🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
42. بَابُ: النَّهْىِ عَنْ الاِسْتِنْجَاءِ، بِالْيَمِينِ
باب: داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنے کی ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 49
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَشُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفَيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَالْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَلْمَانَ، قال: قال الْمُشْرِكُونَ: إِنَّا لَنَرَى صَاحِبَكُمْ يُعَلِّمُكُمُ الْخِرَاءَةَ، قال: أَجَلْ" نَهَانَا أَنْ يَسْتَنْجِيَ أَحَدُنَا بِيَمِينِهِ وَيَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ، وَقَالَ: لَا يَسْتَنْجِي أَحَدُكُمْ بِدُونِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ".
سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مشرکوں نے (حقارت کے انداز میں) کہا کہ ہم تمہارے نبی کو دیکھتے ہیں کہ وہ تمہیں پاخانہ (تک) کی تعلیم دیتے ہیں، تو انہوں نے (فخریہ) کہا: ہاں، آپ نے ہمیں داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنے اور (بحالت قضائے حاجت) قبلہ کا رخ کرنے سے منع فرمایا، نیز فرمایا: تم میں سے کوئی تین پتھروں سے کم میں استنجاء نہ کرے ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 49]
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ مشرکین نے (استہزاء) کہا: ہم دیکھتے ہیں کہ تمہارا نبی تمہیں قضائے حاجت کا طریقہ بھی بتاتا ہے۔ انہوں نے فرمایا: ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص داہنے ہاتھ سے استنجا کرے یا قبلہ رخ بیٹھے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص تین سے کم ڈھیلوں سے استنجا نہ کرے۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 49]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 41 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ابن حزم کہتے ہیں کہ «بدون ثلاثۃ احجار» میں «دون» ، «اقل» کے معنی میں یا «غیر» کے معنی میں ہے، لہٰذا نہ تین پتھر سے کم لینا درست ہے نہ زیادہ، اور بعض لوگوں نے کہا ہے «دون» کو «غیر» کے معنی میں لینا غلط ہے، یہاں دونوں سے مراد «اقل» ہے جیسے «ليس فيما دون خمس من الأبل صدقة» میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
43. بَابُ: دَلْكِ الْيَدِ بِالأَرْضِ بَعْدَ الاِسْتِنْجَاءِ
باب: استنجاء کے بعد زمین پر ہاتھ رگڑنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 50
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، قال: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ، فَلَمَّا اسْتَنْجَى دَلَكَ يَدَهُ بِالْأَرْضِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، جب آپ نے (اس سے پہلے) استنجاء کیا تو اپنے ہاتھ کو زمین پر رگڑا ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 50]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا، (اس سے پہلے) جب استنجے سے فارغ ہوئے تو ہاتھ زمین پر ملا۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 50]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14887)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة 24 (45)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 29 (358)، 41 (473)، مسند احمد 2/311، 454، سنن الدارمی/الطہارة 15 (703) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: تاکہ ہاتھ اچھی طرح صاف ہو جائے، اور نجاست کا اثر کلی طور پر زائل ہو جائے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 51
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قال: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ حَرْبٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيُّ، قال: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَى الْخَلَاءَ فَقَضَى الْحَاجَةَ، ثُمَّ قَالَ:" يَا جَرِيرُ، هَاتِ طَهُورًا، فَأَتَيْتُهُ بِالْمَاءِ فَاسْتَنْجَى بِالْمَاءِ، وَقَالَ: بِيَدِهِ فَدَلَكَ بِهَا الْأَرْضَ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا أَشْبَهُ بِالصَّوَابِ مِنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ، وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَعْلَمُ.
جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ قضائے حاجت کی جگہ میں آئے، اور آپ نے حاجت پوری کی، پھر فرمایا: جریر! پانی لاؤ، میں نے پانی حاضر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی سے استنجاء کیا، اور راوی نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کو زمین پر رگڑا۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 51]
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ بیت الخلا میں گئے، قضائے حاجت کی، پھر آپ نے فرمایا: اے جریر! پانی لاؤ۔ میں پانی لایا، آپ نے اس سے استنجا کیا، پھر اپنا ہاتھ زمین پر ملا۔ ابو عبدالرحمٰن (امام نسائی رحمہ اللہ) نے فرمایا: یہ حدیث شریک کی روایت سے زیادہ درست ہے، «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» اور اللہ بہتر جانتا ہے۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 51]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الطہارة 29 (359)، سنن الدارمی/الطہارة 16 (706)، (تحفة الأشراف: 3207) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
44. بَابُ: التَّوْقِيتِ فِي الْمَاءِ
باب: گندگی پڑنے سے نجس نہ ہونے والے پانی کے مقدار کی تحدید۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 52
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ وَالْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَاءِ وَمَا يَنُوبُهُ مِنَ الدَّوَابِّ وَالسِّبَاعِ، فَقَالَ:" إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يَحْمِلِ الْخَبَثَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس پانی کے بارے میں پوچھا گیا جس پر چوپائے اور درندے آتے جاتے ہوں؛ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب پانی دو قلہ ۱؎ ہو تو وہ گندگی کو اثر انداز نہیں ہونے دے گا یعنی اسے دفع کر دے گا؟ ۲؎۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 52]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس پانی کے بارے میں پوچھا گیا جس پر عام جانور اور درندے (پانی پینے اور نہانے کے لیے) آتے جاتے رہتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يَحْمِلِ الْخَبَثَ» جب پانی دو مٹکے (یا اس سے زائد) ہو تو وہ (مذکورہ چیزوں سے) پلید نہیں ہوتا۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 52]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 33 (63)، (تحفة الأشراف: 7272)، سنن الترمذی/فیہ 50 (67)، سنن ابن ماجہ/فیہ 75 (517)، سنن الدارمی/الطہارة 55 (759)، مسند احمد 2/12، 23، 38، 107، ویأتي عند المؤلف في المیاہ 2 (برقم: 329) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ مطلب نہیں کہ وہ نجاست اٹھانے سے عاجز ہو گا کیونکہ یہ معنی لینے کی صورت میں «قلتین» (دو قلہ) کی تحدید بے معنی ہو جائے گی۔ «قُلّہ» سے مراد بڑا مٹکا ہوتا ہے کہ جس میں پانچ سو رطل پانی آتا ہے، یعنی اڑھائی مشک۔ ۲؎: حاکم کی روایت میں «لم يحمل الخبث» کی جگہ «لم ينجسه شيء» ہے، جس سے «لم يحمل الخبث» کے معنی کی وضاحت ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
45. بَابُ: تَرْكِ التَّوْقِيتِ فِي الْمَاءِ
باب: پانی کی عدم تحدید کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 53
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَالَ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَامَ عَلَيْهِ بَعْضُ الْقَوْمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَعُوهُ لَا تُزْرِمُوهُ، فَلَمَّا فَرَغَ دَعَا بِدَلْوٍ فَصَبَّهُ عَلَيْهِ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: يَعْنِي لَا تَقْطَعُوا عَلَيْهِ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی (دیہاتی) مسجد میں پیشاب کرنے لگا، تو کچھ لوگ اس پر جھپٹے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دو، کرنے دو روکو نہیں ۱؎، جب وہ فارغ ہو گیا تو آپ نے پانی منگوایا، اور اس پر انڈیل دیا۔ ابوعبدالرحمٰن (امام نسائی رحمہ اللہ) کہتے ہیں: یعنی بیچ میں نہ روکو پیشاب کر لینے دو۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 53]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ایک دیہاتی آدمی نے مسجد نبوی میں پیشاب کرنا شروع کر دیا۔ کچھ لوگ اس کی طرف بڑھے (تاکہ اسے روکیں) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے رہنے دو اور اس کا پیشاب نہ روکو۔ جب وہ پیشاب سے فارغ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی سے بھرا ہوا ڈول منگوایا اور پیشاب پر بہا دیا۔ ابو عبدالرحمٰن (امام نسائی رحمہ اللہ) نے فرمایا: «لَا تُزْرِمُوهُ» کے معنی ہیں: اس کا پیشاب نہ روکو۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 53]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 57 (219)، الأدب 35 (6025)، صحیح مسلم/الطہارة 30 (284)، سنن ابن ماجہ/فیہ 78 (528)، (تحفة الأشراف: 290)، وقد أحرجہ: سنن الدارمی/الطہارة 62 (767)، مسند احمد 3/191، 226، ویأتي عند المؤلف برقم: (330) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس میں بہت سی مصلحتیں تھیں، ایک تو یہ کہ اگر اسے بھگاتے تو وہ پیشاب کرتا ہوا جاتا جس سے ساری مسجد نجس ہو جاتی، دوسری یہ کہ اگر وہ پیشاب اچانک روک لیتا تو اندیشہ تھا کہ اسے کوئی عارضہ لاحق ہو جاتا، تیسری یہ کہ وہ گھبرا جاتا اور مسلمانوں کو بدخلق سمجھ کر اسلام ہی سے پھر جاتا وغیرہ وغیرہ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 54
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قال: بَالَ أَعْرَابِيُّ فِي الْمَسْجِدِ،" فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ فَصُبَّ عَلَيْهِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نے مسجد میں پیشاب کر دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈول پانی لانے کا حکم دیا جو اس پر ڈال دیا گیا۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 54]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے مسجد میں پیشاب کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا ایک ڈول لانے کا حکم دیا جسے اس پر بہا دیا گیا۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 54]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 59 (221)، صحیح مسلم/الطہارة 30 (284)، (تحفة الأشراف: 1657) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 55
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قال: سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى الْمَسْجِدِ فَبَالَ فَصَاحَ بِهِ النَّاسُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اتْرُكُوهُ"، فَتَرَكُوهُ حَتَّى بَالَ، ثُمَّ" أَمَرَ بِدَلْوٍ فَصُبَّ عَلَيْهِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی مسجد میں آیا اور پیشاب کرنے لگا، تو لوگ اس پر چیخے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دو (کرنے دو) تو لوگوں نے اسے چھوڑ دیا یہاں تک کہ اس نے پیشاب کر لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈول پانی لانے کا حکم دیا جو اس پر بہا دیا گیا۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 55]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی مسجد میں آیا اور پیشاب کرنے لگا۔ لوگ اسے ڈانٹنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے کر لینے دو۔ لوگوں نے اسے کچھ نہ کہا حتیٰ کہ وہ پیشاب سے فارغ ہو گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈول پانی منگوایا اور اسے اس پر بہا دیا گیا۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 55]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 56
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَامَ أَعْرَابِيٌّ فَبَالَ فِي الْمَسْجِدِ، فَتَنَاوَلَهُ النَّاسُ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَعُوهُ وَأَهْرِيقُوا عَلَى بَوْلِهِ دَلْوًا مِنْ مَاءٍ، فَإِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی اٹھا، اور مسجد میں پیشاب کرنے لگا، تو لوگ اسے پکڑنے کے لیے بڑھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اسے چھوڑ دو (پیشاب کر لینے دو) اور اس کے پیشاب پر ایک ڈول پانی بہا دو، کیونکہ تم آسانی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو، سختی کرنے والے بنا کر نہیں۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 56]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بدوی مسجد میں کھڑا ہوا اور اس نے پیشاب کرنا شروع کر دیا۔ لوگوں نے اسے جا لیا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے کچھ نہ کہو اور اس کے پیشاب پر پانی کا ایک ڈول بہا دو۔ تمہیں نرمی اور آسانی کے لیے بھیجا گیا ہے، نہ کہ سختی اور تنگی کے لیے۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 56]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 58 (220)، الأدب 80 (6128)، (تحفة الأشراف: 14111)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة 138 (380) مفصلاً، سنن الترمذی/فیہ 112 (147)، سنن ابن ماجہ/فیہ 78 (529)، مسند احمد 2/282، ویأتي عند المؤلف برقم: (331) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
46. بَابُ: الْمَاءِ الدَّائِمِ
باب: ٹھہرے ہوئے پانی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 57
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قال: حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ مِنْهُ". قَالَ عَوْفٌ: وَقَالَ خِلَاسٌ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب نہ کرے، پھر اسی سے وضو کرے۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 57]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص کھڑے پانی میں پیشاب قطعاً نہ کرے (ہوسکتا ہے) کہ پھر بعد میں اس سے وضو کر لے۔ راویِ حدیث عوف نے کہا: خلاس نے بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایسی روایت بیان کی ہے۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 57]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «حدیث عوف، عن محمد بن سیرین، عن أبي ہریرة تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14492)، وحدیث عوف، عن خلاس بن عمرو، عن أبي ہریرة تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 12304)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطہارة 51 (68)، مسند احمد 2/259، 265، 492، 529، ویأتي عند المؤلف برقم: (397) من غیر ہذا الطریق (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 58
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَتِيقٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ، ثُمَّ يَغْتَسِلُ مِنْهُ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: كَانَ يَعْقُوبُ لَا يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ إِلَّا بِدِينَارٍ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص ہرگز ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب نہ کرے، پھر اسی سے غسل کرے۔‏‏‏‏ ابو عبدالرحمٰن (امام نسائی) نے فرمایا: (میرے استاذ) یعقوب بن ابراہیم یہ حدیث دینار لیے بغیر بیان نہیں کرتے تھے۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 58]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی ٹھہرے پانی میں بالکل پیشاب نہ کرے (ہوسکتا ہے) کہ پھر بعد میں اس سے غسل کرے۔ ابو عبدالرحمٰن (امام نسائی) رحمہ اللہ نے فرمایا: (میرے استاذ) یعقوب بن ابراہیم یہ حدیث ابنِ دینار کے بغیر بیان نہیں کرتے تھے۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 58]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14579)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء 68 (239)، صحیح مسلم/الطہارة 28 (292)، مسند احمد 2/316، 346، 362، 364، سنن الدارمی/الطہارة 54 (757)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 222، 397، 398، 399، 400 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں