعلقات سے بچو، اور ایک دوسرے سے منہ موڑ کر پیٹھ نہ پھیرو بلکہ اللہ کے بندے بھائی بھائی بن کر رہو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3849]
حضرت اوسط بن اسماعیل بجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا: گزشتہ سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مقام پر کھڑے ہوئے جہاں میں کھڑا ہوں۔ پھر (یہ کہہ کر) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اشکبار ہو گئے۔ (اور فرمایا!) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: سچ اختیار کرو، وہ نیکی کے ساتھ ہوتا ہے، اور وہ دونوں (سچ اور نیکی اور انہیں اختیار کرنے والے) جنت میں ہوں گے۔ اور جھوٹ سے بچ کر رہو، وہ گناہ کے ساتھ ہوتا ہے، اور وہ دونوں (جھوٹ اور گناہ اور انہیں اختیار کرنے والے) جہنم میں ہوں گے۔ اور اللہ سے عافیت کا سوال کرو۔ کسی یقین (اور ایمان) کے بعد عافیت سے بہتر کوئی چیز نہیں مل سکتی۔ ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے قطع تعلق نہ کرو، ایک دوسرے سے منہ نہ موڑو، اور اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3849]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6586، ومصباح الزجاجة: 1348)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدعوات 106 (3558)، مسند احمد (1/3، 5، 7، 8) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی تمام مسلمانوں کے ساتھ محبت اور شفقت سے پیش آؤ، اور کسی مسلمان کو مت ستاؤ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3850
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ كَهْمَسِ بْنِ الْحَسَنِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَرَأَيْتَ إِنْ وَافَقْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ مَا أَدْعُو , قَالَ:" تَقُولِينَ: اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر مجھے شب قدر مل جائے تو کیا دعا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دعا کرو «اللهم إنك عفو تحب العفو فاعف عني» اے اللہ تو معاف کرنے والا ہے اور معافی و درگزر کو پسند کرتا ہے تو تو مجھ کو معاف فرما دے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3850]
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر میں لیلۃ القدر پالوں تو کیا دعا مانگوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یوں کہنا: «اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي» اے اللہ! تو بہت زیادہ معاف کرنے والا ہے، تو معاف کرنا پسند کرتا ہے، لہٰذا مجھے معاف فرما دے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3850]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الدعوات 85 (3513)، (تحفة الأشراف: 16185)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/171، 182، 183، 208) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (3513)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 514

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3851
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ هِشَامٍ صَاحِبِ الدَّسْتُوَائِيِّ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ زِيَادٍ الْعَدَوِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ دَعْوَةٍ يَدْعُو بِهَا الْعَبْدُ أَفْضَلَ مِنْ , اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْمُعَافَاةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندہ جو بھی دعا مانگتا ہے وہ اس دعا سے زیادہ بہتر نہیں ہو سکتی: (وہ دعا یہ ہے) «اللهم إني أسألك المعافاة في الدنيا والآخرة» اے اللہ میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں عافیت چاہتا ہوں۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3851]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندہ جو بھی دعا مانگتا ہے وہ اس دعا سے افضل نہیں ہوتی: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْمُعَافَاةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» اے اللہ! میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں عافیت کا سوال کرتا ہوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3851]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14282، ومصباح الزجاجة: 1349) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قتادة عنعن
وفي السند اختلاف وللحديث شاهد معنوي (بالسند المنقطع) في مجمع الزوائد (10/ 175) وقال: ’’ رواه البزار ورجاله رجال الصحيح‘‘۔قلت: ھو في كشف الأستار (4/ 51۔52 ح 3176) و قال البزار: ’’ و سالم (بن أبي الجعد) لم يسمع من أبي الدرداء ‘‘ فالسند ضعيف لانقطاعه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 514

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. بَابُ: إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ
باب: جب تم میں سے کوئی دعا کرے تو اپنے سے شروع کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3852
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ , حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَرْحَمُنَا اللَّهُ وَأَخَا عَادٍ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ ہم پر اور عاد کے بھائی (ہود علیہ السلام) پر رحم فرمائے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3852]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہم پر اور قوم عاد کی ہم نسب شخصیت (حضرت ہود علیہ السلام) پر رحم فرمائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3852]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5592، ومصباح الزجاجة: 1350) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں زید بن الحباب ہیں، جو سفیان سے احادیث کی روایت میں غلطیاں کرتے ہیں، نیز ابو اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، نیز ملاحظہ ہو: 4829)
وضاحت: ۱؎: ہود علیہ السلام قوم عاد کی طرف نبی بنا کر بھیجے گئے تھے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو إسحاق ھو الشيباني،وفيه عنعنة سفيان الثوري
وللحديث شاهد مرسل ضعيف عند ابن أبي شيبة (220/10) وحديث مسلم (2380/172) يُغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 514

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. بَابُ: يُسْتَجَابُ لأَحَدِكُمْ مَا لَمْ يَعْجَلْ
باب: دعا قبول ہوتی ہے بشرطیکہ جلدی نہ کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3853
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" يُسْتَجَابُ لِأَحَدِكُمْ مَا لَمْ يَعْجَلْ" , قِيلَ: وَكَيْفَ يَعْجَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" يَقُولُ: قَدْ دَعَوْتُ اللَّهَ فَلَمْ يَسْتَجِبْ اللَّهُ لِي".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک کی دعا قبول ہوتی ہے، بشرطیکہ وہ جلدی نہ کرے، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! جلدی کا کیا مطلب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ یوں کہتا ہے کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی لیکن اللہ تعالیٰ نے میری دعا قبول نہ کی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3853]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ایک کی دعا قبول ہوتی رہتی ہے جب تک کہ وہ جلد بازی نہ کرے۔ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ جلد بازی کس طرح کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ کہتا ہے: میں نے اللہ سے دعا کی لیکن اللہ نے میری دعا قبول نہیں کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3853]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الدعوات 22 (6340)، صحیح مسلم/الذکروالدعاء 25 (2735)، سنن ابی داود/الصلاة 358 (1484)، سنن الترمذی/الدعوات 12 (3387)، (تحفة الأشراف: 2929)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القرآن 8 (29)، مسند احمد (2/396، 487) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ایسا کہنا مالک کی جناب میں بے ادبی ہے، اور مالک کا اختیار ہے جب وہ مناسب سمجھتا ہے اس وقت دعا قبول کرتا ہے، کبھی جلدی، کبھی دیر میں اور کبھی دنیا میں قبول نہیں کرتا، جب بندے کا فائدہ دعا قبول نہ ہونے میں ہوتا ہے تو آخرت کے لئے اس دعا کو اٹھا رکھتا ہے، غرض مالک کی حکمتیں اور اس کے بھید زیادہ وہی جانتا ہے، اور کسی حال میں بندے کو اپنے مالک سے مایوس نہ ہونا چاہئے، کیونکہ سوا اس کے در کے اور کونسا در ہے؟ اور وہ اپنے بندوں پر ماں باپ سے زیادہ رحیم وکریم ہے، پس بہتر یہی ہے کہ بندہ سب کام اللہ کی رضا پر چھوڑ دے اور ظاہر میں شرعی احکام کے مطابق دعا کرتا رہے، لیکن اگر دعا قبول نہ ہو تو بھی دل خوش رہے، اور یہ سمجھے کہ اس میں ضرور کوئی حکمت ہو گی، اور ہمارا کچھ فائدہ ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. بَابُ: لاَ يَقُولُ الرَّجُلُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ
باب: آدمی کو اس طرح نہیں کہنا چاہئے کہ اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھ کو بخش دے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3854
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ , عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنْ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ , وَلْيَعْزِمْ فِي الْمَسْأَلَةِ فَإِنَّ اللَّهَ لَا مُكْرِهَ لَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے، بلکہ اللہ تعالیٰ سے یقینی طور پر سوال کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ پر کوئی زور زبردستی کرنے والا نہیں ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3854]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص یوں نہ کہے: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ» اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے بلکہ اسے چاہیے کہ پختہ عزم کے ساتھ دعا مانگے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو کوئی مجبور کرنے والا نہیں ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3854]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13872)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التوحید 31 (7477)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء 3 (2679)، سنن ابی داود/الصلاة 358 (1483)، سنن الترمذی/الدعوات 78 (3497)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القرآن 8 (28)، مسند احمد (2/243، 457، 486) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. بَابُ: اسْمِ اللَّهِ الأَعْظَمِ
باب: اللہ تعالیٰ کے اسم اعظم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3855
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اسْمُ اللَّهِ الْأَعْظَمُ فِي هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ سورة البقرة آية 163 وَفَاتِحَةِ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ.
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ان دو آیات میں ہے «وإلهكم إله واحد لا إله إلا هو الرحمن الرحيم» تم سب کا معبود ایک ہی معبود ہے، اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ بہت رحم کرنے والا اور بڑا مہربان ہے (سورۃ البقرہ: ۱۶۳) اور سورۃ آل عمران کے شروع میں: «الم الله لا إله إلا هو الحي القيوم» «الم»، اللہ تعالیٰ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، جو حی و قیوم (زندہ اور سب کا نگہبان) ہے۔‏‏‏‏ (سورۃ آل عمران: ۱-۲)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3855]
حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا عظیم ترین نام (اسم اعظم) ان دو آیتوں میں ہے: ﴿وَإِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ لَّا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَٰنُ الرَّحِيمُ﴾ [سورة البقرة: 163] تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں جو نہایت مہربان، بے حد رحم کرنے والا ہے اور سورہ آل عمران کے شروع میں (یعنی) ﴿الٓمّٓ ﴿1﴾ اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ﴾ [سورة آل عمران: 1-2] ۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3855]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 358 (1496)، سنن الترمذی/الدعوات 65 (3478)، (تحفة الأشراف: 15767)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/461)، سنن الدارمی/فضائل القرآن 14 (3432) (حسن)» ‏‏‏‏ (سند میں عبید اللہ القداح ضعیف ہیں، نیز شہر بن حوشب میں بھی کلام ہے، ترمذی نے حدیث کو صحیح کہا ہے، اس کی شاہد ابوامامہ کی حدیث (3856؍أ) ہے، جس سے تقویت پاکر یہ حدیث حسن ہوئی، ملاحظہ ہو: ا لصحیحہ: 746، وصحیح ابی داود: 5؍ 234)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3856
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَلَاءِ , عَنْ الْقَاسِمِ , قَالَ:" اسْمُ اللَّهِ الْأَعْظَمُ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ فِي سُوَرٍ ثَلَاثٍ: الْبَقَرَةِ , وَآلِ عِمْرَانَ , وَطه".
قاسم کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم جس کے ذریعہ اگر دعا کی جائے تو قبول ہوتی ہے تین سورتوں میں ہے: سورۃ البقرہ، سورۃ آل عمران اور سورۃ طہٰ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3856]
حضرت قاسم بن عبدالرحمن دمشقی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اللہ کا عظیم ترین نام (اسم اعظم) جس کے ساتھ اللہ سے دعا کی جائے تو وہ قبول فرماتا ہے، تین سورتوں میں ہے: سورۂ بقرہ، سورۂ آلِ عمران اور سورۂ طہٰ میں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3856]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4921، ومصباح الزجاجة: 1351) (حسن) (ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 746)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: سورۃ بقرہ اور سورۃ آل عمران میں بھی یہی ہے: «الله لا إله إلا هو الحي القيوم» (سورة آل عمران: 2) اور سورۃ طہ میں ہے: «الله لا إله إلا هو له الأسماء الحسنى» (سورة طہ: 8) بعضوں نے کہا: «الله لا إله إلا هو الحي القيوم» یہی اسم اعظم ہے، بعضوں نے کہا صرف «الحي القيوم» ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں