🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. بَابُ: كَمْ فُرِضَتْ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ
باب: دن اور رات میں کتنی نمازیں فرض کی گئیں؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 459
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ ثَائِرَ الرَّأْسِ نَسْمَعُ دَوِيَّ صَوْتِهِ وَلَا نَفْهَمُ مَا يَقُولُ حَتَّى دَنَا، فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُ عَنْ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ"، قَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُنَّ؟ قَالَ:" لَا، إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ"، قَالَ:" وَصِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ"، قَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُ؟ قَالَ: لَا، إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ، وَذَكَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزَّكَاةَ، قَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا؟ قَالَ: لَا، إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ، فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ وَهُوَ يَقُولُ: وَاللَّهِ لَا أَزِيدُ عَلَى هَذَا وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ".
ابو سہیل اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ اہل نجد کا ایک آدمی پراگندہ سر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، ہم اس کی آواز کی بھنبھناہٹ سن رہے تھے، لیکن جو کہہ رہا تھا اسے سمجھ نہیں پا رہے تھے، یہاں تک کہ وہ قریب آ گیا، تو معلوم ہوا کہ وہ اسلام کے متعلق پوچھ رہا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: (اسلام) دن اور رات میں پانچ وقت کی نماز پڑھنا ہے، اس نے پوچھا: کیا میرے اوپر ان کے علاوہ بھی ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، الا یہ کہ تم نفل پڑھو، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ماہ رمضان کا روزہ ہے، اس نے پوچھا: اس کے علاوہ بھی کوئی روزہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، الا یہ کہ تم نفل رکھو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے زکوٰۃ کا بھی ذکر کیا، تو اس نے پوچھا: کیا میرے اوپر اس کے علاوہ بھی کچھ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، الا یہ کہ تم نفل صدقہ دو، پھر وہ آدمی پیٹھ پھیر کر جانے لگا، اور وہ کہہ رہا تھا: قسم اللہ کی! میں اس سے نہ زیادہ کروں گا نہ کم، (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کامیاب ہو گیا اگر اس نے سچ کہا۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 459]
حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نجد والوں میں سے ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس کے سر کے بال بکھرے ہوئے تھے، ہم اس کی آواز کی بھنبھناہٹ تو سنتے تھے لیکن ہمیں اس کی بات سمجھ نہیں آ رہی تھی حتیٰ کہ وہ قریب آ گیا تو ناگہاں وہ اسلام کے بارے میں پوچھنے لگا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: دن اور رات میں پانچ نمازیں ہیں۔ اس نے کہا: کیا ان کے علاوہ بھی کوئی نماز مجھ پر فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، مگر یہ کہ تو نفل پڑھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور ماہ رمضان کے روزے ہیں۔ اس نے کہا: کیا ان کے علاوہ بھی کوئی روزہ مجھ پر فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، مگر یہ کہ تو نفل روزے رکھے۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے زکاۃ کا ذکر فرمایا، اس نے کہا: کیا اس کے علاوہ بھی مجھ پر کچھ (مالی صدقہ) فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، مگر یہ کہ تو نفلی صدقہ دے۔ وہ آدمی واپس مڑا اور کہہ رہا تھا: اللہ کی قسم! نہ اس سے زائد کروں گا نہ اس میں کمی کروں گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ سچا ہوا تو کامیاب رہا۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 459]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإیمان 34 (46)، والصوم 1 (1891)، والشہادات 26 (2678)، والحیل 3 (6956)، صحیح مسلم/الإیمان 2 (11)، سنن ابی داود/الصلاة 1 (391، 392)، الأیمان والنذور 5 (3252)، صحیح مسلم/قصر الصلاة 25 (94)، (تحفة الأشراف: 5009)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 2092، 5031، مسند احمد 1/126، سنن الدارمی/الصلاة 208 (1619) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 460
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قال: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَمْ افْتَرَضَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى عِبَادِهِ مِنَ الصَّلَوَاتِ؟ قَالَ:" افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَى عِبَادِهِ صَلَوَاتٍ خَمْسًا"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ قَبْلَهُنَّ أَوْ بَعْدَهُنَّ شَيْئًا؟ قَالَ:" افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَى عِبَادِهِ صَلَوَاتٍ خَمْسًا"، فَحَلَفَ الرَّجُلُ لَا يَزِيدُ عَلَيْهِ شَيْئًا وَلَا يَنْقُصُ مِنْهُ شَيْئًا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ صَدَقَ لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک آدمی نے دریافت کیا: اللہ کے رسول! اللہ عزوجل نے اپنے بندوں پر کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں، اس نے دریافت کیا: اللہ کے رسول! کیا ان سے پہلے یا بعد میں بھی کوئی چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں ہی فرض کی ہیں، تو اس آدمی نے قسم کھائی کہ وہ نہ اس پر کوئی اضافہ کرے گا، اور نہ کوئی کمی کرے گا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اس نے سچ کہا تو وہ ضرور جنت میں داخل ہو گا۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 460]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض فرمائی ہیں۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ان سے پہلے یا بعد بھی کچھ فرض کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں (ہی) فرض کی ہیں۔ تو اس آدمی نے قسم کھائی کہ وہ اس سے زائد پڑھے گا نہ ان میں کمی کرے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ سچا رہا تو ضرور جنت میں داخل ہوگا۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 460]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف 1166)، وقد أخرجہ: حم3/267، صحیح مسلم/في الإیمان 3 (12)، سنن الترمذی/في الزکاة 2 (619) والمؤلف في الصوم 1 (برقم: 2093) من طریق ثابت عن أنس مطولاً (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ: الْبَيْعَةِ عَلَى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ
باب: پانچوں نمازوں پر بیعت کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 461
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيِّ، قال: أَخْبَرَنِي الْحَبِيبُ الْأَمِينُ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، قال: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَرَدَّدَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَدَّمْنَا أَيْدِيَنَا فَبَايَعْنَاهُ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ بَايَعْنَاكَ، فَعَلَامَ؟ قَالَ:" عَلَى أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَالصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، وَأَسَرَّ كَلِمَةً خَفِيَّةً أَنْ لَا تَسْأَلُوا النَّاسَ شَيْئًا".
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت نہیں کرو گے؟ آپ نے اس بات کو تین مرتبہ دہرایا، تو ہم سب نے اپنا ہاتھ بڑھایا، اور آپ سے بیعت کی، پھر ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم نے آپ سے بیعت تو کر لی، لیکن یہ بیعت کس چیز پر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بیعت اس بات پر ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو گے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرو گے، پانچوں نمازیں ادا کرو گے، اور آپ نے ایک اور بات آہستہ سے کہی کہ لوگوں سے کچھ مانگو گے نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 461]
حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (بیٹھے) تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت نہیں کرتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ تین دفعہ دہرایا تو ہم نے اپنے ہاتھ آگے بڑھائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی، پھر ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت تو کر لی ہے مگر یہ کس بات پر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس بات پر کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے اور پانچ نمازیں پڑھو گے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بات آہستہ کہی: تم کسی سے کچھ نہیں مانگو گے۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 461]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الزکاة 35 (1043) مطولاً، سنن ابی داود/الزکاة 27 (1642) مطولاً، سنن ابن ماجہ/الجہاد 41 (2867) مطولاً، (تحفة الأشراف: 10919) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. بَابُ: الْمُحَافَظَةِ عَلَى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ
باب: پانچوں نمازوں کی محافظت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 462
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي كِنَانَةَ يُدْعَى الْمُخْدَجِيّ سَمِعَ رَجُلًا بِالشَّامِ يُكْنَى أَبَا مُحَمَّدٍ، يَقُولُ: الْوِتْرُ وَاجِبٌ، قال الْمُخْدَجِيُّ: فَرُحْتُ إِلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ فَاعْتَرَضْتُ لَهُ وَهُوَ رَائِحٌ إِلَى الْمَسْجِدِ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي قال أَبُو مُحَمَّدٍ، فَقَالَ عُبَادَةُ: كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" خَمْسُ صَلَوَاتٍ كَتَبَهُنَّ اللَّهُ عَلَى الْعِبَادِ، مَنْ جَاءَ بِهِنَّ لَمْ يُضَيِّعْ مِنْهُنَّ شَيْئًا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ كَانَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَمَنْ لَمْ يَأْتِ بِهِنَّ فَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ وَإِنْ شَاءَ أَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ".
ابن محریز سے روایت ہے کہ بنی کنانہ کے ایک آدمی نے جسے مخدجی کہا جاتا تھا شام میں ایک آدمی کو جس کی کنیت ابو محمد تھی کہتے سنا کہ وتر واجب ہے، مخدجی کہتے ہیں: تو میں عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، اور میں نے مسجد جاتے ہوئے انہیں راستے ہی میں روک لیا، اور انہیں ابو محمد کی بات بتائی، تو عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ابو محمد نے جھوٹ کہا ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: اللہ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں، جو انہیں ادا کرے گا، اور ان میں سے کس کو ہلکا سمجھتے ہوئے ضائع نہیں کرے گا، تو اللہ کا اس سے پختہ وعدہ ہے کہ وہ اسے جنت میں داخل کرے گا، اور جس نے انہیں ادا نہیں کیا تو اللہ کا اس سے کوئی وعدہ نہیں ہے، اگر چاہے تو اسے عذاب دے، اور چاہے تو اسے جنت میں داخل کرے۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 462]
ابن محیریز سے روایت ہے کہ بنو کنانہ کے ایک آدمی نے، جسے مخدجی کہا جاتا تھا، شام کے علاقے میں ایک آدمی کو، جس کی کنیت ابومحمد تھی، یہ کہتے ہوئے سنا کہ: وتر واجب ہے۔ مخدجی نے کہا: میں حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس گیا جب کہ وہ مسجد کو جا رہے تھے۔ میں نے ان کو آگے سے روک لیا اور ابومحمد کے قول کی خبر دی۔ حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ابومحمد نے غلط کہا ہے۔ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: پانچ نمازیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے بندوں پر فرض کی ہیں، جو آدمی انہیں ادا کرے، ان میں سے کسی کو ان کی حیثیت ہلکی سمجھ کر ضائع نہ کرے تو اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے لیے وعدہ ہو چکا ہے کہ وہ اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔ اور جو شخص ان کو ادا نہ کرے تو اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے لیے کوئی عہد نہیں۔ چاہے اسے عذاب دے، چاہے جنت میں داخل کرے۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 462]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 337 (1420)، سنن ابن ماجہ/إقامة 194 (1401)، (تحفة الأشراف: 5122)، موطا امام مالک/صلاة اللیل 3/14 (14)، مسند احمد 5/315، 319، 322، سنن الدارمی/الصلاة 208 (1618) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. بَابُ: فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ
باب: پنج وقتہ نمازوں کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 463
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهَرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ هَلْ يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ"، قَالُوا: لَا يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ، قَالَ:" فَكَذَلِكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ يَمْحُو اللَّهُ بِهِنَّ الْخَطَايَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں کا کیا خیال ہے کہ اگر کسی کے دروازے پر کوئی نہر ہو جس سے وہ ہر روز پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو، کیا اس کے جسم پر کچھ بھی میل باقی رہے گا، لوگوں نے کہا: کچھ بھی میل باقی نہیں رہے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اسی طرح پانچوں نمازوں کی مثال ہے، اللہ تعالیٰ ان کی وجہ سے گناہوں کو مٹا دیتا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 463]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بتاؤ! اگر تم میں سے کسی کے دروازے کے سامنے سے نہر گزرتی ہو، وہ اس سے ہر روز پانچ دفعہ غسل کرتا ہو، کیا اس کا کچھ بھی میل کچیل باقی رہ جائے گا؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: کچھ بھی میل کچیل نہیں رہے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ نمازوں کی مثال بھی یہی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ غلطیاں مٹا دیتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 463]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/مواقیت 6 (528)، صحیح مسلم/المساجد 51 (667)، سنن الترمذی/الأمثال 5 (2868)، (تحفة الأشراف: 14998)، مسند احمد 2/379، 426، 427، 441، سنن الدارمی/الصلاة 1/1221 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: لیکن شرط یہ ہے کہ ان نمازوں کو سنت کے مطابق خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کیا جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. بَابُ: الْحُكْمِ فِي تَارِكِ الصَّلاَةِ
باب: تارک نماز کا حکم۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 464
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قال: أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْعَهْدَ الَّذِي بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمُ الصَّلَاةُ، فَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ كَفَرَ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارے اور منافقوں کے درمیان جو (فرق کرنے والا) عہد ہے، وہ نماز ہے، تو جو اسے چھوڑ دے گا، کافر ہو جائے گا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 464]
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارے اور ان (کافروں) کے درمیان امتیاز نماز ہے، جس نے اسے چھوڑ دیا اس نے کفر کیا۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 464]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الإیمان 9 (2621)، سنن ابن ماجہ/إقامة 77 (1079)، (تحفة الأشراف: 1960)، مسند احمد 5/346، 355 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جمہور کے نزدیک یہ حکم ایسے شخص کے لیے ہے جو نماز کے ترک کو حلال سمجھے، اور جو شخص محض سستی کی وجہ سے اسے چھوڑ دے تو وہ کافر نہیں ہوتا، لیکن صحابہ کرام سے لے کر آج تک کے بہت سے محققین کے نزدیک نماز کی فرضیت کے عدم انکار کے باوجود عملاً چھوڑ دینے والا بھی کافر ہے، دیکھئیے اس موضوع پر عظیم کتاب تعظيم قدر الصلاة مؤلفہ امام محمد بن نصر مروزی (تحقیق دکتور عبدالرحمٰن الفریوائی)، اور تارک صلاۃ کا حکم تصنیف شیخ ابن عثیمین (ترجمہ: دکتور عبدالرحمٰن الفریوائی)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 465
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ الْكُفْرِ إِلَّا تَرْكُ الصَّلَاةِ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندے اور کفر کے درمیان سوائے نماز چھوڑ دینے کے کوئی اور حد فاصل نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 465]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندے اور کفر کے درمیان صرف نماز چھوڑنے کا فرق ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 465]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإیمان 35 (82)، (تحفة الأشراف: 2817)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/السنة 15 (4678)، سنن الترمذی/الإیمان 9 (2620)، سنن ابن ماجہ/إقامة 77 (1078)، مسند احمد 3/370، 89 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. بَابُ: الْمُحَاسَبَةِ عَلَى الصَّلاَةِ
باب: نماز پر محاسبہ ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 466
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قال: حَدَّثَنَا هَارُونُ هُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ الْخَزَّازُ، قال: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ حُرَيْثِ بْنِ قَبِيصَةَ، قال: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، قال: قُلْتُ: اللَّهُمَّ يَسِّرْ لِي جَلِيسًا صَالِحًا، فَجَلَسْتُ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قال: فَقُلْتُ: إِنِّي دَعَوْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُيَسِّرَ لِي جَلِيسًا صَالِحًا فَحَدِّثْنِي بِحَدِيثٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَنْفَعَنِي بِهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ بِصَلَاتِهِ، فَإِنْ صَلَحَتْ فَقَدْ أَفْلَحَ وَأَنْجَحَ، وَإِنْ فَسَدَتْ فَقَدْ خَابَ وَخَسِرَ، قَالَ هَمَّامٌ: لَا أَدْرِي هَذَا مِنْ كَلَامِ قَتَادَةَ أَوْ مِنَ الرِّوَايَةِ، فَإِنِ انْتَقَصَ مِنْ فَرِيضَتِهِ شَيْءٌ، قَالَ: انْظُرُوا، هَلْ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ فَيُكَمَّلُ بِهِ مَا نَقَصَ مِنَ الْفَرِيضَةِ؟ ثُمَّ يَكُونُ سَائِرُ عَمَلِهِ عَلَى نَحْوِ ذَلِكَ". خَالَفَهُ أَبُو الْعَوَّامِ.
حریث بن قبیصہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ آیا، وہ کہتے ہیں: میں نے دعا کی، اے اللہ! مجھے کوئی نیک ہم نشیں عنایت فرما، تو مجھے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ہم نشینی ملی، وہ کہتے ہیں: تو میں نے ان سے کہا کہ میں نے اللہ عزوجل سے دعا کی تھی کہ مجھے ایک نیک ہم نشیں عنایت فرما تو (مجھے آپ ملے ہیں) آپ مجھ سے کوئی حدیث بیان کیجئیے جسے آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، ہو سکتا ہے اللہ اس کے ذریعہ مجھے فائدہ پہنچائے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: (قیامت کے دن) بندے سے سب سے پہلے اس کی نماز کے بارے میں بازپرس ہو گی، اگر یہ درست ہوئی تو یقیناً وہ کامیاب و کامراں رہے گا، اور اگر خراب رہی تو بلاشبہ ناکام و نامراد رہے گا، راوی ہمام کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم یہ قتادہ کی بات ہے یا روایت کا حصہ ہے، اگر اس کے فرائض میں کوئی کمی رہی تو اللہ فرمائے گا: دیکھو میرے بندے کے پاس کوئی نفل ہے؟ (اگر ہو تو) ۱؎ فرض میں جو کمی ہے اس کے ذریعہ پوری کر دی جائے، پھر اس کا باقی عمل بھی اسی طرح ہو گا۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 466]
حضرت حریث بن قبیصہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں مدینہ آیا تو میں نے دعا کی: اے اللہ! مجھے کوئی نیک ہم نشین میسر فرما۔ پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ہم نشینی میسر ہوئی۔ میں نے ان سے کہا: میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ مجھے نیک ہم نشین میسر فرما، لہٰذا آپ مجھے کوئی ایسی حدیث بیان فرمائیں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو۔ امید ہے اللہ تعالیٰ مجھے اس سے فائدہ پہنچائے گا۔ آپ نے بیان کیا: میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: سب سے پہلے بندے سے نماز کا حساب لیا جائے گا۔ اگر وہ درست ہوئی تو وہ کامیاب و کامران ہو گیا۔ اور اگر وہ خراب ہوئی تو وہ ناکام رہا اور خسارے میں گیا۔ ہمام کہتے ہیں: مجھے معلوم نہیں کہ یہ الفاظ قتادہ کے ہیں یا روایت (حدیث) کے ہیں۔ اگر اس کے فرضوں میں کچھ کمی ہوئی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: (اے فرشتو!) دیکھو، کیا میرے بندے کے پاس کچھ نفل ہیں؟ تو ان کے ساتھ اس کے فرضوں کی کمی پوری کی جائے گی۔ پھر باقی اعمال میں بھی اسی طرح (حساب) ہو گا۔ حضرت ابوعوام نے سند میں حضرت ہمام کی مخالفت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 466]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 189 (413)، مسند احمد 2/425، (تحفة الأشراف: 12239) وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 202 (1425) (صحیح) راوی ابوالعوام نے (جو اگلی سند میں ہیں) ہمام کی مخالفت کی ہے 1؎۔ وضاحت 1؎: مخالفت اس طرح ہے کہ ہمام نے اسے بطریق قتادہ عن الحسن عن حریث عن ابی ہریرہ، اور ابوالعوام نے بطریق قتادہ عن الحسن عن ابی رافع عن ابی ہریرہ روایت کیا ہے۔»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ترمذي (413) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 323

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 467
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قال: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ يَعْنِي بْنِ زِيَادِ بْنِ مَيْمُونٍ، قال: كَتَبَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ عَنْهُ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَوَّامِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَلَاتُهُ، فَإِنْ وُجِدَتْ تَامَّةً كُتِبَتْ تَامَّةً، وَإِنْ كَانَ انْتُقِصَ مِنْهَا شَيْءٌ، قَالَ: انْظُرُوا، هَلْ تَجِدُونَ لَهُ مِنْ تَطَوُّعٍ يُكَمِّلُ لَهُ مَا ضَيَّعَ مِنْ فَرِيضَةٍ مِنْ تَطَوُّعِهِ؟ ثُمَّ سَائِرُ الْأَعْمَالِ تَجْرِي عَلَى حَسَبِ ذَلِكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے پہلے بندہ سے اس کی نماز کے بارے میں بازپرس ہو گی، اگر وہ پوری ملی تو پوری لکھ دی جائے گی، اور اگر اس میں کچھ کمی ہوئی تو اللہ تعالیٰ کہے گا: دیکھو تم اس کے پاس کوئی نفل پا رہے ہو کہ جس کے ذریعہ جو فرائض اس نے ضائع کئے ہیں اسے پورا کیا جا سکے، پھر باقی تمام اعمال بھی اسی کے مطابق جاری ہوں گے۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 467]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تحقیق قیامت کے دن سب سے پہلے بندے سے جس چیز کا حساب ہو گا وہ اس کی نماز ہو گی۔ اگر وہ مکمل پائی گئی تو مکمل لکھی جائے گی اور اگر اس میں کچھ کمی ہوئی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: دیکھو! کیا تم اس کے لیے کچھ نفل پاتے ہو جس کے ساتھ اس کے ضائع کردہ فرض کی کمی پوری کر دی جائے؟ پھر باقی اعمال بھی اسی کے مطابق جاری ہوں گے۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 467]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 14660)، مسند احمد 4/103 (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، قتادة مدلس وعنعن. والحديث الآتي (468) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 323

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 468
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قال: أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ صَلَاتُهُ، فَإِنْ كَانَ أَكْمَلَهَا، وَإِلَّا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: انْظُرُوا لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ، فَإِنْ وُجِدَ لَهُ تَطَوُّعٌ، قَالَ: أَكْمِلُوا بِهِ الْفَرِيضَةَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے پہلے بندہ سے نماز کی بازپرس ہو گی، اگر اس نے اسے پورا کیا ہے (تو ٹھیک ہے) ورنہ اللہ عزوجل فرمائے گا: دیکھو میرے بندے کے پاس کوئی نفل ہے؟ اگر اس کے پاس کوئی نفل ملا تو فرمائے گا: اس کے ذریعہ فرض پورا کر دو۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 468]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے پہلے بندے سے اس کی نماز کا حساب لیا جائے گا۔ اگر اس نے نمازوں کو مکمل کیا ہوگا (تو درست) ورنہ اللہ تعالیٰ (فرشتوں سے) فرمائے گا: دیکھو! کیا میرے بندے کے نامہ اعمال میں کوئی نفل ہیں؟ اگر نفل پائے گئے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ان سے فرضوں کی کمی کو پورا کردو۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 468]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 14818)، مسند احمد 4/103 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں