سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. بَابُ: صَلاَةِ الْعَصْرِ فِي السَّفَرِ
باب: سفر میں عصر کی نماز کا بیان۔
حدیث نمبر: 479
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، قال: أَنْبَأَنَا جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، أَنَّ عِرَاكَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ نَوْفَلَ بْنَ مُعَاوِيَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ فَاتَتْهُ صَلَاةُ الْعَصْرِ فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ". قَالَ عِرَاكٌ: وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ فَاتَتْهُ صَلَاةُ الْعَصْرِ فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ". خَالَفَهُ يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ.
نوفل بن معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جس کی عصر کی نماز فوت ہو گئی تو گویا اس کا گھربار لٹ گیا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”کہ جس کی نماز عصر فوت ہو گئی گویا اس کا گھربار لٹ گیا“۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 479]
حضرت نوفل بن معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس کی عصر کی نماز رہ گئی، وہ یوں سمجھے کہ اس سے اس کے اہل و مال لوٹ لیے گئے۔“ عراک کہتے ہیں: مجھے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس سے عصر کی نماز رہ گئی، وہ یوں سمجھے اس سے اس کے اہل و مال لوٹ لیے گئے۔“ یزید بن ابی حبیب نے (سند اور متن کے بیان میں جعفر بن ربیعہ کی) مخالفت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 479]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائی، تحفة الأشراف: (11717)، وحدیث عراک بن مالک عن عبداللہ بن عمر قد تفرد بہ النسائی (أیضاً)، تحفة الأشراف: (7320)، وقد أخرجہ عن طریق مالک عن نافع عن عبداللہ بن عمر: صحیح البخاری/المناقب 25 (3602)، مواقیت 14 (552)، صحیح مسلم/المساجد 35 (626)، سنن ابی داود/الصلاة 5 (414)، سنن الترمذی/الصلاة 16 (175)، سنن ابن ماجہ/الصلاة 6 (685)، طا/وقوت الصلاة 5 (21)، (تحفة الأشراف: 8345)، مسند احمد 2/8، 13، 27، 48، 54، 64، 75، 76، 102، 134، 145، 148، سنن الدارمی/الصلاة 27 (1267) (صحیح) یزید نے (آنے والی روایت میں) جعفر کی مخالفت کی ہے 1؎۔ وضاحت 1؎: یہ مخالفت سند اور متن دونوں میں ہے، سند میں اس طرح کہ جعفر کی روایت میں ہے کہ نوفل نے عراک سے بیان کی ہے اور یزید کی روایت میں ہے کہ عراک کو یہ بات پہنچی ہے کہ نوفل بن معاویہ نے کہا، دونوں میں فرق واضح ہے پہلی صورت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ عراک نے نوفل بن معاویہ سے خود سنا ہے، اور دوسری صورت سے پتہ چلتا ہے کہ ان دونوں کے بیچ میں واسطہ ہے، متن میں مخالفت اس طرح ہے کہ جعفر کی روایت میں ’’من فاتته صلاة العصر‘‘ کے الفاظ ہیں، اور یزید کے الفاظ اس طرح ہیں ’’من الصلاة صلاة من فاتته‘‘۔»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 480
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ زُغْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ نَوْفَلَ بْنَ مُعَاوِيَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مِنَ الصَّلَاةِ صَلَاةٌ مَنْ فَاتَتْهُ فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" هِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ". خَالَفَهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ.
نوفل بن معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”نمازوں میں ایک نماز ایسی ہے کہ جس کی وہ فوت ہو جائے گویا اس کا گھربار لٹ گیا“۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”یہ عصر کی نماز ہے“۔ محمد بن اسحاق نے (آنے والی روایت میں) لیث کی مخالفت کی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 480]
حضرت نوفل بن معاویہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”نمازوں میں سے ایک نماز ایسی ہے کہ جس سے وہ رہ جائے، وہ یوں سمجھے کہ اس کے اہل و مال لوٹ لیے گئے۔“ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ وہ عصر کی نماز ہے۔“ محمد بن اسحاق نے (حضرت لیث کی) مخالفت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 480]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 479 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہاں بھی سند اور متن دونوں میں مخالفت ہے، سند میں مخالفت اس طرح ہے کہ محمد بن اسحاق کی روایت میں ہے کہ عراک نے نوفل بن معاویہ سے سنا ہے، اور لیث کی روایت میں ہے کہ عراک کو یہ بات پہنچی ہے کہ نوفل بن معاویہ نے کہا ہے، اور متن میں اس طرح کہ محمد بن اسحاق نے اسے موقوف قرار دیا ہے، اور لیث نے مرفوع قرار دیا ہے، اور وقف اور رفع میں کوئی منافات نہیں ہے کیونکہ صحابی کبھی مرفوع روایت کو بصورت فتوی بیان کرتا ہے، اور اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب نہیں کرتا، اور کبھی اسے مرفوعاً روایت کرتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 481
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قال: حَدَّثَنِي عَمِّي، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قال: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، قال: سَمِعْتُ نَوْفَلَ بْنَ مُعَاوِيَةَ، يَقُولُ:" صَلَاةٌ مَنْ فَاتَتْهُ فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ".
نوفل بن معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک نماز ایسی ہے کہ جس کی وہ فوت ہو جائے گویا اس کا گھربار لٹ گیا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ عصر کی نماز ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 481]
عراک بن مالک نے کہا کہ میں نے نوفل بن معاویہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا: ”ایک نماز ایسی ہے کہ جس سے وہ رہ جائے گویا اس کے اہل و مال لوٹ لیے گئے۔“ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ عصر کی نماز ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 481]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 479 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
18. بَابُ: صَلاَةِ الْمَغْرِبِ
باب: مغرب کی نماز کا بیان۔
حدیث نمبر: 482
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، قال: رَأَيْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ بِجَمْعٍ" أَقَامَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى يَعْنِي الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ". ثُمَّ ذَكَرَ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ صَنَعَ بِهِمْ مِثْلَ ذَلِكَ فِي ذَلِكَ الْمَكَانِ، وَذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ فِي ذَلِكَ الْمَكَانِ.
سلمہ بن کہیل کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر کو مزدلفہ میں دیکھا، انہوں نے اقامت کہی، اور مغرب کی نماز تین رکعت پڑھی، پھر اقامت کہی، اور عشاء کی نماز دو رکعت پڑھی، پھر انہوں نے ذکر کیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہم نے ان کے ساتھ اسی جگہ میں ایسا ہی کیا، اور ذکر کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بھی) اس جگہ میں ایسا ہی کیا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 482]
سلمہ بن کہیل سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے حضرت سعید بن جبیر کو مزدلفہ میں دیکھا، انہوں نے اقامت کہی اور مغرب کی نماز تین رکعت پڑھی، پھر اقامت کہی اور عشاء کی نماز دو رکعت پڑھی، پھر انہوں نے ذکر کیا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس جگہ ان کو ایسے ہی نمازیں پڑھائیں اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ذکر کیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جگہ اسی طرح کیا تھا۔“ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 482]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 47 (1288)، سنن ابی داود/الحج 65 (1930، 1931)، سنن الترمذی/الحج 56 (888)، (تحفة الأشراف: 7052)، مسند احمد 1/280، 2/3، 33، 59، 62، 79، 81، سنن الدارمی/الصلاة 183 (1559، 1560)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 484، 485، 607، 658، 3033 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مزدلفہ کو «جمع» اس لیے کہتے ہیں کہ آدم و حوّا جب جنت سے زمین پر اتارے گئے تو اسی مقام پر دونوں جمع ہوئے، یا مغرب اور عشاء دونوں نمازیں یہاں جمع کی جاتی ہیں اس لیے اسے «جمع» کہا گیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
19. بَابُ: فَضْلِ صَلاَةِ الْعِشَاءِ
باب: نماز عشاء کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 483
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت:" أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعِشَاءِ حَتَّى نَادَاهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ يُصَلِّي هَذِهِ الصَّلَاةَ غَيْرَكُمْ". وَلَمْ يَكُنْ يَوْمَئِذٍ أَحَدٌ يُصَلِّي غَيْرَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کو مؤخر کیا یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو آواز دی کہ عورتیں اور بچے سو گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے، اور فرمایا: ”تمہارے سوا کوئی نہیں جو اس نماز کو (اس وقت) پڑھ رہا ہو“، ان دنوں اہل مدینہ کے سوا کوئی اور نماز پڑھنے والا نہیں تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 483]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک رات) عشاء کی نماز کو مؤخر کیا حتیٰ کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو (مسجد سے) بلند آواز میں پکارا کہ ”عورتیں اور بچے سو گئے۔“ تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم باہر (مسجد میں) تشریف لائے اور فرمایا: ”تمھارے علاوہ کوئی شخص یہ نماز نہیں پڑھتا۔“ اور (واقعتاً) ان دنوں اہل مدینہ کے علاوہ کوئی شخص نماز نہیں پڑھتا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 483]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 161 (862) تعلیقاً، (تحفة الأشراف: 16642)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 39 (638)، مسند احمد 6/34، 199، 215، 272، سنن الدارمی/الصلاة 19 (1249) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
20. بَابُ: صَلاَةِ الْعِشَاءِ فِي السَّفَرِ
باب: سفر میں عشاء کی نماز کا بیان۔
حدیث نمبر: 484
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: أَخْبَرَنِي الْحَكَمُ، قال:" صَلَّى بِنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ بِجَمْعٍ الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا بِإِقَامَةٍ، ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ". ثُمَّ ذَكَرَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَعَلَ ذَلِكَ، وَذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ذَلِكَ.
حکم کہتے ہیں کہ ہمیں سعید بن جبیر نے مزدلفہ میں ایک اقامت سے مغرب کی تین رکعتیں پڑھائیں، پھر سلام پھیرا، پھر (دوسری اقامت سے) عشاء کی دو رکعت پڑھائی، پھر ذکر کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم نے ایسا ہی کیا، اور انہوں نے ذکر کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بھی) ایسا ہی کیا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 484]
حضرت حکم سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”جناب سعید بن جبیر نے ہمیں مزدلفہ میں مغرب کی نماز اقامت کے ساتھ تین رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیرا، پھر عشاء کی نماز دو رکعتیں پڑھائیں اور کہا: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ایسے کیا۔ اور انہوں (ابن عمر) نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی کیا تھا۔“ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 484]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 482 بلفظ ’’ثم اقام فصلی یعنی العشاء“ وھو المحفوظ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح ق بلفظ ثم أقام فصلى العشاء وهو المحفوظ
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 485
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، قال: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، قال: رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ" صَلَّى بِجَمْعٍ فَأَقَامَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا، ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ"، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِي هَذَا الْمَكَانِ.
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کو مزدلفہ میں نماز پڑھتے دیکھا، انہوں نے اقامت کہی، اور مغرب کی نماز تین رکعت پڑھی، پھر (دوسری اقامت سے) عشاء کی دو رکعت پڑھی، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس جگہ ایسا ہی کرتے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 485]
جناب سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے کہا: ”میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا، آپ نے مزدلفہ میں اقامت کہی اور مغرب کی نماز تین رکعت پڑھی، پھر عشاء کی نماز دو رکعت پڑھی، پھر فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس جگہ اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔“” [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 485]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 482 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
21. بَابُ: فَضْلِ صَلاَةِ الْجَمَاعَةِ
باب: نماز باجماعت کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 486
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَتَعَاقَبُونَ فِيكُمْ مَلَائِكَةٌ بِاللَّيْلِ وَمَلَائِكَةٌ بِالنَّهَارِ وَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ، ثُمَّ يَعْرُجُ الَّذِينَ بَاتُوا فِيكُمْ فَيَسْأَلُهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ: كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي؟ فَيَقُولُونَ: تَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ وَأَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے پاس رات اور دن کے فرشتے ۱؎ باری باری آتے جاتے ہیں، اور فجر اور عصر کی نماز میں اکٹھا ہو جاتے ہیں، پھر جن فرشتوں نے تمہارے پاس رات گزاری تھی وہ اوپر چڑھتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے حالانکہ وہ ان سے بہتر جانتا ہے، ۲؎ ہمارے بندوں کو تم کس حال میں چھوڑ کر آئے ہو؟ وہ عرض کرتے ہیں: ”ہم نے انہیں نماز کی حالت میں چھوڑا ہے، اور ہم ان کے پاس آئے تھے تو بھی وہ نماز ہی میں مصروف تھے“۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 486]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات اور دن کے وقت فرشتے تم پر باری باری آتے ہیں اور فجر اور عصر کی نماز میں (دن اور رات کے) فرشتے جمع ہو جاتے ہیں۔ پھر جن فرشتوں نے تم میں رات گزاری ہوتی ہے وہ اوپر جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو خوب جانتا ہے: تم میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑ کر آئے ہو؟ وہ کہتے ہیں: ہم ان کو نماز پڑھتا چھوڑ کر آئے ہیں اور جب ہم ان کے پاس گئے تھے تو وہ اس وقت بھی نماز پڑھ رہے تھے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 486]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/مواقیت 16 (555)، بدء الخلق 6 (3223)، التوحید 23 (7429)، 32 (7486)، صحیح مسلم/المساجد 37 (632)، موطا امام مالک/قصرالصلاة 24 (82)، (تحفة الأشراف: 13809)، مسند احمد 2/257، 312، 486 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو لوگوں کے اعمال لکھتے ہیں، اور جنہیں کراماً کاتبین کہا جاتا ہے۔ ۲؎: اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا علم ہے، وہ فرشتوں سے اپنے بندوں کی بابت اس لیے پوچھتا ہے تاکہ فرشتوں پر بھی اہل ایمان کا فضل وشرف واضح ہو جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 487
أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" تَفْضُلُ صَلَاةُ الْجَمْعِ عَلَى صَلَاةِ أَحَدِكُمْ وَحْدَهُ بِخَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ جُزْءًا، وَيَجْتَمِعُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ: وَقُرْءَانَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْءَانَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا سورة الإسراء آية 78".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جماعت کی نماز تمہاری تنہا نماز سے پچیس گنا فضیلت رکھتی ہے ۱؎ رات اور دن کے فرشتے نماز فجر میں اکٹھا ہوتے ہیں، اگر تم چاہو تو آیت کریمہ «وقرآن الفجر إن قرآن الفجر كان مشهودا» ۲؎ پڑھ لو“ (الاسراء: ۲۸)۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 487]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”باجماعت نماز تمہارے اکیلے کی نماز سے پچیس گنا فضیلت رکھتی ہے اور فجر کی نماز میں رات اور دن کے فرشتے اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ چاہو تو قرآن مجید کی یہ آیت پڑھ لو ﴿وَقُرْآنَ الْفَجْرِ ۖ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا﴾ [سورة الإسراء: 78] ”اور صبح کی نماز قائم کرو کیونکہ صبح کی نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔“” [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 487]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: تفرد بہ النسائی (تحفة الأشراف: 13259)، کلہم مقتصرا إلی قولہ ’’خمس وعشرین جزائ‘‘ إلا البخاری وأحمد (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث میں ۲۵ گنا کا ذکر ہے، اور صحیحین کی ایک روایت میں ۲۷ گنا وارد ہے، اس کی توجیہ اس طرح کی جاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ۲۵ گنا بتایا گیا پھر ۲۷ گنا، تو جیسے جیسے آپ کو بتایا گیا آپ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی اسی طرح بتلایا، اور بعض لوگوں نے یہ کہا ہے کہ یہ کمی و بیشی صلاۃ کے خشوع وخضوع اور صلاۃ کی ہیئت و آداب کی حفاظت کے اعتبار سے ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 488
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عُمَارَةَ بْنِ رُوَيْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا يَلِجُ النَّارَ أَحَدٌ صَلَّى قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ".
عمارہ بن رویبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”وہ شخص جہنم میں داخل نہیں ہو گا جو سورج نکلنے سے پہلے اور سورج ڈوبنے سے پہلے نماز پڑھے گا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 488]
حضرت عمارہ بن رویبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”وہ شخص آگ میں نہیں جائے گا جس نے طلوعِ شمس اور غروبِ شمس سے پہلے نمازیں پڑھیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 488]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 472 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی فجر اور عصر کی نمازوں کی محافظت کرے گا کیونکہ جو ان دونوں نمازوں کی محافظت کرے گا وہ دیگر فرائض کی بدرجہ اولیٰ محافظت کرے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح