سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
55. بَابُ: سُؤْرِ الْحِمَارِ
باب: گدھے کے جوٹھے کا بیان۔
حدیث نمبر: 69
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قال: أَتَانَا مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَاكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ فَإِنَّهَا رِجْسٌ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منادی آیا اور اس نے کہا: اللہ اور اس کے رسول تم لوگوں کو گدھوں کے گوشت سے منع فرماتے ہیں، کیونکہ وہ ناپاک ہیں ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 69]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمارے پاس اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا منادی آیا اور اس نے کہا (اعلان کیا): «إِنَّ اللهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ، فَإِنَّهَا رِجْسٌ» ”تحقیق اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول تمہیں گھریلو گدھوں کا گوشت کھانے سے روکتے ہیں کیونکہ گدھے پلید ہیں۔“ (یا یہ گوشت حرام ہے۔) [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 69]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجہاد 130 (2991)، المغازي 38 (4198)، الذبائح 28 (5528)، سنن ابن ماجہ/الذبائح 13 (3196)، (تحفة الأشراف: 1457)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصید 5 (1940)، مسند احمد 3/111، 121، 164، سنن الدارمی/الاضاحي 21 (2034)، ویأتي عند المؤلف برقم: (4335) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جب گدھے کا گوشت ناپاک اور نجس ہے، تو اس کا جوٹھا بھی ناپاک و نجس ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
56. بَابُ: سُؤْرِ الْحَائِضِ
باب: حائضہ کے جوٹھے کا بیان۔
حدیث نمبر: 70
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت:" كُنْتُ أَتَعَرَّقُ الْعَرْقَ فَيَضَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاهُ حَيْثُ وَضَعْتُ وَأَنَا حَائِضٌ، وَكُنْتُ أَشْرَبُ مِنَ الْإِنَاءِ فَيَضَعُ فَاهُ حَيْثُ وَضَعْتُ وَأَنَا حَائِضٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں ہڈی نوچتی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا منہ اسی جگہ رکھتے جہاں میں رکھتی حالانکہ میں حائضہ ہوتی، اور میں برتن سے پانی پیتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا منہ اسی جگہ رکھتے جہاں میں رکھتی، حالانکہ میں حائضہ ہوتی۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 70]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”میں کسی ہڈی سے گوشت نوچتی تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس جگہ اپنا منہ مبارک رکھتے جہاں میں نے رکھا تھا، حالانکہ میں حیض کی حالت میں ہوتی تھی۔ اور میں برتن سے پانی پیتی تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس جگہ اپنا منہ رکھتے تھے جہاں میں نے لگایا تھا، حالانکہ میں حیض کی حالت میں ہوتی تھی۔“ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 70]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحیض 3 (300)، سنن ابی داود/الطہارة 103 (259)، سنن ابن ماجہ/فیہ 125 (643)، (تحفة الأشراف: 16145)، مسند احمد 6/62، 64، 127، 192، 210، 214، (یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: 280، 281، 342، 377، 380)، سنن الدارمی/الطہارة 108 (1101) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
57. بَابُ: وُضُوءِ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ جَمِيعًا
باب: مردوں اور عورتوں کے ایک ساتھ وضو کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 71
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قال: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ح وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قال: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قال:" كَانَ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ يَتَوَضَّئُونَ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمِيعًا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مرد اور عورتیں ایک ساتھ (یعنی ایک ہی برتن سے) وضو کرتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 71]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ”آدمی اور عورتیں اکٹھے وضو کر لیا کرتے تھے۔“ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 71]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 43 (193)، سنن ابی داود/الطہارة 39 (79)، سنن ابن ماجہ/فیہ 36 (381)، (تحفة الأشراف: 8350)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/فیہ 3 (15)، مسند احمد 2/4، 103، 113، (یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: 343) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے مراد میاں بیوی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
58. بَابُ: فَضْلِ الْجُنُبِ
باب: جنبی کے (غسل سے) بچے ہوئے پانی کا حکم۔
حدیث نمبر: 72
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، أَنَّهَا" كَانَتْ تَغْتَسِلُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْإِنَاءِ الْوَاحِدِ".
عروہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے انہیں خبر دی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ہی برتن سے غسل کرتی تھیں۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 72]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”میں اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتے تھے۔“ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 72]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحیض 10 (319)، سنن ابن ماجہ/فیہ 35 (376)، (تحفة الأشراف: 16586)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الغسل 2 (250)، 15 (273)، سنن ابی داود/الطھارة 39 (77)، مسند احمد 6/37، 173، 189، 191، 199، 210، 230، 231، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 229، 232-236، 345، 410، 411، 413 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
59. بَابُ: الْقَدْرِ الَّذِي يَكْتَفِي بِهِ الرَّجُلُ مِنَ الْمَاءِ لِلْوُضُوءِ
باب: پانی کی مقدار جو آدمی کے وضو کے لیے کافی ہے۔
حدیث نمبر: 73
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ، قال: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَتَوَضَّأُ بِمَكُّوكٍ وَيَغْتَسِلُ بِخَمْسَةِ مَكَاكِيَّ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مکوک پانی سے وضو اور پانچ مکوک سے غسل فرماتے تھے۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 73]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک مد پانی سے وضو فرما لیا کرتے تھے اور پانچ مد کے ساتھ غسل فرما لیا کرتے تھے۔“ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 73]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 47 (201)، صحیح مسلم/الحیض 10 (325)، سنن ابی داود/الطہارة 44 (95)، سنن الترمذی/الصلاة 312 (609)، (تحفة الأشراف: 962)، مسند احمد 3/112، 116، 179، 259، 282، 290، سنن الدارمی/الطہارة 23 (716)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 230، 346 (صحیح)»
وضاحت: مکوک سے مراد یہاں مد ہے، اور ایک قول کے مطابق صاع ہے لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے، اس لیے کہ ایک روایت میں مکوک کی تفسیر مد سے کی گئی ہے، اور مد اہل حجاز کے نزدیک ایک رطل اور تہائی رطل کا ہوتا ہے، اور اہل عراق کے نزدیک دو رطل کا ہوتا ہے، اس حساب سے صاع جو چار مد کا ہوتا ہے اہل حجاز کے نزدیک پانچ رطل کا ہو گا، اور اہل عراق کے نزدیک آٹھ رطل کا ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 74
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، ثُمَّ ذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبٍ، قال: سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ تَمِيمٍ، يُحَدِّثُ عَنْ جَدَّتِي وَهِيَ أُمُّ عُمَارَةَ بِنْتُ كَعْبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ فَأُتِيَ بِمَاءٍ فِي إِنَاءٍ قَدْرَ ثُلُثَيِ الْمُدِّ". قَالَ شُعْبَةُ: فَأَحْفَظُ أَنَّهُ غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ وَجَعَلَ يَدْلُكُهُمَا وَيَمْسَحُ أُذُنَيْهِ بَاطِنَهُمَا". وَلَا أَحْفَظُ أَنَّهُ مَسَحَ ظَاهِرَهُمَا.
ام عمارہ بنت کعب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کا ارادہ کیا تو آپ کی خدمت میں ایک برتن میں دو تہائی مد کے بقدر پانی لایا گیا، (شعبہ کہتے ہیں: مجھے اتنا اور یاد ہے کہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو دھویا، اور انہیں ملنے اور اپنے دونوں کانوں کے داخلی حصے کا مسح کرنے لگے، اور مجھے یہ نہیں یاد کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اوپری (ظاہری) حصے کا مسح کیا۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 74]
حضرت ام عمارہ بنت کعب رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کا ارادہ فرمایا، تو آپ کے پاس ایک برتن میں پانی لایا گیا جو دو تہائی مد کے برابر تھا۔ شعبہ کہتے ہیں: ”مجھے یاد ہے کہ آپ نے (دوران وضو میں) اپنے بازو مل مل کر دھوئے اور اپنے کانوں کے اندرونی حصے کا مسح کیا۔ اور بیرونی حصے کے مسح کا مجھے یاد نہیں۔“ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 74]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 44 (94)، (تحفة الأشراف: 18336) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
60. بَابُ: النِّيَّةِ فِي الْوُضُوءِ
باب: وضو میں نیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 75
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، عَنْ حَمَّادٍ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، ح وأَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَنْكِحُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، آدمی کے لیے وہی چیز ہے جس کی اس نے نیت کی، تو جس نے اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کی تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہو گی، اور جس نے دنیا کے حصول یا کسی عورت سے شادی کرنے کی غرض سے ہجرت کی تو اس کی ہجرت اسی چیز کے واسطے ہو گی جس کے لیے اس نے ہجرت کی“ ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 75]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اعمال کا اعتبار نیت سے ہے۔ ہر آدمی کو اس کی نیت کے مطابق اجر ملے گا، چنانچہ جس شخص کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی خاطر ہے تو اس آدمی کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف سمجھی جائے گی اور جس شخص کی ہجرت دنیا حاصل کرنے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کی خاطر ہے تو اس کی ہجرت اس چیز کی طرف سمجھی جائے گی جس کی خاطر اس نے ہجرت کی۔“ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 75]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/بدء الوحي 1 (1)، الایمان 41 (54)، العتق 6 (2529)، مناقب الأنصار45 (3898)، النکاح 5 (5070)، الأیمان والنذر 23 (6689)، الحیل 1 (6953)، صحیح مسلم/الإمارة 45 (1907)، سنن ابی داود/الطلاق 11 (2201)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد 16 (1647)، سنن ابن ماجہ/الزھد 26 (4227)، (تحفة الأشراف: 10612)، مسند احمد 1/25، 43، ویأتيعند المؤلف بأرقام: 3467، 3825 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث کی بنیاد پر علماء کا اتفاق ہے کہ اعمال میں نیت ضروری ہے، اور نیت کے مطابق ہی اجر ملے گا، اور نیت کا محل دل ہے یعنی دل میں نیت کرنی ضروری ہے، زبان سے اس کا اظہار ضروری نہیں، بلکہ یہ بدعت ہے سوائے ان صورتوں کے جن میں زبان سے نیت کرنا دلائل و نصوص سے ثابت ہے، جیسے حج و عمرہ وغیرہ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
61. بَابُ: الْوُضُوءِ مِنَ الإِنَاءِ .
باب: برتن سے وضو کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 76
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قال: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَحَانَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ فَالْتَمَسَ النَّاسُ الْوَضُوءَ فَلَمْ يَجِدُوهُ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوءٍ فَوَضَعَ يَدَهُ فِي ذَلِكَ الْإِنَاءِ، وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَتَوَضَّئُوا فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْبُعُ مِنْ تَحْتِ أَصَابِعِهِ حَتَّى تَوَضَّئُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی حالت میں دیکھا کہ عصر کا وقت قریب ہو گیا تھا، تو لوگوں نے وضو کے لیے پانی تلاش کیا مگر وہ پانی نہیں پا سکے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تھوڑا سا وضو کا پانی لایا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس برتن میں اپنا ہاتھ رکھا، اور لوگوں کو وضو کرنے کا حکم دیا، تو میں نے دیکھا کہ پانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے نیچے سے ابل رہا ہے، حتیٰ کہ ان کے آخری آدمی نے بھی وضو کر لیا ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 76]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جبکہ عصر کی نماز کا وقت ہو چکا تھا۔ لوگوں نے وضو کے لیے پانی تلاش کیا مگر نہ ملا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ پانی لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دستِ مبارک اس برتن میں رکھا اور لوگوں کو وضو کرنے کا حکم دیا، چنانچہ میں نے دیکھا کہ پانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے نیچے سے (چشمہ کی طرح) پھوٹ رہا تھا حتیٰ کہ سب لوگوں نے وضو کر لیا۔“ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 76]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 32 (169)، المناقب 25 (3573)، صحیح مسلم/الفضائل3 (2279)، سنن الترمذی/المناقب 6 (3631)، موطا امام مالک/الطہارة 6 (32)، (تحفة الأشراف: 210)، مسند احمد 3/132، 147، 170، 215، 289، نحوہ، ویأتي عند المؤلف برقم: 78 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک معجزہ تھا، دوسری روایت میں ہے کہ یہ کل تین سو آدمی تھے، ایک روایت میں ہے کہ ایک ہزار پانچ سو آدمی تھے «واللہ اعلم» ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 77
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قال: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قال:" كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَجِدُوا مَاءً فَأُتِيَ بِتَوْرٍ فَأَدْخَلَ يَدَهُ، فَلَقَدْ رَأَيْتُ الْمَاءَ يَتَفَجَّرُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ، وَيَقُولُ: حَيَّ عَلَى الطَّهُورِ وَالْبَرَكَةِ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ". قَالَ الْأَعْمَشُ: فَحَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ، قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرٍ: كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: أَلْفٌ وَخَمْسُ مِائَةٍ.
عبداللہ (عبداللہ بن مسعود) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، لوگوں کو پانی نہ ملا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک طشت لایا گیا، آپ نے اس میں اپنا ہاتھ داخل کیا، تو میں نے دیکھا کہ پانی آپ کی انگلیوں کے درمیان سے ابل رہا تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”پاک کرنے والے پانی اور اللہ کی برکت پر آؤ“۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 77]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، لوگوں کو پانی نہ ملا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پانی کا ایک تھال لایا گیا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس میں رکھا، اللہ کی قسم! میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے پانی پھوٹتا دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”آؤ اس پاک پانی پر اور اللہ عزوجل کی برکت کی طرف۔“ اعمش کہتے ہیں: سالم بن ابوجعد نے مجھے بتایا کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ تم اس دن کتنے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ”پندرہ سو۔“ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 77]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9436)، مسند احمد 1/396، 401، سنن الدارمی/المقدمة 5 (30)، وحدیث جابر أخرجہ: صحیح البخاری/المناقب 25 (3576)، المغازي 35 (4152)، الأشربة 31 (5639) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
62. بَابُ: التَّسْمِيَةِ عِنْدَ الْوُضُوءِ
باب: وضو کے وقت بسم اللہ کہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 78
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قال: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، وَقَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، قال: طَلَبَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضُوءًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ مَعَ أَحَدٍ مِنْكُمْ مَاءٌ؟ فَوَضَعَ يَدَهُ فِي الْمَاءِ، وَيَقُولُ: تَوَضَّئُوا بِسْمِ اللَّهِ، فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ حَتَّى تَوَضَّئُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ". قَالَ ثَابِتٌ: قُلْتُ لِأَنَسٍ: كَمْ تُرَاهُمْ؟ قَالَ: نَحْوًا مِنْ سَبْعِينَ.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کچھ صحابہ کرام نے وضو کا پانی تلاش کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم میں سے کسی کے پاس پانی ہے؟“ (تو ایک برتن میں تھوڑا سا پانی لایا گیا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ یہ فرماتے ہوئے پانی میں ڈالا: ”بسم اللہ کر کے وضو کرو“ میں نے دیکھا کہ پانی آپ کی انگلیوں کے درمیان سے نکل رہا تھا، حتیٰ کہ ان میں سے آخری آدمی نے بھی وضو کر لیا۔ ثابت کہتے ہیں: میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ کے خیال میں وہ کتنے لوگ تھے؟ تو انہوں نے کہا: ستر کے قریب ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 78]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ نے وضو کا پانی تلاش کیا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی کے پاس کچھ پانی ہے؟“ (پانی لایا گیا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ پانی میں رکھ دیا اور فرمایا: ” «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کا نام لے کر“ وضو کرو۔“ چنانچہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے پانی نکلتا دیکھا حتیٰ کہ سب نے وضو کر لیا۔ (حضرت انس رضی اللہ عنہ کے شاگرد) ثابت رحمہ اللہ نے کہا کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”آپ کے خیال میں وہ کتنے ہوں گے؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”تقریباً ستر (70)۔“ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 78]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائی، حدیث ثابت عن أنس، (تحفة الأشراف: 484)، وحدیث قتادة عن أنس، (تحفة الأشراف: 1347)، (نیز ملاحظہ ہو: 76) (صحیح الاسناد)»
وضاحت: ۱؎: اس باب اور اس سے پہلے والے باب کی احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ ایک سے زیادہ بار پیش آیا تھا، «واللہ اعلم بالصواب» ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح