🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
35. بَابُ: النَّهْىِ عَنْ الاِسْتِطَابَةِ، بِالْعَظْمِ
باب: ہڈی سے استنجاء کی ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 39
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قال: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ بْنِ سَنَّةَ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يَسْتَطِيبَ أَحَدُكُمْ بِعَظْمٍ أَوْ رَوْثٍ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ تم میں سے کوئی ہڈی یا گوبر سے استنجاء کرے ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 39]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ کوئی شخص ہڈی یا لید سے صفائی کرے۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 39]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9635)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة 33 (450) مطولاً، سنن الترمذی/الطہارة 14 (18) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: بعض روایتوں میں اس ممانعت کی علت یہ بتائی گئی ہے کہ یہ تمہارے بھائی جنوں کی خوراک ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
36. بَابُ: النَّهْىِ عَنْ الاِسْتِطَابَةِ، بِالرَّوْثِ
باب: گوبر سے استنجاء کرنے کی ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 40
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِى ابْنَ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، قال: أَخْبَرَنِي الْقَعْقَاعُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّمَا أَنَا لَكُمْ مِثْلُ الْوَالِدِ أُعَلِّمُكُمْ، إِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْخَلَاءِ فَلَا يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلَا يَسْتَدْبِرْهَا وَلَا يَسْتَنْجِ بِيَمِينِهِ". وَكَانَ" يَأْمُرُ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ وَنَهَى عَنِ الرَّوْثِ وَالرِّمَّةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے لیے باپ کے منزلے میں ہوں (باپ کی طرح ہوں)، تمہیں سکھا رہا ہوں کہ جب تم میں سے کوئی پاخانہ جائے تو قبلہ کی طرف نہ منہ کرے، نہ پیٹھ، اور نہ داہنے ہاتھ سے استنجاء کرے، آپ (استنجاء کے لیے) تین پتھروں کا حکم فرماتے، اور گوبر اور بوسیدہ ہڈی سے (استنجاء کرنے سے) آپ منع فرماتے ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 40]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے لیے باپ کی طرح ہوں، تمہیں تعلیم دیتا ہوں۔ جب تم میں سے کوئی قضائے حاجت کو جائے، تو قبلہ کی طرف منہ کرے نہ پیٹھ، اور نہ اپنے دائیں ہاتھ سے استنجا کرے۔ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تین ڈھیلوں (سے صفائی کرنے) کا حکم دیتے تھے اور لید اور ہڈی (کے ساتھ صفائی) سے منع فرماتے تھے۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 40]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 4 (8)، سنن ابن ماجہ/فیہ 16 (313)، (تحفة الأشراف: 12859)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الطہارة 17 (65) مختصراً، مسند احمد 2/247، 250، سنن الدارمی/الطہارة 14 (701) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہاں مراد مطلق ہڈی ہے جیسا کہ دوسری روایتوں میں آیا ہے، یا یہ کہا جائے کہ بوسیدہ ہڈی جو کسی کام کی نہیں ہوتی جب اسے نجاست سے آلودہ کرنے کی ممانعت ہے تو وہ ہڈی جو بوسیدہ نہ ہو بدرجہ اولیٰ ممنوع ہو گی۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
37. بَابُ: النَّهْىِ عَنْ الاِكْتِفَاءِ، فِي الاِسْتِطَابَةِ بِأَقَلَّ مِنْ ثَلاَثَةِ أَحْجَارٍ
باب: استنجاء میں تین پتھر سے کم کا استعمال منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 41
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قال: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَلْمَانَ، قال: قال لَهُ رَجُلٌ: إِنَّ صَاحِبَكُمْ لَيُعَلِّمُكُمْ حَتَّى الْخِرَاءَةَ. قال: أَجَلْ" نَهَانَا أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ أَوْ نَسْتَنْجِيَ بِأَيْمَانِنَا أَوْ نَكْتَفِيَ بِأَقَلَّ مِنْ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ".
سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے (حقارت کے انداز میں) ان سے کہا: تمہارے نبی تمہیں (سب کچھ) سکھاتے ہیں یہاں تک کہ پاخانہ کرنا (بھی)؟ تو انہوں نے (فخریہ انداز میں) کہا: ہاں! آپ نے ہمیں پاخانہ اور پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف رخ کرنے، داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنے اور (استنجاء کے لیے) تین پتھر سے کم پر اکتفا کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 41]
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ان سے کہا: تحقیق تمہارا نبی تو تمہیں ہر چیز سکھاتا ہے حتی کہ قضائے حاجت کرنا بھی۔ انہوں نے فرمایا: ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع فرمایا ہے کہ ہم قضائے حاجت کے وقت قبلے کی طرف منہ کریں، یا دائیں ہاتھ سے استنجا کریں، یا تین ڈھیلوں سے کم پر اکتفا کریں۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 41]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطہارة 17 (262)، سنن ابی داود/فیہ 4 (7)، سنن الترمذی/فیہ 12 (16)، سنن ابن ماجہ/فیہ 16 (316)، (تحفة الأشراف: 4505)، مسند احمد 5/ 437، 438، 439، یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: 49 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
38. بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي الاِسْتِطَابَةِ بِحَجَرَيْنِ
باب: دو پتھروں سے استنجاء کرنے کی اجازت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 42
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ زُهَيْرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قال: لَيْسَ أَبُو عُبَيْدَةَ ذَكَرَهُ وَلَكِنْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ، يَقُولُ:" أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغَائِطَ وَأَمَرَنِي أَنْ آتِيَهُ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، فَوَجَدْتُ حَجَرَيْنِ وَالْتَمَسْتُ الثَّالِثَ فَلَمْ أَجِدْهُ، فَأَخَذْتُ رَوْثَةً فَأَتَيْتُ بِهِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ الْحَجَرَيْنِ وَأَلْقَى الرَّوْثَةَ، وَقَالَ: هَذِهِ رِكْسٌ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: الرِّكْسُ طَعَامُ الْجِنِّ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت (پاخانے) کی جگہ میں آئے، اور مجھے تین پتھر لانے کا حکم فرمایا، مجھے دو پتھر ملے، تیسرے کی میں نے تلاش کی مگر وہ نہیں ملا، تو میں نے گوبر لے لیا اور ان تینوں کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ نے دونوں پتھر لے لیے، اور گوبر پھینک دیا ۱؎ اور فرمایا: یہ «رکس» (ناپاک) ہے۔ ابوعبدالرحمٰن النسائی کہتے ہیں: «رکس» سے مراد جنوں کا کھانا ہے ۲؎۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 42]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کو گئے اور مجھے حکم دیا کہ میں تین ڈھیلے لاؤں۔ مجھے دو ڈھیلے تو مل گئے، تیسرا تلاش کیا مگر نہ ملا، سو میں نے لید کا ٹکڑا اٹھا لیا اور انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈھیلے تو لے لیے، جب کہ لید پھینک دی اور فرمایا: یہ تو پلید ہے۔ امام ابو عبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ نے فرمایا: «رِكْسٌ» کے معنی جنوں کی خوراک ہے۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 42]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 21 (156)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطہارة 13 (17)، سنن ابن ماجہ/فیہ 16 (314)، (تحفة الأشراف: 9170)، مسند احمد 1/388، 418، 427، 450 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے دو ہی پتھر پر اکتفا کیا اس لیے کہ ہو سکتا ہے کہ آپ نے تیسرا خود اٹھا لیا ہو، نیز مسند احمد اور سنن دارقطنی کی ایک روایت میں ہے کہ آپ نے «ائتنی بحجر» فرما کر تیسرا پتھر لانے کے لیے بھی کہا، اس کی سند صحیح ہے۔ ۲؎: لغوی اعتبار سے اس کا ثبوت محل نظر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
39. بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي الاِسْتِطَابَةِ بِحَجَرٍ وَاحِدٍ
باب: ایک پتھر سے استنجاء کرنے کی اجازت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 43
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا اسْتَجْمَرْتَ فَأَوْتِرْ".
سلمہ بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب استنجاء کرو تو طاق (ڈھیلا) استعمال کرو ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 43]
حضرت سلمہ بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تو ڈھیلے استعمال کرے تو طاق استعمال کر۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 43]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطہارة 21 (27)، سنن ابن ماجہ/فیہ 44 (406)، (تحفة الأشراف: 4556)، مسند احمد 4/ 313، 339، 340، «کلہم بزیادة إذا توضأت فانثر، ویأتي عند المؤلف برقم: 89، بزیادة اذا توضات فاستنثر» (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مؤلف کا استدلال «فأوتر‏» کے لفظ سے ہے جو مطلق لفظ ہے اور ایک پتھر کے کافی ہونے کو بھی وتر کہیں گے لیکن اس کے جواب میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ مطلق مقید پر محمول کیا جاتا ہے، یعنی طاق سے مراد تین یا تین سے زیادہ پانچ وغیرہ مراد ہے، کیونکہ اصول یہ ہے ایک حدیث دوسرے حدیث کی وضاحت کرتی ہے اور تین کی قید حدیث رقم: ۴۱ میں آ چکی ہے، اس لیے طاق سے تین والا طاق مراد ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
40. بَابُ: الاِجْتِزَاءِ فِي الاِسْتِطَابَةِ بِالْحِجَارَةِ دُونَ غَيْرِهَا
باب: صرف پتھر اور ڈھیلے سے استنجاء کے کافی ہونے اور پانی کے ضروری نہ ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 44
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ قُرْطٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْغَائِطِ فَلْيَذْهَبْ مَعَهُ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، فَلْيَسْتَطِبْ بِهَا فَإِنَّهَا تَجْزِي عَنْهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی پاخانہ جائے تو اپنے ساتھ تین پتھر لے جائے، اور ان سے پاکی حاصل کرے کیونکہ یہ طہارت کے لیے کافی ہیں۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 44]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی قضائے حاجت کو جائے تو اپنے ساتھ تین ڈھیلے لے جائے اور ان سے صفائی کرے، وہ اسے کافی ہوں گے۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 44]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 21 (40)، (تحفة الأشراف: 16757)، مسند احمد 6/ 108، 133، سنن الدارمی/الطہارة 11 (697) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
41. بَابُ: الاِسْتِنْجَاءِ بِالْمَاءِ
باب: پانی سے استنجاء کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 45
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا النَّضْرُ، قال: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، قال: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ أَحْمِلُ أَنَا وَغُلَامٌ مَعِي نَحْوِي إِدَاوَةً مِنْ مَاءٍ فَيَسْتَنْجِي بِالْمَاءِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کی جگہ میں داخل ہونے کا ارادہ فرماتے تو میں اور میرے ساتھ مجھ ہی جیسا ایک لڑکا دونوں پانی کا برتن لے جا کر رکھتے، تو آپ پانی سے استنجاء فرماتے۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 45]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلا میں داخل ہوتے تو میں اور میرے ساتھ مجھ جیسا کوئی اور لڑکا پانی کا برتن اٹھاتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پانی سے استنجا کرتے۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 45]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 15 (150)، 16 (150)، 17 (152)، الصلاة 93 (500)، صحیح مسلم/الطہارة 21 (271)، سنن ابی داود/فیہ 23 (43)، (تحفة الأشراف: 1094)، مسند احمد 3/112، 171، 203، 259، 284، سنن الدارمی/الطہارة 15 (702، 703) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 46
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُعَاذَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قالت:" مُرْنَ أَزْوَاجَكُنَّ أَنْ يَسْتَطِيبُوا بِالْمَاءِ، فَإِنِّي أَسْتَحْيِيهِمْ مِنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ تم عورتیں اپنے شوہروں سے کہو کہ وہ پانی سے استنجاء کریں، کیونکہ میں ان سے یہ کہنے میں شرماتی ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 46]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عورتوں سے فرمایا: اپنے خاوندوں سے کہو کہ وہ پانی سے صفائی کیا کریں، مجھے ان سے یہ بات کہتے ہوئے شرم آتی ہے، بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانی سے صفائی کیا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 46]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطہارة 15 (19)، (تحفة الأشراف: 17970)، مسند احمد 6/113، 114، 120، 130، 171، 236 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
42. بَابُ: النَّهْىِ عَنْ الاِسْتِنْجَاءِ، بِالْيَمِينِ
باب: داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنے کی ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 47
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: أَنْبَأَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا شَرِبَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَتَنَفَّسْ فِي إِنَائِهِ، وَإِذَا أَتَى الْخَلَاءَ فَلَا يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ وَلَا يَتَمَسَّحْ بِيَمِينِهِ".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی پانی پئیے تو اپنے برتن میں سانس نہ لے، اور جب قضائے حاجت کے لیے آئے تو اپنے داہنے ہاتھ سے ذکر (عضو تناسل) نہ چھوئے، اور نہ اپنے داہنے ہاتھ سے استنجاء کرے ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 47]
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی پیے تو برتن میں (پیتے ہوئے) سانس نہ لے اور جب قضائے حاجت کرے تو دائیں ہاتھ سے اپنی شرم گاہ نہ چھوئے اور نہ دائیں ہاتھ سے استنجا ہی کرے۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 47]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 24 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: بعض علماء نے داہنے ہاتھ سے عضو تناسل کے چھونے کی ممانعت کو بحالت پیشاب خاص کیا ہے، کیونکہ ایک روایت میں «إذا بال أحدکم فلا یمس ذکرہ» کے الفاظ وارد ہیں، اور ایک دوسری روایت میں «لا يمسكن أحدكم ذكره بيمينه وهو يبول» آیا ہے، اس لیے ان لوگوں نے مطلق کو مقید پر محمول کیا ہے، اور نووی نے حالت استنجاء اور غیر استنجاء میں کوئی تفریق نہیں کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب حالت استنجاء میں اس کی ممانعت ہے جب کہ اس کی ضرورت پڑتی ہے، تو دوسری حالتوں میں جب کہ اس کی ضرورت نہیں پڑتی بدرجہ اولیٰ ممنوع ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 48
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ يحْيَى بْنِ أَبِى كَثِيرٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يَتَنَفَّسَ فِي الْإِنَاءِ وَأَنْ يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ وَأَنْ يَسْتَطِيبَ بِيَمِينِهِ".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں سانس لینے سے، داہنے ہاتھ سے عضو تناسل چھونے سے اور داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنے سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 48]
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ کوئی شخص برتن میں سانس لے، اپنی شرم گاہ کو دائیں ہاتھ سے چھوئے یا دائیں ہاتھ سے صفائی (استنجا) کرے۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 48]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 24 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں