Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. بَابُ: سُؤْرِ الْكَلْبِ
باب: کتے کے جھوٹے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 336
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ وَأَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ، فَلْيُرِقْهُ ثُمَّ لِيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ ڈال دے تو (جو اس میں ہے) اسے بہا دے، پھر اسے سات مرتبہ دھو ڈالے۔ [سنن نسائي/كتاب المياه/حدیث: 336]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 66 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. بَابُ: تَعْفِيرِ الإِنَاءِ بِالتُّرَابِ مِنْ وُلُوغِ الْكَلْبِ فِيهِ
باب: کتا کے منہ ڈالنے سے برتن کو مٹی سے مانجھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 337
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، قال: سَمِعْتُ مُطَرِّفًا، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، وَرَخَّصَ فِي كَلْبِ الصَّيْدِ وَالْغَنَمِ". وَقَالَ:" إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي الْإِنَاءِ، فَاغْسِلُوهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ وَعَفِّرُوهُ الثَّامِنَةَ بِالتُّرَابِ".
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا، اور شکاری کتوں کی نیز بکریوں کی رکھوالی کرنے والے کتوں کی اجازت دی، اور فرمایا: جب کتا برتن میں منہ ڈال دے تو اسے سات مرتبہ دھو لو، اور آٹھویں دفعہ مٹی سے مانجھو۔ [سنن نسائي/كتاب المياه/حدیث: 337]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 67 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 338
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ يَزِيدَ بْنِ حُمَيْدٍ، قال: سَمِعْتُ مُطَرِّفًا يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قال:" أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، قَالَ: مَا بَالُهُمْ وَبَالُ الْكِلَابِ؟ قَالَ: وَرَخَّصَ فِي كَلْبِ الصَّيْدِ وَكَلْبِ الْغَنَمِ". وَقَالَ:" إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي الْإِنَاءِ، فَاغْسِلُوهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ وَعَفِّرُوا الثَّامِنَةَ بِالتُّرَابِ". خَالَفَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ، فَقَالَ: إِحْدَاهُنَّ بِالتُّرَابِ.
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کو کتوں سے کیا سروکار؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شکاری کتوں اور بکریوں کی رکھوالی کرنے والے کتوں کی اجازت دی، اور فرمایا: جب کتا برتن میں منہ ڈال دے تو اسے سات دفعہ دھو لو، آٹھویں دفعہ مٹی سے مانجھو، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن مغفل کی مخالفت کی ہے اور (اپنی روایت میں) یوں کہا ہے: ان میں سے ایک بار مٹی سے مانجھو ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المياه/حدیث: 338]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 67 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے پہلے ایک روایت میں «عفروه الثامنة» اور دوسری روایت میں «إحداهن بالتراب» کے الفاظ آئے ہیں، ان تینوں روایتوں میں بظاہر تعارض ہے، ان میں تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ «إحداهن» والی مبہم روایت «أولاهن» والی معین روایت پر محمول کی جائے گی، اب سات اور آٹھ کی عدد میں جو اختلاف باقی رہ گیا ہے تو سات کو وجوب، اور آٹھ کو ندب اور احتیاط پر محمول کیا جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 339
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ، فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ أُولَاهُنَّ بِالتُّرَابِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ ڈال دے تو وہ اسے سات مرتبہ دھوئے ان میں سے پہلی مرتبہ مٹی سے (مانجھے)۔ [سنن نسائي/كتاب المياه/حدیث: 339]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف 14664) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 340
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ، فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ أُولَاهُنَّ بِالتُّرَابِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ ڈال دے تو اسے سات مرتبہ دھوئے، ان میں سے پہلی مرتبہ مٹی سے (مانجھے)۔ [سنن نسائي/كتاب المياه/حدیث: 340]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 37 (73) بنحوہ وفیہ السابقة بالتراب، (تحفة الأشراف 14495) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. بَابُ: سُؤْرِ الْهِرَّةِ
باب: بلی کے جھوٹے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 341
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ حُمَيْدَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ دَخَلَ عَلَيْهَا، ثُمَّ ذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا، فَسَكَبْتُ لَهُ وَضُوءًا، فَجَاءَتْ هِرَّةٌ فَشَرِبَتْ مِنْهُ فَأَصْغَى لَهَا الْإِنَاءَ حَتَّى شَرِبَتْ، قالت كَبْشَةُ: فَرَآنِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَتَعْجَبِينَ يَا ابْنَةَ أَخِي؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قال: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ، إِنَّمَا هِيَ مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ وَالطَّوَّافَاتِ".
کبشہ بنت کعب سے روایت ہے کہ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے (پھر راوی نے ایک کلمے کا ذکر کیا جس کا مفہوم ہے) کہ میں نے ان کے لیے وضو کا پانی (لوٹے میں) ڈالا، اتنے میں ایک بلی آئی، اور اس سے پینے لگی، تو انہوں نے اس کے لیے برتن جھکا دیا یہاں تک کہ اس نے پی لیا، کبشہ کہتی ہیں: تو انہوں نے مجھے دیکھا کہ میں انہیں (تعجب سے) دیکھ رہی ہوں، تو کہنے لگے: بھتیجی! کیا تم تعجب کر رہی ہو؟ میں نے کہا: ہاں! تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: یہ ناپاک نہیں ہے، یہ تو تمہارے پاس بکثرت آنے جانے والوں اور آنے جانے والیوں میں سے ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المياه/حدیث: 341]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 68 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. بَابُ: سُؤْرِ الْحَائِضِ
باب: حائضہ کے جھوٹے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 342
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت:" كُنْتُ أَتَعَرَّقُ الْعَرْقَ، فَيَضَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاهُ حَيْثُ وَضَعْتُهُ وَأَنَا حَائِضٌ، وَكُنْتُ أَشْرَبُ مِنَ الْإِنَاءِ فَيَضَعُ فَاهُ حَيْثُ وَضَعْتُ وَأَنَا حَائِضٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اپنے دانتوں سے ہڈی سے گوشت نوچتی تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا منہ مبارک وہیں رکھتے جہاں میں نے رکھا ہوتا، اور میں حائضہ ہوتی تھی، اور میں برتن سے پانی پیتی تھی تو آپ اپنا منہ مبارک اسی جگہ رکھتے جہاں میں رکھا ہوتا، اور میں حائضہ ہوتی۔ [سنن نسائي/كتاب المياه/حدیث: 342]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 70 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي فَضْلِ الْمَرْأَةِ
باب: عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی کے استعمال کی رخصت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 343
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قال: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قال:" كَانَ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ يَتَوَضَّئُونَ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمِيعًا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مرد اور عورتیں دونوں ایک ساتھ وضو کرتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المياه/حدیث: 343]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 71 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ظاہر ہے دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے سے پہلے فارغ ہوتا، اور پانی دوسرے کے لیے بچ جاتا تو اگر یہ جائز نہ ہوتا تو وہ ایسا نہ کرتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. بَابُ: النَّهْىِ عَنْ فَضْلِ، وَضُوءِ الْمَرْأَةِ،
باب: عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی کے استعمال کی ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 344
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، قال: سَمِعْتُ أَبَا حَاجِبٍ، قال أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: وَاسْمُهُ سَوَادَةُ بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ وُضُوءِ الْمَرْأَةِ".
حکم بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد کو عورت کے وضو کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المياه/حدیث: 344]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطھارة 40 (82)، سنن الترمذی/فیہ 47 (64)، سنن ابن ماجہ/فیہ 34 (373)، (تحفة الأشراف 3421)، مسند احمد 4/213 و 5/66 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ نہی تحریمی نہیں تنزیہی ہے، (دیکھیں پچھلی حدیث)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي فَضْلِ الْجُنُبِ
باب: جنبی کے بچے ہوئے پانی کے استعمال کی رخصت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 345
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا" كَانَتْ تَغْتَسِلُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْإِنَاءِ الْوَاحِدِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ہی برتن سے غسل کرتی تھیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المياه/حدیث: 345]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 72 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس میں اور اس سے پہلے والی حدیث میں تعارض ہے، دونوں میں تطبیق اس طرح سے دی جاتی ہے کہ نہی والی روایت کو نہی تنزیہی پر محمول کیا جاتا ہے، اور اس حدیث کو بیان جواز پر۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں